Connect with us

Today News

مشرق وسطیٰ کشیدگی، عوام کو ٹاگٹڈ سبسڈی دینے کیلیے خاکے کی تیاری کا عمل شروع

Published

on



مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا ابتدائی خاکے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان مشرق وسطی کی پیدا ہونیوالی صورتحال کے باعث عام آدمی کو اس کے اثرات سے بچانے کیلئے ٹارگٹڈسبسڈی کے ممکنہ نظام کا ایک ابتدائی خاکہ تیار کر کے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ شیئر کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبوں کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے درمیان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سبسڈی کے طریقہ کار پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کو وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ (ویڈیو لنک کے ذریعے)، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، اور وزیرِ خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم ویڈیو لنک کے ذریعے نے شرکت کی اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز (ویڈیو لنک کے ذریعے)، وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ جبکہ وزارتِ خزانہ، پٹرولیم، آئی ٹی و ٹیلی کام کے وفاقی سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویڑنز اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔

وزیرِ خزانہ نے شرکا کو خوش آمدید کہا اور واضح کیا کہ یہ اجلاس اعلیٰ سیاسی قیادت کی رہنمائی میں جاری مشاورت کا تسلسل ہے جس کا مقصد پیٹرولیم قیمتوں اور سبسڈی اصلاحات کے لئے ایک مربوط اور پائیدار حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔

انہوں نے باہمی مشاورت اور وفاق و صوبوں کے درمیان قریبی رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ اجلاس میں عمومی سبسڈی کے نظام سے ہٹ کر ہدفی اور موٴثر معاونت کے فریم ورک کی جانب منتقلی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومتوں نے اپنی انتظامی صلاحیت، دستیاب ڈیٹا اور سماجی و معاشی حالات کے مطابق مختلف تجاویز اور نقطہ نظر پیش کئے۔

شرکاء نے اس امر پر بھی غور کیا کہ معاونت کے اقدامات کو کس طرح معاشرے کے کمزور طبقات تک موٴثر انداز میں پہنچایا جائے جبکہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھا جائے اور مارکیٹ میں بگاڑ کم سے کم ہوسبسڈی کی فراہمی کے ممکنہ طریقہ کار، بشمول موجودہ ڈیٹا بیس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نقد رقوم کی منتقلی کی جائے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مستقبل کی کسی بھی سبسڈی اسکیم کے ڈیزائن اور نفاذ میں شفافیت، جوابدہی اور موٴثر طرزِ حکمرانی کو یقینی بنایا جائے جبکہ قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر عملدرآمد میں لچک کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے ممکنہ نظام کا ایک ابتدائی خاکہ تیار کر کے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ مزید آراء حاصل کی جا سکیں۔ صوبے اپنی تجاویز کو مزید بہتر بناتے رہیں گے تاکہ اتفاقِ رائے پر مبنی اور قابلِ عمل حل تک پہنچا جا سکے۔

وزیرِ خزانہ نے تمام شرکاء کی تعمیری شرکت کو سراہا اور حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی استحکام کو یقینی بناتے ہوئے کمزور طبقات کا تحفظ کیا جائے گا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، گھر سے شخص کی پھندا لگی لاش برآمد، خودکشی کا شبہ

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے ایف سی ایریا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص کی لاش گھر سے پھندا لگی حالت میں برآمد ہوئی۔

ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ ماموں چپس شاپ کے قریب پیش آیا، جہاں اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاش کو تحویل میں لے لیا۔

جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت مرزا کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی معلوم ہوتا ہے، تاہم تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

تربت، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے قریب راکٹ حملے میں شہر گونج اٹھا

Published

on


بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت شہر میں منگل کی رات ایک بار پھر سیکیورٹی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب نامعلوم افراد نے یوبی جی ایل سے راکٹ فائر کیا۔

راکٹ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت اور ایک قریبی سرکاری ادارے کے آس پاس گرا، جس کی زور دار دھماکے کی آواز شہر کے مختلف محلات میں دور دور تک سنائی دی۔

سرکاری ذرائع، مقامی انتظامیہ اور عینی شاہدین کے مطابق راکٹ کالج کی عمارت سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک تعلیمی اور رہائشی زون میں گرا۔

خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی نہیں ہوا۔

تاہم، راکٹ کے گرنے سے آس پاس کی دیواروں اور عمارتوں میں معمولی ہلچل اور دراڑیں پڑنے کی ابتدائی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق منگل کی رات دیر گئے یہ واقعہ پیش آیا۔ راکٹ کی شدت اور آواز سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ ایک طاقتور چھوٹے فاصلے والا راکٹ تھا۔

حملہ آوروں نے جان بوجھ کر شہری آبادی اور لڑکیوں کے اہم تعلیمی ادارے کے قریب فائرنگ کی جو ایک بزدلانہ کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔

گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سینکڑوں طالبات مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

یہ ادارہ خواتین کے بااختیار بنانے اور علاقائی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسا حملہ نہ صرف طلبہ و طالبات کی ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے بلکہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیر لیا اور وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

پولیس، لیویز فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹیمیں گھر گھر چیکنگ،آس پاس کے علاقوں میں گشت اور ممکنہ ملزمان کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی کر رہی ہیں علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران ٹیبل پر آئے یا نہ آئے، ہم دو سے تین ہفتوں میں جنگ ختم کر کے نکل جائیں گے، صدر ٹرمپ

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں اور وہاں ایک کم شدت پسند گروپ سامنے آیا ہے جبکہ ان کے مطابق امریکا کا مقصد رجیم چینج نہیں بلکہ صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ تھا۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں۔

اپنی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے ڈیموکریٹس پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے سرحدیں کھول کر امریکا کو جرائم پیشہ افراد کے لیے آسان بنا دیا تھا تاہم اب سخت قوانین کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرلیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں جرائم کی شرح 98 فیصد تک کم ہوچکی ہے اور شہر امریکا کا محفوظ ترین علاقہ بن چکا ہے۔

اسی دوران انہوں نے صدارتی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے میل ان ووٹنگ کے نظام کو مزید سخت اور محفوظ بنانے کی ہدایت دی جبکہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کو بھی غیرمعمولی سطح تک بڑھانے کا اعلان کیا جس میں بلٹ پروف شیشے، ڈرون پروف چھت اور بم شیلٹرز شامل ہیں۔

ایرانی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اب تک استعمال کرچکا ہوتا اس لیے امریکا نے بروقت کارروائی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا رہا ہے اور دنیا کے ممالک وہاں سے باآسانی تیل حاصل کر سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending