Connect with us

Today News

ایران میں اسرائیلی حملے میں پاکستانی شہری شہید، اہل خانہ جسد خاکی کے منتظر

Published

on



ایران کی بندرگاہ چابہار پر اسرائیلی حملے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے شہری یاسر خان شہید ہوگئے جن کا جسد خاکی تاحال وطن واپس نہ پہنچ سکا، شہید نوجوان کے اہل خانہ اپنے پیارے کے آخری دیدار کے منتظر ہیں۔

کراچی کے ضلع کیماڑی کے علاقے ماڑی پور میں واقع یونس آباد کا شہری یاسر خان نے 6 ماہ قبل ایران کی چابہار بندررگاہ پر ملازمت حاصل کی تھی جہاں وہ ڈک بوٹ پر فرائض انجام دے رہا تھے لیکن گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کیے گئے حملوں کے دوران ایران کی چابہار بندرگاہ پر ایک میزائل کی زد میں آ کر شہید ہوگئے۔

شہید کے بھائی واجد خان نے بتایا کہ 23 مارچ کو ہونے والے میزائل حملے کی اطلاع 24 مارچ کو یاسر خان کے ساتھ بندرگاہ پر کام کرنے والے کراچی کے علاقے بنارس کے رہائشی سبحان اللہ نے دی جو خود اس میزائل حملے میں زخمی ہوئے ہیں، اور ایران کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔

انہوں نے بتایا کہ میرا بھائی یاسر خان اور سبحان اللہ دونوں روم میٹ تھے، 24 مارچ کی رات رات لگ بھگ ڈھائی سے تین بجے کا وقت سبحان  نے ہمیں ایران کے نمبر سے فون کیا، ہماری ایک منٹ کی بات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ یاسر شہید ہوگیا ہے جبکہ میزائل حملے کے وقت کشتی پر موجود دیگر تمام افراد ڈوب گئے تھے جن کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

یاسر کے حوالے ان کے بھائی نے مزید بتایا کہ یاسر کا ڈیک پر صفائی کا کام تھا جس کے تمام کورس یاسر نے کر رکھے تھے، اپنا 9 ماہ کا کنٹریکٹ پورا کرنے کے بعد یاسر کو واپس کراچی آنا تھا اور یہ کنٹریکٹ ختم ہونے میں صرف 3 ماہ باقی رہ گئے تھے۔

واجد نے بتایا کہ جنگی حالات کے دوران بھائی سے رابطہ نہیں ہوا تھا ایجنٹ کے پاس بھی گئے لیکن موبائل نیٹ ورکس نہیں ہونے کے باعث چابہار بندرگاہ پر ایجنٹ کا بھی کسی سے رابطہ نہیں ہوسکا، جب بھائی کے دوست سبحان سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ ہمارے بھائی یاسر کی لاش پانی کے اندر چار دن تک رہی، جس کے بعد لاش ملنے پر ان کی شناخت عمل میں آسکی۔

یاسر کے بھائی نے مزید بتایا کہ جنگی حالات کے دوران آخری بار رمضان المبارک میں ان کی اپنے بھائی سے ویڈیو کال پر بات ہوئی تھی، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ایران میں جنگی حالات ہیں اور مجھے یہاں سے نکالنے کے لیے انتظامات کریں، جس کے بعد میں ہم نے بہت جتن کیے، ایجنٹ کے علاوہ دیگر اداروں تک بھی رسائی کی کوشش کی لیکن کہیں سے کوئی مدد نہیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کے مالک انصر اور ایجنٹ نے بھی کوئی مدد فراہم نہیں کی، نیٹ ورک کے مسائل کے باعث رابطہ بھی نہیں ہوپایا۔

انہوں نے بتایا کہ میزائل حملے کا نشانہ بننے والی ڈک بوٹ پر دو پاکستانی موجود تھے جن میں سے ایک میرا بھائی یاسر اور دوسرا سبحان ہے جو تاحال ایران میں زخمی حالت میں موجود ہے۔

ایکسپریس نیوز کو یاسر کے دوست معصوم علی نے بتایا کہ یاسر انتہائی خوش اخلاق اور خوش شکل انسان تھا، جو ایران اپنے بچے اور اہلیہ کے اچھے مستقبل کے لیے گیا تھا، یاسر کا کوئی دن اپنے والدین سے بات کیے بغیر نہیں گزرتا تھا، یاسر کی شہادت کے بعد اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے۔

یاسر کی شہادت کے بعد یاسر کی بیوہ اور معصوم بچے امداد کے منتظر ہیں، اہل خانہ نے حکومت پاکستان، صدر پاکستان، حکومت سندھ، وزیر اعلی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بیوی اور بچے کی دادرسی اور مدد کی درخواست کی ہے کہ بیوہ اور بچے کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

یاسر خان کے بھائی واجد نے بتایا کہ دیگر بھائی اور رشتے دار تفتان بارڈر پہنچ گئے ہیں، بھائی یاسر کی میت لانے کے لیے وہاں قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی اور اس حوالے سے میت کی جلد حوالگی کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ بھی کیا جارہا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ تفتان بارڈر پر ہمارا کیمپ قائم ہے اور رضاکار موجود ہیں، یاسر کی میت بارڈر سے کراچی منتقل کرنے کے لیے ہمارے انتظامات مکمل ہیں اس حوالے سے یاسر کے ورثا سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

چمن اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا

Published

on



کوئٹہ:

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔

کوئٹہ کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی تقریباً 14 کلومیٹر تھی۔

حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز چمن سے تقریباً 120 کلومیٹر دور واقع تھا۔

زلزلے کے جھٹکے اگرچہ مختصر دورانیے کے تھے تاہم اچانک لرزش سے شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

حیدرآباد، کھلے سیوریج ہولز خطرہ بن گئے، شہریوں کی جانیں داؤ پر لگ گئیں

Published

on



حیدرآباد:

شہر میں بغیر ڈھکن کے کھلے سیوریج ہولز شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں، جہاں آئے روز حادثات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد چوک روڈ پر ایک نوجوان کھلے سیوریج ہول میں گر گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان مکمل طور پر گٹر میں ڈوب گیا تھا تاہم موقع پر موجود راہگیروں نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت اسے باہر نکال لیا جس کے باعث اس کی جان بچ گئی۔

واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں نوجوان کو گٹر سے نکلنے کے بعد بھیگی حالت میں سڑک کنارے بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کے گرد شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔

دوسری جانب اتوار کی دوپہر ٹنڈوجام کے علاقے میں بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 5 سالہ بچہ کھلے گٹر میں گر گیا۔

خوش قسمتی سے وہاں موجود افراد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بانس کی مدد سے بچے کو باہر نکال لیا جس سے اس کی جان محفوظ رہی۔

شہریوں نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کھلے سیوریج ہولز کو فوری طور پر ڈھانپا جائے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

لبنان میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، نیتن یاہو کا جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں توسیع کا حکم

Published

on



اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حزب اللہ کے راکٹ حملے روکنے کے لیے اپنی فوج کو جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مزید توسیع کا حکم دے دیا ہے جبکہ جھڑپوں میں 4 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی ناردرن کمانڈ سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں نے ہدایت دی ہے کہ موجودہ سیکیورٹی زون کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے اور اینٹی ٹینک میزائل فائر کو ہماری سرحد سے دور دھکیلا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی شمالی سرحد پر سیکیورٹی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور ہم نے حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو ختم کیا اور سب سے بڑھ کر ایک لاکھ 50 ہزار میزائلوں اور راکٹوں کے بڑے خطرے کو بھی ختم کردیا جو اسرائیل کے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس اب بھی اسرائیل پر حملوں کے لیے راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن شمال میں صورت حال کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ اور غزہ میں حماس سمیت ایران اور اس کے اتحادی گروپس کے خلاف کئی محاذوں پر کارروائیاں کر رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ اسرائیلی اقدامات ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے حملوں کے حوالےسے بتایا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج باقی پلوں اور سیکیورٹی زون کو دریائے لیتانی تک کنٹرول میں لے لیں گی، جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں بحیرۂ روم سے جا ملتا ہے۔

کہا گیا تھا کہ وہ سرحد پر قائم اپنے بفر زون کو دریائے لیتانی تک توسیع دے رہا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ نیتن یاہو اسی علاقے کی طرف اشارہ کر رہے تھے یا مزید علاقے پر قبضے کی بات کر رہے تھے۔

دوسری جانب لبنان کی مسلح تحریک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کردیے گئے ہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان میں ایک ہزار 100 سے زائد شہری شہید ہوئے ہیں، جن میں بچے، خواتین اور طبی عملہ بھی شامل ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Trending