Connect with us

Today News

امریکا اسرائیل ،ایران جنگ کا مستقبل

Published

on


جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے امریکا کی ایران جنگ کو تباہ کن سیاسی غلطی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ برلن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس سے با آسانی بچا جا سکتا تھا۔ اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو یہ غیر ضروری جنگ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ کابینہ اجلاس میں کہا کہ اگرچہ یہ جنگ اسرائیل کی جنگ ہے لیکن اس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ علاقائی امن اور انسانیت کی خاطر نیتن یاہو کی قیادت میں قتل عام کے نیٹ ورک کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ جس کے لیے ہر ملک کو دلیرانہ فعال موقف اختیار کرنا چاہیے۔ دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پز شکیان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان سمیت کئی ممالک کے عوام کی بیداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان، ترکی، عراق، لبنان ، مصر اور عرب ممالک کے عوام امریکا ، اسرائیل اور ان کے جرائم کے خلاف ببانگ دہل نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک امریکی پروفیسر نے بتایا کہ ہم امریکی کتنے شقی القلب ہیں کہ امریکا 1971سے لے کر 2021 تک 3 کروڑ 80 لاکھ انسانوں کو قتل کر چکا ہے۔ اس سے پہلے امریکا اپنے قیام سے لے کر اب تک مجموعی طور پر کروڑوں افراد کو قتل کر چکا ہے۔ ویت نام کی جنگ کوئی بہت دور کی بات نہیں۔ صرف اسی جنگ میں امریکا نے 33 لاکھ ویت نامیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے اور اس کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کا قتل عام اپنی جگہ ہے۔ غزہ میں امریکی سرپرستی میں اسرائیل نے 80 ہزار سے زائد بے گناہ انسانوں کو قتل کیا جس میں اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے۔ اس کے علاوہ زخمی سوا لاکھ سے زائد ہیں۔ امریکی سرپرستی میں آٹھ لاکھ انسان خلیج کی جنگ کا ایندھن بنے۔

اسرائیلی فوج اندر سے ٹوٹ رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ کی سنگین وارننگ جس میں سیکیورٹی کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فوج اس وقت بڑے خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ جن میں سب سے اہم افرادی قوت میں کمی اور جنگ کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ میں دس لال جھنڈے کھڑے کر کے وارننگ دے رہا ہوں، میدان جنگ میں ریزرو فوجی لڑ نہیں پائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ریزرو فوجیوں سے متعلق قوانین میں ترمیم اور دیگر اقدامات نہ کیے گئے تو اسرائیلی فوج اندرونی طور پر ٹوٹ جائے گی۔ دوسری جانب سابق اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کو بیس ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ حکومت نے بغیر حکمت عملی کم وسائل اور کم فوجیوں کے ساتھ جنگ شروع کی۔

امریکی جریدے ٹائم کا کہنا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور سائنسدانوں پر حملوں کے باوجود تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایران اب مزید پرعزم ہو کر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ اختیار کر سکتا ہے تا کہ وہ اپنے وجود کو محفوظ بنا سکے۔ امریکی سامراج کی غنڈہ گردی نے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی ایسا ہی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اپنی آزادی خودمختاری اور بقا کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا ناگزیر ہے۔

وینزویلا کی مثال ہمارے سامنے ہے جب صدر اور ان کی بیوی کو امریکا نے اغوا کیا کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ صاحب فرماتے تھے کہ وینزویلا کا 80 فیصد تیل میں اپنی مرضی سے فروخت کرونگا جب کہ وینز ویلا کے پاس دنیا کے بہت بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ چند دن پیشتر ایرانی سلامتی کونسل کے ترجمان نے یہ بیان دیا ہے کہ ہم این پی ٹی سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ اس میں شمولیت سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی ہوا ہے۔ خلیجی ملکوں میں تئیس امریکی فوجی اڈے ہیں جہاں امریکا اسرائیل کے بیک وقت 600 طیارے دن رات حملہ کرتے رہے ہیں۔

امریکا اسرائیل ایران جنگ پر پوری دنیا میں تجزیہ اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ العربیہ ٹی وی کے پروگرام کی خاتون میزبان جس میں امریکی مصنف اور سینئر نیشنل سیکیورٹی ایڈیٹر برانڈن نے بتایا کہ اسرائیل اپنے ایرو انٹر سیپٹر ختم ہونے سے محض چند دن کے فاصلے پر ہے۔ برانڈن نے کہا کہ ایران نے ایک شاندار حکمت عملی دکھائی ہے۔ امریکا اسرائیل کو اتنا تھکا دینا کہ ان کے ذخائر ختم ہو جائیں اور امریکا داخلی، سیاسی، معاشی دباؤ کے تحت گھٹنے ٹیک دے۔ انھوں نے کہا کہ میں خود امریکا میں رہتا ہوں۔

حالات واقعی خراب ہو رہے ہیں۔ برطانوی ادارہ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ جس کے صدر نے تین ہفتے پہلے مجھے احمق کہا تھا ۔ اب وہی میری باتیں تصدیق کر رہے ہیں جو میں نے کہی تھیں۔ اسرائیل محض چند دنوں کے فاصلے پر ہے اپنے انٹرو سیپٹر ختم کرنے میں اور امریکا نے بھی اپنے تھاڈ ذخائر کا چالیس فیصد استعمال کر لیا ہے اور صرف تین ہفتے کا اسٹاک باقی ہے۔ اگر جنگ کی رفتار بڑھی تو یہ مزید جلد ختم ہو جائیں گے۔

ایرانی حکمت عملی دھیرے دھیرے تھکا دینا شروع سے ہی تھی۔ اور ہم نے ان کے میزائل ذخائر کو قلیل اور کم سمجھا تھا ۔ جس کی قیمت اب ادا کر رہے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ نہ ٹرمپ نہ ایران نہ اسرائیل کوئی بھی سنجیدہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں۔ لہذا ہم مزید خطرناک سطح پر جا رہے ہیں اور شائد امریکا کو آبنائے ہرمز میں ’’گیلی پولی‘‘ جیسا منظر دوبارہ دیکھنا پڑے۔ یہ اچھا انجام نہیں ہوگا۔ چند دن پیشتر امریکا میں ڈھائی لاکھ افراد نے صدر ٹرمپ کی امپیچمنٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا اسرائیل ایران جنگ کا مستقبل کیا ہے؟ اس کا پتا 2 اپریل سے 8 سے 12 اپریل کے درمیان چلے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مقدمات کی بھرمار؛ راولپنڈی میں ایک اور انسداد منشیات عدالت کے قیام کا فیصلہ

Published

on



راولپنڈی:

انسداد منشیات عدالت میں مقدمات کی بھرمار کے باعث ایک اور نئی عدالت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس سلسلے میں پرانی ضلع کچہری راولپنڈی میں نئی عدالت کے لیے کمرہ منتخب کر لیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس وقت انسداد منشیات عدالت میں 653 ریکارڈ مقدمات زیر سماعت ہیں، جس کے باعث نئی عدالت کے قیام کی ضرورت پیش آئی ہے۔ نئی عدالت کو انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نمبر 2 کا نام دیا جائے گا۔

نئی عدالت کے جج کے طور پر سینئر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجا غضنفر فرائض انجام دیں گے جبکہ اس کے لیے ضیا کیانی کو پراسیکیوٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں نئی عدالت کے لیے اسٹاف کی تعیناتی آج مکمل کی جائے گی۔

حکام کے مطابق نئی عدالت رواں ہفتے کے دوران 2 روز میں باقاعدہ طور پر فعال ہو جائے گی، جہاں راولپنڈی ڈویژن بھر میں درج اے این ایف کیسز کا ٹرائل کیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

بہادر کشمیری رہنما اشفاق مجید وانی کی شہادت کو 36برس بیت گئے

Published

on


بہادر کشمیری رہنما اشفاق مجید وانی کی شہادت کو 36برس بیت گئے ہیں۔ اشفاق مجیدوانی نے نوجوان نسل کو بیدارکیااورتحریک آزادی کشمیرمیں نئی روح پھونک دی۔

1980کی دہائی کےآخرمیں ابھرنےوالی نوجوان مزاحمتی قیادت کااہم نام اشفاق مجید وانی تھےجنہوں نےسیاسی شعوراوربیداری کو تقویت دی۔ اشفاق مجیدوانی دین اورفکرِاقبال سےمتاثرباہمت رہنماتھے جنہوں نےنوجوانوں میں آزادی اورحریت کا جذبہ پیدا کیا۔

30 مارچ 1990 کوسرینگر کے علاقےحوال میں بھارتی قابض فورسز نےبزدلانہ کارروائی کرتےہوئےانہیں گھیرلیا۔ اشفاق مجیدوانی قابض بھارتی فوج کےخلاف آخری دم تک بہادری سے لڑتےہوئے شہیدہوگئے۔

ان کی شہادت نے تحریکِ آزادیٔ کشمیر کونئی طاقت دی اور مزاحمتی جذبات کو مزید مضبوط بنا دیا۔ آج بھی اشفاق مجید وانی کوکشمیری نوجوانوں کیلئےمزاحمت،حوصلے اورجدوجہد کی علامت سمجھےجاتےہیں۔

بھارتی قابض افواج کے ظلم، جبراور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کشمیری عوام کے حوصلے توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔

کشمیری عوام پاکستان کو اپنی امید اور جدوجہد کا فطری حامی سمجھتے ہیں اور ہر آزمائش میں یہ وابستگی مزید مضبوط ہوتی جاتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسرائیل میں فلسطینیوں کیخلاف سزائے موت کا بِل، یورپ کی شدید مذمت

Published

on


یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل میں سزائے موت کے بل پر “گہری تشویش” کا اظہار کیا ہے جس میں کسی بھی اسرائیلی شہری کیخلاف غلطی سے یا قصداً پرتشدد اقدام پر سزائے موت یا عمر بھر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بِل کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ  یہ بِل فلسطینیوں کے خلاف غیر متناسب طور پر استعمال کیا جائے گا۔

انتہائی دائیں بازو کے قانون سازوں کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ سزائے موت کا بل، نومبر میں اپنی پہلی ریڈنگ سے پاس ہوا تھا جس کے بعد اب اسے حتمی ووٹنگ کیلئے کنیسٹ میں آج پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

گزشتہ روز برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے اس بل کے خلاف ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ یہ بِل اسرائیل میں سزائے موت کے فوری نفاذ کے خطرے کو بڑھا دے گا۔

انہوں نے کہا، “ہم خاص طور پر بل کے اصل امتیازی کردار کے بارے میں فکر مند ہیں۔” “اس بل کی منظوری سے اسرائیل کے جمہوری اصولوں کے وعدوں کا دعویٰ کمزور ہوگا۔”





Source link

Continue Reading

Trending