Today News
ایران نے مذاکرات کیلئے درخواست کے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کردیا
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے صدر نے امریکا کو مذاکرات کی درخواست کی ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کا ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔
ایرانی صدر کے دفتر کے کمیونیکیشنز اور انفارمیشن کے نائب سربراہ سید مہدی طباطبائی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایران کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن فورسز کے خلاف ملک کی سلامتی کے دفاع اور مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن کسی صورت تبدیل نہیں ہوئی ہے اور اس حوالے سے مبہم اور مجرمان کے جھوٹ پر توجہ نہیں دی جائے۔
سید مہدی طباطبائی نے کہا کہ ایرانی قوم اپنی مادر وطن کی حفاظت کے لیے پرعزم، ثابت قدم اور متحد ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل میں بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی نئی حکومت کے صدر نے امریکا کو جنگ بندی کی درخواست کی ہے لیکن ہم اس وقت تک کارروائیاں جاری رکھیں گے جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ طریقے سے بحال نہیں کی جاتی۔
Source link
Today News
موٹروے ایم-2 پر بڑی کارروائی، 21 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کوکین برآمد، خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار
لاہور:
موٹروے ایم-2 ساؤتھ پر سیال موڑ کے قریب موٹروے پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 21 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کوکین برآمد کرلی اور خاتون سمیت دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان سنٹرل ریجن کے مطابق کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب موٹروے پولیس نے لین وائلیشن پر ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، تاہم ڈرائیور نے اشارہ نظر انداز کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے فوری تعاقب کرتے ہوئے گاڑی کو قابو میں لے لیا۔
ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کی تلاشی کے دوران 40 پیکٹس سے زائد منشیات برآمد ہوئیں، جن کا مجموعی وزن 21 کلوگرام سے زائد ہے۔ برآمد شدہ کوکین کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت 21 کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔
کارروائی سیکٹر کمانڈر ایس ایس پی ملک ظفر اقبال کی قیادت میں کی گئی، جس میں آئی پی سبطِ حسنین، رانا ہارون اقبال اور ہیڈ کانسٹیبل وقاص نے حصہ لیا۔
ملزمان سے برآمد ہونے والی کوکین کو مزید قانونی کارروائی کے لیے کاؤنٹر نارکوٹکس فورس پنجاب کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
Today News
میزائل وہاں، مہنگائی یہاں۔ ایران امریکا ٹکرائو کی قیمت
آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے۔ دنیا کا تقریباً 20فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے اور جب کسی بھی جنگ یا کشیدگی سے یہ رستہ متاثر ہو تو پاکستان کی معیشت فوراً ہچکولے کھانے لگتی ہے اور پھر ہرمز کی بے چین لہریں کراچی سے خیبر تک مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیتی ہے۔ جولائی تا فروری 2026 ان 8ماہ کے دوران پاکستان سے 10ارب 2کروڑ 90لاکھ ڈالرز کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔ جب عالمی سطح پر تیل کی فی بیرل قیمت 60سے 70 ڈالر تھیں ، تادم تحریر تیل کی عالمی قیمت 115ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد مزید بڑھنے کے خدشات ہیں۔
ان حالات میں 30جون تک پاکستان کو تیل کی درآمدات میں مزید کئی ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔ حکومت نے تیل کی عالمی قیمت میں اضافے کے پیش نظر 55 روپے فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا اس کے بعد کئی مواقعے پر قیمت میں اضافے کی سفارش کی گئی لیکن حکومت کی طرف سے غریبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی کے تحت اضافہ نہیں کیاگیا، مزید اضافے کی توقع اپنی جگہ موجود ہے لیکن کیے گئے اضافے کے باعث ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ دیکھاگیا۔
خوراک کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہے۔ ادویات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ مکانات کے کرائے بڑھ گئے اور یوں ایک جنگ نے جو کہ امریکا اور ایران کے بیچ لڑی جا رہی ہے اس نے بغیر گولی چلائے پاکستان کے غریب عوام کی جیبوں پر حملہ کردیا ہے، اسی دوران غیر ملکی پروازیں متاثر ہورہی ہیں۔ فضائی راستے غیر محفوظ ہوکر رہ گئے ہیں۔ ٹکٹوں کی قیمتیں کہیں دگنی بھی ہوگئی ہیں، ہزاروں ٹریول ایجنٹس بیروزگاری، کاروبار کے مندہ ہونے کے باعث شدید نقصان کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور یہ عمل ٹریول ایجنسی کی سانس روکنے کے مترادف ہے۔
ادھر لاکھوں پاکستانی جو خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور سالانہ اربوں ڈالر ترسیلات زر بھیجتے ہیں جنگ کے مزید طول پکڑنے کے باعث ان کا روزگار متاثر ہوگا، لاکھوں پاکستانی واپس آنے پر مجبور ہوں گے اور یوں پاکستان کا سب سے بڑا ڈالرکا ذریعہ کمزور پڑجائے گا۔گزشتہ 8ماہ کے دوران برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کے باعث جولائی تا فروری 2026پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب تیل کے درآمدی بل بڑھنے کے باعث تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے اور یہ لگنے والا ایسا زخم ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت بچت پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
سرکاری اخراجات کم کیے جا رہے ہیں مہنگائی کم کرنے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں لیکن اب اس طرف فوری توجہ دینا ہوگی کہ جو چیزیں ہم خود بنا سکتے ہیں، ان کو بنانے کی پلاننگ کی جائے۔ توانائی میں خود کفالت کے حصول کے لیے مقامی گیس اور تیل کی تلاش کا کام مزید تیز کیا جائے۔ ایران سے گیس لینے کے معاہدے کا جائزہ لیا جائے۔ رکاوٹوں کو دور کیا جائے خاص طور پر سولر انرجی کے حصول کی کوششیں تیزکی جائیں۔ ترکیہ سے کیے گئے زرعی معاہدے پر عملدرآمد کی رفتار کو تیز کرکے ہم زراعت کو جدید بنا سکتے ہیں تو خوراک کی زائد پیداوار کے حصول سے مہنگائی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ وقت کی پکار یہ ہے کہ اگر آج ہم نے خود کو نہ بدلا تو کل ہر عالمی جنگ ہماری گھریلو مہنگائی بن جائے گی۔
پاکستان میں ہر عالمی جنگ کا پہلا دھماکہ بارود سے نہیں بلکہ غریب کی خالی جیب سے سنائی دیتا ہے۔ ایک غریب مزدور امریکا اور ایران کی جنگ کو نہیں سمجھتا، مگر مہنگائی کی زبان کو خوب جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ جب آبنائے ہرمز کے تیور بدلتے ہیں تو اس کے چولہے کی آنچ مدہم پڑجاتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر بننے والی جنگی لکیرآٹے، دال ، سبزی کی قیمت میں کھنچ جاتی ہے ۔ یہاں میزائل کے اثرات سے مہنگائی نیا دھماکہ کرتی ہے، ٹینک وہاں چلتے ہیں کرایوں کا پہیہ غریب یہاں کچل دیتا ہے فوجیں وہاں لڑتی ہیں لیکن یہاں مزدور اور دکاندار روز الگ نئی جنگ لڑتے ہیں ہر عالمی تنازعہ پاکستان میں غربت، بھوک ، بیروزگاری کی خبر بن کر آتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ میزائل وہاں چلتے ہیں اور مہنگائی یہاں ہوجاتی ہے۔ امریکا ایران ٹکراؤ کی ایک قیمت پاکستان کا غریب ادا کررہا ہے گولی ہزاروں میل دور چلتی ہے، میزائل وہاں گرتے ہیں دھماکے ہوتے ہیں مگر اس کی گونج یہاں پٹرول پمپ، سبزی منڈی، فروٹ منڈی ، جوڑیا بازار میں سنائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ایسی معیشت جو اپنی توانائی، اپنی خوراک، اپنی پالیسیوں میں خود مختار نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی طرف دیکھتا ہے، اسی لیے ہر عالمی جھٹکے سے پاکستانی معیشت لرز کر رہ جاتی ہے۔
Today News
بااختیار بلدیاتی نظام اور پیپلز پارٹی کا منشور
نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی ادارے شہروں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو نچلی سطح تک کے اختیارات کے بلدیاتی نظام کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا۔ جب 1988 میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو بے نظیر بھٹو کی خصوصی دلچسپی کی بناء پر منشور کو تحریری طور پر شائع کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے 1988 کے انتخابات کے موقع پر جاری ہونے والے منشور میں بااختیار بلدیات کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس منشور کے حصہ دوئم کے باب پانچ میں تحریر کیا گیا کہ ’’پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی اداروں کے دائرہ کار میں اضافہ کرکے ان کی سائنسی بنیادوں پر تنظیم نو کی جائے گی تاکہ ان کی کارکردگی بہتر ہوجائے۔‘‘پیپلز پارٹی کے بانی و سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نئے آئین میں بلدیاتی اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شق 140-A شامل کی، مگر اس ملک کی بڑی بدقسمتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے قیام کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے جس کے نتیجے میں ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس سے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
جب میاں شہباز شریف وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کی سفارش پر صدر آصف علی زرداری نے کامران ٹیسوری کو سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا۔ کامران ٹیسوری اسی وقت ایم کیو ایم میں شامل ہوئے تھے۔ انھوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے تھے۔ گورنر ہاؤس میں نوجوانوں کے لیے آئی ٹی کے کورسز شروع کیے گئے جس سے بلاتفریق نسل و مذہب لاکھوں نوجوانوں نے استفادہ کیا۔
کامران ٹیسوری نے کراچی کو صوبہ بنانے کا ایجنڈا سنبھال لیا۔ ان کی سرگرمیوں اور بیانات سے لسانی رنگ زیادہ جھلکنے لگا۔ اگرچہ صدر آصف زرداری کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے گورنر صاحبان بھی سیاسی بیانات دیتے ہیںمگر کامران ٹیسوری ریڈ لائن عبور کرگئے جس کی بناء پر وہ قوتیں جنھوں نے کامران ٹیسوری کے لیے گورنر ہاؤس جانے کا راستہ ہموار کیا تھا شاید ان سے مایوس ہوگئیں، یوں کامران ٹیسوری سندھ کے پہلے گورنر ہیں جو برطرف ہوئے۔ ایم کیو ایم جس کا ماضی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے اس طرح کے فیصلے پر یہ جماعت آسمان سر پر اٹھا لیتی تھی اور کراچی اور حیدرآباد میں زندگی معطل ہوجاتی تھی لیکن اس بار یہ جماعت اپنے گورنر کی برطرفی کا صدمہ خاموشی سے برداشت کرگئی۔
ڈاکٹر فاروق ستار کے علاوہ ایم کیو ایم کی قیادت میں شامل تمام رہنماؤں نے اس بار ے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کسی ٹی وی چینل سے یہ خبر نشر ہوئی کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی درخواست کی ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف جو ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کی بناء پر مسلسل بیرون ملک کے دوروں پر رہے مگر وزیر اعظم جب گزشتہ ہفتے کراچی آئے تو ایم کیو ایم کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی مگر ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اس ملاقات میں اپنے گورنر کی برطرفی کا ذکر کرنے کے بجائے آئین میں 28ویں ترمیم کرنے پر زور دیا۔ اس دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کراچی آئے۔ محسن نقوی نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صدر آصف زرداری سے ملاقات کا راستہ نکالا، یوں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی کراچی میں صدر زرداری سے ملاقات ہوگئی۔ وفاقی وزیر تعلیم نے اس ملاقات کی تفصیلات تو ظاہر نہیں کیں مگر یہ مختصر خبر اخبارات کی زینت بنی کہ صدر زرداری جو بالحاظ عہدہ وفاقی یونیورسٹیوں کے چانسلر بھی ہیں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ان سے اس تناظر میں ملاقات کی اور کراچی میں کچھ وفاقی یونیورسٹیوں کے کیمپسز کے قیام پر بات چیت کی تھی۔
ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے عیدالفطر کی تعطیلات کے خاتمے پر کراچی پریس کلب پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو پیپلز پارٹی کے سندھ کے طرزِ حکومت کے ماڈل پر سخت اعتراضات ہیں۔ پھر بھی ایم کیو ایم ایک مضبوط اور مؤثر بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ علی خورشیدی نے صحافیوں کے سامنے اپنا بیانیہ یوں ترتیب دیا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مکمل بااختیار اور نچلی سطح تک اختیار کے بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے بات چیت کرنی چاہیے، انھوں نے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی مگر اس بات کی وضاحت کی کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد آئین کی شق 140-A میں ترمیم کرنا ہے۔
علی خورشیدی نے کراچی شہر کے انفرااسٹرکچر کی زبوں حالی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہر میں روزانہ خوف ناک حادثات رونما ہورہے ہیں۔ پانی کے ٹینکر اور سامان لے جانے والے ٹرالر موٹرسائیکل سواروں کو کچل دیتے ہیں۔ سندھ حکومت نے تین ماہ قبل ای چالان کی مہم شروع کی تھی اور شہر کی اہم شاہراہوں پر کیمرے نصب کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ کیا گیا مگر گزشتہ مہینے کے ٹریفک کے حادثات کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئے نظام کے نفاذ سے صورتحال بہتر نہیں ہوسکی۔ علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ جب تک ان حادثات کی حقیقی وجوہات کا خاتمہ نہیں ہوگا، شہر میں ٹریفک کے حادثات کی شرح کم نہیں ہوگی۔
سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ اور سینئر وزیر شرجیل میمن نے فوری طور پر ایم کیو ایم کی مذاکرات کی مشروط پیشکش پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا مگر سندھ کے وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے کہاکہ ایم کیو ایم بااختیار اور نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے قیام کا نعرہ کراچی صوبہ کے لیے لگا رہی ہے۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے تحت کراچی میں ایک سپر بلدیہ کراچی جس کے دائرہ کار میں کنٹونمنٹ بورڈ، ہاؤسنگ اتھارٹیز، ہوائی اڈے اور کراچی پورٹ وغیرہ شامل ہوں، سول سوسائٹی کا متفقہ مطالبہ ہے۔ ابلاغیات کے ماہر ڈاکٹر عرفان عزیز کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ کراچی کی اکثریت ان کی جماعت کی حامی ہے، یہی وجہ کراچی کے میئر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔
اگر ایم کیو ایم کے تجویز کردہ مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے بعد پیپلز پارٹی اپنا میئر کامیاب کراتی ہے تو پھر شہر کی ترقی کا عمل تو بہتر ہوگا ہی مگر کراچی کو صوبہ بنانے کا معاملہ بھی پس پشت چلا جائے گا۔ ایک اور محقق ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی نے شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ 10 دن قبل کراچی میں صرف 20 سے 30 منٹ یا اس سے بھی کم دورانیہ کی زبردست آندھی آئی اور چند گھنٹے موسلا دھار بارش ہوئی مگر اس مختصر ترین دورانیہ میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈاکٹر عثمانی کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر کراچی کے انفرااسٹرکچر کو سائنسی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا تو کسی قدرتی آفت میں کتنا نقصان ہوگا اس کا اندازہ ان ہلاکتوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ لیاری کے ایک کارکن اقبال عمیر خان سوشل میڈیا پر لیاری میں ہونے والی بارشوں کے درمیان تباہی پر مسلسل ماتم کررہے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا کے ایک پلیٹ فارم پر کہا کہ تہران پر امریکا کی مسلسل بمباریوں سے وہاں اتنی تباہی نہیں ہوئی ہوگی جتنی تباہی عید کے موقع پر ہونے والی بارش کے نتیجہ میں لیاری کی سڑکوں کی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ گیس کمپنی نے سڑکوں کی مرمت کے لیے لیاری ٹاؤن کو 150 کروڑ روپے دیے ہیں مگر یہ رقم اب تک خرچ نہیں ہوسکی، آندھی کے ساتھ شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی بند ہوگئی۔ یہ آندھی رمضان المبارک کے آخری ہفتے میں آئی تھی۔ کچھ علاقوں میں 6بجے بجلی بحال ہوئی۔ کچھ علاقوں میں دوسرے دن شام تک بجلی کی سپلائی بحال ہوسکی۔ بجلی کی سپلائی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی معطل رہی۔ سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہونے سے مچھروں کی نئی فوج پیدا ہوئی۔
پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچے براہِ راست متاثر ہوئے۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں لندن، نیویارک، واشنگٹن، بمبئی اور کلکتہ وغیرہ کا نظام بااختیار بلدیاتی نظام کا مرہونِ منت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ میں وزیر اعظم کے بعد سب سے بااختیار شخص لندن میئر ہوتا ہے۔ ظہران ممدانی کے نیویارک کا میئر منتخب ہونے اور صدر ٹرمپ کی مخالفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک کا میئر کتنا بااختیار ہے۔ پیپلز پارٹی کے اکابرین کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے تیار کردہ 1988 کے انتخابی منشور کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Rabeeca Khan’s Father’s Tips For Daughters Marriages
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Pakistan, India in same Hockey World Cup pool – Sport
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The cost of peer pressure – Newspaper