Today News
حکومت کا اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا اصولی فیصلہ
وفاقی حکومت نے کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ملک میں توانائی کے ممکنہ بحران سے نمنٹنے کیلیے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے باقاعدہ فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں ملک میں ایندھن کی دستیابی، درآمدی حکمتِ عملی اور عالمی منڈی کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی مستحکم ہے جہاں ڈیزل کے 23 سے 24 دن کے کافی ذخائر موجود ہیں جبکہ پیٹرول کی دستیابی بھی تسلی بخش ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ خام تیل کے تقریباً 11 دن کے لیے ذخائر موجود ہیں اور مزید کھیپ راستے میں ہیں، جن سے اپریل تک ریفائنریوں کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپریل کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدی منصوبہ بندی فعال انداز میں جاری ہے اور بڑی مقدار میں سپلائی پہلے ہی مختلف تجارتی اور حکومتی معاہدوں کے تحت حاصل کی جا چکی ہے جبکہ ریفائنریوں کو مکمل استعداد کے ساتھ چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ خام تیل کو زیادہ سے زیادہ ریفائن کر کے ملکی طلب پوری کی جا سکے۔
اجلاس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جس کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی درآمدی لاگت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ تیل کی خریداری میں دانشمندانہ فیصلے کیے جائیں تاکہ کم لاگت والے ذرائع کو ترجیح دی جا سکے، جبکہ شپنگ، انشورنس اور دیگر لاجسٹک امور میں بھی شفافیت اور تجارتی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔
اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی طلب پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور بلا تعطل سپلائی یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔
اجلاس میں پٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے پر بھی زور دیا گیا، جس کے تحت ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے بہتر فیصلے کیے جاسکیں گے۔
اس کے علاوہ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر قائم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے باقاعدہ فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے اور عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود بہتر حکمتِ عملی کے ذریعے صورتحال کو مستحکم رکھا گیا ہے۔
Source link
Today News
لبنان: اقوامِ متحدہ امن مشن کے دو اہلکار ہلاک
جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے مزید دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
یونائیٹڈ نیشن انٹیرم فورس اِن لبنان (یونیفل) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ پیر کے روز جنوبی لبنانی گاؤں بنی حیان کے قریب ’نامعلوم نوعیت کے دھماکے نے ان کی گاڑی کو تباہ کر دیا‘، جس کے نتیجے میں دو امن اہلکار ہلاک ہو گئے۔
اقوامِ متحدہ کے اس مشن کے مطابق ایک تیسرا اہلکار شدید زخمی ہوا جبکہ چوتھا بھی اس واقعے میں زخمی ہوا۔
یونیفل کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امن کے لیے کام کرتے ہوئے کسی کی بھی جان نہیں جانی چاہیے۔
یہ اعلان اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جب یونیفل نے بتایا تھا کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان کے گاؤں عادشیت القُصیر کے قریب ایک الگ واقعے میں یونیفل کی پوزیشن پر ایک گولہ گر کر پھٹا جس کے نتیجے میں ایک امن اہلکار ہلاک ہو گیا۔
مشن کا کہنا ہے کہ اس گولے کے اصل ماخذ کا فوری طور پر تعین نہیں ہو سکا، تاہم واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
Source link
Today News
بڑھتی ہوئی جنگ کے مسائل
امریکا،اسرائیل اور ایران جنگ پانچویں ہفتہ میں داخل ہوچکی ہے۔اس جنگ نے ان ممالک سمیت سعودی عرب،خلیجی ممالک سمیت دیگر ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان باہمی سطح پر بات چیت کے امکانات تو دوسری طرف ان ممالک سمیت دیگر ممالک بشمول پاکستان پس پردہ بات چیت کی مدد سے مسائل کے حل کی تلاش کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا پر یہ دباؤ کہ وہ ایران کے خلاف حتمی کارروائی کرے، خود نئے مسائل یا ٹکراؤ کے اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ خلیجی تعاون کونسل نے ایران امریکا مذاکرات میں خلیجی ممالک کی شمولیت پر زور دیا ہے۔
امریکا کے صدر کے بقول ہم نے اس جنگ میں اپنے اہداف کو حاصل کرلیا ہے اور جلد ہی ہم ایک معاہدہ کے تحت اس جنگ سے نکل جائیں گے۔لیکن جس انداز میں یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے اور جس طرح سے اس جنگ نے دوسرے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تو یہ خطرات بڑھ رہے ہیں کہ جنگ کا دائرہ کار بھی بڑھ سکتا ہے اور اس میں مختلف ممالک کے درمیان پراکسی جنگ کے مسائل بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان،ترکی اور مصر جو جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں کرتے نظر آرہے ہیں اگر وہ اس عمل میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان ملکوں کی سیاسی پزیرائی ضرور ہوگی لیکن اگر یہ جنگ بڑھتی ہے اور جنگ بندی کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں تو پھر سب کی بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔پاکستان کی موجودہ پالیسی توازن پر مبنی ہے اور اب تک ہماری یہ ہی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے جنگ بندی پر تصفیہ ہو اور جو ایران،سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں ایک دوسرے کی سطح پر بداعتمادی بڑھ رہی ہے وہ ختم ہو۔لیکن ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اگر یہ جنگ مزید آگے بڑھتی ہے اور خلیجی ممالک کے داخلی مسائل بھی بڑھتے ہیں تو ہم پر بھی ایک خاص پوزیشن لینے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسی کو بنیاد بنا کر جو سعودی ،ترکیہ،مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم بیٹھک اسلام آباد میں ہوئی ہے۔ یہ ملاقات اور اس کے نتیجے میں مزید سفارت کاری کی کوشش اس جنگ کے ختم ہونے یا نہ ہونے کے کچھ اشاروں کو سامنے لاسکے گی۔کیونکہ پاکستان سمیت ان ممالک کی سہولت کاری کی اپنی اہمیت ہے لیکن فیصلہ کی اصل طاقت امریکا،اسرائیل اور ایران کے پاس ہی ہوگی کہ وہ کس حد تک ایک دوسرے کے لیے سیاسی لچک دکھاتے ہیں ۔
امریکا کے صدر اس برتری سے جنگ بندی کی طرف جانا چاہتے ہیں کہ وہ اس جنگ سے سرخرو ہوئے ہیں ۔کیونکہ امریکا کی داخلی سیاست میں ٹرمپ پر بہت زیادہ تنقید بڑھ رہی ہے اور ان کے خلاف لوگ بھی سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں کہ ہمیں ٹرمپ کی صورت میں بادشاہت منظور نہیں اور وہ جنگ بندی کریں۔ لیکن کیونکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو ایک ایسی جگہ پر لے کر آگئے ہیں کہ ان کے لیے بغیر کامیابی کے پلٹنا کسی بھی طور پر ممکن نہیں۔اسی لیے کہا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے پاس دو ہی آپشن ہیں اول وہ ایران کے ساتھ کمزور معاہدہ کریں، جنگ سے باہر نکلنے کو ترجیح دیں یا دوئم، فوجی کارروائی میں مزید شدت پیدا کرکے طویل جنگ کا خطرہ مول لیں ۔یہ جو کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایران کو امریکا کیے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر لاسکتا ہے ،درست بات ہے ۔لیکن اصل سوال یہ ہے کیا امریکا ایران کے بارے میں اپنے موقف میں سیاسی لچک دکھا سکے گا۔اسی طرح امریکا اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ضمانت کون دے گا کیونکہ وہ سیاسی یوٹرن بہت لیتے ہیں اور ایران کی قیادت بھی ان پر بہت زیادہ اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔اس لیے مذاکرات میں امریکا کی ضمانت کونسا ملک دے گا اس پر سوالیہ نشان ہے۔
ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اسے اس خطہ میں تنہا کرنا چاہتا ہے۔ ایران کے بقول امریکا مذاکرات کے نام پر ایران پر ایک بڑے حملے کی تیاری کررہا ہے ۔پاکستان کا کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ بھی ہے تو اس پر تو پاکستان کی ذمے داری اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران تنازعہ میں شدت کو کم کرے۔اگرچہ مذاکرات کی باتیں اپنی جگہ مگر آج بھی جنگ پر مبنی کارروائیاں شدت کے ساتھ جاری ہیں جو یقینی طور پر مذاکرات کے عمل کو پیچھے دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہیں ،خود ایران کے بقول امریکا ہمیں مذاکرات کے کھیل میں الجھا کر ہمارے خلاف ایک بڑی جنگی کارروائی کی تیاری کررہا ہے اور امریکا ایک ناقابل بھروسہ ملک ہے اور اس کے کھیل کا مقصد اس خطہ میں اسرائیل کی بالادستی کا جنون ہے۔اس جنگ کے جنون نے پوری دنیا کو ایک بڑے معاشی سطح کے بحران میں بھی دھکیل دیا ہے اور خود پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی کمزور معیشت پر مبنی ممالک ہیں اس کو اس جنگ کی معاشی اعتبار سے ایک بڑی بھاری قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے ۔
ابھی تک حکومت نے بہت سے معاملات پر براہ راست بوجھ ڈالنے کی پالیسی اختیار کی ہے مگر یہ جنگ اگر لمبی ہوتی ہے تو پھر حکومتوں کے پاس بھی کوئی آپشن نہیں بچے گا کہ وہ اس جنگ کا بوجھ عوام پر بھی ڈالیں۔مثال کے طور پر اس وقت وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا مگر صوبائی حکومتیں چاہتی ہیں عوام پر بوجھ ڈالا جائے اور ہم سے سبسڈی کے نام پر کٹوتی نہ کی جائے ۔اس لیے اس جنگ کا بند ہونا ہی عالمی اور دیگر ممالک کی سیاست اور معیشت کے مفاد میں ہے ۔لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بڑے ممالک اپنی موجودہ جنگی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور طاقت کے انداز سے یا جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرکے بات چیت کے راستہ کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔
امریکا اور اسرائیل نے جس انداز سے جنگی حکمت عملی اختیار کرکے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہ ظاہرکرتا ہے کہ اس پر جو طاقت کی حکمرانی کا بھوت سوار ہے اور دنیا کے مختلف ملکوں کی خودمختاری کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ہمیں بھی امریکا کی اس جنگ کی پالیسی سے خبردار رہنا ہوگا ۔
جب ایک ایسے موقع پر امریکا اور ایران کی سطح پر اچھے بھلے مذاکرات ہورہے تھے تو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے جنگ پر مبنی حکمت عملی اختیار کی ہے اور وہ عملًا ایران کے خلاف جنگی حکمت عملی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے اور آج بھی کررہے ہیں۔پاکستان جس نے اس وقت عالمی اور علاقائی یا خلیجی سطح پر سفارت کاری میں اپنی اہمیت بڑھائی ہے تو اسے خود کو ایک ایسے کردار میں لے کر آگے بڑھنا ہے جہاں اس کی پالیسی میں توازن بھی ہو اور وہ کسی کا فریق بننے کی بجائے جس حد تک تعلقات کے بگاڑ میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکتا ہے وہ کرے۔اسی بنیاد پر پاکستان اس جنگ میں بلاوجہ الجھے بغیر اپنے داخلی، سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کے استحکام کو بھی ممکن بنا سکے گا۔
Today News
سوشل میڈیا پر جنگ: میڈیا تھیوریز کے تناظر میں
حال ہی میں اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں اے آئی کی فیک نیوز بہت زیادہ حد تک سوشل میڈیا پر نظر آئیں، بعض ماہرین اسے ”Information War” یا ”Narrative War” کہہ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ میں AI-enerated ویڈیوز اور تصاویر کا سیلاب آیا ہے، جو پچھلی جنگوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بعض جعلی ویڈیوز کو کروڑوں ویوز ملے، حالانکہ وہ ویڈیو گیم یا مصنوعی فوٹیج تھیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بڑی جنگ ہے جس میں AI کو بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا گیا۔ فیک نیوز اب معمولی نہیں رہیں بلکہ جنگ کا باقاعدہ ہتھیار بن چکی ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلی کہ اسرائیلی وزیراعظم مارے گئے ہیں، حالانکہ وہ زندہ تھے بعد میں انھوں نے ویڈیو بنا کر خود اس خبر کی تردید کی۔ اسی طرح ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں دکھایا گیا کہ امریکی فوجی ایران کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ہیں، بعض ویڈیوز دراصل ویڈیو گیم کی تھیں۔ جعلی سیٹلائٹ تصویر شیئر کی گئی جس میں امریکی تنصیبات تباہ دکھائی گئیں، لیکن بعد میں یہ غلط ثابت ہوئی۔
سب فریق کسی نہ کسی حد تک میڈیا کی جنگ (information warfare) کر تے نظر آئے۔ بعض ریاستی ادارے اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس منظم طریقے سے پروپیگنڈا چلا رہے ہیں یوں ہزاروں جعلی اکاؤنٹس بنا کر عوامی رائے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔سوال یہ ہے کہ اس قدر جدید دور میں یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور لوگ جانتے بوجھتے بھی ان ویڈیوز کو کیوں فالو کر رہے ہیں، لائیک کر رہے ہیں۔
آئیے اس کا میڈیا تھیوری کے تناظر میں جائزہ لیں۔
میڈیا سے متعلق چند تھیوریز مذکورہ مسئلہ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
(علم وعمل میں عدم مطابقت) 1.Cognitive Dissonance Theory
(ترجیحی انتخاب) 2.Selective Exposure
(ترجیحی ادراک) 3. Selective Perception
(ترجیحی یاد داشت) 4.Selective Retention
Cognitive Dissonance Theory کے مطابق انسان ایسی معلومات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کی موجودہ سوچ سے ٹکراتی ہو یعنی اس کے برخلاف ہو جب کہ ایسی معلومات کو ترجیح دیتا ہے جو اس کی سوچ سے ملتی ہو،یہی خیال بعد میں دیگر بیان کردہ تھیوریز کی بنیاد بنا۔
ماہرین ابلاغیات کے ان پیش کردہ نظریات کے مطابق ’’ترجیحی انتخاب ‘‘کے تحت دراصل میڈیا پر جو پیغامات آتے ہیں خواہ وہ تحریر کی شکل میں ہوں یا کسی ویڈیو وغیرہ کی شکل میں ان کو دیکھنے سننے یا پڑھنے کا فیصلہ لوگ اپنے پہلے سے قائم شدہ نظریات یا خیالات یا عقیدے کی بنیاد پر کرتے ہیں یعنی اگر ان کے نظریات خیالات یا عقیدے سے ہم آہنگ ہوں گے تو وہ انھیں ضرور سنیں گے اور پڑھیں گے لیکن اگر وہ اس کے برعکس ہوں گے تو اس کو رد کر دیں گے۔ دوسرے الفاظ میں عموماً لوگ مخالف معلومات کو دیکھنے اور پرکھنے سے بچتے ہیں۔
اسی طرح ’’ترجیحی ادراک‘‘ کی تھیوری کے تحت لوگ میڈیا پر آنے والے ایسے پیغامات جو تحریری شکل میں ہوں یا ویڈیوز وغیرہ کی شکل میں ہوں، بالکل بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو ان کے پہلے سے قائم شدہ نظریات خیالات یا قائد کے برعکس ہوں ،لہٰذا ایسے پیغامات خواہ کتنے ہی مضبوط اور حقائق پر مبنی ہوں اپنا اثر نہیں رکھتے، لوگ ان پر یقین نہیں کرتے نہ یہ سوچنے کی زحمت کرتے ہیں کہ حقائق کس حد تک صحیح یا غلط ہیں۔
اسی طرح ’’ترجیحی یادداشت‘‘ تھیوری کا معاملہ ہے جس کے تحت میڈیا سے لوگ جو کچھ بھی صبح و شام پیغامات وصول کرتے ہیں یعنی مختلف تحریریں اور ویڈیوز وغیرہ دیکھنے کے بعد، اپنے ذہن میں سے صرف وہی محفوظ رکھتے ہیں جو ان کے اپنے خیالات اور عقائد کو مضبوط کرتے ہیں یا اس سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ گویا عام لوگوں کے ذہن میں یادداشت بھی صرف اپنے مطلب کے پیغامات کو محفوظ رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر یہی یادداشت ان کے پرانے خیالات کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
یوں دیکھا جائے تو یہ مختلف نظریات جو مختلف ماہرین نے 1940 اور 1950 کی دہائی میں پیش کیے تھے آج بھی بہت حد تک درست نظر آتے ہیں ۔خاص طور پہ جب ہم حالیہ اسرائیل، امریکا اور ایران کے جنگ کے معاملے کو سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر عوام کی ایک اکثریت اپنے اپنے عقائد نظریات کے مطابق مصروف نظر آتی ہے۔ ہر گروپ یا گروہ اپنے خیالات کی ہم آہنگی کے لیے خبروں اور ویڈیوز کی تلاش میں نظر آتا ہے اور جوں ہی کوئی انھیں اپنے خیالات کے مطابق خبر یا ویڈیو مل جائے وہ فوراً اس کو بغیر جانچے اور پرکھے فارورڈ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جس کے سبب فیک ویڈیوز، جعلی خبروں اور اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ویڈیوز جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا سوشل میڈیا پہ چھائی ہوئی نظر آتی ہیں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں کو آسانی ہو جاتی ہے۔
اے آئی سے بنائی گئیں ویڈیوز اس قدر خطر ناک یعنی حقیقت سے قریب تر لگتی ہیں کہ عام لوگ ہی نہیں، بڑی بڑی شخصیات بھی دھوکہ کھا جاتی ہیں اور انھیں بعد میں معذرت کرنا پڑتی ہے۔ حال ہی میں بانی تحریک انصاف کے بیٹے سے متعلق ایک ویڈیو پر سوشل میڈیا پر بڑا ہنگامہ کھڑا ہوا جس کی بعد میں عمران خان کی ہمشیرہ نے ٹویٹ کے ذریعے تردید کی کہ یہ ویڈیو فیک ہے۔
ایک صحافی نے بعد میں معذرت کی کہ انھوں نے اس پر سخت تنقید کی، انھیں معلوم نہ چل سکا تھا کہ یہ ویڈیو فیک ہے اور بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ سوشل میڈیا خاص کر واٹس ایپ گروپ پر لوگ آپس میں الجھ جاتے ہیں اور لڑ پڑتے ہیں۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خیالات اور نظریے کے مطابق جو بھی پوسٹ کریں سب اس کی واہ واہ کریں چاہے وہ فیک ہی کیوں نہ ہو۔ آج کل کے حالات کے حوالے سے بے شمار واٹس ایپ گروپس میں لوگ محض ان جعلی ویڈیوز اور خبروں کی بنیاد پر آپس میں اپنے اچھے تعلقات خراب کر چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک جنگ تو ایران اور امریکا و اسرائیل لڑ رہے ہیں جب کہ ایک جنگ سوشل میڈیا پر اس کے صارفین لڑ رہے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمل کسی باشعور فرد کا ہو سکتا ہے؟
غور کیا جائے تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ کوئی بھی باشعور شخص کسی بھی خبر کو حقائق کی بنیاد پر پرکھے گا نہ کہ اپنی خواہش کے مطابق دیکھے گا۔ہمارے ایک پروفیسر ساتھی کا بالکل درست کہنا ہے کہ شعور یہ نہیں ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ آپ کے مخالف نظریات رکھنے والے لوگوں یا جماعت میں کیا برائیاں اور کیا خامیاں ہیں بلکہ اصل شعور تو یہ ہے کہ آپ اپنی ہم نظریاتی جماعت میں دیکھیں کہ اس میں کیا کیا خامیاں اور خرابیاں ہیں۔
یہ ہمارا ایک بہت بڑا قومی المیہ بن چکا ہے کہ ہم صرف مخالف میں خامیوں کو دیکھتے ہیں اور یاد رکھتے ہیں جب کہ اپنی طرف نہیں دیکھتے۔ ہم اپنے جذبات کو کنٹرول نہیں کرتے۔ جذبات کی رو میں بہنے کی وجہ ہی سے آج ایک جنگ سوشل میڈیا پر چل رہی ہے جو فیک اطلاعات اور اے آئی جنریٹیڈ ویڈیوز پر مشتمل ہے جس میں جذبات میں ڈوبے لوگ اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کر رہے ہیں۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Emaan Fatima’s Latest Message after Reconciliation News
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper