Connect with us

Today News

پاکستان چین مذاکرات اور امن کی امید

Published

on


چین اور پاکستان نے امریکا اور ایران سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے فوری خاتمے اور جلد از جلد امن مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، دونوں ممالک نے ایران کی صورتحال پراسٹرٹیجک رابطے اور ہم آہنگی مضبوط بنانے اورامن کی وکالت کے لیے نئی کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بیجنگ میں چینی ہم منصب سے مذاکرات کیے، دونوں ممالک نے مشرق وسطی میں امن کے لیے 5 نکات پیش کردیے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکا کسی بھی صورت میں اپنا مشن مکمل کر کے پیچھے ہٹ جائے گا چاہے ایران مذاکرات کی میز پر آئے یا نہ آئے۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ بندی کا خواہاں ہے تاہم انھیں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانتیں درکار ہیں، یورپی کونسل کے صدر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں تہران کے اہم مطالبے کو دہراتے ہوئے پزشکیان نے کہا ہم اس تنازع کو ختم کرنے کا عزم رکھتے ہیں، بشرطیکہ بنیادی شرائط پوری کی جائیں بالخصوص جارحیت دوبارہ روکنے کے لیے مطلوبہ ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

 مشرق وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس کے اثرات سفارتی، عسکری، معاشی اور انسانی سطحوں پر بیک وقت محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اس صورتحال میں چین اور پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی اور بامعنی مذاکرات کی اپیل محض ایک رسمی بیان نہیں بلکہ ایک جامع اور دور رس سفارتی حکمت عملی کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کو اب تصادم کے بجائے مکالمے کی طرف بڑھنا ہوگا۔چین اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ پانچ نکاتی منصوبہ دراصل اسی تاریخی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، آبی گزرگاہوں کا تحفظ، اہم تنصیبات کی حفاظت اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال سے گریز جیسے نکات شامل ہیں۔

یہ نکات بظاہر سادہ نظر آتے ہیں مگر درحقیقت ایک جامع امن فریم ورک کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کی سلامتی کا معاملہ انتہائی حساس ہے، کیونکہ دنیا کی توانائی کی بڑی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی عدم استحکام کا شکار بنا دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں جو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، وہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جب کہ توانائی کے شعبے میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔

برینٹ کروڈ کی قیمت میں کمی اور دیگر اقسام کے تیل میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ ابھی تک کسی واضح سمت کا تعین نہیں کر سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں آنے والی عارضی بہتری بھی اسی امید سے جڑی ہوئی ہے کہ شاید یہ بحران جلد ختم ہو جائے، تاہم یہ امید ابھی تک غیر یقینی کے سائے میں ہے۔

عالمی سیاست کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بحران صرف ایران اور امریکا کے درمیان ایک محدود تنازع نہیں بلکہ ایک بڑی جیو پولیٹیکل کشمکش کا حصہ ہے۔ امریکا اپنی عالمی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے، جب کہ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھا رہا ہے۔ روس بھی اس کھیل کا ایک اہم کھلاڑی ہے جو اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بن چکا ہے۔

امریکی قیادت کے بیانات اس بحران کی پیچیدگی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، جب کہ دوسری طرف یہ عندیہ بھی دیا جا رہا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس طرح کے متضاد بیانات نہ صرف ایران بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتے ہیں، اگر واقعی مقصد صرف ایٹمی خطرے کا خاتمہ ہے تو پھر اس کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ عسکری اقدامات عارضی کامیابی تو فراہم کر سکتے ہیں مگر دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

ایران کی جانب سے جنگ بندی کی خواہش کا اظہار ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم اس کے ساتھ سیکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ ایک حقیقت پسندانہ مؤقف ہے۔ کوئی بھی ملک اس بات کو یقینی بنائے بغیر ہتھیار نہیں ڈال سکتا کہ اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت محفوظ رہے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بین الاقوامی سفارت کاری کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور ایک ایسا معاہدہ ترتیب دینا ہوگا جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔

پاکستان کا کردار اس پورے بحران میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک خود اقتصادی مشکلات کا شکار ہے، اس نے نہ صرف سفارتی میدان میں سرگرمی دکھائی بلکہ ایک مؤثر ثالث کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات، مشترکہ سرحد اور ثقافتی ہم آہنگی اسے ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں، جب کہ امریکا کے ساتھ تعلقات اسے ایک متوازن کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔

معاشی اثرات کے حوالے سے یہ بحران انتہائی تشویشناک ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف درآمدی بل کو بڑھاتا ہے بلکہ مہنگائی کو بھی ہوا دیتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً وہ جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام پر بوجھ ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سپلائی چین میں خلل بھی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔عالمی مالیاتی منڈیوں میں آنے والی تیزی بظاہر ایک مثبت اشارہ ہے، مگر یہ زیادہ تر قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔ سرمایہ کار امن کی کسی بھی خبر کو فوری طور پر مثبت انداز میں لیتے ہیں، مگر اگر صورتحال دوبارہ بگڑ جائے تو یہی مارکیٹس تیزی سے منفی رجحان اختیار کر سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس عارضی بہتری کو مستقل استحکام میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

خلیجی ریاستوں اور دیگر علاقائی قوتوں کا کردار بھی اس بحران میں اہم ہے۔ یہ ممالک ایک طرف اپنی سلامتی کے حوالے سے فکر مند ہیں تو دوسری طرف عالمی توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک نازک توازن ہے، جسے برقرار رکھنا آسان نہیں۔ اسی طرح یورپی ممالک بھی اس بحران کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ اس کے اثرات براہ راست ان کی معیشت اور سلامتی پر پڑتے ہیں۔انسانی پہلو اس تنازع کا سب سے دردناک رخ ہے۔ جنگ کے نتیجے میں نہ صرف جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع ختم ہو جاتے ہیں، جس سے ایک طویل المدتی انسانی بحران جنم لیتا ہے۔ ایسے میں انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔

مستقبل کے حوالے سے مختلف امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ فریقین مذاکرات کے ذریعے ایک جامع معاہدے تک پہنچ جائیں، جو نہ صرف موجودہ بحران کو ختم کرے بلکہ مستقبل کے تنازعات کو بھی روکنے میں مدد دے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ کشیدگی کم تو ہو جائے مگر مکمل طور پر ختم نہ ہو، جس سے ایک مسلسل غیر یقینی صورتحال برقرار رہے۔ تیسرا اور سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ یہ تنازع ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر لے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں۔ یہ وقت عالمی قیادت کے لیے ایک امتحان ہے۔ فیصلے صرف طاقت کے بل پر نہیں بلکہ دانشمندی، صبر اور دور اندیشی کے ساتھ کرنے ہوں گے۔

چین اور پاکستان کی مشترکہ کوششیں ایک مثبت قدم ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ دیگر عالمی طاقتیں کس حد تک ان کا ساتھ دیتی ہیں۔دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانا چاہتی ہے یا ایک نئے راستے کا انتخاب کرنا چاہتی ہے۔

جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے، جب کہ امن ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوتا ہے۔ اگر اس موقع پر درست فیصلے کیے گئے تو یہ بحران ایک نئے عالمی توازن کی بنیاد بن سکتا ہے، بصورت دیگر یہ ایک طویل اور تباہ کن دور کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا موڑا جا سکتا ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے، اگر دنیا نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا تو نہ صرف یہ بحران ختم ہو سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ مستحکم اور پرامن عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

قصور میں لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے والا اہلکار گرفتار، جعلی نکاح نامہ اور سنگین دھمکیوں کا انکشاف

Published

on



قصور:

قصور میں لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے، جعلی نکاح نامہ تیار کرنے اور سنگین دھمکیاں دینے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق قائم مقام ڈی پی او محمد ضیاء الحق نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری سخت کارروائی کا حکم دیا جس کے بعد ملزم کانسٹیبل اصغر علی کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے حوالات میں بند کر دیا گیا۔

درخواست کے مطابق ملزم گزشتہ تین ماہ سے لیڈی کانسٹیبل گلفشاں کو ہراساں کر رہا تھا اور اسے دھمکی آمیز پیغامات بھیج رہا تھا۔

ملزم نے تیزاب گردی اور زہر کا انجکشن لگانے جیسی سنگین دھمکیاں بھی دیں۔

متاثرہ لیڈی کانسٹیبل کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس کے نام سے جعلی نکاح نامہ بھی تیار کر رکھا تھا، حالانکہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے۔

ڈی پی او قصور نے واضح کیا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

آئی ایم ایف سے پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ، مہنگائی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

Published

on



اسلام آباد:

 پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا، بجٹ میں مالیاتی گنجائش نہ ہو نے پرقیمتوں میں اضافہ کر دیا جائیگا،دوسری طرف تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی گزشتہ ماہ میں ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک پہنچ گئی۔

ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو آگاہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی عارضی ہے اور یہ تب تک جاری رہے گی جب تک بجٹ میں مالیاتی گنجائش کی نشاندہی نہیں ہو جاتی، ایندھن کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 200ارب کی مالیاتی گنجائش نکالنے کیلیے صوبوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ بجٹ میں زیادہ سبسڈی سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدگی سے نظرثانی کی اجازت جاری رہے گی جب تک کہ اضافی گنجائش نہیں نکلتی، حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنسز میں کمی اور پچھلی سہ ماہی کے غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کمی سے 27 ارب روپے بچائے ہیں وفاقی ترقیاتی بجٹ سے مزید 100 ارب روپے کم کر دیئے گئے ہیں۔

تاہم حکومت کے اندر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طلب کو کم کرنے کے اقدام کے طور پر اس جمعہ کو قیمتوں میں کچھ اضافہ کیا جانا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کے باوجود گزشتہ ماہ کھپت میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ نہ تو عوام اور نہ ہی حکومت نے خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔

آئی ایم ایف نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو دور کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کیلئے سہ ماہی وظیفے کو اگلے سال جنوری سے 35 فیصد بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کی نئی شرط بھی عائد کر دی ہے تاہم امداد میں 5ہزار روپے کا سہ ماہی اضافہ درمیانی آمدنی والے گروپوں پر اثرات کو پورا نہیں کر سکتا۔

بی آئی ایس پی امداد سے جون تک مستفید ہونے والوں کی تعداد بھی دو لاکھ سے بڑھ کر 10.2 ملین تک پہنچ جائیگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جنوری 2027 سے غیر مشروط کیش ٹرانسفر کی رقم 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کے لیے مفاہمت ہو گئی ہے جو عالمی مالیاتی ادارے کی نئی شرط ہے،یہ اضافہ مہنگائی کے اثرات کو دور کرنے کے لیے کافی ہو گااور کم آمدنی والے طبقے کی جانب سے استعمال کی جانے والی بنیادی خوراک کی قیمت کے 15 فیصد کے قریب لے جایا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ مشروط منتقلی کے حصے کے طور پر، صحت اور تعلیم کی اسکیموں کے تحت تقریباً 7لاکھ مزید مستفید کنندگان کو شامل کیا جائے گا اور مزید 2لاکھ کو بی آئی ایس پی کے ذریعے چلائے جانے والے نیوٹریشن پروگراموں میں شامل کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ 1.2 بلین ڈالر کے قرض کی اقساط کی سیٹلمنٹ کے لیے اسٹاف لیول سطح پر مشروط معاہدے تک پہنچنے سے پہلے آئی ایم ایف کو قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی عدالتی مقدمات سے 322 ارب روپے ریونیو کمانے کی صلاحیت سے مشروط ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ایندھن کی قیمتوں میں ابتدائی طور پر 20 فیصد اضافہ کر کر کے قیمتیں برقرار رکھی ہیں تاہم حکومت اب بھی پٹرول پر غیر معقول حد تک زیادہ ٹیکس لگا رہی ہے جو اس سبسڈی سے کہیں زیادہ ہیں جو حکومت مصنوعات پر دے رہی تھی۔

دوسری جانب ادارہ شماریات کی گذشتہ روزکی رپورٹ کے مطابق مارچ میں مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہو گئی جو گزشتہ 17ماہ کی بلند ترین سطح تھی تاہم یہ اب بھی حکومت کی توقعات سے کم اور سالانہ ہدف کی حد کے اندر تھی۔

گزشتہ ماہ خوراک کی قیمتوں کی بڑھنے کی شرح مزید کم ہوئی لیکن شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں غیر خوراکی قیمتوں میں اضافہ ہوا، گیس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ ماہ پٹرول میں 18 فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔

غیر غذائی اور دیگر اشیاکی قیتمیں بھی گزشتہ ماہ بڑھ کر شہری علاقوں میں 7.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.4 فیصد تک پہنچ گئی۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ شرح سود میں اضافے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ سالانہ افراط زر کی شرح 7.5 فیصد کے ہدف سے بڑھ جائے۔

تاہم کوئی بھی عارضی تبدیلی شرح سود میں اضافے کی بنیاد نہیں بننا چاہیے ، اس سے معیشت مزید سست ہو سکتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

مصنوعی ذہانت، 6 ہزار طلبہ کو تربیت دینے کامعاہدہ طے

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی جانب ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت ،مصنوعی ذہانت سے متعلق تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔

دستخط چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیے گئے۔

معاہدے کے تحت ملک بھر کی تقریباً 100 جامعات میں چھ ہزار طلبہ کو تربیت دی جائے گی، جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے تعلیمی ادارے بھی شامل ہوں گے۔

اس موقع پررانا مشہود احمد نے کہا کہ پاکستان کا نوجوان ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہے اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی مہارتوں اور عالمی مقابلے کا میدان ہے۔

طلبہ کی رجسٹریشن کا عمل actaiaiskillbridgepk پر جاری ہے۔پروگرام کے آغاز کو باضابطہ طور پر لانچ کرنے کے لیے جلد قومی سطح پر ایک تقریب منعقد کی جائے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending