Connect with us

Today News

پاکستان مخالف بھارتی وزیر خارجہ کو وزارت کیسے ملی؟

Published

on


25مارچ2026 کو بھارتی وزیر خارجہ ، ڈاکٹر ایس جے شنکر، نے پاکستان کے خلاف جس بداخلاقی، بیہودگی اور یاوہ گوئی کا مظاہرہ کیا، اِس کے خلاف ردِ عمل پاکستان میں تو ہُوا ہی ہے ، بھارت میں بھی مہذب اور شائستہ مزاج انٹیلی جنشیا نے جئے شنکر کی سخت گوشمالی کی ہے ۔ اِس سے پہلے کہ ہم جے شنکر کے پاکستان مخالف بیہودہ بیان کا جائزہ لیں ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے موصوف کے بارے معلوم کر لیا جائے کہ یہ ہیں کون ؟ تاکہ کالم کی تصویر مکمل ہو سکے ۔

جے شنکر دِلّی کے جَم پَل ہیں ۔ عمر70سال ۔ اُن کے والد ( کرشن سوامی سبرامینیم) سینئر سول سرونٹ تھے۔ ڈاکٹرجے شنکر بھارت کے لیے طویل عرصہ کے لیے وزیر خارجہ کی خدمات دینے والے اکلوتے وزیر ہیں ۔نئی دہلی کی ممتاز جامعہ ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی ، سے عالمی تعلقات عامہ اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ سیاست بھی کرتے رہے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) کے رکن ہیں ۔

پدماشری ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ بھارت کے نہ صرف سیکریٹری خارجہ رہے ہیں ، بلکہ کئی ممالک میں بھارت کے سفیر کی حیثیت میں خدمات بھی انجام دیں ۔ مثلاً:امریکا ، چین، چیکو سلواکیہ اور سنگا پور ۔متعصب ہندو مقتدر جماعت ’’بی جے پی‘‘ کے باقاعدہ رکن ہیں ۔ اعلیٰ سفارتی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد بھارت کے سب سے بڑے صنعتکار ادارے کے عالمی پی آراو بھی رہے۔ موصوف عاشق مزاج بھی ثابت ہُوئے ہیں۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو اپنی کلاس فیلو (شوبھا) سے آنکھیں لڑائیں ۔ پھر اُسی سے بیاہ بھی رچایا ۔ شوبھا کینسر سے آنجہانی ہُوئی تو موصوف بطور بھارتی سیکرٹری خارجہ جاپان گئے تو ایک ہوٹل میں ایک عام سی جاپانی خاتون(کیوکو سومی کوا) کو دل دے بیٹھے اوربعد ازاں اُس کے ساتھ سات پھیرے لے لیے ۔ دونوں بیویوں سے ٹوٹل تین بچے ہیں ۔

 نریندر مودی دوسری بار بھارتی وزیر اعظم بنے تو ڈاکٹر جے شنکر کو بھی دوسری بار بھارت کا وزیر خارجہ بنا دیا۔ وہ اب تک بی جے پی ، مودی اور بھارتی حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ جے شنکر وزیر خارجہ متعین کیے گئے تو ہمارا خیال تھا کہ اُن کے طویل اور وسیع ڈپلو میٹک کیرئیر کے کارن ہی اُنہیں بھارتی وزارتِ خارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہوگا ۔ مگر اب یہ انکشاف ہُوا ہے کہ نہیں ، اُنہیں میرٹ پر وزیرِ خارجہ نہیں بنایا گیا بلکہ اُن کی ’’خدمات‘‘ کچھ اور ہی ہیں اور نرنیدر مودی کے لیے وہی ’’خدمات‘‘ جے شنکر کو بلند ترین ڈپلومیٹک عہدے پر فائز کرنے کا موجب بنی ہیں۔ یہ چشم کشا انکشاف بھارت کے سینئر سیاستدان و سابق مرکزی وزیر اور کئی کتابوں کے مصنف ( سبرامینین سوامی) نے کیا ہے۔

یہ انکشاف بھارت بھر کے لیے بم بن کر بھارتی سیاست اور مودی جی کی ذات اور شخصیت پر گرا ہے۔ واضح رہے سبرامینین سوامی کا تعلق ’’بی جے پی‘‘ سے بھی رہا ہے ، مگر اپنے آزاد منش ہونے کے سبب وہ بی جے پی کے زر خرید غلام بننے سے انکار کرتے ہیں ۔ 26مارچ2026کو ایک بھارتی صحافی کو انٹرویو دیتے ہُوئے سبرامینین سوامی نے یوں بم پھوڑا:’’ نریندر مودی جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو 9بار چین کے دَورے پر گئے ۔ کیا کرنے گئے ؟ واپس آکر کسی کو کچھ نہ بتایا۔اور جب مَیں سرکاری طور پر چین کے دَورے پر گیا تو مجھے کئی معتبر ذرائع نے بتایا کہ مودی جی تو وہاں اپنے ’’شوق و عیش‘‘ پورے کرنے گئے تھے ۔ اور مودی جی کے مذکورہ ’’شوق‘‘ پورے کرنے کا بندوبست یہ صاحب ( جے شنکر) کیا کرتے تھے ۔اِنہیں ( جے شنکر کو) جو مسلسل وزارتِ خارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہے ، یہ در اصل اُنہی سابقہ ’’خدمات ‘‘ کا صلہ ہے ۔‘‘ سبرامینین سوامی نے اپنے انٹرویو میں جے شنکر کو ’’مسٹر420‘‘کا خطاب بھی دیا ہے ۔ یہ تہلکہ خیز انٹرویو ابھی تک یو ٹیوب پر پڑا ہے ۔ جسے شوق ہو ، خود ملاحظہ کر سکتا ہے ۔

اب جے شنکر نے پاکستان مخالف نہائت بیہودہ بیان دیا ہے ، دیکھا جائے تو یہ درحقیقت موصوف کے مذکورہ کردار کی چغلی کھاتا ہے ۔ ایران پر مسلّط کی گئی مہلک اسرائیلی و امریکی جنگ ( جسے شروع ہُوئے آج ایک ماہ ہو چلا ہے ) کو رکوانے یا ٹھنڈا کروانے یا فریقین میں صلح کروانے یا ثالثی کروانے کی کوششوں اور دوڑ دھوپ کے پس منظر میں پاکستان اورہمارے وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی دُنیا بھر میں تحسین و تعریف ہو رہی ہے ۔ اسلام آباد میں مبینہ طور پر ایران و امریکا کی صلح کروانے کے لیے عالمی مذاکراتی میز بچھانے کی بھی تیاریاں ہیں ۔29مارچ2026 کو اسلام آباد میں 4اسلامی ممالک ( پاکستان ، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ) کے وزرائے خارجہ کا جو اہم اجلاس ہُوا ہے، اِس سے بلند توقعات وابستہ کی گئی ہیں۔

بھارت ، بھارتی میڈیااور جے شنکر کو یہ مناظر دیکھ دیکھ کو بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے ۔ جے شنکر سے بھارت بھر میں پوچھا جارہا ہے کہ پاکستان تو عالمی سفارتکار میں بازی لے گیا مگر تم اور تمہاری ڈپلومیسی کہاں ہے ؟ اِس بارے بھارتی کابینہ نے بھی بند کمرے میں جے شنکر سے ایک میٹنگ ( جس کی صدارت بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کررہے تھے) میں اُن کی ناکامیوں بارے استفسار کیا تو مبینہ طور پر جے شنکر نے چِڑ کر کہا:’’ انڈیا، پاکستان کی طرح بروکر (دلال) ملک نہیں بننا چاہتا جو دیگر ممالک کے پاس جا جا کر پوچھتا پھرے کہ اُنہیں اس کی خدمات کی ضرورت تو نہیں ہے؟‘‘۔

 عالمی مروجہ و محتاط سفارتی زبان کے برعکس بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے اِس بیہودہ بیان کا جواب تو ہمارے وزیر خارجہ ( اسحاق ڈار) کو دینا چاہیے تھا ، مگر وہ آج کل ایران ، اسرائیل و امریکی جنگ میں اتنے اُلجھے ہُوئے ہیں کہ اُن کی بجائے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان، طاہر اندرابی، نے جواباً یوں کہا:’ ’ایسے غیر سفارتی بیانات گہری مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اس قسم کی بیان بازی اور بھڑکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا طرزِ عمل تحمل، شائستگی اور وقار پر مبنی ہے نہ کہ محض بیان بازی پر۔‘‘ جے شنکر کی یاوہ گوئی اور بدتمیزی پر ہمارے وزیر دفاع کہاں خاموش ہونے والے تھے ؟ ؛چنانچہ خواجہ محمد آصف نے ردِ عمل میں کہا:’ ’جے شنکر خود کو ایک ’ہائی فائی دلال‘ سمجھتے ہیں۔

اُن کا یہ بیان اُن کی ذاتی جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔ماضی قریب میں یوکرین کی جنگ رکوانے کی بھارتی کوششوں کو جے شنکر کیا کہیں گے؟ وہاں تو جے شنکر صاحب پیشہ وَر دلال ثابت ہُوئے ۔‘‘ اِن بیانات سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاک بھارت تعلقات میں کس قدر تلخی پیدا ہو چکی ہے۔ پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ( جلیل عباس جیلانی) نے ایکس پر جے شنکر کی بیہودگی کا جواب دیتے ہُوئے کہا:’’ بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان مخالف غیر سنجیدہ بیان ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔‘‘ سابق وزیر، مرتضیٰ سولنگی، نے کہا : ’’حقیقت یہ ہے کہ جے شنکرمودی کے دلال ہیں اور مودی نیتن یاہو کے دلال ‘‘۔سابق گورنر سندھ( محمد زبیر) نے اپنے بیان میں کہا :’’میں نے کبھی کسی وزیرِ خارجہ کو اس قدر گری ہوئی بات کرتے دیکھا نہ سُنا۔‘‘

جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا گیا تھا کہ بھارت میں بھی جے شنکر کی اِس یاوہ گوئی اور بدتمیزی کے خلاف سخت ردِ عمل آیا ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اِسی ضمن میںکانگریس کے ترجمان ،جے رام رمیش، نے کہا:’’ ہمارے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انڈیا کوئی دلال ملک نہیں ہے۔

سچ یہ ہے کہ ہماری (بھارتی) سفارت کاری، روابط، اور بیانئے کی تباہ کن ناکامیوں نے پاکستان کو اِس (بلند) مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔‘‘اور اِسی ضمن میں بھارتی خارجہ امور کی رپورٹنگ کرنے والی معروف صحافی (سوحاسنی حیدر، جو سابق بھارتی مرکزی وزیر سبرامینین کی بیٹی ہیں) نے بھی جے شنکر کی سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے مذکورہ بیان پر اُن کی سخت گرفت کی ہے۔جے شنکر کے پاکستان مخالف دریدہ دہن بیان نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بھارتی نیتاؤں ، انڈین اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی میڈیا کو پاکستان کی کوئی چھوٹی سی کامیابی بھی ہضم نہیں ہوتی ۔بھارت نے آج کل افغانستان کے پردے میں پاک ایران تعلقات بگاڑنے کے لیے(سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے) جو مذموم مہمات جاری کررکھی ہیں ، وہ الگ سے قابلِ تشویش ہیں ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گیس کی کمی؛ سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ

Published

on


گیس کی کمی کے باعث ملک میں سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ذرائع کے  مطابق آئندہ ماہ (اپریل) سے ملک بھر کے پاور پلانٹس کو صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہوگی، جس کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مارچ میں ملنے والی 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور ایل این جی کی فراہمی بند ہو جائے گی۔ سی این جی سیکٹر کے لیے بھی گیس مکمل طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے۔

پاور سیکٹر کو 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس منتقل کی جائے گی اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گیس بھی ممکنہ طور پر بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے سے پیدا ہونے والی 1500 سے 1800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فیصد بجلی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ساہیوال اور جامشورو کے پلانٹس کوئلے کی قلت کا شکار ہیں ۔ کوئلے کا موجودہ ذخیرہ صرف 3 سے 7 دن کے لیے کافی ہے، جس کے باعث مزید 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا امکان ہے۔

دوسری جانب ایس ایس جی سی کو بھی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ ترجمان کے مطابق 2 گیس فیلڈز میں ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے گیس کی فراہمی میں کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس غیر متوقع قلت کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے، نشے کے عادی افراد شہر کیلیے بڑا چیلنج ہیں، میئر کراچی

Published

on



کراچی:

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ حادثہ کہیں بھی ہو سکتا ہے، نشے کے عادی افراد شہر قائد کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

کلفٹن میں نجی سپر اسٹور میں آگ لگنے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے پر  میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی جاری ہے۔ تمام متعلقہ ادارے موقع پر موجود ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے نمائندے بھی وہاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد بروقت کارروائی کرتے ہوئے عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جبکہ عمارت میں موجود 24 سے 25 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

آگ لگنے کے وقت انتظامیہ کے افراد بھی عمارت میں موجود تھے جنہیں نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

میئر کراچی نے مزید بتایا کہ واٹر باؤزرز، فائر ٹینڈرز اور ریسکیو 1122 کا عملہ بھی موقع پر موجود ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی طبی امداد کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور گرِلز نکال کر دھواں خارج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ راستے بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ جگہ کو جلد کلیئر کیا جا سکے۔ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت عمارت میں ان کا کوئی ملازم موجود نہیں ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ یہ علاقہ کنٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام آتا ہے ۔ یہاں فائر سیفٹی آڈٹ بھی کیا گیا تھا، تاہم پھر بھی واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور مختلف عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو کا عمل جلد مکمل کرنا ترجیح ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

انہوں نے گل پلازہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا اور اسی طرز پر یہاں بھی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ شہر بھر میں ڈپٹی کمشنرز اور دیگر ادارے فائر سیفٹی آڈٹ کر رہے ہیں ۔ صدر میں ایک مارکیٹ کو آڈٹ نہ ہونے پر سیل بھی کیا گیا تھا۔ بعض اوقات عوام کے مفاد میں سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

میئر کراچی نے نشے کے عادی افراد کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد اکثر ایسی جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں جہاں لوہا یا دیگر سامان موجود ہو۔ گل پلازہ میں دوبارہ آگ لگنے کی ایک وجہ بھی یہی عناصر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وزیر داخلہ سے بات کی گئی ہے، انہوں نے پولیس کو نشے کے عادی افراد اور منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین بعد میں کیا جائے گا اور مکمل قابو پانے کے بعد تحقیقات شروع ہوں گی۔

میئر کراچی نے فائر فائٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عملی کام قابل تعریف ہے ، جسے سراہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے فائر فائٹرز کو آلات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ یہ ادارہ ہر حال میں کام کر رہا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ ہو یا ایکسپورٹ پروسیسنگ زون، بہادر فائر فائٹرز ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ڈی سی ساؤتھ بھی موقع پر موجود ہیں جن کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

لاہور ہائیکورٹ: بیرون ملک نوکری کے نام پر کروڑوں روپے بٹورنے والے ملزم کی ضمانت خارج

Published

on



لاہور:

لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک نوکری کا جھانسہ دے کر شہریوں سے ایک کروڑ 59 لاکھ روپے بٹورنے کے کیس میں ملزم علی رضا کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس وحید خان نے کیس کی سماعت کی، وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خرم عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم علی رضا نے تین افراد کو کینیڈا بھجوانے کے نام پر ایک کروڑ 59 لاکھ روپے وصول کیے، تاہم رقم لینے کے باوجود کسی کو بیرون ملک نہیں بھجوایا۔

وکیل کے مطابق ایسے افراد جو دنیا بھر میں پاکستان کا نام بدنام کرتے ہیں، کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending