Today News
آبنائے ہرمز کی لہریں اور سورج کا راستہ
اسلام آباد کی بلند عمارتوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کے قلم کی ایک جنبش سے اربوں روپے ادھر سے ادھر ہو رہے تھے۔ دوسری طرف شہر کے مضافات میں ایک بیوہ ماں اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے مٹی کا تیل ڈال رہی ہوگی، کیونکہ جب اس نے سنا ہوگا کہ مٹی کا تیل 70.73 روپے مہنگا کرکے 428.74 روپے کا کر دیا گیا ہے۔
اس خبر سے تو امیروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ ہائی اوکٹین پر لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے لیٹر مقرر کرنے کے بعد نئی قیمت 533.88 روپے ہو گئی ہے۔
حکومت کہتی ہے کہ اس طرح ماہانہ 9 ارب روپے بچ جائیں گے اور اس طرح سالانہ 108 ارب روپے۔ پاکستانی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عالمی مالیاتی ادارے کی خوشنودی اور دوسری طرف غریب کی بدحالی۔ ان کی قوت خرید کی شکستگی، چند روز قبل ہائی اوکٹین فی لیٹر اضافے سے متمول طبقے کی جیب پر کوئی خاص اثر تو نہیں پڑا۔لیکن مہنگائی کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ مہنگائی کی سطح بلند ہو کر رہ گئی ہے اور اس نے پاکستان کی اکثریت کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں اس کی قوت خرید جواب دے رہی ہے۔
ایک غریب مزدور کی بیوی جو ایک ماں بھی ہے اپنے بچے کو اسکول بھیجنے کے لیے شاید اسے ناشتہ دینے کی خاطر اپنے حصے کی ایک روٹی کم کر رہی ہو۔ شاید مزدور اپنے دوپہر کے لذت کام و دہن کے لیے بچے کچھے ٹکڑے اپنے رومال میں باندھ رہا ہو۔
حکومت 200 روپے اضافہ کرے یا 400 روپے امیر کی فکر نہ کرے، کیونکہ معیشت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، یہ انسانی رویوں اور ان کی حالت کا نام ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پاکستان کے غریب متاثر ہوئے ہیں اور اب امیروں کے لیے ہائی اوکٹین اور غریبوں کے لیے مٹی کا تیل دونوں کی قیمت میں اضافہ کرکے حکومت نے شاید جتایا ہو کہ اس کے نزدیک امیر و غریب سب برابر ہیں۔ سب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
کراچی کی بندرگاہ پر کھڑے اہلکاروں کی آنکھیں دور افق پر جمی ہو ئی ہو سکتی ہیں اور ان کے کان بحیرہ عرب کی لہروں کی سرگوشیاں سن رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی لہریں اچھل اچھل کر پیغام دے رہی ہیں کہ تمہارے بڑے بڑے دیوہیکل تیل بردار جہاز جن میں کروڑوں بیرل تیل لدا ہوا ہے بس پہنچ رہے ہیں۔ جیسے ہی کسی جہاز کے لنگرانداز ہونے کی خبر متعلقہ دفاتر میں پہنچتی ہے تو قیمتوں کا تعین، لیوی کا حساب اور مہنگائی کے نئے گراف تیار ہونے لگتے ہیں۔ اس مرتبہ ایک طرف ہائی اوکٹین کی لیوی میں اضافہ کیا ہی تھا کہ معیشت کا ترازو جھکنے لگا لہٰذا انصاف کا تقاضا تھا کہ برابر ناپ تول کر دیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور فیصلہ صادر ہوا کہ مٹی کا تیل بھی تقریباً 71 روپے مہنگا کر دیا گیا ہے۔ شاید لالٹین جلانے والے، مٹی کے تیل کا چولہا جلانے والے سوچ رہے ہوں گے کہ سمندر کی لہروں کا بھی یہی انصاف ہے۔ کسی کے لیے موتی لاتے ہیں اور کسی کے لیے صرف جھاگ۔ اسی لیے میرے گھر کی لالٹین اب بہت جلدی بجھ جایا کرے گی۔ یہ کیسی معیشت ہے جہاں ایک طرف بڑی گاڑیوں کا دھواں غریب کے پھیپھڑوں میں اترتا ہے اور دوسری طرف گزشتہ 7 ماہ میں 9 ارب 4 کروڑ ڈالرز کا درآمدی تیل منگوایا جاتا ہے۔
ایران امریکا جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے مد و جزر کے اثرات تیل کی قیمتوں پر زیادہ مرتب ہو رہے ہیں۔ کبھی کوئی لہر قیمت بڑھاتی ہے اور کوئی لہر دو چار ڈالر کم کر دیتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے باعث ماہرین کا خیال ہے کہ صورت حال بتا رہی ہے کہ تیل کا درآمدی بل 20 ارب ڈالر سے بھی زائد ہو سکتا ہے۔
سمندر کی لہریں سرگوشیاں کر رہی ہیں کہ ہم نے آبنائے ہرمز کے مد و جزر سے اپنی تقدیر وابستہ کر لی ہے اور تُو ہائی اوکٹین کے دھوئیں میں 9 ارب روپے کی بچت کرکے اپنی منزل ڈھونڈتا ہے۔ شام ہونے سے پہلے ذرا لالٹین کی لُو تیز کر تو معلوم ہوگا کہ تیرا رب تیرے سر پر روزانہ سورج کی صورت میں سخاوت کا سمندر مد و جزر کے مراحل طے کراتا ہوا شاید پیغام دے رہا ہو کہ تُو نے تیل بردار دیو ہیکل جہازوں کا انتظار کرتے کرتے اس روشنی کو بھلا دیا جو مفت میں تیری چھت پر روز برستی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ تیل کی اس غلامی کا بوجھ کم کریں، کیونکہ ماہرین کا خیال ہے کہ سولر سسٹم ہی ہمارا مستقبل ہے۔ سولر پینلز کے تاجروں کو خاص طور پر مراعات دینا ہوں گی۔ خصوصاً ان تاجروں کو ’’محسن قوم‘‘ کا خطاب دینا ہوگا جنھوں نے اس وقت دھوپ کو بجلی میںبدلنے کا خواب بیچا جب لوگ اسے دیوانے کی بڑ سمجھتے تھے۔
ان تاجروں نے اس وقت مارکیٹ بنائی جب نیٹ میٹرنگ کا تصور تھا نہ گرین انرجی کی اتنی پکار تھی۔ آج ان لوگوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا ہوں گی، سولر پینلز، انورٹرز، لیتھیم بیٹریوں کی درآمد کو آسان کرنا ہوگا، جس طرح 1969 میں اپالو الیون نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اسی طرح آج بھی ہمیں ایسے ’’اپالو‘‘ مشن کی ضرورت ہے اور ’’سولر کا اپالو‘‘ تلاش کرنا ہوگا جو ہمیں تیل کے بوجھ سے نجات دلا کر خودکفالت کے آسمان تک لے جائے۔
Today News
ارضی پلیٹیں ٹکرانے سے آبنائے جبل الطارق ماضی بن جائے گی
لاہور:
افریقہ اور یورپ کے براعظموں کے علاوہ بحیرہ روم اور بحراوقیانوس کو باہم ملاتی 36 میل چوڑی آبنائے جبل الطارق تاریخی و اہم بحری گذرگاہ ہے اسی کو عبور کرکے نامور مسلم جرنیل، طارق بن زیاد نے اسپین فتح کیا تھا۔
اب لزبن یونیورسٹی پرتگال اورجوہانس گٹن برگ یونیورسٹی، جرمنی کے ماہرین ارضیات نے مشترکہ تحقیق سے دریافت کیا ہے اس آبنائے کی تہہ میں افریقی اور یورشیائی ارضی پلیٹیں ٹکرا رہی ہیں۔
اسی تصادم کے باعث مستقبل میں دونوں پلیٹیں آپس میں مل جائیں گی یہ عمل جنم لیتے ہی آبنائے جبل الطارق ماضی کا حصہ بن جائیگی۔
Today News
ایران کے 16 بیلسٹک میزائل، 42 ڈرونز کو مار گرایا گیا، متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو ایران سے فائر کیے گئے 16 بیلسٹک میزائل اور 42 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے حملوں کے آغاز سے اب تک فائر کیے گئے 414 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور ایک زہار 914 ڈرونز کو ناکارہ بنایا ہے۔
وزارت دفاع نے کہا کہ ایرانی حملوں میں اب تک دو فوجی کے علاوہ دو مراکش اور دیگر شہری جاں بحق ہوئے، جن کا تعلق پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، فلسطین اور بھارت سے تھا، اس کے علاوہ 178 افراد زخمی بھی ہوئے۔
ایران نے خطے کے دیگر ممالک میں قائم امریکی فوجی بیسز کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس میں سعودی عرب، کویت، اردن، عراق اور دیگر شامل ہیں۔
بحرین کی حکومت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے 174 میزائل اور 391 ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔
ادھر کویت کی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ کویت میں ایرانی حملے کے نتیجے میں فوجی کیمپ پر 10 کویتی فوجی زخمی ہو گئے ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور فوجی کیمپ پر مادی نقصان بھی ہوا ہے۔
کویت کی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کویتی فضائی حدود میں 14 بیلسٹک میزائل اور 12 ڈرونز داخل ہوئے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سمیت دو ہزار سے زائد شہری شہید ہوچکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں اسرائیل پر براہ راست جبکہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی بیسز پر ڈرون اور میزائل حملے شروع کردیے۔
Source link
Today News
پی ایس ایل 11: قلندرز بمقابلہ کنگز میں مبینہ بال ٹیمپرنگ سے متعلق بڑی خبر!
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 میں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ میں مبینہ بال ٹیمپرنگ کے معاملے پر میچ ریفری روشن ماہناما نے پر سماعت کی۔
ذرائع کے مطابق میچ ریفری نے لاہور قلندرز کے فخر زمان اور ٹیم منیجر کو طلب کیا۔ سماعت میں فخر زمان نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
فخر زمان کے انکار کے بعد مزید مزید سماعت آج کی جائے گی۔
واضح رہے لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ کے 19 ویں اوور کے اختتام پر امپائرز نے گیند تبدیل تھی اور لاہور قلندرز کو پانچ رنز کا جرمانہ کیا تھا۔
میچ امپائرز کی رپورٹ پر میچ ریفری نے فخر زمان اور منیجر کو طلب کیا تھا۔
کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو 4 وکٹوں سے شکست دی۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: CHOPRA’S PIRATES – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pumped up Pakistan face Bangladesh in ODI series decider – Sport
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan win toss, opt to bowl in final ODI against Bangladesh – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Faiza Hasan Reveal’s Husband’s Reaction To Daughter Becoming Actress
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport