Connect with us

Today News

صوبوں کی مخالفت پر حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

Published

on



صدر مملکت کی زیر صدارت اہم اجلاس میں حکومت نے صوبوں کی مخالفت پر ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی۔

 ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

شرکا نے ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجز پر مشاورت کی اور ان سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر اتفاق کیا۔ملاقات میں قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جائے  ادارہ جاتی سطح پر آہنگی کو یقینی  بنانے پرزور دیا۔

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے توانائی بچت اقدامات کے تحت ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی مخالفت کی جس پر اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کیا اور کفایت شعاری کے اقدامات سے بچائی گئی رقم عوامی ریلیف پر خرچ کی جا رہی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت نے اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد استعمال کو فوری طور پر روکنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

صدر مملکت نے مربوط فیصلہ سازی کو یقینی بنانے اور معیشت، توانائی، غذائی تحفظ اور سکیورٹی کے شعبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہدایت کی۔

اعلامیے کے مطابق صدر مملکت  نے ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کیلئے عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ہدایت کی ہے کہ تیل و گیس کی فراہمی پر دباؤ، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور خطے کی بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر عوام، خصوصاً عام آدمی پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور خاص طور پر اشیائے ضروریہ اور بنیادی خدمات کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔

مشاورتی اجلاس میں وزیرِ اعظم  شہباز شریف، چاروں صوبوں کی قیادت، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی قیادت بھی شریک ہوئی۔

اس کے علاوہ مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی شریک تھے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ  گلگت بلتستان کے نگراں وزیرِ اعلیٰ یار محمد، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور بھی اجلاس میں شریک تھے۔

چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی جانب سے مہنگائی کے دباؤ کو کنٹرول کرنے، اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے اور عوام پر اثرات کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔

 اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سکیورٹی، معیشت اور غذائی تحفظ پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ایندھن کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔

بریفنگ میں شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر موجود ہیں۔

اس کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت سے حالیہ رابطے اور تنازع میں شامل ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت بریف کیا۔

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے آئندہ دورہ بیجنگ کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سندھ کے ویکسینیٹرز کا ویکسینیٹر کی پوسٹ کو جونیئر ٹیکنیشن میں اپ گریڈ کرنے کا مطالبہ

Published

on



محکمہ صحت سندھ کے ویکسینیٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بی پی ایس 6 سے اپگریڈ کرکے جونیئر ٹیکنیشن (بی پی ایس 9) کے عہدے پر ترقی دی جائے۔

ویکسینیٹرز کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ سال قبل پروجیکٹ ڈائریکٹر ای پی آئی سندھ کی جانب سے سیکرٹری ہیلتھ کو ارسال کیے گئے مکتوب میں ویکسینیٹرز سمیت دیگر عملے کی اپ گریڈیشن کی تجویز دی گئی تھی، تاہم تاحال اس پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ محکمہ صحت کے دیگر تکنیکی طبی عملے کی طرح ٹیکنیکل اسٹاف ہیں کیونکہ وہ براہِ راست بچوں کو ویکسین لگاتے ہیں اور ای پی آئی پروگرام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ویکسینیٹرز نے مطالبہ کیا کہ پی ڈی ای پی آئی کی سفارش پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے ان کی موجودہ پوسٹ کو اپگریڈ کر کے جونیئر ٹیکنیشن (بی پی ایس 9) کیا جائے تاکہ انہیں ان کا حق مل سکے اور ای پی آئی کی کارکردگی میں  مزید بہتری آئے۔



Source link

Continue Reading

Today News

کویت کی پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی

Published

on



کویت نے پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی بدستور فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جب کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے لیے بھی خصوصی سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمٰن جاسم المطیری نے ملاقات کی، جس میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے پاکستانی جہازوں کو کویت سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی ممکنہ ترسیل کے لیے مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر علی پرویز ملک نے اس تعاون پر کویت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کا مظہر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 50 برس سے پاکستان، کویت سے بالخصوص ڈیزل سمیت مختلف پیٹرولیم مصنوعات درآمد کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

کویتی سفیر ناصر عبدالرحمٰن جاسم المطیری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کویت، پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم بنانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

علی پرویز ملک نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے لیے کویت کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف تنازعات کے پُرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار پر کویت کی جانب سے اظہارِ تشکر کو بھی خوش آئند قرار دیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

سیکیورٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی، قلندرز کا شاہین آفریدی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

Published

on



سیکیورٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی پر لاہور قلندرز نے کپتان شاہین آفریدی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

چند روز قبل شاہین اور سکندر رضا کی جانب سے زبردستی کچھ لوگوں کو ہوٹل میں اپنے کمرے میں لے جانے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں، اس حوالے سے پولیس نے دونوں کرکٹرز پر سیکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

 پنجاب پولیس کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل چیف کو ایک خط لکھا گیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ دونوں کھلاڑیوں نے غیر مجاز افراد کو زبردستی ہوٹل کے کمرے تک پہنچایا۔

پولیس نے اپنے خط میں زور دیا تھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں، اسی لیے قلندرز نے جرمانہ عائد کیا۔



Source link

Continue Reading

Trending