Today News
صحافی اور صحافت – ایکسپریس اردو
امریکا کے صدر ٹرمپ کی سامراجی پالیسیوں کی بناء پر دنیا بھر میں انسانی حقوق پر قدغن لگی ہے۔ یورپ میں بھی فلسطین اور خاص طور پر اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری کی یورپی اور امریکی میڈیا پر کوریج کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایک رپورٹ میں تحریر کیا گیا ہے کہ یہاں بھی خبر رسانی کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مغربی یورپ کے ایک معروف عالمی خبررساں ادارے کے ایک سابق صحافی جو اس ادارے کی عربی سروس میں طویل عرصے تک فرائض انجام دے رہے تھے، اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ میں بمباری کی کوریج کو روکنے کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔
اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ غزہ تنازع کے دوران نشر ہونے والی خبروں اور تبصروں میں حقائق کے خلاف ایسا مواد شامل کیا کہ رائے عامہ اس گمراہ کن مواد سے متاثرہوئی۔
اس عالمی ادارے کی عربی سروس کے 5صحافیوں نے جب احتجاج کیا تو ان پانچوں کو ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ٹریبونل کو بتایا گیا کہ ان کا جرم صرف ادارے کی ادارتی پالیسی سے انحراف پر اعتراض کرنا تھا۔
اس پر ادارے نے ایک اندرونی طور پر Internal Listening Session کا انعقاد کیا تو منیجمنٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہم نے سامعین کو گمراہ کیا۔ اس عہدیدار نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے اعلان کے چھ ماہ بعد ملازمت سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر شکایت کنندہ کہتے ہیں کہ جب تک وہ ملازمت میں رہے انھیں ہماری شکایت پر ہونے والی تحقیقات کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
ان صحافیوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائی کے حوالہ سے کئی واقعات رونما ہوئے مگر یہ واقعات خبر کا حصہ نہیں بن سکے۔
ایک واقعے کا ذکر کیا گیا کہ اسرائیل پولیس کے اہلکاروں نے ایک صحافی پر تشدد کیا۔ اس واقعہ کو کور بھی کیا گیا۔ لیکن یہ خبر یا اس موضوع پر تبصرہ نشر نہیں ہوا اور نہ اپنے صحافی پر تشدد کے واقعے پر احتجاج کیا۔
درخواست گزار مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کی عرضداشت پر ہونے والے Listening Session کی کارروائی کو عام کیا جائے تاکہ ٹریبونل کے جج صاحبان حقائق سے آگاہ ہو کر اپنے فیصلے تحریر کریں۔
اسرائیل کی غزہ میں ہونے والی مسلسل فوجی کارروائی کا اپنے فرائض انجام دینے والے صحافی براہِ راست نشانہ بنائے گئے تو کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (C.P.J) کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسرائیل کی فوج نے گزشتہ سال سب سے زیادہ صحافیوں کو ہلاک کیا۔
2025 میں فلسطین اور لبنان میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 125 سے زیادہ ہوگئی۔ سی پی جے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب سے اس تنظیم نے کام شروع کیا ہے مرنے والے صحافیوں کی یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔
مگر معاملہ صرف صحافیوں کی ہلاکتوں تک محدود نہیں، معروضیت کے اصولوں کے تحت کام کرنے والے پیشہ ور صحافیوں کو برطرف کیا جارہا ہے۔
ایک امریکی خاتون صحافی کے بارے میں ایک عالمی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں دکھایا گیا کہ دائیں بازو کے انتہاپسند عناصر نے اس صحافی کے خلاف معاندانہ مہم شروع کی۔ لیکن اس خاتون صحافی کے ادارے کی انتظامیہ اس جھوٹی مہم کے آگے سر جھکا کر کھڑی ہوگئی اور اس صحافی کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔
یہ خاتون صحافی 2021 تک فلسطینی عوام کی حق خود ارادیت کی تحریک میں شریک تھیں، یہی بات اس کا جرم بن گئی۔ یہ خاتون صحافی ان کی ایک پوسٹ کی بناء پر انتہاپسندوں کا نشانہ بن گئیں۔
آسٹریلین صحافی کو 2023میں غزہ کے حالات پر ایک پروگرام کی بناء پر برطرف کیا گیا۔ اس پروگرام کے خلاف اسرائیل کے ایجنٹوں نے ایک افسوس ناک مہم چلائی ہوئی تھی۔ آسٹریلیا کے ایک رکنی ٹریبونل کے سامنے جو حقائق پیش کیے گئے وہ اس واقعے سے متعلق نہیں تھے۔
اس صحافی کو محض اس بناء پر ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے جب موصوف کے سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے خیالات حکومت کو ناگوار گزرے۔ اس صحافی کا کہنا ہے کہ اس باشعور دنیا میں بعض حقائق تو بہت چونکا دینے والے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے سیاسی خیالات کی بناء پر انھیں معتوب کیا گیا۔ وہ خود بھی بیمار ہیں اور ان کے علاج کے لیے عدالتی فیصلہ کے تحت 45,400 ڈالر ادا کیے گئے۔
جدید جمہوری دور میں سمجھا جاتا ہے کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ میڈیا کا بنیادی کام ریاست کے دیگر تینوں ستونوں کا احتساب کرنا ہے۔ میڈیا یہ فریضہ انجام دے کر عوام کو شعور دیتا ہے۔
عوام اس شعور کی بناء پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور ان کے احتساب کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔
جب میڈیا کے تمام پلیٹ فارم سے پرنٹ کرنے، نشر کرنے، ٹیلی کاسٹ کرنے کے لیے پیش کیے جانے والے مواد کو سنسر کیا جائے گا اور حقائق کو توڑا مروڑا جائے گا تو یہ چوتھا ستون عوام کو صحیح حقائق سے آگاہ نہیں کرسکے گا اور یہ صورتحال اشرافیہ کے اقتدار کو مستحکم کرے گی۔
یوں ریاست کی عوام کے تابع ہونے کا نظریہ باطل ہوجائے گا۔ یورپی ممالک میں آزادئ صحافت اور آزادئ اظہار پر پابندیوں سے انتہاپسند عناصر کو تقویت ملے گی۔
عوام کے حقوق کو خاطر میں نہ لانے کی روایت ایشیائی ممالک میں بھی سرایت کررہی ہے۔ بھارت اور پاکستان میں بھی صحافی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔
اسلام آباد میں خواتین کا عالمی دن منانے والی صحافیوں اور خواتین کارکنوں کے علاوہ باشعور سیاسی اور سماجی کارکنوں پر پولیس کا تشدد اور بعض کو تھانوں میں بند کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ایک منصوبہ بندی کے تحت سویلین اسپیس کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
Today News
افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی حمایت اور سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب
طالبان رجیم کی دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی نا صرف افغانستان بلکہ خطے بھر کیلئے سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
بین الاقوامی جریدے نے بھی افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے بھیانک گٹھ جوڑ کو دنیا کے سامنے آشکار کر دیا، آسٹریلوی جریدے دی کنورسیشن کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان پرقبضہ کے بعد شر پسند مسلح جتھوں کو حکومتی فورس کا حصہ بنالیا ہے۔
دی کنورسیشن کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے مذموم جغرافیائی اور علاقائی مفادات کیلئے طالبان کی پشت پناہی کررہا ہے، افغان طالبان رجیم نے فتنہ الخوارج کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہ فراہم کررکھی ہے۔
آسٹریلوی جریدے کے مطابق فتنہ الخوارج افغان طالبان کے نام نہاد سیاسی نظام کو پاکستان پر بھی مسلط کرنا چاہتا ہیں، طالبان رجیم نے فتنہ الخوارج کو افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرنے کی چھوٹ بھی دے رکھی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان اپنے بھارتی آقاوں کی سرپرستی میں اپنا ناجائز تسلط قائم رکھنے کیلئے دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری کررہے ہیں، پاکستان دنیا کو بارہا افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے ثبوت پیش کرچکا ہے جسکی عالمی سطح پرتائید کی جاچکی ہے۔
Today News
پاکستان میں بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کیلئے موثر اقدامات جاری
اسلام آباد:
پاکستان میں زرعی ترقی کا نیا باب، گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں، جبکہ جدید زرعی منصوبے تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔
گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت چولستان کے وسیع صحرا میں جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے بنجر زمین کو زرخیز بنانے کی عملی مثال سامنے آئی ہے، جہاں پینٹیرا فارمز نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
پراجیکٹ منیجر ڈاکٹر عطا اللہ کے مطابق پینٹیرا فارمز کے اقدامات سے نہ صرف بنجر زمین قابلِ کاشت بنی بلکہ مقامی افراد کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے، جس سے علاقے کی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔
مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ پینٹیرا کمپنی کی آمد سے علاقے میں ہریالی آئی، بنیادی سہولیات میں بہتری ہوئی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق دور افتادہ اور کٹھن راستوں تک رسائی بھی ممکن بنائی گئی ہے۔
پینٹیرا فارمز کے سی ای او فرقان علی کے مطابق فارم میں جدید اور اسمارٹ زرعی نظام متعارف کرایا گیا ہے جس میں سینٹرل پیوٹ، ڈرپ اریگیشن اور ڈرون کے ذریعے پیسٹی سائیڈ اسپرے جیسی جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چولستان میں پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے 7 سے 8 کلومیٹر طویل اندرونی نہری نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زراعت کے فروغ اور زرعی خود کفالت کے حصول میں گرین پاکستان انیشیٹو کا کردار کلیدی ہے۔
Today News
امریکا: 3 منٹ کے اندر 38 کرتب دِکھانے والا گھوڑا
امریکا میں ایک گھوڑے نے تین منٹ کے اندر 38 کرتب دِکھا کر گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا۔
شمالی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ گرنگو کو اس کی مالکن لارین زیپیڈا نے ناچنے، گیند کو کِک مارنے، جھنڈا لہرانے، گھنٹی بجانے اور یہاں تک کہ ناک سے کی بورڈ چلانے کی تربیت دی۔
گرنگو نے 2 منٹ اور 47 سیکنڈ میں 38 کرتب دِکھائے۔
مالکن لارین کا کہنا تھا کہ وہ پُر امید ہیں کہ گرنگو گھوڑوں کی تربیت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Sports2 weeks ago
Pakistan, India in same Hockey World Cup pool – Sport
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق