Connect with us

Today News

کراچی سمیت سندھ میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کروانے کیلیے تین ماڈل پیش

Published

on



کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر کے بعد صوبہ سندھ کے دیگر تمام اضلاع میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کرانے کے حوالے سے تین ماڈل پروپوز کیے گئے ہیں۔

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور سکھر کے بعد صوبہ سندھ کے دیگر تمام اضلاع میں صفائی ستھرائی کے نظام کو متعارف کرانے کے حوالے سے تین ماڈل پروپوز کیے گئے۔ ان منصوبوں کو جدید اور پائیدار نظام بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں ایڈشنل چیف سیکریٹری سندھ وسیم شمشاد علی، منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس ڈبلیو ایم بی طارق علی نظامانی، پروجیکٹ ڈائریکٹر سوئپ محمد عثمان معظم اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر ایم اینڈ ڈی نے اجلاس کے دوران صوبہ سندھ کے لیے مجوزہ آپریشنل ماڈل پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے تین مختلف ماڈلز پیش کیے جن میں ہائبرڈ ماڈل، ہائبرڈ پلس ماڈل اور لوکل ماڈل شامل ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ تمام ماڈلز جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، جو نہ صرف لاگت کے لحاظ سے مؤثر ہیں بلکہ ان میں بلدیاتی اداروں کو بھی نظام کی حکمت عملی، پائیدار منصبوبہ بندی اور عمل درآمد میں شامل کیا جائے گا۔ ان ماڈلز کے تحت صفائی کا نظام مختلف سطحوں پر چلایا جا سکتا ہے، جس میں بلدیاتی کمیٹیوں کی بنیاد پر انتظام، یا سندھ بھر میں میونسپل کمیٹیوں کے ذریعے ایف ای سی مینجمنٹ شامل کی جا سکتی ہے۔ کام کو چھوٹے یونٹس جیسے ٹاؤن لیول پر تقسیم کرنے سے نگرانی اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے گی۔

مزید برآں، ٹاؤن انتظامیہ کو جدید سی ایم ایس (CMS) سسٹم کے ذریعے تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جا سکتی ہے جس سے صفائی کے عمل کی مانیٹرنگ اور کارکردگی کا جائزہ لینا آسان ہوگا۔ بریفنگ میں منصوبوں کی مدت کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں، جن کے مطابق ان ماڈلز کو 3+1 یا 4+1 سال کے عرصے کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے، تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

اجلاس میں بتایاگیا کہ تینوں ماڈلز میں مشینری اور عملے کو ہر علاقے کی ضرورت کے مطابق ترتیب دیا جائے گا، جس سے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔ اس حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ایک پائیدار (Sustainable) صفائی نظام بھی قائم کیا جا سکے گا۔

اس کے علاوہ بریفنگ میں سندھ بھر میں لینڈ فل سائٹ کے لئے جگہ مختص کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں جس میں کشمور کندھ کوٹ، لاڑکانہ، کوٹ ڈی جی، نواب شاہ، سہون، ملکیار حیدرآباد، عمرکوٹ، دھابیجی لینڈفل سائٹس کی تجاویز شامل ہیں تاکہ کچرے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے۔

ایم ڈی سالڈ ویسٹ نے بتایا کہ جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کی تکمیل کا عمل تیزی سے جاری ہے اور جلد ہی یہ منصوبے مکمل ہو جائیں گے جبکہ جام چاکرولینڈ فل سائٹ کی تعمیر و ترقی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے، جہاں اب تک ایک سیل مکمل کیا جا چکا ہے، مزید پر کام جاری ہے۔ انجینئرڈ سینیٹری لینڈفل سائٹ جلد فعال ہو جائے گی۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد تقریباً 20 ملین ڈالر کاربن کریڈٹس حاصل ہونے کی توقع ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا سبب بنے گا بلکہ معاشی فوائد بھی فراہم کرے گا۔

اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ شہریوں کو صاف، صحت مند اور بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ پیش کیے گئے ماڈلز کو مزید بہتر اور قابلِ عمل بنایا جائے تاکہ ان پر اعلیٰ سطح پر غور کیا جا سکے اور وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ آئندہ اقدامات کے لیے مشاورت کی جا سکے۔

وزیر بلدیات نے سختی سے ہدایت کی کہ کچرا مقررہ ڈسٹ بن کے بجائے کھلے عام پھینکنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے پولیس کو نشاندہی کرنے، ملبہ پھینکنے والی گاڑیوں کو روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جدید حکمت عملی، مؤثر نگرانی اور عوامی تعاون کے ذریعے سندھ کے شہروں کو صاف ستھرا اور ماحولیاتی طور پر محفوظ بنایا جائے گا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایف آئی اے  کی کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، افغان شہری اہل خانہ کے ہمراہ آف لوڈ 

Published

on



ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی نے کارروائی کے دوران افغان شہری کو اہل خانہ کے ہمراہ آف لوڈ کردیا۔

ذرائع ایف آئی اے کے مطابق اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے پاکستانی پاسپورٹ پر غیر ملکی ایئرلائن کے ذریعے کابل جانےوالے جلال الدین کو اہل خانہ کے ہمراہ کراچی ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیا۔

اس سےقبل  6 سے 7 بار افغانستان کا سفر کرنے والا ملزم اس بار اپنے دو بچوں اور اہلیہ کے ساتھ سفر کر رہا تھا،ملزم کے موبائل فون سےتحریک طالبان سے متعلق ویڈیوزاور تصاویر بھی برآمد ہوئیں، کراچی کے رہائشی ملزم سے افغان سیٹیزن کارڈ سمیت پاکستان سے واپس جانے والے افغان شہریوں کی فہرست بھی برآمد ہوئی۔

ملزم کے مطابق افغانستان میں کاروبار کے لیے درکار شرط کے مطابق افغان سیٹیزن کارڈ ایجنٹ سے 25 ہزار افغانی کرنسی کے عوض حاصل کیا تھا، افغانستان میں کنسٹرکشن بزنس کے آغاز سمیت افغان دستاویزات کے حصول میں اسکے پڑوسی نے معاونت کی تھی۔

ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ مزید کارروائی جاری ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل سرمایہ کاری کیلیے بہترین مارکیٹ بن چکی ہے،جلد دنیا کی نمبر ون لیگ بنے گی؛ محسن نقوی

Published

on



پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سرمایہ کاری کے لیے بہترین مارکیٹ بن چکی ہے اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب پی ایس ایل دنیا کی نمبر ون لیگ بنے گی۔

چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت  پی سی بی بورڈ آف گورنرز کا 82 واں  اجلاس  ہوا جس میں مالی سال برائے  2024-25کے سالانہ آڈٹ مالیاتی سٹیٹمنٹس کی باضابطہ منظوری دی گئی۔

اجلاس میں بورڈ آف گورنرز کے ممبران انوار احمد غنی، طارق سرور، عدنان ملک، سجاد کھوکھر، ظفر اللہ اور  اسماعیل قریشی شریک ہوئے جبکہ ظہیر عباس اور سیکرٹری کیبنٹ نے بھی اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔

آئی سی سی گلوبل اینٹی کرپشن کوڈ کے مطابق پی سی بی کے پروسیجرل رولز کی منظوری دی گئی، سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے ساتھ جدہ میں کرکٹ اسٹیڈیم کی ڈویلپمنٹ کے لئے تعاون کے حوالے سے بھی اظہار دلچسپی کی منظوری دی گئی جبکہ جغرافیائی حدود کی روشنی میں لاہور کے زونز کی دوبارہ حد بندی اور ناموں پر نظرثانی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

اس موقع پر بورڈ آف گورنرز نے عبد اللہ خرم نیازی کو ڈومیسٹک کرکٹ کے فروغ میں بھرپور کردار پر خراج تحسین پیش کیا، چیئرمین محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ 2 برس کے دوران عبداللہ خرم نیازی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے فروغ کے لیے  دن رات محنت کی، بی او جی نے  پی ایس ایل 11 کے لیے ٹیموں کی  ریکارڈ نیلامی پر اظہار تشکر کیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

بارود سے بڑھتا کاربن اور موسمیاتی بحران

Published

on


دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلی انسانی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور ماہرین اسے ’’چھٹی معدومیت‘‘ Sixth Extinction سے تعبیر کر  رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگوں اور عسکری تنازعات کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ دونوں بحران الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر جدید سائنسی تحقیق نے یہ حقیقت ثابت کر دی ہے کہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی دراصل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’ماحول جنگ کا خاموش شکار ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘‘ ان کا یہ بیان آج کی عالمی صورتحال کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

یہ ایک افسوس نا ک حقیقت ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر کاربن اخراج کی بات ہو تو عسکری سرگرمیاں اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ برطانیہ کی لنکاسٹر یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات پروفیسر سٹیورٹ پارکنسن کا کہنا ہے کے ’’دنیا کی افواج اجتماعی طور پر ایک بڑے ملک کے برابر کاربن خارج کرتی ہیں، مگر ان کے اخراج کو مکمل شفافیت کے ساتھ رپورٹ نہیں کیا جاتا۔‘‘

اسی طرح  Conflict & Environment Observatoryکے ماہر ڈگ ویئر کا کہنا ہے کہ’’ جنگی اخراج ایک Hidden Carbon Cost ہے، جسے موسمیاتی پالیسی سازی میں شامل ہی نہیں کیا جاتا۔‘‘

جنگی تباہی کا سب سے بڑا ماحولیاتی اثر انفراسٹرکچر کی تباہی ہے۔یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ ماہر ڈاکٹر مارک سٹیفنز کے مطابق ’’جب شہر تباہ ہوتے ہیں تو اصل کاربن اخراج جنگ کے بعد شروع ہوتا ہے،کیونکہ تعمیر نو کے لیے سیمنٹ اور اسٹیل کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین ’’Reconstrution Carbon Spike  ‘‘کو جنگ کے سب سے خطرناک ماحولیاتی اثرات میں شمار کرتے ہیں۔

ناروے انٹرنیشنل افیئرز انسٹی ٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر بینجمن نیومن کے مطابق ’’ایک لڑاکا طیارہ چند گھنٹوں میں اتنا ایندھن جلا دیتا ہے جتنا ایک عام شہری کئی مہینوں میں استعمال کرتا ہے۔‘‘یہ اعداد و شمار اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ جنگی مشینری کس قدر بڑے پیمانے پر کاربن اخراج کا باعث بنتی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن خبردارکرتی ہے کہ جنگی علاقوں میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر جویتا گپتا کا کہنا ہے کہ ’’جنگی دھواں اور زہریلی گیسیں نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ بارش کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔‘‘

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق جنگوں کے دوران توانائی کے نظام میں خلل پیدا ہونے سے ممالک دوبارہ فوسل فیول کی طرف لوٹ آتے ہیں، جس سے عالمی اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔توانائی کے ماہر ڈاکٹر فاتح بیرول کے مطابق ’’جیوپولیٹیکل تنازعات توانائی کی منتقلی (Energy Transition) کے عمل کو سست کر دیتے ہیں، جو موسمیاتی اہداف کے لیے نقصان دہ ہے۔‘‘یاد رہے کہ حالیہ جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران کے حواے سے جاپان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ ’’توانائی بحران اے نمٹنے کے لیے کوئلے کا استمال شروع کرے گا۔‘‘

بین ا الاحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی(IPCC )بارہا خبردار کر چکا ہے کہ اگر عالمی اخراج میں فوری کمی نہ کی گئی تو 1.5°C کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔IPCCسے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر ہانس اوٹو پورٹنر کے مطابق ہم پہلے ہی موسمیاتی تباہی کے دہانے پر ہیں،اور جنگی اخراج اس خطرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔‘‘ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنگی اخراج کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا غیر شفاف ہونا ہے۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ’’فوجی اخراجات اور ان سے جڑے ماحولیاتی اثرات کا مکمل ڈیٹا دستیاب ہی نہیں ہے، جس سے عالمی پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP)کے مطابق جنگیں زمین، پانی اور حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کہتی ہیں کہ جنگ کے ماحولیاتی اثرات اکثر دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں، اور ان کی بحالی ایک طویل اور مہنگا عمل ہوتاہے۔‘‘پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہیں، ان عالمی جنگی اخراجات کا بوجھ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سیلاب،خشک سالی، فضائی آلودگی اور دیگر کئی ماحولیاتی اور موسمیاتی مسائل میں ہونے والے اضافے کی صورت میں اٹھاتے ہیں ۔

جنگیں اب صرف زمینی یا سیاسی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ  اب یہ ایک ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کرہ ارض کو موسمیا تی تباہی سے محفوظ رکھنا ہے تو فوجی اخراج کو موسمیاتی معاہدوں میں شامل کرنا ہو گا اور اس حوالے سے شفاف رپورٹنگ کو بھی یقینی بنانا ہو گا،جنگ سے تباہ حال علاقوں میں ماحول دوست تعمیرات کرنا ہوں گی اور سب سے بڑھ کر تنازعات کاپر امن نکالنا ہو گا ۔

     عالمی پالیسی سازوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ ہر دھماکہ، ہر جلتی ہوئی عمارت، اور ہر جنگی مشین فضا میں ایک ایسا زخم چھوڑ رہی ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرے گا۔جیسا کہ بان کی مون نے کہا تھا کہ

’’ امن نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ زمین کے لیے بھی ضروری ہے۔‘‘





Source link

Continue Reading

Trending