Connect with us

Today News

کراچی؛ سپر ہائی وے پر انڈین گٹکے کی اسمگلنگ ناکام، 2 خواتین سمیت 4 ملزمان گرفتار

Published

on



پولیس نے سپر ہائی وے پر خواتین کو ڈھال بنا کر انڈین گٹکے کی اسمگلنگ نام بنا کر 2 خواتین سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا ، ملزمان سوزوکی پک اپ میں گٹکا اندرون سندھ اسمگل کر رہے تھے۔

اس حوالے سے ڈی ایس پی سہراب گوٹھ اورنگزیب خٹک اور ایس ایچ او سائٹ سپر ہائی وے چوہدری نواز نے بتایا کہ پولیس نے خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر ایک سوزوکی پک اپ کو روکا جس کے عقب میں 2 خواتین سوار تھیں جس میں سے ایک مریض بن کر پک اپ میں بچھائے گئے بستر پر لیٹی ہوئی تھی جس کے نیچے بڑی تعداد میں انڈین گٹکا چھپایا ہوا تھا۔

ملزمان حب چوکی سے لایا جانے والا انڈین گٹکا براستہ ناردرن بائی سے اندرون سندھ اسمگل کر رہے تھے ، پولیس نے انڈین گٹکا اسمگلنگ کرنے میں ملوث سوزوکی پک میں سوار 2 خواتین صالحہ اور سلمیٰ کو دیگر 2 ساتھیوں عمران اور شمن علی سمیت گرفتار کر کے مجموعی طور پر 390 پیکٹ انڈین گٹکا اور تیار گٹکا ماوا برآمد کر کے اسمگلنگ میں استعمال کی جانے والی سوزوکی پک اپ کو بھی قبضے میں لیکر مقدمہ درج کرلیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے ۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

قصور میں لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے والا اہلکار گرفتار، جعلی نکاح نامہ اور سنگین دھمکیوں کا انکشاف

Published

on



قصور:

قصور میں لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے، جعلی نکاح نامہ تیار کرنے اور سنگین دھمکیاں دینے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق قائم مقام ڈی پی او محمد ضیاء الحق نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری سخت کارروائی کا حکم دیا جس کے بعد ملزم کانسٹیبل اصغر علی کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے حوالات میں بند کر دیا گیا۔

درخواست کے مطابق ملزم گزشتہ تین ماہ سے لیڈی کانسٹیبل گلفشاں کو ہراساں کر رہا تھا اور اسے دھمکی آمیز پیغامات بھیج رہا تھا۔

ملزم نے تیزاب گردی اور زہر کا انجکشن لگانے جیسی سنگین دھمکیاں بھی دیں۔

متاثرہ لیڈی کانسٹیبل کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس کے نام سے جعلی نکاح نامہ بھی تیار کر رکھا تھا، حالانکہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے۔

ڈی پی او قصور نے واضح کیا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

آئی ایم ایف سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ، مہنگائی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

Published

on



اسلام آباد:

 پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا، بجٹ میں مالیاتی گنجائش نہ ہو نے پرقیمتوں میں اضافہ کر دیا جائیگا،دوسری طرف تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی گزشتہ ماہ میں ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک پہنچ گئی۔

ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو آگاہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی عارضی ہے اور یہ تب تک جاری رہے گی جب تک بجٹ میں مالیاتی گنجائش کی نشاندہی نہیں ہو جاتی، ایندھن کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 200ارب کی مالیاتی گنجائش نکالنے کیلیے صوبوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ بجٹ میں زیادہ سبسڈی سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدگی سے نظرثانی کی اجازت جاری رہے گی جب تک کہ اضافی گنجائش نہیں نکلتی، حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنسز میں کمی اور پچھلی سہ ماہی کے غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کمی سے 27 ارب روپے بچائے ہیں وفاقی ترقیاتی بجٹ سے مزید 100 ارب روپے کم کر دیئے گئے ہیں۔

تاہم حکومت کے اندر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طلب کو کم کرنے کے اقدام کے طور پر اس جمعہ کو قیمتوں میں کچھ اضافہ کیا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کے باوجود گزشتہ ماہ کھپت میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ نہ تو عوام اور نہ ہی حکومت نے خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔

آئی ایم ایف نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو دور کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کیلئے سہ ماہی وظیفے کو اگلے سال جنوری سے 35 فیصد بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کی نئی شرط بھی عائد کر دی ہے تاہم امداد میں 5ہزار روپے کا سہ ماہی اضافہ درمیانی آمدنی والے گروپوں پر اثرات کو پورا نہیں کر سکتا۔

بی آئی ایس پی امداد سے جون تک مستفید ہونے والوں کی تعداد بھی دو لاکھ سے بڑھ کر 10.2 ملین تک پہنچ جائیگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جنوری 2027 سے غیر مشروط کیش ٹرانسفر کی رقم 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کے لیے مفاہمت ہو گئی ہے جو عالمی مالیاتی ادارے کی نئی شرط ہے،یہ اضافہ مہنگائی کے اثرات کو دور کرنے کے لیے کافی ہو گااور کم آمدنی والے طبقے کی جانب سے استعمال کی جانے والی بنیادی خوراک کی قیمت کے 15 فیصد کے قریب لے جایا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ مشروط منتقلی کے حصے کے طور پر، صحت اور تعلیم کی اسکیموں کے تحت تقریباً 7لاکھ مزید مستفید کنندگان کو شامل کیا جائے گا اور مزید 2لاکھ کو بی آئی ایس پی کے ذریعے چلائے جانے والے نیوٹریشن پروگراموں میں شامل کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ 1.2 بلین ڈالر کے قرض کی اقساط کی سیٹلمنٹ کے لیے اسٹاف لیول سطح پر مشروط معاہدے تک پہنچنے سے پہلے آئی ایم ایف کو قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی عدالتی مقدمات سے 322 ارب روپے ریونیو کمانے کی صلاحیت سے مشروط ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ایندھن کی قیمتوں میں ابتدائی طور پر 20 فیصد اضافہ کر کر کے قیمتیں برقرار رکھی ہیں تاہم حکومت اب بھی پٹرول پر غیر معقول حد تک زیادہ ٹیکس لگا رہی ہے جو اس سبسڈی سے کہیں زیادہ ہیں جو حکومت مصنوعات پر دے رہی تھی۔

دوسری جانب ادارہ شماریات کی گذشتہ روزکی رپورٹ کے مطابق مارچ میں مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی جو گزشتہ 17ماہ کی بلند ترین سطح تھی تاہم یہ اب بھی حکومت کی توقعات سے کم اور سالانہ ہدف کی حد کے اندر تھی۔

گزشتہ ماہ خوراک کی قیمتوں کی بڑھنے کی شرح مزید کم ہوئی لیکن شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں غیر خوراکی قیمتوں میں اضافہ ہوا، گیس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ ماہ پٹرول میں 18 فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔

غیر غذائی اور دیگر اشیاکی قیتمیں بھی گزشتہ ماہ بڑھ کر شہری علاقوں میں 7.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.4 فیصد تک پہنچ گئی۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شرح سود میں اضافے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ سالانہ افراط زر کی شرح 7.5 فیصد کے ہدف سے بڑھ جائے۔

تاہم کوئی بھی عارضی تبدیلی شرح سود میں اضافے کی بنیاد نہیں بننا چاہیے ، اس سے معیشت مزید سست ہو سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مصنوعی ذہانت، 6 ہزار طلبہ کو تربیت دینے کامعاہدہ طے

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت ،مصنوعی ذہانت سے متعلق تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔

دستخط چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیے گئے۔

معاہدے کے تحت ملک بھر کی تقریباً 100 جامعات میں چھ ہزار طلبہ کو تربیت دی جائے گی، جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تعلیمی ادارے بھی شامل ہوں گے۔

اس موقع پررانا مشہود احمد نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی مہارتوں اور عالمی مقابلے کا میدان ہے۔

طلبہ کی رجسٹریشن کا عمل actaiaiskillbridgepk پر جاری ہے۔پروگرام کے آغاز کو باضابطہ طور پر لانچ کرنے کے لیے جلد قومی سطح پر ایک تقریب منعقد کی جائے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending