Connect with us

Today News

وزیراعظم نے ایس ای سی پی میں اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کر دی

Published

on



وزیراعظم نے سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کر دی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا، ایس ای سی پی کی انفورسمنٹ رجیم کو فعال اور مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔

چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ ایس ای سی پی سے متعلقہ 2000 سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں، عدالتوں میں زیرا التوا مقدامات کے فوری حل کے لیے اصلاحات ضروری ہیں۔

وفاقی وزیر قانون، اعظم نذید تارڑ نے کہا کہ ایس ای سی پی کو بااختیار بنانے کے لیے ضروری قانون سازی کریں گے۔

ڈاکٹَر کبیر سدھو کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی کو جرمانوں کی ریکوری کے لیے بااختیار بنایا جائے۔

ایس ای سی پی کے متعلقہ مقدمات کے لیے خصوصی ٹربیونلز کی تجویز دی گئی۔ ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ کارپوریٹ جعلسازی کی روک تھام کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی آئندہ اجلاس میں جامع اصلاحاتی پلان پیش کرے، ایس ای سی پی زیر التوا مقدمات کا مکمل ڈیٹا فراہم کرے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پی ایس ایل 11: حیدرآباد کنگز مین اور ملتان سلطانز کے میچ سے متعلق بڑی خبر!

Published

on



پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 میں حیدرآباد کنگز مین نے ملتان سلطانز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شیڈول ایونٹ کے آٹھویں میچ میں کنگز مین کے کپتان مارنس لبوشین نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کنگز مین اپنے ابتدائی دونوں میچز میں شکست سے دو چار ہوچکی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

آئی پی ایل کے بجائے پی ایس ایل کیوں جوائن کی؟ ایڈم زمپا کے چونکا دینے والے انکشافات

Published

on



آسٹریلوی لیگ اسپنر ایڈم زمپا نے انڈین پریمیئر لیگ  کے بجائے پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے کی وجہ بتاتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق زمپا نے واضح کیا کہ انہوں نےانڈین پریمئر لیگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا اور پاکستان شپر لیگ میں شامل ہوکر کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے لگے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق زمپا کا کہنا تھا کہ ان کی مہارت کے لحاظ سے آئی پی ایل میں انہیں مناسب معاوضہ نہیں مل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ جیسے اسپنر کو وہ مالی معاوضہ نہیں دیا جاتا جو دیگر مہارت رکھنے والے کھلاڑیوں کو ملتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی ایل کا دورانیہ بھی کافی طویل ہوتا ہے جس کے مقابلے میں اسے کھیلنا ان کے لیے مناسب فیصلہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اول تو میرا کرکٹ سے کچھ ٹائم کے لیے وقفہ لینے کا ارادہ تھا، تاہم پی ایس ایل میں کھیلنے کا موقع ملا اور اسے قبول کرلیا۔

واضح رہے کہ زمپا اس وقت پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنی ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

کراچی سمیت سندھ میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کروانے کیلیے تین ماڈل پیش

Published

on



کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر کے بعد صوبہ سندھ کے دیگر تمام اضلاع میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کرانے کے حوالے سے تین ماڈل پروپوز کیے گئے ہیں۔

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر کے بعد صوبہ سندھ کے دیگر تمام اضلاع میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کرانے کے حوالے سے تین ماڈل پروپوز کیے گئے۔ ان منصوبوں کو جدید اور پائیدار نظام بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں ایڈشنل چیف سیکریٹری سندھ وسیم شمشاد علی، منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس ڈبلیو ایم بی طارق علی نظامانی، پروجیکٹ ڈائریکٹر سوئپ محمد عثمان معظم اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر ایم اینڈ ڈی نے اجلاس کے دوران صوبہ سندھ کے لیے مجوزہ آپریشنل ماڈل پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے تین مختلف ماڈلز پیش کیے جن میں ہائبرڈ ماڈل، ہائبرڈ پلس ماڈل اور لوکل ماڈل شامل ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ تمام ماڈلز جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، جو نہ صرف لاگت کے لحاظ سے مؤثر ہیں بلکہ ان میں بلدیاتی اداروں کو بھی نظام کی حکمت عملی، پائیدار منصبوبہ بندی اور عمل درآمد میں شامل کیا جائے گا۔ ان ماڈلز کے تحت صفائی کا نظام مختلف سطحوں پر چلایا جا سکتا ہے، جس میں بلدیاتی کمیٹیوں کی بنیاد پر انتظام، یا سندھ بھر میں میونسپل کمیٹیوں کے ذریعے ایف ای سی مینجمنٹ شامل کی جا سکتی ہے۔ کام کو چھوٹے یونٹس جیسے ٹاؤن لیول پر تقسیم کرنے سے نگرانی اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے گی۔

مزید برآں، ٹاؤن انتظامیہ کو جدید سی ایم ایس (CMS) سسٹم کے ذریعے تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جا سکتی ہے جس سے صفائی کے عمل کی مانیٹرنگ اور کارکردگی کا جائزہ لینا آسان ہوگا۔ بریفنگ میں منصوبوں کی مدت کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں، جن کے مطابق ان ماڈلز کو 3+1 یا 4+1 سال کے عرصے کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے، تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

اجلاس میں بتایاگیا کہ تینوں ماڈلز میں مشینری اور عملے کو ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق ترتیب دیا جائے گا، جس سے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔ اس حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ایک پائیدار (Sustainable) صفائی نظام بھی قائم کیا جا سکے گا۔

اس کے علاوہ بریفنگ میں سندھ بھر میں لینڈ فل سائٹ کے لئے جگہ مختص کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں جس میں کشمور کندھ کوٹ، لاڑکانہ، کوٹ ڈی جی، نواب شاہ، سہون، ملکیار حیدرآباد، عمرکوٹ، دھابیجی لینڈفل سائٹس کی تجاویز شامل ہیں تاکہ کچرے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے۔

ایم ڈی سالڈ ویسٹ نے بتایا کہ جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کی تکمیل کا عمل تیزی سے جاری ہے اور جلد ہی یہ منصوبے مکمل ہو جائیں گے جبکہ جام چاکرولینڈ فل سائٹ کی تعمیر و ترقی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے، جہاں اب تک ایک سیل مکمل کیا جا چکا ہے، مزید پر کام جاری ہے۔ انجینئرڈ سینیٹری لینڈفل سائٹ جلد فعال ہو جائے گی۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد تقریباً 20 ملین ڈالر کاربن کریڈٹس حاصل ہونے کی توقع ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا سبب بنے گا بلکہ معاشی فوائد بھی فراہم کرے گا۔

اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ پیش کیے گئے ماڈلز کو مزید بہتر اور قابلِ عمل بنایا جائے تاکہ ان پر اعلیٰ سطح پر غور کیا جا سکے اور وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ آئندہ اقدامات کے لیے مشاورت کی جا سکے۔

وزیر بلدیات نے سختی سے ہدایت کی کہ کچرا مقررہ ڈسٹ بن کے بجائے کھلے عام پھینکنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے پولیس کو نشاندہی کرنے، ملبہ پھینکنے والی گاڑیوں کو روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید حکمت عملی، مؤثر نگرانی اور عوامی تعاون کے ذریعے سندھ کے شہروں کو صاف ستھرا اور ماحولیاتی طور پر محفوظ بنایا جائے گا۔



Source link

Continue Reading

Trending