Today News
کویت کی پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی
کویت نے پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی بدستور فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جب کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے لیے بھی خصوصی سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک سے کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمٰن جاسم المطیری نے ملاقات کی، جس میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے پاکستانی جہازوں کو کویت سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی ممکنہ ترسیل کے لیے مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر علی پرویز ملک نے اس تعاون پر کویت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کا مظہر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 50 برس سے پاکستان، کویت سے بالخصوص ڈیزل سمیت مختلف پیٹرولیم مصنوعات درآمد کر رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
کویتی سفیر ناصر عبدالرحمٰن جاسم المطیری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کویت، پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم بنانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
علی پرویز ملک نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود پاکستان کے لیے کویت کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف تنازعات کے پُرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار پر کویت کی جانب سے اظہارِ تشکر کو بھی خوش آئند قرار دیا۔
Source link
Today News
بڑھتی ہوئی جنگ کے مسائل
امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ پانچویں ہفتہ میں داخل ہوچکی ہے۔اس جنگ نے ان ممالک سمیت سعودی عرب،خلیجی ممالک سمیت دیگر ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان باہمی سطح پر بات چیت کے امکانات تو دوسری طرف ان ممالک سمیت دیگر ممالک بشمول پاکستان پس پردہ بات چیت کی مدد سے مسائل کے حل کی تلاش کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا پر یہ دباؤ کہ وہ ایران کے خلاف حتمی کارروائی کرے، خود نئے مسائل یا ٹکراؤ کے اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ خلیجی تعاون کونسل نے ایران امریکا مذاکرات میں خلیجی ممالک کی شمولیت پر زور دیا ہے۔
امریکا کے صدر کے بقول ہم نے اس جنگ میں اپنے اہداف کو حاصل کرلیا ہے اور جلد ہی ہم ایک معاہدہ کے تحت اس جنگ سے نکل جائیں گے۔لیکن جس انداز میں یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے اور جس طرح سے اس جنگ نے دوسرے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تو یہ خطرات بڑھ رہے ہیں کہ جنگ کا دائرہ کار بھی بڑھ سکتا ہے اور اس میں مختلف ممالک کے درمیان پراکسی جنگ کے مسائل بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان،ترکی اور مصر جو جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں اگر وہ اس عمل میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان ملکوں کی سیاسی پزیرائی ضرور ہوگی لیکن اگر یہ جنگ بڑھتی ہے اور جنگ بندی کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں تو پھر سب کی بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔پاکستان کی موجودہ پالیسی توازن پر مبنی ہے اور اب تک ہماری یہ ہی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے جنگ بندی پر تصفیہ ہو اور جو ایران،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں ایک دوسرے کی سطح پر بداعتمادی بڑھ رہی ہے وہ ختم ہو۔لیکن ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اگر یہ جنگ مزید آگے بڑھتی ہے اور خلیجی ممالک کے داخلی مسائل بھی بڑھتے ہیں تو ہم پر بھی ایک خاص پوزیشن لینے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسی کو بنیاد بنا کر جو سعودی ،ترکیہ،مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم بیٹھک اسلام آباد میں ہوئی ہے۔ یہ ملاقات اور اس کے نتیجے میں مزید سفارت کاری کی کوشش اس جنگ کے ختم ہونے یا نہ ہونے کے کچھ اشاروں کو سامنے لاسکے گی۔کیونکہ پاکستان سمیت ان ممالک کی سہولت کاری کی اپنی اہمیت ہے لیکن فیصلہ کی اصل طاقت امریکا،اسرائیل اور ایران کے پاس ہی ہوگی کہ وہ کس حد تک ایک دوسرے کے لیے سیاسی لچک دکھاتے ہیں ۔
امریکا کے صدر اس برتری سے جنگ بندی کی طرف جانا چاہتے ہیں کہ وہ اس جنگ سے سرخرو ہوئے ہیں ۔کیونکہ امریکا کی داخلی سیاست میں ٹرمپ پر بہت زیادہ تنقید بڑھ رہی ہے اور ان کے خلاف لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں کہ ہمیں ٹرمپ کی صورت میں بادشاہت منظور نہیں اور وہ جنگ بندی کریں۔ لیکن کیونکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ایک ایسی جگہ پر لے کر آگئے ہیں کہ ان کے لیے بغیر کامیابی کے پلٹنا کسی بھی طور پر ممکن نہیں۔اسی لیے کہا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے پاس دو ہی آپشن ہیں اول وہ ایران کے ساتھ کمزور معاہدہ کریں، جنگ سے باہر نکلنے کو ترجیح دیں یا دوئم، فوجی کارروائی میں مزید شدت پیدا کرکے طویل جنگ کا خطرہ مول لیں ۔یہ جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایران کو امریکا کیے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر لاسکتا ہے ،درست بات ہے ۔لیکن اصل سوال یہ ہے کیا امریکا ایران کے بارے میں اپنے موقف میں سیاسی لچک دکھا سکے گا۔اسی طرح امریکا اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانت کون دے گا کیونکہ وہ سیاسی یوٹرن بہت لیتے ہیں اور ایران کی قیادت بھی ان پر بہت زیادہ اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے مذاکرات میں امریکا کی ضمانت کونسا ملک دے گا اس پر سوالیہ نشان ہے۔
ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اسے اس خطہ میں تنہا کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے بقول امریکا مذاکرات کے نام پر ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاری کررہا ہے ۔پاکستان کا کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے تو اس پر تو پاکستان کی ذمے داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران تنازعہ میں شدت کو کم کرے۔اگرچہ مذاکرات کی باتیں اپنی جگہ مگر آج بھی جنگ پر مبنی کارروائیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں جو یقینی طور پر مذاکرات کے عمل کو پیچھے دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہیں ،خود ایران کے بقول امریکا ہمیں مذاکرات کے کھیل میں الجھا کر ہمارے خلاف ایک بڑی جنگی کارروائی کی تیاری کررہا ہے اور امریکا ایک ناقابل بھروسہ ملک ہے اور اس کے کھیل کا مقصد اس خطہ میں اسرائیل کی بالادستی کا جنون ہے۔اس جنگ کے جنون نے پوری دنیا کو ایک بڑے معاشی سطح کے بحران میں بھی دھکیل دیا ہے اور خود پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی کمزور معیشت پر مبنی ممالک ہیں اس کو اس جنگ کی معاشی اعتبار سے ایک بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے ۔
ابھی تک حکومت نے بہت سے معاملات پر براہ راست بوجھ ڈالنے کی پالیسی اختیار کی ہے مگر یہ جنگ اگر لمبی ہوتی ہے تو پھر حکومتوں کے پاس بھی کوئی آپشن نہیں بچے گا کہ وہ اس جنگ کا بوجھ عوام پر بھی ڈالیں۔مثال کے طور پر اس وقت وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا مگر صوبائی حکومتیں چاہتی ہیں عوام پر بوجھ ڈالا جائے اور ہم سے سبسڈی کے نام پر کٹوتی نہ کی جائے ۔اس لیے اس جنگ کا بند ہونا ہی عالمی اور دیگر ممالک کی سیاست اور معیشت کے مفاد میں ہے ۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بڑے ممالک اپنی موجودہ جنگی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور طاقت کے انداز سے یا جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرکے بات چیت کے راستہ کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
امریکا اور اسرائیل نے جس انداز سے جنگی حکمت عملی اختیار کرکے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہ ظاہرکرتا ہے کہ اس پر جو طاقت کی حکمرانی کا بھوت سوار ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں کی خودمختاری کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہمیں بھی امریکا کی اس جنگ کی پالیسی سے خبردار رہنا ہوگا ۔
جب ایک ایسے موقع پر امریکا اور ایران کی سطح پر اچھے بھلے مذاکرات ہورہے تھے تو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے جنگ پر مبنی حکمت عملی اختیار کی ہے اور وہ عملًا ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے اور آج بھی کررہے ہیں۔پاکستان جس نے اس وقت عالمی اور علاقائی یا خلیجی سطح پر سفارت کاری میں اپنی اہمیت بڑھائی ہے تو اسے خود کو ایک ایسے کردار میں لے کر آگے بڑھنا ہے جہاں اس کی پالیسی میں توازن بھی ہو اور وہ کسی کا فریق بننے کی بجائے جس حد تک تعلقات کے بگاڑ میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتا ہے وہ کرے۔اسی بنیاد پر پاکستان اس جنگ میں بلاوجہ الجھے بغیر اپنے داخلی، سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کے استحکام کو بھی ممکن بنا سکے گا۔
Today News
سوشل میڈیا پر جنگ: میڈیا تھیوریز کے تناظر میں
حال ہی میں اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں اے آئی کی فیک نیوز بہت زیادہ حد تک سوشل میڈیا پر نظر آئیں، بعض ماہرین اسے ”Information War” یا ”Narrative War” کہہ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ میں AI-enerated ویڈیوز اور تصاویر کا سیلاب آیا ہے، جو پچھلی جنگوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بعض جعلی ویڈیوز کو کروڑوں ویوز ملے، حالانکہ وہ ویڈیو گیم یا مصنوعی فوٹیج تھیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بڑی جنگ ہے جس میں AI کو بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا گیا۔ فیک نیوز اب معمولی نہیں رہیں بلکہ جنگ کا باقاعدہ ہتھیار بن چکی ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلی کہ اسرائیلی وزیراعظم مارے گئے ہیں، حالانکہ وہ زندہ تھے بعد میں انھوں نے ویڈیو بنا کر خود اس خبر کی تردید کی۔ اسی طرح ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں دکھایا گیا کہ امریکی فوجی ایران کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ہیں، بعض ویڈیوز دراصل ویڈیو گیم کی تھیں۔ جعلی سیٹلائٹ تصویر شیئر کی گئی جس میں امریکی تنصیبات تباہ دکھائی گئیں، لیکن بعد میں یہ غلط ثابت ہوئی۔
سب فریق کسی نہ کسی حد تک میڈیا کی جنگ (information warfare) کر تے نظر آئے۔ بعض ریاستی ادارے اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس منظم طریقے سے پروپیگنڈا چلا رہے ہیں یوں ہزاروں جعلی اکاؤنٹس بنا کر عوامی رائے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔سوال یہ ہے کہ اس قدر جدید دور میں یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور لوگ جانتے بوجھتے بھی ان ویڈیوز کو کیوں فالو کر رہے ہیں، لائیک کر رہے ہیں۔
آئیے اس کا میڈیا تھیوری کے تناظر میں جائزہ لیں۔
میڈیا سے متعلق چند تھیوریز مذکورہ مسئلہ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
(علم وعمل میں عدم مطابقت) 1.Cognitive Dissonance Theory
(ترجیحی انتخاب) 2.Selective Exposure
(ترجیحی ادراک) 3. Selective Perception
(ترجیحی یاد داشت) 4.Selective Retention
Cognitive Dissonance Theory کے مطابق انسان ایسی معلومات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کی موجودہ سوچ سے ٹکراتی ہو یعنی اس کے برخلاف ہو جب کہ ایسی معلومات کو ترجیح دیتا ہے جو اس کی سوچ سے ملتی ہو،یہی خیال بعد میں دیگر بیان کردہ تھیوریز کی بنیاد بنا۔
ماہرین ابلاغیات کے ان پیش کردہ نظریات کے مطابق ’’ترجیحی انتخاب ‘‘کے تحت دراصل میڈیا پر جو پیغامات آتے ہیں خواہ وہ تحریر کی شکل میں ہوں یا کسی ویڈیو وغیرہ کی شکل میں ان کو دیکھنے سننے یا پڑھنے کا فیصلہ لوگ اپنے پہلے سے قائم شدہ نظریات یا خیالات یا عقیدے کی بنیاد پر کرتے ہیں یعنی اگر ان کے نظریات خیالات یا عقیدے سے ہم آہنگ ہوں گے تو وہ انھیں ضرور سنیں گے اور پڑھیں گے لیکن اگر وہ اس کے برعکس ہوں گے تو اس کو رد کر دیں گے۔ دوسرے الفاظ میں عموماً لوگ مخالف معلومات کو دیکھنے اور پرکھنے سے بچتے ہیں۔
اسی طرح ’’ترجیحی ادراک‘‘ کی تھیوری کے تحت لوگ میڈیا پر آنے والے ایسے پیغامات جو تحریری شکل میں ہوں یا ویڈیوز وغیرہ کی شکل میں ہوں، بالکل بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو ان کے پہلے سے قائم شدہ نظریات خیالات یا قائد کے برعکس ہوں ،لہٰذا ایسے پیغامات خواہ کتنے ہی مضبوط اور حقائق پر مبنی ہوں اپنا اثر نہیں رکھتے، لوگ ان پر یقین نہیں کرتے نہ یہ سوچنے کی زحمت کرتے ہیں کہ حقائق کس حد تک صحیح یا غلط ہیں۔
اسی طرح ’’ترجیحی یادداشت‘‘ تھیوری کا معاملہ ہے جس کے تحت میڈیا سے لوگ جو کچھ بھی صبح و شام پیغامات وصول کرتے ہیں یعنی مختلف تحریریں اور ویڈیوز وغیرہ دیکھنے کے بعد، اپنے ذہن میں سے صرف وہی محفوظ رکھتے ہیں جو ان کے اپنے خیالات اور عقائد کو مضبوط کرتے ہیں یا اس سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ گویا عام لوگوں کے ذہن میں یادداشت بھی صرف اپنے مطلب کے پیغامات کو محفوظ رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر یہی یادداشت ان کے پرانے خیالات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
یوں دیکھا جائے تو یہ مختلف نظریات جو مختلف ماہرین نے 1940 اور 1950 کی دہائی میں پیش کیے تھے آج بھی بہت حد تک درست نظر آتے ہیں ۔خاص طور پہ جب ہم حالیہ اسرائیل، امریکا اور ایران کے جنگ کے معاملے کو سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر عوام کی ایک اکثریت اپنے اپنے عقائد نظریات کے مطابق مصروف نظر آتی ہے۔ ہر گروپ یا گروہ اپنے خیالات کی ہم آہنگی کے لیے خبروں اور ویڈیوز کی تلاش میں نظر آتا ہے اور جوں ہی کوئی انھیں اپنے خیالات کے مطابق خبر یا ویڈیو مل جائے وہ فوراً اس کو بغیر جانچے اور پرکھے فارورڈ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جس کے سبب فیک ویڈیوز، جعلی خبروں اور اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ویڈیوز جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا سوشل میڈیا پہ چھائی ہوئی نظر آتی ہیں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں کو آسانی ہو جاتی ہے۔
اے آئی سے بنائی گئیں ویڈیوز اس قدر خطر ناک یعنی حقیقت سے قریب تر لگتی ہیں کہ عام لوگ ہی نہیں، بڑی بڑی شخصیات بھی دھوکہ کھا جاتی ہیں اور انھیں بعد میں معذرت کرنا پڑتی ہے۔ حال ہی میں بانی تحریک انصاف کے بیٹے سے متعلق ایک ویڈیو پر سوشل میڈیا پر بڑا ہنگامہ کھڑا ہوا جس کی بعد میں عمران خان کی ہمشیرہ نے ٹویٹ کے ذریعے تردید کی کہ یہ ویڈیو فیک ہے۔
ایک صحافی نے بعد میں معذرت کی کہ انھوں نے اس پر سخت تنقید کی، انھیں معلوم نہ چل سکا تھا کہ یہ ویڈیو فیک ہے اور بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ سوشل میڈیا خاص کر واٹس ایپ گروپ پر لوگ آپس میں الجھ جاتے ہیں اور لڑ پڑتے ہیں۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور نظریے کے مطابق جو بھی پوسٹ کریں سب اس کی واہ واہ کریں چاہے وہ فیک ہی کیوں نہ ہو۔ آج کل کے حالات کے حوالے سے بے شمار واٹس ایپ گروپس میں لوگ محض ان جعلی ویڈیوز اور خبروں کی بنیاد پر آپس میں اپنے اچھے تعلقات خراب کر چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک جنگ تو ایران اور امریکا و اسرائیل لڑ رہے ہیں جب کہ ایک جنگ سوشل میڈیا پر اس کے صارفین لڑ رہے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل کسی باشعور فرد کا ہو سکتا ہے؟
غور کیا جائے تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ کوئی بھی باشعور شخص کسی بھی خبر کو حقائق کی بنیاد پر پرکھے گا نہ کہ اپنی خواہش کے مطابق دیکھے گا۔ہمارے ایک پروفیسر ساتھی کا بالکل درست کہنا ہے کہ شعور یہ نہیں ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے مخالف نظریات رکھنے والے لوگوں یا جماعت میں کیا برائیاں اور کیا خامیاں ہیں بلکہ اصل شعور تو یہ ہے کہ آپ اپنی ہم نظریاتی جماعت میں دیکھیں کہ اس میں کیا کیا خامیاں اور خرابیاں ہیں۔
یہ ہمارا ایک بہت بڑا قومی المیہ بن چکا ہے کہ ہم صرف مخالف میں خامیوں کو دیکھتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں جب کہ اپنی طرف نہیں دیکھتے۔ ہم اپنے جذبات کو کنٹرول نہیں کرتے۔ جذبات کی رو میں بہنے کی وجہ ہی سے آج ایک جنگ سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جو فیک اطلاعات اور اے آئی جنریٹیڈ ویڈیوز پر مشتمل ہے جس میں جذبات میں ڈوبے لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کر رہے ہیں۔
Today News
بھارت کی ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی سازش بے نقاب
بھارت ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا تھا جسے بے نقاب کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اطلاعات ہیں کہ بے گناہ پاکستانی بالخصوص کشمیری جو غلطی سے بارڈر کراس کرگئے انہیں بھارتی سیکیورٹی فورسز زبردستی استعمال کرے گی جبکہ لگ بھگ سینکڑوں بے گناہ پاکستانی بشمول کشمیری بھارتی قید میں موجود ہیں۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان میں سے چند بے گناہ افراد کو بھارتی فوج مذموم مقاصد کے لیے مختلف جیلوں سے نکال کر اکٹھا کررہی ہے اور ان بے گناہ پاکستانیوں کے ساتھ بھارتی جیلوں میں قید چند بھارتیوں کو بھی اس گھناونی سازش میں استعمال کئے جانے کی اطلاعات ہیں تاکہ ڈرامہ بہتر بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ان بے گناہ قیدیوں کو جلد ہی فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے گودی میڈیا اور جے شنکر پاکستان کے مخالف استعمال کرے گا، ممکنہ طور پر بھارت سفارتی میدان میں ہزیمت کی خفت مٹانے اور پاکستان سے توجہ ہٹانے کے لیے فرسودہ اور گھسا پٹا ڈرامہ رچا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور انتہائی دل برداشتہ وزیر خارجہ جے شنکر نے اس اسکیم کو ترتیب دیا ہے جبکہ دنیا بھارت کی ان مکاریوں، جھوٹ اور گھسے پٹے بیانیے سے پہلے ہی تنگ آچکی ہے، اب اس گھسے پٹے اور فرسودہ بیانیئے کی کوئی وقعت نہیں رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پلوامہ کے بعد پہلگام کو بھی ایک سال گزرنے کے باوجود بھارت ابھی تک اپنے الزامات کے شواہد سامنے نہیں لا سکا اور بھارت ان فالس فلیگ آپریشنز کے حوالے سے دنیا کو یہ نہیں بتاسکا کہ ان میں کون سے لوگ ملوث تھے اور کہاں سے آئے تھے، بھارت کا بے گناہ پاکستانی قیدیوں کو استعمال کرکے میڈیا کے سامنے ایک اور پراپیگنڈہ بھی بری طرح ناکام ہوگا۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper