Connect with us

Today News

لبنان میں 4 اسرائیلی فوجی ہلاک، نیتن یاہو کا جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں توسیع کا حکم

Published

on



اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے حزب اللہ کے راکٹ حملے روکنے کے لیے اپنی فوج کو جنوبی لبنان میں کارروائیوں میں مزید توسیع کا حکم دے دیا ہے جبکہ جھڑپوں میں 4 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی ناردرن کمانڈ سے جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں نے ہدایت دی ہے کہ موجودہ سیکیورٹی زون کو مزید وسیع کیا جائے تاکہ حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے اور اینٹی ٹینک میزائل فائر کو ہماری سرحد سے دور دھکیلا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی شمالی سرحد پر سیکیورٹی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور ہم نے حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو ختم کیا اور سب سے بڑھ کر ایک لاکھ 50 ہزار میزائلوں اور راکٹوں کے بڑے خطرے کو بھی ختم کردیا جو اسرائیل کے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حزب اللہ کے پاس اب بھی اسرائیل پر حملوں کے لیے راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن شمال میں صورت حال کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ اور غزہ میں حماس سمیت ایران اور اس کے اتحادی گروپس کے خلاف کئی محاذوں پر کارروائیاں کر رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ اسرائیلی اقدامات ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو کمزور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے حملوں کے حوالےسے بتایا کہ جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

قبل ازیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج باقی پلوں اور سیکیورٹی زون کو دریائے لیتانی تک کنٹرول میں لے لیں گی، جو اسرائیلی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں بحیرۂ روم سے جا ملتا ہے۔

کہا گیا تھا کہ وہ سرحد پر قائم اپنے بفر زون کو دریائے لیتانی تک توسیع دے رہا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ نیتن یاہو اسی علاقے کی طرف اشارہ کر رہے تھے یا مزید علاقے پر قبضے کی بات کر رہے تھے۔

دوسری جانب لبنان کی مسلح تحریک حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے شروع کردیے گئے ہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں لبنان میں ایک ہزار 100 سے زائد شہری شہید ہوئے ہیں، جن میں بچے، خواتین اور طبی عملہ بھی شامل ہیں۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، گھریلو جھگڑے نے خونی رخ اختیار کر لیا، شوہر کی خودکشی، بیوی زخمی

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں گارڈن ویسٹ کے علاقے حسن لشکری کے قریب ایک گھر میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے افسوسناک رخ اختیار کر لیا جہاں گھریلو جھگڑے کے دوران شوہر نے بیوی کو گولی مار کر زخمی کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

پولیس کے مطابق واقعہ ابتدائی طور پر میاں بیوی کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے دوران پیش آیا۔

جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 35 سالہ سلیمان کے نام سے ہوئی ہے، جو رینٹ اے کار کا کاروبار کرتا تھا، جبکہ زخمی خاتون کی شناخت پروا شاہ کے نام سے کی گئی ہے۔

چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مطابق لاش اور زخمی خاتون کو فوری طور پر سول اسپتال کراچی منتقل کیا گیا جہاں خاتون کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول اور تین خول تحویل میں لے لیے ہیں، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعہ گھریلو تنازع کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

درآمدی سرگرمیوں کی معطلی، روئی کی قیمت میں فی من 1500 روپے کا ریکارڈ اضافہ

Published

on



کراچی:

خلیج میں جاری جنگ کے باعث درآمدی سرگرمیوں کی معطلی سے پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔ 

گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت ایک ہزار 500 روپے کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ کاٹن ایئر 2025-26 کی نئی بلند ترین سطح 19 ہزار 500روپے جبکہ فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت ایک ہزار روپے اضافے کے ساتھ 9 ہزار 300روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہیں اور رواں ہفتے بھی روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔

کاٹن سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ مقامی روئی بڑھتی ہوئی طلب کھ پیش نظر کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران کپاس کی کاشت میں بھی اضافے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمدات معطل ہونے، بین الاقوامی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے، ملک بھر کے کاٹن زونز میں درجہ حرارت میں غیر متوقع کمی اور ہلکی پھلکی بارشوں کے باعث کپاس کی کاشت معطل ہونے سے پاکستان میں گذشتہ دو ہفتوں سے روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان غالب ہوگیا ہے۔ 

گزشتہ ہفتے فی من روئی کی قیمت میں ایک ہزار 500روپے اور گزشتہ دو ہفتوں میں مجموعی طور پر 3ہزار روپے کے اضافے کے ساتھ رواں سال کی نئی بلند ترین سطح 19ہزار 500روپے جبکہ ایک ماہ کی مؤخر ادائیگی پر 20ہزار روپے فی من کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

رواں ہفتے بھی روئی اور ہھٹی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے روئی کی عالمی قیمتیں بھی مئی وعدہ روئی کے سودے ریکارڈ 3.20فیصد اضافے کے ساتھ 69.46سینٹ فی پاؤنڈ کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔

پھٹی کی قیمتوں میں بھی تیزی کے رحجان اور کاٹن ایئر2026-27 کے دوران پاکستان میں کپاس کی کاشت میں بھی خاطر خواہ اضافہ بھی سامنے آنے کے امکانات ہیں جس سے روئی اور خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی واقع ہونے سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں دیگر بڑے زرعی ممالک کے مقابلے میں کسانوں کی جانب سے فصلوں کے تصدیق شدہ بیج استعمال کرنے کی شرح پہلے ہی کافی کم ہے تاہم پچھلے سالوں سے یہ شرح بہتر ہو رہی تھی، لیکن اب اتھارٹیز کی جانب نافذ کئے گئے نئے قوانین جن کے تحت کپاس، گندم اور چاول سمیت تمام بڑی فصلوں کے تصدیق شدہ بیجوں کے رائٹس فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت ان بیجوں کی مختلف ورائٹیز کے رائٹس خریدنے والی سیڈ کمپنی ہی یہ بیج فروخت کر سکے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

عالمی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان کو توانائی شعبے میں تحفظ حاصل

Published

on



اسلام آباد:

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث پاکستان کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق توانائی  کے شعبے میں حالیہ برسوں میں ہونیوالی تبدیلیاں اس اثر کو کسی حد تک کم کر سکتی ہیں۔

ماضی میں 2008 اور 2022 میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے نے پاکستان کی معیشت کو سخت متاثر کیا تھا، جس سے مہنگائی میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا لیکن اب توانائی  کے ذرائع میں تنوع کے باعث صورتحال نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اب مجموعی بجلی کے استعمال کا تقریباً 20 سے 25 فیصد حصہ بن چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس رجحان نے تیل اور گیس کی درآمدات میں نمایاں کمی کی ہے اور اربوں ڈالر کی بچت ممکن بنائی ہے۔

اسی طرح فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کا حصہ گزشتہ دہائی میں تقریباً 35 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے، جبکہ ایل این جی کا استعمال بڑھا ہے۔

مجموعی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار میں تقریباً 40 فیصد کمی آئی ہے۔ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم بڑے منصوبوں میں تاخیر کے باعث اس شعبے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کی جا سکی۔

تھر کول منصوبے کے تحت مقامی کوئلے کا استعمال بڑھا ہے، جو اب بجلی پیداوار میں 11 فیصد سے زائد حصہ ڈال رہا ہے اور مستقبل میں کھاد کی تیاری کیلیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

نیوکلیئر توانائی بھی پاکستان کیلیے مستحکم ذریعہ بن کر ابھری ہے، جس کا حصہ 2015 میں 5 فیصد سے کم ہونے کے مقابلے میں اب 16 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔

اس کے باوجود، توانائی کی ترسیل کے نظام میں خامیاں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تیل پر انحصاراورتوانائی  کے مؤثر استعمال میں کمی جیسے مساء ل بدستور موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور توانائی بچت اقدامات کے ذریعے نہ صرف درآمدی بل کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending