Today News
تربت، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے قریب راکٹ حملے میں شہر گونج اٹھا
بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت شہر میں منگل کی رات ایک بار پھر سیکیورٹی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب نامعلوم افراد نے یوبی جی ایل سے راکٹ فائر کیا۔
راکٹ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت اور ایک قریبی سرکاری ادارے کے آس پاس گرا، جس کی زور دار دھماکے کی آواز شہر کے مختلف محلات میں دور دور تک سنائی دی۔
سرکاری ذرائع، مقامی انتظامیہ اور عینی شاہدین کے مطابق راکٹ کالج کی عمارت سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک تعلیمی اور رہائشی زون میں گرا۔
خوش قسمتی سے اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی نہیں ہوا۔
تاہم، راکٹ کے گرنے سے آس پاس کی دیواروں اور عمارتوں میں معمولی ہلچل اور دراڑیں پڑنے کی ابتدائی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق منگل کی رات دیر گئے یہ واقعہ پیش آیا۔ راکٹ کی شدت اور آواز سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ ایک طاقتور چھوٹے فاصلے والا راکٹ تھا۔
حملہ آوروں نے جان بوجھ کر شہری آبادی اور لڑکیوں کے اہم تعلیمی ادارے کے قریب فائرنگ کی جو ایک بزدلانہ کارروائی قرار دی جا رہی ہے۔
گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سینکڑوں طالبات مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔
یہ ادارہ خواتین کے بااختیار بنانے اور علاقائی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسا حملہ نہ صرف طلبہ و طالبات کی ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے بلکہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیر لیا اور وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
پولیس، لیویز فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ ٹیمیں گھر گھر چیکنگ،آس پاس کے علاقوں میں گشت اور ممکنہ ملزمان کی نقل و حرکت پر سخت نگرانی کر رہی ہیں علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
Today News
پنجاب میں گندم خریداری نظام کا آغاز ہو گیا
پنجاب کے1 کروڑ 64 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کی جانے والی گندم کی سبز بالیوں نے سنہری زیور پہننا شروع کردیا ہے ،موسم میں کوئی غیر معمولی اتار چڑھاو نہ آیا تو انشاء اللہ رواں ماہ کے وسط سے گندم کی بالیاں مکمل سنہری ہو جائیں گی۔
محکمہ زراعت پنجاب کے ابتدائی تخمینہ کے مطابق رواں برس صوبے میں2 کروڑ20 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ سال کی پیداوار کے تقریبا برابر ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گندم کاشتکاروں کے معاشی تحفظ کے لیے رواں برس غیر معمولی اقدامات کیے ہیں ۔ حکومت زمینداروں سے براہ راست گندم خریداری تو نہیں کررہی لیکن نجی شعبے سے منتخب اعلی معیار اور مضبوط مالی ساکھ کی ٹریڈنگ کمپنیوں کے ذریعے30 لاکھ ٹن گندم خریداری کا نظام تیار کرلیا گیا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹریڈنگ کمپنیوں کو کسانوں سے مکمل نیک نیتی اور دیانت داری سے گندم خریداری کرنے کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعلی مریم نواز نے منظوری دے دی ہے کہ محکمہ خوراک کے پاس موجود20 لاکھ ٹن گندم کے مساوی باردانہ منتخب ٹریڈنگ کمپنیوں کے ذریعے کسانوں کو بلا معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔
اگلے روز سے پنجاب میں گندم خریداری مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے،محکمہ خوراک نے 11 ٹریڈنگ کمپنیوں کی جانب سے گندم خریداری کے لیے جمع کروائی فنانشل بڈ کھول دی ہے جن میں سے کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی کو انتہائی بلند شرح مارک اپ کی پیشکش کی وجہ سے ڈس کوالیفائی کردیا گیا ہے ۔
حتمی منتخب نجی ٹریڈنگ کمپنیوں کو آج سے محکمہ خوراک کے سرکاری گوداموں کی الاٹمنٹ شروع کردی جائے گی اور آیندہ چند روز میںٹریڈنگ کمپنیاں الاٹ کردہ خریداری مراکز پر اپنا عملہ تعینات کریں گی۔
ڈی جی فوڈ پنجاب امجد حفیظ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے غیر معمولی رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود اس نظام کو راستے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کے سفر کا آغاز ہو گیا ہے، منزل کٹھن ہے مگر ہر نئے نظام کو پہلی مرتبہ خامیوں، تنقید اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے اس میں مستقبل کے لیے اصلاح کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈی جی فوڈ امجد حفیظ کا کہنا ہے کہ10منتخب ٹریڈنگ کمپنیوں میں گرین پاکستان انیشی ایٹو جیسا اہم ترین وفاقی ادارہ بھی شامل ہے جب کہ تین اہم ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی خریداری اسکیم میں حصہ لے رہی ہیں۔
محکمہ خوراک کے سرکاری خریداری مراکز پر گندم کاشتکاروں کی آن لائن رجسٹریشن کا آغاز آیندہ چند روز میں کردیا جائے گا۔ٹریڈنگ کمپنیاں براہ راست کسانوں سے گندم خریداری کریں گی،مڈل مین آڑھتی سے خریداری پر پابندی عائد ہو گی۔
کسانوں کو گندم فروخت کے لیے ٹریڈنگ کمپنیاں محکمہ خوراک سے ملنے والا باردانہ بلا معاوضہ فراہم کریں گی۔ خریداری مہم میں کسی قسم کی سفارش یا رشوت نہیں چلنے دی جائے گی اورحکومتی پالیسی کے تحت چھوٹے گندم کاشتکار کو خریداری مہم میں اولین ترجیح دی جائے گی۔
اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو مگر فی الوقت تو کسانوں میں بہت سے خدشات اور تحفظات پائے جاتے ہیں جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ کیا منتخب کمپنی کسان کے کھیت میں سے واقعی 3500 روپے قیمت پر گندم خریدے گی ؟
کیونکہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ بعض ٹریڈنگ کمپنیوں نے آڑھتیوں کے ساتھ گندم فراہمی کے معاملات طے کرنا شروع کر دیے ہیں، اگر آڑھتی کسان سے سستے داموں گندم خرید کر کمپنی کو اپنے کمیشن سمیت فروخت کرے گا تو پھر حقیقی کسان کو3500 کی جگہ3 ہزار تا3200 روپے قیمت ہی مل پائے گی۔
منتخب کمپنیاں کس ضلع سے کتنی مقدار میں گندم خریدیں گی، کسانوں کی رجسٹریشن اگر چھوٹے کاشتکار کی بنیاد پر ہونا ہے تو اچھی بات مگر اگر بڑے کسان اکاموڈیٹ ہو ئے تو کیا بنے گا۔اس قسم کے بہت سے سوالات موجود ہیں جنھیں دور کرنے کے لیے حکومت کو آگاہی مہم فی الفور شروع کردینی چاہیے۔
حکومتی پالیسی کے تحت منتخب ایگریگیٹر(ٹریڈنگ کمپنی) کسانوں سے گندم خریداری کے لیے بینکوں سے جو قرض حاصل کرے گا اس کے مارک اپ کا70 فیصد حکومت ادا کرے گی جب کہ جو گندم خریدی جائے گی اس پر ستمبر2026 تک زیادہ سے زیادہ10 فیصد یعنی 3500 روپے میں خریدی گئی ہر ایک من گندم پر350 روپے بطور منافع حکومت ادا کرے گی ۔
ستمبر کے بعد حکومت ایگریگیٹر کی خرید کردہ گندم(جو باقی پڑی ہو) پر زیادہ سے زیادہ35 روپے فی من منافع ادا کرنے کی پابند ہوگی جب کہ کسانوں سے گندم خریداری کے لیے باردانہ بھی محکمہ خوراک فراہم کرے گا اور ٹریڈنگ کمپنیاں خریدی گئی گندم ی کی اسٹوریج کے لیے محکمہ خوراک کے گودام ہی استعمال کریں گی۔
ان فوائد کو دیکھ کر پہلا خیال یہی ذہن میں آتا ہے کہ اگر سب کچھ حکومت نے ہی برداشت کرنا ہے تو پھر بہتر ہوتا کہ ماضی کی طرح حکومت ہی کسانوں سے براہ راست گندم خرید لیتی لیکن حکومت کی مجبوری ہے کہ وہ عالمی اداروں کی شرائط کے سبب براہ راست خریداری نہیں کر سکتی اور پنجاب میں آٹا روٹی کی قیمت کو بھی کنٹرول میں رکھنا لازم ہے تو پھر حکومتی نگرانی میں نجی شعبہ کی خریداری کا نظام ہی راستہ بنتا تھا جسے اپنایا گیا ہے۔
اس نظام کی خوبیاں جانچی جائیں تو ماضی میں محکمہ خوراک کی گندم خریداری میں کسانوں کا جس طرح معاشی استحصال کیا جاتا تھا، سرکاری اسٹاک میں چوری کی جاتی تھی، ملاوٹ کی جاتی تھی، پانی لگایا جاتا تھا اب ویسا نہیں ہوگا کیونکہ کوئی بھی ایگریگیٹر ایسا رسک نہیں لے گا جس سے اس کی حکومت کی جانب واجب الادا رقم خطرے میں پڑ جائے۔
ایگریگیٹر کسانوں سے کمزور گندم بھی نہیں خریدے گا جو پہلے فوڈ اسٹاف خرید لیتا تھا۔ حکومتی اسکیم کی ممکنہ خامیوں کا ذکر کیا جائے تو نجی خریداروں کے لیے اتنی بڑی مقدار میں یکمشت خریداری آپریشنل چیلنج کے طور پر بہت مشکل ہوگی، یہ کمپنیاں اور فلورملز ماضی میں گندم خرید کر اسٹاک کرتی رہی ہیں مگر اتنی بڑی مقدار ان میں سے کسی نے نہ خریدی اور نہ ہی سنبھالی ہے۔
ایگریگیٹرز کو غیر معمولی مالی رعایات سے حکومت پر معاشی دباو موجود رہے گا۔ سب سے بڑا چلنج یہ ہوگا کہ کسانوں کی خواہش ہوگی کہ جس طرح ماضی میں فوڈ اور پاسکو ان سے گندم خریدتا تھا یعنی ہر قسم کی گندم بک جاتی تھی ایک مخصوص نذرانہ دیکر اب وہ ممکن نہیں ہوگا جس سے ممکن ہے کہ بڑے زمینداروں کی جانب سے نئے نظام پر تنقید بھی کی جائے اوراس تنقید کو سرکاری اہلکاروں کی حمایت بھی حاصل ہو۔
شنید ہے کہ حکومت 3500 روپے میں خریدی گندم ریلیز سیزن میں فعال فلورملز کو3500 روپے فی من قیمت پر ہی فروخت کرے گا یعنی تمام انسیڈنٹل چارجز حکومت خود برداشت کرے گی جس کے ذریعے سادہ روٹی کی نئی قیمت15 روپے اور بیس کلو آٹا تھیلا قیمت 2180 روپے کے لگ بھگ مستحکم رکھنا آسان ہوجائے گا۔
وزیر اعلی مریم نواز گندم کاشتکاروں اور شہری صارفین کو یکساں ریلیف اور معاشی تحفظ دینے کے لیے تمام اقدامات کر رہی ہیں، سیکریٹری فوڈ ڈاکٹر کرن خورشید اور ڈی جی فوڈ امجد حفیظ اس مشکل مشن کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کر رہے ہیں،ڈویژنل سطح پر کمشنرز کی سربراہی میں قائم کمیٹیاں شکایات کا بروقت ازالہ کریں گی اس لیے امید رکھنا ہوگی کہ گندم کاشتکار اس بار خسارے کا شکار نہیں ہوں گے۔
Today News
سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا مؤثر طریقہ ڈھونڈ نکالا!
دنیا بھر میں 2014 سے 2023 تک سگریٹ نوشی چھوڑنے سے متعلق ایک نئے جائزے میں یہ سامنے آیا ہے کہ سگریٹ ترک کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ نکوٹین والے الیکٹرانک سگریٹس (ویپس) کا استعمال ہے۔
شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ نکوٹین سے بھرپور ویپس، سگریٹ چھوڑنے میں نکوٹین کے متبادل طریقوں جیسے پیچز، چیونگ گم، لوزینجز اور رویہ جاتی مدد کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوئے ہیں بلکہ یہ نکوٹین سے خالی ای سگریٹس سے بھی زیادہ کارآمد ہیں۔
لیکن کیا ایک نکوٹین پر مبنی چیز چھوڑ کر دوسری نکوٹین والی چیز اپنانا واقعی بہتری ہے؟ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کے مطابق ایسا ضروری نہیں۔
اگرچہ الیکٹرانک سگریٹس (جنہیں عام طور پر ای سگریٹس، ای سِگز یا ویپس کہا جاتا ہے) میں عام سگریٹس کے دھوئیں میں موجود تقریباً 7000 مہلک کیمیکلز کے مقابلے میں نسبتاً کم نقصان دہ مادے ہوتے ہیں اور طبی ماہرین متفق ہیں کہ روایتی سگریٹ کینسر، میٹابولک امراض، ذہنی کمزوری اور دیگر سنگین صحت کے مسائل کا سبب بنتے ہیں پھر بھی ویپس کو محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔
سائنس دان اب بھی اس بات پر تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں کہ طویل مدت میں الیکٹرانک سگریٹس انسانی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔
Source link
Today News
داتا دربار توسیع منصوبہ، مزار کی اپگریڈیشن اور جدید سہولیات پر کام تیزی سے جاری
لاہور:
برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار، داتا دربار، کی توسیع اور تزئین و آرائش کا ایک بڑا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
حکام کے مطابق مزار کے مرکزی گنبد کی تعمیراور کیلگرافی کا کام ایک سال میں مکمل ہوگا۔ جدید طرف کی ہائیڈرولک چھتریاں 6 ماہ تک درآمد کرلی جائیں گی
سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر پنجاب اوقاف و مذہبی امور ڈاکٹر احسان بھٹہ نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ تقریباً 6.3 ارب روپے مالیت کے اس منصوبے کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے تحت بیرونی ترقیاتی کام، اندرونی تزئین اور مسجد و دیگر سہولیات کی توسیع شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کربلا گامے شاہ سے آنے والی سڑک کی بہتری، پیدل راستوں کی تعمیر اور ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے پر کام جاری ہے، جسے ٹیپا اور ایل ڈی اے مکمل کر رہے ہیں۔
مزار کے سامنے سابقہ پرندہ مارکیٹ کی جگہ کو پارکنگ میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں 150 گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی گنجائش ہوگی، جبکہ پارکنگ سے مزار تک محفوظ رسائی کے لیے پیدل انڈر پاس بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ کے مطابق دوسرے مرحلے میں مرکزی مزار کی خوبصورتی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جہاں مدینہ فاؤنڈیشن کے تعاون سے بڑا گنبد اور خطاطی کا کام جاری ہے۔
اس میں قرآن کی آیات اور احادیث کو شامل کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ماہرین اور علماء سے مشاورت کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تیسرے اور اہم ترین مرحلے میں جامع مسجد، سماع ہال اور کھلے صحن کی توسیع شامل ہے،تین اطراف سے تقریبا 28 کنال رقبہ مزید شامل کیا جارہا ہے جس سے مسجد اور دربارکا مجموعی رقبہ 85 کنال ہوجائیگا۔
مسجد کی گنجائش ایک ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار نمازیوں تک کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔
مزید برآں، زائرین کے لیے جدید طرز کے لنگر خانے، بیٹھنے کے وسیع مقامات اور مذہبی تقریبات کے لیے جگہیں بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق اس حصے کی تکمیل میں تقریباً ایک سال لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے پیش نظر ہائیڈرولک کنوپیاں نصب کرنے کا ایک الگ منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے، جس کی لاگت 2.8 ارب روپے ہے اور اسے جرمنی سے درآمد کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی منظوری کے بعد چھ ماہ میں تکمیل متوقع ہے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ کے مطابق تعمیراتی کام کے باوجود مزار کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے اور ہفتہ وار نذرانہ 25 لاکھ سے بڑھ کر 46 لاکھ روپے تک پہنچ گیا ہے۔
نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سی سی ٹی وی اور مرکزی کنٹرول سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جسے دیگر مزارات تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب زائرین نے جاری ترقیاتی کام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ لاہور کے رہائشی محمد عمران نے کہا کہ یہاں سہولیات بہتر ہونے سے زائرین کو بڑی آسانی ہوگی اور رش میں کمی آئے گی۔
فیصل آباد کی رہائشی عائشہ بی بی کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے الگ انتظامات ایک مثبت قدم ہے جس سے عبادت میں سہولت ہوگی۔
ملتان سے آئے غلام مصطفیٰ نے کہا کہ داتا دربار ہمیشہ روحانی سکون کا مرکز رہا ہے، اس کی بہتری سے عقیدت مندوں کو مزید سہولت ملے گی۔
داتا دربار صدیوں سے جنوبی ایشیا میں صوفی روایت کا ایک اہم مرکز رہا ہے، جہاں ہر روز ہزاروں افراد حاضری دے کر روحانی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ مزار نہ صرف مذہبی عقیدت بلکہ رواداری، محبت اور انسان دوستی کے پیغام کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Sports2 weeks ago
Pakistan, India in same Hockey World Cup pool – Sport
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق