Connect with us

Today News

ٹرمپ کا ایران جنگ جاری رکھنے کا اعلان، اب شدت سے حملے کیے جائیں گے، تہران کو وارننگ

Published

on



واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں شدت لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔

امریکی عوام سے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ان کے بقول آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا۔

امریکی صدر نے ایرانی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلا گیا تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

خطاب کے دوران انہوں نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین شامل ہیں، کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

تیل کی عالمی منڈیوں پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کے تیل پر پہلے جیسا انحصار نہیں رہا۔

ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تاہم صورتحال جلد معمول پر آ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں جاری تنازع اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور جیسے ہی کشیدگی کم ہوگی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، خود بخود بحال ہو جائیں گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

علی ظفر میشا شفیع کیس

Published

on


گلو کار علی ظفر گلوکارہ میشا شفیع سے ہتک عزت کا دعویٰ جیت گئے ہیں۔ لاہور کی ایک عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو پچاس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ علی ظفر پر جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ یہ مقدمہ2018سے زیر سماعت تھا۔ اس طرح یہ مقدمہ آٹھ سال زیر سماعت رہا۔اس مقدمہ کی 284سماعتیں ہوئیں۔ اور ان آٹھ سالوں کے دوران نو ججز کا تبادلہ بھی ہوا۔ بیس گواہوں نے اس مقدمہ میں دونوں اطراف سے گواہی دی۔ مدعی اور مدعا علیہ نے بھی اپنے اپنے حق میں گواہی دی۔

پاکستان کے قانون کے تحت ہتک عزت کے مقدمات کا فیصلہ نوے دن میں ہونا چاہیے۔ ایسا ہتک عزت کے قانون میں لکھا ہوا ہے۔ لیکن عدالتیں اس کی نہ تو کوئی پرواہ کرتی ہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کی کوئی کوشش ہی کرتی ہیں۔ ویسے تو پاکستان کی عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔ لوگ اس سے پہلے ہی تھک جاتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ جب سالہا سال مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوتا تو لوگ تھک ہار جاتے ہیں۔ ملزمان کو بچ جانے کا موقع ملتا ہے اور سچ ڈوب جاتا ہے۔

ہتک عزت کے مقدمات کسی بھی معاشرہ میں سچ کی بالادستی کے لیے بہت اہم ہیں۔ جب کوئی آپ پر جھوٹا الزام لگائے تو آپ کے پاس ہتک عزت کے سوا کوئی اور قانونی راستہ نہیں ہے۔ ہتک عزت کے مقدمات ہی معاشرہ میں سچ کی بالادستی قائم رکھتے ہیں اور جھوٹ کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے کئی ہتک عزت کے معاملات کا لندن میں فیصلہ ہوا۔ برطانیہ کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ وہاں ان مقدمات کا بہت جلد فیصلہ ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے بھی ہتک عزت کے مقدمات لندن میں طے ہوئے ہیں۔

دنیا بھر کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات میں مثالی جرمانے کرتی ہیں۔ یہ جرمانے معاشرے میں جھوٹ کو روکنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ جرمانے مثالی اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ ان جرمانوں کو دیکھ کر ڈر جائیں اور ہتک عزت نہ کریں۔ یہ کسی کی عزت کی قیمت نہیں ہوتے۔ یہ قانون کا خوف قائم کرنے کے لیے ہوتے ہیں‘ جھوٹے کو نشان عبرت بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے دنیا بھر کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات میں مثالی اور بڑے بڑے جرمانے کرتی ہیں۔ جھوٹے سے کوئی رعائت نہیںکی جاتی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو پچاس لاکھ جرمانہ بہت کم ہے۔ یہ لوگوں کو ہتک عزت سے ڈرانے کے لیے ناکافی ہے۔ بلکہ اس سے تو یہ سوچ بنے گی کہ کوئی بات نہیں پہلے تو مقدمہ آٹھ دس سال چلے گا، پھر اگر فیصلہ ہوبھی گیا تو کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ پچاس لاکھ جرمانہ ہوگا، وہ دے دیں گے ، کونسی بڑی رقم ہے۔ اس لیے میں اس کو ایک کمزور فیصلے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ میری رائے میں جرمانے کی رقم بہت کم ہے۔ آج کل پچاس لاکھ کی کیا اوقات ہے ایک گاڑی نہیں آتی، دو مرلے کا گھر نہیں آتا پھر جن دو اسٹارز کے درمیان کیس تھا، وہ ایک پرفارمنس کے اس سے زیادہ پیسے لیتے ہیں۔ یہ ان کی ایک دن کی کمائی بھی نہیں۔ مجھے نہیں اندازہ جرمانے کی رقم کا تعین کیسے کیا گیا ہے‘ لیکن بہرحال یہ بہت کم لگتا ہے، یہ رقم ہتک عزت کے قانون کے بنیادی فلسفہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ویسے تو جنسی ہراسگی کے حوالے سے می ٹو کی حامی خواتین کا موقف ہے کہ اس میں عدالت کو ثبوت مانگنے ہی نہیں چاہیے۔ خاتون کا کہہ دینا ہی کافی ہے لیکن قانون اس بات کو نہیں مانتا۔ قانون ثبوت مانگتا ہے۔ یہ منطق انصاف کے کسی بھی اصول سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ محض الزام کو سچ مان لیا جائے اور اس کو ثابت کرنے کا نہ کہا جائے۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ جنسی ہراسگی کی کئی شکلیں ہیں۔ ان کے ثبوت ہونا مشکل ہے۔ کئی بار کوئی گواہ نہیں ہوتا، کئی بار کوئی ثبوت نہیں ہوتا لیکن الزام سچائی پر مبنی ہوتا لیکن کیا کریں قانون پھر بھی ثبوت مانگتا ہے۔

پاکستان کی عدالتوں میں ہتک عزت کے کئی بڑے مقدمات آئے ہیں لیکن ان کے فیصلے نہیں ہو سکے ہیں۔ آج کل وزیر اعظم شہباز شریف اور بانی تحریک انصاف عمران خان کے درمیان بھی ہتک عزت کا ایک مقدمہ چل رہا ہے۔ اس مقدمہ میں بانی تحریک انصاف نے ریکارڈ تاخیری حربے استعمال کیے ہیں۔ چار سال بعد تو انھوں نے جواب جمع کروایا۔ پھر ان تاخیری حربوں کی وجہ سے عدالت نے حق دفاع ختم کیا۔ یہ مقدمہ آج بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہے، دس سال ہوگئے ہیں۔ لیکن فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ یہ حقیقت نظام انصاف کی کوئی اچھی شکل نہیں ہے۔ جب بانی تحریک انصاف نے نجم سیٹھی پر 35پنکچر کا الزام لگایا تو انھوں نے بھی ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ جس کا آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔

ہتک عزت کے اکثر مقدمات فیصلے تک نہیں پہنچتے۔ لیکن جو چند مقدمات فیصلے تک پہنچے ہیں، ان میں بھی جرمانے بہت کم ہوئے ہیں۔ آپ کیس اسٹڈی کریں تو ایک کروڑ سے اوپر کوئی جرمانہ نہیں ملے گا۔ لگتا ہے جج صاحب جرمانہ کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے خود اپنی جیب سے دینے ہیں یا سرکاری خزانہ سے جانے ہیں۔ بہر حال اس قدر مشکل عدالتی نظام سے مقدمہ جیتنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اگر علی ظفر کیس کی مثال سامنے رکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ چلیں کسی ایک مقدمے کا فیصلہ تو ہواہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹینکر مافیا بے لگام کب تک؟

Published

on


کراچی میں حادثات روز کا معمول اور روزانہ ہی سات اضلاع پر مشتمل کراچی میں مختلف ٹریفک حادثات کی خبریں میڈیا پر آتی ہیں مگر حادثات کم نہیں ہورہے۔ کراچی میں ٹینکر اور کنٹینرز مافیا بے حد مضبوط اور بااثر ہے، جس پر قابو پانے میں کراچی ٹریفک پولیس ناکام اور مافیاز کے آگے بے بس ہے جس کی ایک بڑی وجہ رشوت کے علاوہ پولیس افسروں کی اپنی گاڑیاں، ٹینکر، ٹرک، کنٹینر اور پبلک ٹرانسپورٹ ہے اور غیر مقامی با اثر ٹرانسپورٹرز بھی ہیں۔

حکومت آئے دن ٹینکر مافیا، واٹر ٹینکروں اور ہیوی گاڑیوں اور کنٹینروں کے لیے شہر میں داخلے کے اوقات مقرر کرتی ہے جو عمل نہیں محض دکھاوے کے لیے ہوتے ہیں جن پر با اثر ان کے مالکان عمل نہیں ہونے دیتے اور ٹریفک پولیس ان پابندیوں پر عمل کرانے کی بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سال رواں کے تقریباً ڈھائی ماہ میں 151افراد صرف ٹینکروں کی زد میں آکر اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ بعض افراد تو اس بری طرح کچلے جاتے ہیں کہ ان کی شناخت بھی ممکن نہیں ہوتی اور ان کی لاشیں دیکھ کر دل دہل جاتا ہے یہ لاشیں اٹھانے نہیں بلکہ سمیٹیں جانے کے قابل ہوتی ہیں۔

اس سلسلے میں شرمناک بات تو یہ ہے کہ لوگوں کو کچلنے والے ان تیز رفتار ٹینکروں کے ڈرائیور اپنے ٹینکر چھوڑ کر رش میں فرار ہوجاتے ہیں جو بھاگ نہیں پاتے اور عوام کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں تو عوام کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں جنھیں بچانے کے لیے پولیس جلد موقع پر پہنچ جاتی ہے۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد حادثہ کرنے والے ٹینکر کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں جو ٹینکر جلنے سے بچ جاتے ہیں وہ علاقہ پولیس اپنے کنٹرول میں لے لیتی ہے مگر چند گھنٹوں بعد حادثہ کرنے والا ٹینکر سفارش اور رشوت پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور اعتراض کرنے والوں کو کہا جاتا ہے کہ جب ضرورت ہوگی وہ پیش کردیا جائے گا۔

کسی بھی حادثے کی ذمے دار گاڑی کو پولیس اپنی تحویل میں لے کر عدالت میں پیش کرنے کی قانونی طور پر پابند ہے مگر ٹینکر و کنٹینر مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ وہ حادثے میں ملوث اپنی کسی گاڑی کو چند گھنٹوں کے لیے بھی پولیس تحویل میں نہیں رہنے دیتی اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے تھانوں سے چھڑا لیتی ہے اور دوسرے ڈرائیور کو یہ گاڑی دے کر اسے شہریوں کو مزید کچلنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے اور اگر مذکورہ ٹینکر کا ڈرائیور پولیس یا عوام نے پکڑا ہو تو اسے ضمانت پر چھڑا لیتی ہے یا بھاگے ہوئے اپنے ڈرائیور کو گرفتاری سے بچانے کے لیے عدالتوں سے ضمانت کرالیتی ہے کیونکہ اس ڈرائیور کا یہ جرم قابل ضمانت شمار ہوتا ہے جو اتفاقی حادثہ کہلاتا ہے اور ڈرائیور پر قتل کی دفعہ 302 نہیں لگتی اور ڈرائیوروں کو عدالتوں سے اتنا بڑا قانونی ریلیف مل جاتا ہے کہ وہ بے گناہوں کی زندگی ختم کرنے کو جرم ہی نہیں سمجھتا اور رہا بھی جلد ہوجاتا ہے۔

شہر کی عام شاہراؤں پر تو مختلف واٹر ٹینکر، بجری، ریت کے ٹرک اور سامان کی ترسیل کرنے والے ٹرالر، کنٹینر اور ہیوی گاڑیاں تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتی ہی ہیں مگر جن شاہراؤں پر تعمیری و ترقیاتی کام ہورہے ہیں ان تنگ شاہراؤں پر بھی ان گاڑیوں کے ڈرائیور احتیاط کرتے ہیں نا مناسب اسپیڈ میں گاڑی چلاتے ہیں اور اسپیڈ کم نہیں رکھتے جس کی مثال سالوں سے زیر تعمیر یونیورسٹی روڈ ہے جہاں تیز چلائے جانے والی گاڑیوں سے دیگر گاڑی والوں کو اور خصوصاً موٹر سائیکل والوں کو خود ہی محفوظ رہنے کے لیے بچنا پڑتا ہے کیونکہ انھیں بچانا بے حس، انسانیت سے عاری اور نشئی ڈرائیور اپنی ذمے داری نہیں سمجھتے۔ اگر ایسے ڈرائیوروں پر اتفاقی حادثے کی بجائے قتل عمد کے مقدمے درج ہوں اور انھیں کڑی سزا کا خوف ہو تو وہ احتیاط پر مجبور ہوں گے وگرنا یہ قتل عام جاری رہے گا۔

کوئی دن بمشکل ہی ایسا گزرتا ہے کہ ان ٹینکروں کی زد میں آنے سے شہری اور راہگیر اور بائیک سوار محفوظ رہے ہوں۔ ٹینکرز کے تیز رفتار ڈرائیوروں کی وجہ سے عام گاڑیوں والوں کے برعکس بائیک سواروں کا جانی نقصان زیادہ ہورہا ہے اور وہ ہی تیز رفتار ٹینکروں کی زد میں آکر کچلے جاتے ہیں اور ان کے تیز رفتار ڈرائیوروں سے بے قابو ہوجانے والے ٹینکرز سے حادثے ہوتے ہیں۔

موٹر سائیکل سوار تو جلد بازی کرتے ہی ہیں مگر تیز رفتار واٹر ٹینکر، آئل ٹینکر، ریتی بجری والے ٹینکرز ڈرائیوروں کو بھی اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے اور وہ رش والی سڑکوں پر بھی احتیاط نہیں برتتے اور ٹینکرز ان سے بے قابو ہوکر لوگوںکو کچل رہے ہیں۔

ٹینکروں کی تیز رفتاری کا یہ حال ہے کہ کنواری کالونی کراچی میں سڑک کنارے کھڑے ٹینکر سے پیچھے سے آنے والا آئل ٹینکر ٹکرا جاتا ہے اور منگھوپیر میں دو افراد تیز رفتار ٹینکر کی زد میں کچلے جاتے ہیں اور حادثے کے بعد دونوں ٹینکرز کے ڈرائیور فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں اور حادثات دیکھنے والے افراد ذمے دار ڈرائیوروں کی بجائے ٹینکرز کی زد میں آنے والوں پر فوری توجہ دے کر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بے حس ڈرائیوروں کو فرار کا موقع مل جاتا ہے۔

حال ہی میں صفورا میں واٹر ٹینکر نے دو بائیک سواروں کو کچلا اور حادثے کے بعد ڈرائیور نے ٹینکر کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کی مگر اس کے تعاقب میں آنے والی پولیس نے ڈرائیور کو پکڑ کر واٹر ٹینکر تحویل میں لے لیا۔ شہر میں ٹینکروں کی زد میں لوگ کچلے جارہے ہیں مگر ان حادثات میں کمی نہیں آرہی اور حکومتی اقدامات کی سرعام خلاف ورزی ہورہی ہے کیونکہ جان بوجھ کر تیز رفتاری کرنے والوں کے سرپرست مضبوط اور بااثر ہیں جن پر مہربان سرکاری حکام بس بیان بازی کرکے ذمے داری پوری کرلیتے ہیں مگر جن کے جانی نقصان ہو رہے ہیں ان کی حکومت اور ذمے داروں کو پرواہ نہیں ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

نام میں کیا رکھا ہے

Published

on


عمران کرکٹ اسٹیڈیم۔ کیا ذہنیت ہے، کیا شرافت ہے کیا انسانیت ہے بلکہ کیا ڈھٹائی ہے۔ خلیل جبران نے لکھا ہے کہ ایک جگہ ایک پل تعمیر ہوگیا تو اس پر بادشاہ وقت کا نام لکھا گیا حالانکہ بادشاہ نے اسے کبھی دیکھا تک نہیں تھا۔اور ان گدھوں کا کہیں ذکر نہیں تھا نہ ان آدمیوں کا جو اس پل کی تعمیر میں مرگئے تھے۔

تاج محل کو شاہ جہان کا کارنامہ کہا جاتا ہے لیکن گول کنڈہ کی کانوں سے پتھر لاتے ہوئے جو لوگ کچل کچل کر مرگئے تھے۔ان کی قبروں کا تو کیا، ان قبرستانوں کا بھی کسی کو پتہ نہیں جہاں وہ مٹی ہوگئے ہیں۔مصر کے اہراموں کو ان فارعین کے ناموں سے تو موسوم کیا گیا ہے جن کے عہد میں تعمیر ہوئے لیکن دور افریقہ کے پہاڑوں سے اتنے بڑے بڑے پتھر، اس زمانے میں نکال نکال کر، کشتیوں میں لاد کر پہنچانے اور اوپر چڑھانے والوں کا، مرنے والوں کا کوئی نام ونشان تک نہیں۔ہاں البتہ یہ ذکر موجود ہے کہ ان کی تعمیر میں کام کرنے والوں نے روٹی کے ساتھ کتنا پیاز اور لہسن کھایا تھا ۔

گویا انسان پیاز و لہسن سے بھی سستا تھا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کو اجرتیں دی جاتی تھیں لیکن اجرتیں کہاں سے لائی جاتی تھیں کیونکہ وہ تو پھول بھی اپنے گلدانوں کے لیے خود نہیں توڑتے۔خیر یہ تو بے شمار انسانی المیوں میں سے صرف ایک المیہ ہے لیکن دوسروں کے کارناموں کو اتنی ڈھٹائی سے اپنے نام کرنا؟۔اس معاملے میں پشتو کی ایک کہاوت ہے لیکن وہ کچھ بے وضو ہے اس لیے دوسری کہاوت سے کام چلاتے ہیں۔تورے دے لالا وھی نوڑئی دے عبداللہ وھی۔ ترجمہ۔تلوار لالا چلائے اور لقمے عبداللہ کھائے۔یہ جس اسٹیڈیم کا ہم ذکر کررہے ہیں اس کا پہلے والا نام بھی غلط تھا کہ ان صاحب نے بھی اس کی تعمیر میں کچھ نہیں کیا تھا۔

اگر نام رکھنا ہی تھا تو اس سرزمین کے رہنے والوں کا رکھنا چاہیے جن کے خون پسینے کی کمائی اس پر خرچ ہوئی ہے۔پشاور اسٹیڈیم سے اچھا اور مبنی بر انصاف نام اور کیا ہوسکتا ہے لیکن دکھ سہے فاختہ اور انڈے کھائے کوا۔یہاں ایک اسپتال تعمیر کیا گیا تھا کہ ایوب خان نے اس کی منظوری دی تھی اور اسی کے عہد میں تعمیر ہوئی تھی لیکن افتتاح کے وقت ایک پارٹی کی حکومت تھی جسے دوسروں کے کام پر اپنے نام رکھنے کا جنون تھا۔ویسے سوچا جائے تو نام رکھنے میں اس نام والے کو کتنی رکعتوں کا ثواب ملتا ہے عذاب ہی ملتا ہوگا شاید لیکن پھر بھی ذرہ بھی نہیں شرماتے۔نام سے ہوتا کیا ہے۔اس ملک کا نام بھی تو ’’ریاست مدینہ‘‘ رکھا گیا تھا۔اور اس کے چپے چپے پر یہاں تک کہ دکانوں پر بھی مقدس نام لکھے گئے ہیں۔

ہمارے گاؤں میں ایک صاحب کو جنون ہوگیا تھا اس نے چھوٹے چھوٹے ٹین کے بورڈ لکھوائے اور ان پرمقدس نام لکھ کر گلیوں پر نصب کردیے۔ ہم نے اسے کہا، ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم نے ان پاک ہستیوں کا احترام کیا ہے یا ان کی توہین کی ہے کہ گندے بدمعاش، جھوٹے، چوروں، بے ایمانوں کے محلوں پر مقدس اور پاک ہستیوں کے نام لکھ دیے۔ ہمارے عوام کالانعام کی رگ رگ سے خون نچوڑ کر بے نظیر کے نام سے موسوم کرنے سے بیچاری بے نظیر کو کیا فائدہ ملے گا۔اسے کہتے ہیں حلوائی کی دکان پر داداجی کا فاتحہ۔ جب اس نام والے کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچا تو خوامخوا کسی حقدار سے اس کا حق چھیننا کہاں کی شرافت بلکہ انصاف ہے، البتہ تحریک انصاف ہوسکتا ہے اور ہے۔کہ یہ اسٹیڈیم کا کارنامہ تحریک انصاف کا انصاف ہے۔خیر چھوڑیے سیاسی لوگ تو ہوتے ہی نرالے ہیں، اب تھوڑی سی گپ شپ کرتے ہیں۔

یوں تو اس ملک میں ہر چھوٹی بڑی چیز پر نام رکھنے کا رواج ہے لیکن ایک چیز بلکہ تعمیر ایسی بھی ہے جس پر کوئی بھی اپنا نام رکھنے کو تیار نہیں ہوتا اور وہ چیز ہے ’’سرنگ‘‘حالانکہ ہر لحاظ سے یہ ایک بڑا کارنامہ ہوتا ہے اور مہنگا بھی۔ہمیں یاد ہے نام اور جگہ ہم نہیں بتائیں گے لیکن ہمارے اس صوبے کا واقعہ ہے کہ ملک کے وزیراعظم نے ایک بہت بڑی سرنگ کا افتتاح کیا تو کسی نے اس سرنگ کو اس وزیراعظم کی سرنگ کہا۔ اس پر وزیراعظم نے کہا نہیں۔ اس نے صوبائی وزیراعلیٰ کا نام لیا۔لیکن وزیراعلیٰ نے بھی اپنا نام اس پر نہیں رکھا اس وقت سے ہم دیکھ رہے ہیں کتنی بڑی بڑی سرنگیں زرکثیر سے تعمیر ہوتی ہیں لیکن ان پر کسی کا نام نہیں رکھا جاتا ہے، البتہ عوام اسے کسی کے نام کردیتے ہیں۔

اس پر ہم نے ایک مرتبہ ’’توجہ دلاؤ ‘‘کالم بھی لکھا تھا،کہ جہاں ایک دو اینٹیں یا پتھر رکھنے پر نام رکھے جاتے ہیں وہاں اتنی مہنگی اور محنت طلب تعمیر پر کوئی بھی نام نہیں رکھا جاتا ہے،بہت بے انصافی ہے، ان دنوں روڈ ٹوسوات یعنی موٹروے کی تعمیر ہوئی تھی جس میں کئی بڑی بڑی سرنگیں بھی تعمیر ہوئی تھیں تو ہم نے مشورہ دیا،کہ ان میں ایک وزیراعلیٰ محمودخان سرنگ کا نام رکھا جائے اور ان دنوں مراد سعید کے بھی جوانی کے دن اور امنگوں کا سن تھا، اس لیے ایک پر مراد سعید سرنگ کا نام رکھا جائے لیکن کسی نے کان نہیں دھرا۔دراصل اس میں کچھ رکاوٹ زبان کی بھی ہے کہ پشتو میں اردو کی طرح فلاں سرنگ نہیں کہا جاتا ہے بلکہ’’فلاں کی سرنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ یہ سرنگ بڑی شریر سی چیز ہے یہ خود پر کسی کا نام نہیں رکھنے دیتی بلکہ دوسروں کو اپنے نام سے موسوم کردیتی ہے۔

ہمارے گاؤں میں ایک چالاک شخص نے ایک وزیر کو جھانسہ دے کر سڑک کے نیچے اپنی دکانوں کے لیے ایک سرنگ بنوائی۔وہ ایک بہت فراخ سرنگ تھی۔چنانچہ اس کے اندر کچھ لوگوں کو اپنی دکانیں سجانے کی سوجھی۔ پہلے ایک سائیکل ساز نے اپنی دکان سجائی تو لوگوں نے اسے ’’سرنگی‘‘ کا نام دیا یہاں تک کہ اس کے نام اور سائیکل کی جگہ وہ’’سرنگی‘‘ کہلائی پھر ایک سبزی فروش نے دکان سجائی۔تو کون سبزی فروش؟وہ سرنگی۔جا سرنگی سے یہ لا سرنگی سے وہ لا۔پھر ایک چائے والا بھی آ گیا۔ جب’’سرنگی‘‘ چائے والا‘‘کہلائی تو لوگوں نے وہاں دکان سجانے سے توبہ کرلی کہ کسی کو سرنگی بننا منظور نہیں تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending