Today News
جنگ،معیشت اور پاکستان کا کردار
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے جس میں بڑی پیش رفت ہوچکی ہے.
لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد معاہدہ نہ ہوسکا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو ہم ایران میں اپنے ’’قیام‘‘ کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور خارگ جزیرے (اور ممکنہ طور پر تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو اڑا کر اور مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے جنھیں ہم نے جان بوجھ کر اب تک نہیں چھیڑا۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس جنگ میں آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم لیکن اس جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر بیجنگ پہنچیں گے جہاں دونوں رہنما پاک چین دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے۔
چین نے ایران جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے، کیونکہ پاکستان نتیجہ خیز بات چیت کے حوالے سے ہر ممکنہ سہولت کاری فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اس نہج پر کھڑا ہے جہاں طاقت، مفادات اور بیانیے ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور توانائی کے توازن کو بھی بری طرح متاثر کریں گے.
حالیہ کشیدگی، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ تباہ کن کارروائیوں کی دھمکیاں شامل ہیں، اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی طاقتیں ایک بار پھر تصادم کے راستے پر گامزن ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، اگرچہ بظاہر سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک ’’زیادہ معقول حکومت‘‘کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، بظاہر ایک مثبت پیش رفت معلوم ہوتی ہے، لیکن اسی بیان میں یہ دھمکی بھی شامل ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کاروبار کے لیے نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔
اس میں خاص طور پر خارگ جزیرہ، تیل کے کنویں، بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور ڈی سیلینیشن پلانٹس کا ذکر کیا گیا، جو ایران کی معیشت اور عوامی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک مرکزی حب ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، اگر اس جزیرے کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو نہ صرف ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی تیل کی رسد بھی متاثر ہوگی۔
ڈی سیلینیشن پلانٹس کا ذکر خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ یہ پلانٹس سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیںاور ان پر حملہ کسی بھی ملک میں انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
اس طرح کی تنصیبات کو نشانہ بنانا صرف عسکری حکمت عملی نہیں بلکہ ایک وسیع تر انسانی بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔
ایران کی جانب سے اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، اور اس کی فوج نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں موجود امریکی توانائی کے تمام انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنائے گی۔
اس تناظر میں خلیجی ممالک، جہاں امریکی مفادات اور فوجی اڈے موجود ہیں، براہ راست خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ جنگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جو دنیا کے تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق چین کی بڑی شپنگ کمپنی COSCO کے دو جہاز اس آبنائے سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، جو ایک حد تک مثبت اشارہ ہے کہ ابھی تک یہ راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
تاہم اس کے باوجود خطرات بدستور موجود ہیں، کیونکہ کسی بھی وقت اس راستے کو بند کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کا بیان کہ اسرائیل اس جنگ میں اپنے آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کر چکا ہے، ایک ایسے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو اسرائیل کی عسکری برتری پر مبنی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے ہزاروں ارکان کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور ایران کی ہتھیاروں کی صنعت کو ختم کرنے کے قریب ہیں۔ تاہم ان کا یہ کہنا کہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں، اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ جنگ ایک غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہاں ایک اہم پہلو ایران کے جوہری پروگرام کا بھی ہے، جسے اقوام متحدہ اور اسرائیل ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹس اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کرتیں۔
یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس تنازع میں معلومات اور بیانیے بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس بحران کے اثرات انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا۔ مہنگائی میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
عالمی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیتی ہے۔عالمی طاقتوں میں چین کا کردار خاص طور پر اہم ہے، جو اس تنازع میں ایک متوازن اور سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
چین نے نہ صرف جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے بلکہ اس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ امن کے قیام کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ چین کی معیشت کا بڑا انحصار توانائی کی درآمدات پر ہے، اس لیے وہ اس خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔
پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسحق ڈارکا چین کا دورہ اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں نہ صرف پاک چین تعلقات بلکہ ایران امریکا تنازع پر بھی تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
ایران کی جانب سے کسی ممکنہ معاہدے کی صورت میں پاکستان سے ضمانت طلب کرنا ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک نازک لمحہ ہے، جہاں اسے نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرنا ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور اگر اس تنازع کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں یا توانائی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے۔
توانائی کی سیاست اس پورے تنازع کا ایک مرکزی عنصر ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے تیل کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ رکھتا ہے اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو، جب کہ ایران اس کو ایک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، جس کا اثر دنیا بھر کے عوام پر پڑے گا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے مزید متاثر ہوں گے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ موجودہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے، اگر جنگ کا راستہ اختیار کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے، لیکن اگر سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی گئی تو ایک بہتر اور مستحکم دنیا کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
پاکستان، چین اور دیگر ذمے دار ممالک کو چاہیے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ ایک ممکنہ تباہی کو روکا جا سکے اور عالمی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
Today News
کراچی، گھر سے شخص کی پھندا لگی لاش برآمد، خودکشی کا شبہ
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ایف سی ایریا میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص کی لاش گھر سے پھندا لگی حالت میں برآمد ہوئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ ماموں چپس شاپ کے قریب پیش آیا، جہاں اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاش کو تحویل میں لے لیا۔
جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت مرزا کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی معلوم ہوتا ہے، تاہم تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
Today News
تربت، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے قریب راکٹ حملے میں شہر گونج اٹھا
بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت شہر میں منگل کی رات ایک بار پھر سیکیورٹی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب نامعلوم افراد نے یوبی جی ایل سے راکٹ فائر کیا۔
راکٹ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت اور ایک قریبی سرکاری ادارے کے آس پاس گرا، جس کی زور دار دھماکے کی آواز شہر کے مختلف محلات میں دور دور تک سنائی دی۔
سرکاری ذرائع، مقامی انتظامیہ اور عینی شاہدین کے مطابق راکٹ کالج کی عمارت سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک تعلیمی اور رہائشی زون میں گرا۔
خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی نہیں ہوا۔
تاہم، راکٹ کے گرنے سے آس پاس کی دیواروں اور عمارتوں میں معمولی ہلچل اور دراڑیں پڑنے کی ابتدائی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق منگل کی رات دیر گئے یہ واقعہ پیش آیا۔ راکٹ کی شدت اور آواز سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ ایک طاقتور چھوٹے فاصلے والا راکٹ تھا۔
حملہ آوروں نے جان بوجھ کر شہری آبادی اور لڑکیوں کے اہم تعلیمی ادارے کے قریب فائرنگ کی جو ایک بزدلانہ کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔
گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سینکڑوں طالبات مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
یہ ادارہ خواتین کے بااختیار بنانے اور علاقائی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسا حملہ نہ صرف طلبہ و طالبات کی ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے بلکہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیر لیا اور وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
پولیس، لیویز فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹیمیں گھر گھر چیکنگ،آس پاس کے علاقوں میں گشت اور ممکنہ ملزمان کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی کر رہی ہیں علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
Today News
ایران ٹیبل پر آئے یا نہ آئے، ہم دو سے تین ہفتوں میں جنگ ختم کر کے نکل جائیں گے، صدر ٹرمپ
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کو اس حد تک نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ وہ 20 سال پیچھے جا چکا ہے اور اگر امریکا کو یقین ہوگیا کہ ایرانی ایٹمی خطرہ ختم ہوچکا ہے تو وہ بغیر کسی معاہدے کے بھی جنگ سے نکل جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں اور وہاں ایک کم شدت پسند گروپ سامنے آیا ہے جبکہ ان کے مطابق امریکا کا مقصد رجیم چینج نہیں بلکہ صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں جنگ مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ امریکا کو اس کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کو ڈیل کی زیادہ ضرورت ہے ہمیں نہیں۔
اپنی گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی معاملات پر بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے ڈیموکریٹس پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے سرحدیں کھول کر امریکا کو جرائم پیشہ افراد کے لیے آسان بنا دیا تھا تاہم اب سخت قوانین کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرلیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں جرائم کی شرح 98 فیصد تک کم ہوچکی ہے اور شہر امریکا کا محفوظ ترین علاقہ بن چکا ہے۔
اسی دوران انہوں نے صدارتی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے میل ان ووٹنگ کے نظام کو مزید سخت اور محفوظ بنانے کی ہدایت دی جبکہ وائٹ ہاؤس کی سیکیورٹی کو بھی غیرمعمولی سطح تک بڑھانے کا اعلان کیا جس میں بلٹ پروف شیشے، ڈرون پروف چھت اور بم شیلٹرز شامل ہیں۔
ایرانی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اب تک استعمال کرچکا ہوتا اس لیے امریکا نے بروقت کارروائی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنایا جا رہا ہے اور دنیا کے ممالک وہاں سے باآسانی تیل حاصل کر سکتے ہیں۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Sana Faysal Replies To Saba Faisal’s Viral Statement
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Entertainment2 weeks ago
Pakistani Films Releasing In Cinemas & TV On Eid Ul Fitr 2026
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم