Connect with us

Today News

لکی مروت اور پشاور میں پولیس پر حملے، 5 پولیس اہلکاروں سمیت 7 زخمی

Published

on



خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس موبائل پر حملے میں تین اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی جبکہ پشاور میں چیک پوسٹ پر حملے میں 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے نورنگ میں سبزی منڈی کے قریب مسلح افراد نے پولیس موبائل کو نشانہ بنایا۔

جس میں چار پولیس اہلکاروں سمیت 7 اہلکار زخمی ہوئے جنہیں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال سرائے نورنگ منتقل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں پشاور کے علاقے نواحی علاقہ متنی میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جس میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں حملہ آور جائے واردات سے فرار ہوگئے۔

لکی مروت اور متنی میں پیش آنے والے واقعات کے بعد پولیس اور فورسز کی نفری جائے وقوعہ پہنچی جہاں سے شواہد اکھٹے کرلیے جبکہ دہشت گردوں کی تلاش کیلیے آپریشن شروع کردیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان چین مذاکرات اور امن کی امید

Published

on


چین اور پاکستان نے امریکا اور ایران سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے فوری خاتمے اور جلد از جلد امن مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، دونوں ممالک نے ایران کی صورتحال پراسٹرٹیجک رابطے اور ہم آہنگی مضبوط بنانے اورامن کی وکالت کے لیے نئی کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بیجنگ میں چینی ہم منصب سے مذاکرات کیے، دونوں ممالک نے مشرق وسطی میں امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کا خواہاں ہے تاہم انھیں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانتیں درکار ہیں، یورپی کونسل کے صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں تہران کے اہم مطالبے کو دہراتے ہوئے پزشکیان نے کہا ہم اس تنازع کو ختم کرنے کا عزم رکھتے ہیں، بشرطیکہ بنیادی شرائط پوری کی جائیں بالخصوص جارحیت دوبارہ روکنے کے لیے مطلوبہ ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

 مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس کے اثرات سفارتی، عسکری، معاشی اور انسانی سطحوں پر بیک وقت محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اس صورتحال میں چین اور پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی اور بامعنی مذاکرات کی اپیل محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ایک جامع اور دور رس سفارتی حکمت عملی کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کو اب تصادم کے بجائے مکالمے کی طرف بڑھنا ہوگا۔چین اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ پانچ نکاتی منصوبہ دراصل اسی تاریخی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، آبی گزرگاہوں کا تحفظ، اہم تنصیبات کی حفاظت اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال سے گریز جیسے نکات شامل ہیں۔

یہ نکات بظاہر سادہ نظر آتے ہیں مگر درحقیقت ایک جامع امن فریم ورک کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کی سلامتی کا معاملہ انتہائی حساس ہے، کیونکہ دنیا کی توانائی کی بڑی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی عدم استحکام کا شکار بنا دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں جو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، وہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جب کہ توانائی کے شعبے میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمت میں کمی اور دیگر اقسام کے تیل میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ ابھی تک کسی واضح سمت کا تعین نہیں کر سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں آنے والی عارضی بہتری بھی اسی امید سے جڑی ہوئی ہے کہ شاید یہ بحران جلد ختم ہو جائے، تاہم یہ امید ابھی تک غیر یقینی کے سائے میں ہے۔

عالمی سیاست کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بحران صرف ایران اور امریکا کے درمیان ایک محدود تنازع نہیں بلکہ ایک بڑی جیو پولیٹیکل کشمکش کا حصہ ہے۔ امریکا اپنی عالمی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے، جب کہ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے۔ روس بھی اس کھیل کا ایک اہم کھلاڑی ہے جو اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بن چکا ہے۔

امریکی قیادت کے بیانات اس بحران کی پیچیدگی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، جب کہ دوسری طرف یہ عندیہ بھی دیا جا رہا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس طرح کے متضاد بیانات نہ صرف ایران بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں، اگر واقعی مقصد صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ ہے تو پھر اس کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ عسکری اقدامات عارضی کامیابی تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس کے ساتھ سیکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ ایک حقیقت پسندانہ مؤقف ہے۔ کوئی بھی ملک اس بات کو یقینی بنائے بغیر ہتھیار نہیں ڈال سکتا کہ اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت محفوظ رہے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بین الاقوامی سفارت کاری کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور ایک ایسا معاہدہ ترتیب دینا ہوگا جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔

پاکستان کا کردار اس پورے بحران میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک خود اقتصادی مشکلات کا شکار ہے، اس نے نہ صرف سفارتی میدان میں سرگرمی دکھائی بلکہ ایک مؤثر ثالث کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات، مشترکہ سرحد اور ثقافتی ہم آہنگی اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں، جب کہ امریکا کے ساتھ تعلقات اسے ایک متوازن کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔

معاشی اثرات کے حوالے سے یہ بحران انتہائی تشویشناک ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل کو بڑھاتا ہے بلکہ مہنگائی کو بھی ہوا دیتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً وہ جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام پر بوجھ ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین میں خلل بھی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔عالمی مالیاتی منڈیوں میں آنے والی تیزی بظاہر ایک مثبت اشارہ ہے، مگر یہ زیادہ تر قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔ سرمایہ کار امن کی کسی بھی خبر کو فوری طور پر مثبت انداز میں لیتے ہیں، مگر اگر صورتحال دوبارہ بگڑ جائے تو یہی مارکیٹس تیزی سے منفی رجحان اختیار کر سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس عارضی بہتری کو مستقل استحکام میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

خلیجی ریاستوں اور دیگر علاقائی قوتوں کا کردار بھی اس بحران میں اہم ہے۔ یہ ممالک ایک طرف اپنی سلامتی کے حوالے سے فکر مند ہیں تو دوسری طرف عالمی توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک نازک توازن ہے، جسے برقرار رکھنا آسان نہیں۔ اسی طرح یورپی ممالک بھی اس بحران کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ اس کے اثرات براہ راست ان کی معیشت اور سلامتی پر پڑتے ہیں۔انسانی پہلو اس تنازع کا سب سے دردناک رخ ہے۔ جنگ کے نتیجے میں نہ صرف جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں، جس سے ایک طویل المدتی انسانی بحران جنم لیتا ہے۔ ایسے میں انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔

مستقبل کے حوالے سے مختلف امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ فریقین مذاکرات کے ذریعے ایک جامع معاہدے تک پہنچ جائیں، جو نہ صرف موجودہ بحران کو ختم کرے بلکہ مستقبل کے تنازعات کو بھی روکنے میں مدد دے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کشیدگی کم تو ہو جائے مگر مکمل طور پر ختم نہ ہو، جس سے ایک مسلسل غیر یقینی صورتحال برقرار رہے۔ تیسرا اور سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ یہ تنازع ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں۔ یہ وقت عالمی قیادت کے لیے ایک امتحان ہے۔ فیصلے صرف طاقت کے بل پر نہیں بلکہ دانشمندی، صبر اور دور اندیشی کے ساتھ کرنے ہوں گے۔

چین اور پاکستان کی مشترکہ کوششیں ایک مثبت قدم ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ دیگر عالمی طاقتیں کس حد تک ان کا ساتھ دیتی ہیں۔دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانا چاہتی ہے یا ایک نئے راستے کا انتخاب کرنا چاہتی ہے۔

جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے، جب کہ امن ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوتا ہے۔ اگر اس موقع پر درست فیصلے کیے گئے تو یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد بن سکتا ہے، بصورت دیگر یہ ایک طویل اور تباہ کن دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا موڑا جا سکتا ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے، اگر دنیا نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا تو نہ صرف یہ بحران ختم ہو سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ مستحکم اور پرامن عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی؛ سپر ہائی وے پر انڈین گٹکے کی اسمگلنگ ناکام، 2 خواتین سمیت 4 ملزمان گرفتار

Published

on



پولیس نے سپر ہائی وے پر خواتین کو ڈھال بنا کر انڈین گٹکے کی اسمگلنگ نام بنا کر 2 خواتین سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا ، ملزمان سوزوکی پک اپ میں گٹکا اندرون سندھ اسمگل کر رہے تھے۔

اس حوالے سے ڈی ایس پی سہراب گوٹھ اورنگزیب خٹک اور ایس ایچ او سائٹ سپر ہائی وے چوہدری نواز نے بتایا کہ پولیس نے خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر ایک سوزوکی پک اپ کو روکا جس کے عقب میں 2 خواتین سوار تھیں جس میں سے ایک مریض بن کر پک اپ میں بچھائے گئے بستر پر لیٹی ہوئی تھی جس کے نیچے بڑی تعداد میں انڈین گٹکا چھپایا ہوا تھا۔

ملزمان حب چوکی سے لایا جانے والا انڈین گٹکا براستہ ناردرن بائی سے اندرون سندھ اسمگل کر رہے تھے ، پولیس نے انڈین گٹکا اسمگلنگ کرنے میں ملوث سوزوکی پک میں سوار 2 خواتین صالحہ اور سلمیٰ کو دیگر 2 ساتھیوں عمران اور شمن علی سمیت گرفتار کر کے مجموعی طور پر 390 پیکٹ انڈین گٹکا اور تیار گٹکا ماوا برآمد کر کے اسمگلنگ میں استعمال کی جانے والی سوزوکی پک اپ کو بھی قبضے میں لیکر مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے ۔



Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل11؛ صاحبزادہ فرحان کی شاندار سنچری، پلیئر آف دی میچ قرار

Published

on



پاکستان سپر لیگ 11 میں ملتان سلطانز کے صاحبزادہ فرحان کو ان کی شاندار سنچری کی بنیاد پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے پی ایس ایل کے 8ویں میچ میں ملتان سلطانز نے حیدرآباد کنگز مین کو شکست دے کر شاندار فتح اپنے نام کرلی جبکہ میچ کے ہیرو صاحبزادہ فرحان رہے جنہوں نے ناقابلِ شکست سنچری اسکور کی۔

صاحبزادہ فرحان نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 57 گیندوں پر ناقابلِ شکست 106 رنز اسکور کیے جس میں 7 چوکے اور 8 چھکے شامل تھے۔

Sahibzada Farhan is named player of the match for his exceptional century.#HBLPSL11 | #NewEra | #MSvHK pic.twitter.com/7TbVkUJOgU
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) April 1, 2026

ابتدائی اوورز میں فرحان نے برق رفتاری سے رنز بنا کر ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی جبکہ دیگر کھلاڑیوں نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

حیدرآباد کنگز مین کے بولرز بڑے ہدف کے باوجود ملتان کی بیٹنگ لائن کو روکنے میں ناکام رہے جس کے باعث ٹیم کو مسلسل تیسری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس فتح کے ساتھ ملتان سلطانز نے نہ صرف اہم پوائنٹس حاصل کیے بلکہ ایونٹ میں اپنی پوزیشن بھی مستحکم کرلی جبکہ صاحبزادہ فرحان کی شاندار اننگز کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا جا رہا ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending