Connect with us

Today News

بااختیار بلدیاتی نظام اور پیپلز پارٹی کا منشور

Published

on


نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی ادارے شہروں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو نچلی سطح تک کے اختیارات کے بلدیاتی نظام کی اہمیت کا بخوبی اندازہ تھا۔ جب 1988 میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو بے نظیر بھٹو کی خصوصی دلچسپی کی بناء پر منشور کو تحریری طور پر شائع کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے 1988 کے انتخابات کے موقع پر جاری ہونے والے منشور میں بااختیار بلدیات کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اس منشور کے حصہ دوئم کے باب پانچ میں تحریر کیا گیا کہ ’’پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی اداروں کے دائرہ کار میں اضافہ کرکے ان کی سائنسی بنیادوں پر تنظیم نو کی جائے گی تاکہ ان کی کارکردگی بہتر ہوجائے۔‘‘پیپلز پارٹی کے بانی و سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نئے آئین میں بلدیاتی اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شق 140-A شامل کی، مگر اس ملک کی بڑی بدقسمتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے قیام کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے جس کے نتیجے میں ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس سے عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

جب میاں شہباز شریف وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کی سفارش پر صدر آصف علی زرداری نے کامران ٹیسوری کو سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا۔ کامران ٹیسوری اسی وقت ایم کیو ایم میں شامل ہوئے تھے۔ انھوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے تھے۔ گورنر ہاؤس میں نوجوانوں کے لیے آئی ٹی کے کورسز شروع کیے گئے جس سے بلاتفریق نسل و مذہب لاکھوں نوجوانوں نے استفادہ کیا۔

کامران ٹیسوری نے کراچی کو صوبہ بنانے کا ایجنڈا سنبھال لیا۔ ان کی سرگرمیوں اور بیانات سے لسانی رنگ زیادہ جھلکنے لگا۔ اگرچہ صدر آصف زرداری کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے گورنر صاحبان بھی سیاسی بیانات دیتے ہیںمگر کامران ٹیسوری ریڈ لائن عبور کرگئے جس کی بناء پر وہ قوتیں جنھوں نے کامران ٹیسوری کے لیے گورنر ہاؤس جانے کا راستہ ہموار کیا تھا شاید ان سے مایوس ہوگئیں، یوں کامران ٹیسوری سندھ کے پہلے گورنر ہیں جو برطرف ہوئے۔ ایم کیو ایم جس کا ماضی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے اس طرح کے فیصلے پر یہ جماعت آسمان سر پر اٹھا لیتی تھی اور کراچی اور حیدرآباد میں زندگی معطل ہوجاتی تھی لیکن اس بار یہ جماعت اپنے گورنر کی برطرفی کا صدمہ خاموشی سے برداشت کرگئی۔

ڈاکٹر فاروق ستار کے علاوہ ایم کیو ایم کی قیادت میں شامل تمام رہنماؤں نے اس بار ے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کسی ٹی وی چینل سے یہ خبر نشر ہوئی کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی درخواست کی ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف جو ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کی بناء پر مسلسل بیرون ملک کے دوروں پر رہے مگر وزیر اعظم جب گزشتہ ہفتے کراچی آئے تو ایم کیو ایم کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی مگر ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے اس ملاقات میں اپنے گورنر کی برطرفی کا ذکر کرنے کے بجائے آئین میں 28ویں ترمیم کرنے پر زور دیا۔ اس دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کراچی آئے۔ محسن نقوی نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صدر آصف زرداری سے ملاقات کا راستہ نکالا، یوں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی کراچی میں صدر زرداری سے ملاقات ہوگئی۔ وفاقی وزیر تعلیم نے اس ملاقات کی تفصیلات تو ظاہر نہیں کیں مگر یہ مختصر خبر اخبارات کی زینت بنی کہ صدر زرداری جو بالحاظ عہدہ وفاقی یونیورسٹیوں کے چانسلر بھی ہیں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ان سے اس تناظر میں ملاقات کی اور کراچی میں کچھ وفاقی یونیورسٹیوں کے کیمپسز کے قیام پر بات چیت کی تھی۔

ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے عیدالفطر کی تعطیلات کے خاتمے پر کراچی پریس کلب پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو پیپلز پارٹی کے سندھ کے طرزِ حکومت کے ماڈل پر سخت اعتراضات ہیں۔ پھر بھی ایم کیو ایم ایک مضبوط اور مؤثر بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ علی خورشیدی نے صحافیوں کے سامنے اپنا بیانیہ یوں ترتیب دیا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مکمل بااختیار اور نچلی سطح تک اختیار کے بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے بات چیت کرنی چاہیے، انھوں نے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی مگر اس بات کی وضاحت کی کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد آئین کی شق 140-A میں ترمیم کرنا ہے۔

علی خورشیدی نے کراچی شہر کے انفرااسٹرکچر کی زبوں حالی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہر میں روزانہ خوف ناک حادثات رونما ہورہے ہیں۔ پانی کے ٹینکر اور سامان لے جانے والے ٹرالر موٹرسائیکل سواروں کو کچل دیتے ہیں۔ سندھ حکومت نے تین ماہ قبل ای چالان کی مہم شروع کی تھی اور شہر کی اہم شاہراہوں پر کیمرے نصب کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ کیا گیا مگر گزشتہ مہینے کے ٹریفک کے حادثات کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ نئے نظام کے نفاذ سے صورتحال بہتر نہیں ہوسکی۔ علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ جب تک ان حادثات کی حقیقی وجوہات کا خاتمہ نہیں ہوگا، شہر میں ٹریفک کے حادثات کی شرح کم نہیں ہوگی۔

سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ اور سینئر وزیر شرجیل میمن نے فوری طور پر ایم کیو ایم کی مذاکرات کی مشروط پیشکش پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا مگر سندھ کے وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ نے کہاکہ ایم کیو ایم بااختیار اور نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے قیام کا نعرہ کراچی صوبہ کے لیے لگا رہی ہے۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نچلی سطح تک اختیارات کے بلدیاتی نظام کے تحت کراچی میں ایک سپر بلدیہ کراچی جس کے دائرہ کار میں کنٹونمنٹ بورڈ، ہاؤسنگ اتھارٹیز، ہوائی اڈے اور کراچی پورٹ وغیرہ شامل ہوں، سول سوسائٹی کا متفقہ مطالبہ ہے۔ ابلاغیات کے ماہر ڈاکٹر عرفان عزیز کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ کراچی کی اکثریت ان کی جماعت کی حامی ہے، یہی وجہ کراچی کے میئر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔

اگر ایم کیو ایم کے تجویز کردہ مؤثر اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے بعد پیپلز پارٹی اپنا میئر کامیاب کراتی ہے تو پھر شہر کی ترقی کا عمل تو بہتر ہوگا ہی مگر کراچی کو صوبہ بنانے کا معاملہ بھی پس پشت چلا جائے گا۔ ایک اور محقق ڈاکٹر سعید مسعود عثمانی نے شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی طرف اربابِ اختیار کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ 10 دن قبل کراچی میں صرف 20 سے 30 منٹ یا اس سے بھی کم دورانیہ کی زبردست آندھی آئی اور چند گھنٹے موسلا دھار بارش ہوئی مگر اس مختصر ترین دورانیہ میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈاکٹر عثمانی کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر کراچی کے انفرااسٹرکچر کو سائنسی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا تو کسی قدرتی آفت میں کتنا نقصان ہوگا اس کا اندازہ ان ہلاکتوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ لیاری کے ایک کارکن اقبال عمیر خان سوشل میڈیا پر لیاری میں ہونے والی بارشوں کے درمیان تباہی پر مسلسل ماتم کررہے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا کے ایک پلیٹ فارم پر کہا کہ تہران پر امریکا کی مسلسل بمباریوں سے وہاں اتنی تباہی نہیں ہوئی ہوگی جتنی تباہی عید کے موقع پر ہونے والی بارش کے نتیجہ میں لیاری کی سڑکوں کی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ گیس کمپنی نے سڑکوں کی مرمت کے لیے لیاری ٹاؤن کو 150 کروڑ روپے دیے ہیں مگر یہ رقم اب تک خرچ نہیں ہوسکی، آندھی کے ساتھ شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی بند ہوگئی۔ یہ آندھی رمضان المبارک کے آخری ہفتے میں آئی تھی۔ کچھ علاقوں میں 6بجے بجلی بحال ہوئی۔ کچھ علاقوں میں دوسرے دن شام تک بجلی کی سپلائی بحال ہوسکی۔ بجلی کی سپلائی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی معطل رہی۔ سڑکوں اور گلیوں میں پانی جمع ہونے سے مچھروں کی نئی فوج پیدا ہوئی۔

پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچے براہِ راست متاثر ہوئے۔ دنیا کے تمام بڑے شہروں لندن، نیویارک، واشنگٹن، بمبئی اور کلکتہ وغیرہ کا نظام بااختیار بلدیاتی نظام کا مرہونِ منت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ میں وزیر اعظم کے بعد سب سے بااختیار شخص لندن میئر ہوتا ہے۔ ظہران ممدانی کے نیویارک کا میئر منتخب ہونے اور صدر ٹرمپ کی مخالفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیویارک کا میئر کتنا بااختیار ہے۔ پیپلز پارٹی کے اکابرین کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے تیار کردہ 1988 کے انتخابی منشور کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

امریک عوام سے کوئی دشمنی نہیں، ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام خط

Published

on



تہران:

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کی امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی ایران ان کے لیے خطرہ ہے۔

ایرانی صدر نے اپنے خط میں کہا کہ ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا نہ صرف موجودہ حقائق کے منافی ہے بلکہ تاریخی تناظر میں بھی درست نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اہم انفرااسٹرکچر پر حملے دراصل ملک کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں جن کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے حالیہ حملوں کا جواب عزم اور حوصلے کے ساتھ دیا اور اپنی خودمختاری کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

صدر پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران میں واشنگٹن کے حوالے سے عدم اعتماد کی کئی وجوہات ہیں، جن میں غیر ملکی مداخلت اور غیر انسانی پابندیاں شامل ہیں۔ انہوں نے 1953 کی فوجی بغاوت کو اس عدم اعتماد کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

ایرانی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حقائق کو درست تناظر میں دیکھا جائے اور عوامی سطح پر بہتر تعلقات کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ شروع، ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں

Published

on



کراچی:

کراچی کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے موسم سرد ہو گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر، آئی آئی چندریگر روڈ، ٹاور، شارع فیصل اور ناظم آباد سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کورنگی، قیوم آباد، ڈیفنس، ایکسپریس وے اور محمود آباد میں بھی بوندا باندی کا سلسلہ جاری رہا۔

بارش کے ساتھ ہی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں جس سے موسم سرد ہو گیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

قصور میں لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے والا اہلکار گرفتار، جعلی نکاح نامہ اور سنگین دھمکیوں کا انکشاف

Published

on



قصور:

قصور میں لیڈی کانسٹیبل کو ہراساں کرنے، جعلی نکاح نامہ تیار کرنے اور سنگین دھمکیاں دینے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق قائم مقام ڈی پی او محمد ضیاء الحق نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری سخت کارروائی کا حکم دیا جس کے بعد ملزم کانسٹیبل اصغر علی کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے حوالات میں بند کر دیا گیا۔

درخواست کے مطابق ملزم گزشتہ تین ماہ سے لیڈی کانسٹیبل گلفشاں کو ہراساں کر رہا تھا اور اسے دھمکی آمیز پیغامات بھیج رہا تھا۔

ملزم نے تیزاب گردی اور زہر کا انجکشن لگانے جیسی سنگین دھمکیاں بھی دیں۔

متاثرہ لیڈی کانسٹیبل کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس کے نام سے جعلی نکاح نامہ بھی تیار کر رکھا تھا، حالانکہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے۔

ڈی پی او قصور نے واضح کیا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending