Today News
ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان سن کر خام تیل کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی عوام سے خطاب میں ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی سطح پر برطانوی معیار کا خام تیل برینٹ تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 105.55 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 3 فیصد اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں ممکنہ عسکری کارروائیوں اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے جس کا براہِ راست اثر عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کے خلاف کارروائی جاری رکھنے اور آئندہ چند ہفتوں میں مزید سخت اقدامات کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
Today News
افغان طالبان رجیم کی نااہلی؛ معیشت کےبعدسماجی ڈھانچہ بھی تباہی کے دہانے پر
طالبان رجیم کی نااہلی کے نتیجے میں افغانستان کی معیشت کےبعدسماجی ڈھانچہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔
افغان طالبان رجیم کی تمام ترتوجہ دہشتگردوں کی پشت پناہی اورخطےمیں عدم استحکام پھیلانےپرمرکوز ہے اور طالبان رجیم کی غفلت سے صحت کا نظام مفلوج ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ چکی ہیں۔
افغان میڈیا کابل ٹریبون کے مطابق افغانستان کےصوبہ بدخشاں میں طبی عملےکی گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف ہڑتال جاری ہے۔ بدخشاں کےطبی مراکزمیں ادویات اور دیگرضروری طبی سامان کی شدیدقلت پیدا ہوگئی ہے ۔
مقامی میڈیا کے مطابق حالیہ مہینوں میں کئی ملازمین کی برطرفی کے علاوہ انتظامی تبدیلیوں سے نظام صحت بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پسماندہ علاقوں کےعوام کی مشکلات میں مزیداضافہ اورصورتحال سنگین بحران کی شکل اختیار کرگئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں طبی عملےکی ہڑتال اس بات کاواضح ثبوت ہےکہ طالبان رجیم بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ افغان طالبان کی تمام تر توجہ عوامی فلاحی وبہبود کے بجائے آمرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنا غیرقانونی تسلط مضبوط کرنے پرمرکوز ہے۔
Today News
آئی پی ایل، غیر ملکی لیگز کے کرکٹ میچز پر جوا لگانے والے 2 بکی گرفتار
لاہور میں آئی پی ایل اور غیر ملکی لیگز کے کرکٹ میچز پر جوا لگانے والے 2 بکی گرفتار کرلیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق ایس پی صدر رانا حسین طاہر کا کہنا ہے کہ جوہر ٹاؤن پولیس نے کارروائی کرکے ملزمان حسیب اکبر اور محمد عرفان کو گرفتار کرلیا ہے۔
رانا حسین طاہر کا کہنا ہے کہ ملزمان نے آئی پی ایل کے جاری کرکٹ میچز پر جوا لگایا ہوا تھا۔ ان کے قبضے سے 2 موبائل فونز، 6 لیپ ٹاپ اور ہزاروں روپے سے زائد رقم بھی برآمد ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان اٹرنیشنل کرکٹ ورلڈکپ میچز پر بھی جوا لگاتے تھے۔ ملزمان مختلف موبائل ایپ اکاؤنٹس کے ذریعے گروپ جوا بھی کرواتے تھے۔
ایس پی صدر نے مزید بتایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
ایس پی صدر رانا حسین طاہر نے ایس ایچ او جوہر ٹاؤن محسن شہزاد اور پولیس ٹیم کو شاباش بھی دی۔
Today News
علی ظفر میشا شفیع کیس
گلو کار علی ظفر گلوکارہ میشا شفیع سے ہتک عزت کا دعویٰ جیت گئے ہیں۔ لاہور کی ایک عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو پچاس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ علی ظفر پر جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ یہ مقدمہ2018سے زیر سماعت تھا۔ اس طرح یہ مقدمہ آٹھ سال زیر سماعت رہا۔اس مقدمہ کی 284سماعتیں ہوئیں۔ اور ان آٹھ سالوں کے دوران نو ججز کا تبادلہ بھی ہوا۔ بیس گواہوں نے اس مقدمہ میں دونوں اطراف سے گواہی دی۔ مدعی اور مدعا علیہ نے بھی اپنے اپنے حق میں گواہی دی۔
پاکستان کے قانون کے تحت ہتک عزت کے مقدمات کا فیصلہ نوے دن میں ہونا چاہیے۔ ایسا ہتک عزت کے قانون میں لکھا ہوا ہے۔ لیکن عدالتیں اس کی نہ تو کوئی پرواہ کرتی ہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کی کوئی کوشش ہی کرتی ہیں۔ ویسے تو پاکستان کی عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔ لوگ اس سے پہلے ہی تھک جاتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ جب سالہا سال مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوتا تو لوگ تھک ہار جاتے ہیں۔ ملزمان کو بچ جانے کا موقع ملتا ہے اور سچ ڈوب جاتا ہے۔
ہتک عزت کے مقدمات کسی بھی معاشرہ میں سچ کی بالادستی کے لیے بہت اہم ہیں۔ جب کوئی آپ پر جھوٹا الزام لگائے تو آپ کے پاس ہتک عزت کے سوا کوئی اور قانونی راستہ نہیں ہے۔ ہتک عزت کے مقدمات ہی معاشرہ میں سچ کی بالادستی قائم رکھتے ہیں اور جھوٹ کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے کئی ہتک عزت کے معاملات کا لندن میں فیصلہ ہوا۔ برطانیہ کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ وہاں ان مقدمات کا بہت جلد فیصلہ ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے بھی ہتک عزت کے مقدمات لندن میں طے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات میں مثالی جرمانے کرتی ہیں۔ یہ جرمانے معاشرے میں جھوٹ کو روکنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ جرمانے مثالی اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ ان جرمانوں کو دیکھ کر ڈر جائیں اور ہتک عزت نہ کریں۔ یہ کسی کی عزت کی قیمت نہیں ہوتے۔ یہ قانون کا خوف قائم کرنے کے لیے ہوتے ہیں‘ جھوٹے کو نشان عبرت بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے دنیا بھر کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات میں مثالی اور بڑے بڑے جرمانے کرتی ہیں۔ جھوٹے سے کوئی رعائت نہیںکی جاتی۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو پچاس لاکھ جرمانہ بہت کم ہے۔ یہ لوگوں کو ہتک عزت سے ڈرانے کے لیے ناکافی ہے۔ بلکہ اس سے تو یہ سوچ بنے گی کہ کوئی بات نہیں پہلے تو مقدمہ آٹھ دس سال چلے گا، پھر اگر فیصلہ ہوبھی گیا تو کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ پچاس لاکھ جرمانہ ہوگا، وہ دے دیں گے ، کونسی بڑی رقم ہے۔ اس لیے میں اس کو ایک کمزور فیصلے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ میری رائے میں جرمانے کی رقم بہت کم ہے۔ آج کل پچاس لاکھ کی کیا اوقات ہے ایک گاڑی نہیں آتی، دو مرلے کا گھر نہیں آتا پھر جن دو اسٹارز کے درمیان کیس تھا، وہ ایک پرفارمنس کے اس سے زیادہ پیسے لیتے ہیں۔ یہ ان کی ایک دن کی کمائی بھی نہیں۔ مجھے نہیں اندازہ جرمانے کی رقم کا تعین کیسے کیا گیا ہے‘ لیکن بہرحال یہ بہت کم لگتا ہے، یہ رقم ہتک عزت کے قانون کے بنیادی فلسفہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ویسے تو جنسی ہراسگی کے حوالے سے می ٹو کی حامی خواتین کا موقف ہے کہ اس میں عدالت کو ثبوت مانگنے ہی نہیں چاہیے۔ خاتون کا کہہ دینا ہی کافی ہے لیکن قانون اس بات کو نہیں مانتا۔ قانون ثبوت مانگتا ہے۔ یہ منطق انصاف کے کسی بھی اصول سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ محض الزام کو سچ مان لیا جائے اور اس کو ثابت کرنے کا نہ کہا جائے۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ جنسی ہراسگی کی کئی شکلیں ہیں۔ ان کے ثبوت ہونا مشکل ہے۔ کئی بار کوئی گواہ نہیں ہوتا، کئی بار کوئی ثبوت نہیں ہوتا لیکن الزام سچائی پر مبنی ہوتا لیکن کیا کریں قانون پھر بھی ثبوت مانگتا ہے۔
پاکستان کی عدالتوں میں ہتک عزت کے کئی بڑے مقدمات آئے ہیں لیکن ان کے فیصلے نہیں ہو سکے ہیں۔ آج کل وزیر اعظم شہباز شریف اور بانی تحریک انصاف عمران خان کے درمیان بھی ہتک عزت کا ایک مقدمہ چل رہا ہے۔ اس مقدمہ میں بانی تحریک انصاف نے ریکارڈ تاخیری حربے استعمال کیے ہیں۔ چار سال بعد تو انھوں نے جواب جمع کروایا۔ پھر ان تاخیری حربوں کی وجہ سے عدالت نے حق دفاع ختم کیا۔ یہ مقدمہ آج بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہے، دس سال ہوگئے ہیں۔ لیکن فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ یہ حقیقت نظام انصاف کی کوئی اچھی شکل نہیں ہے۔ جب بانی تحریک انصاف نے نجم سیٹھی پر 35پنکچر کا الزام لگایا تو انھوں نے بھی ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ جس کا آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
ہتک عزت کے اکثر مقدمات فیصلے تک نہیں پہنچتے۔ لیکن جو چند مقدمات فیصلے تک پہنچے ہیں، ان میں بھی جرمانے بہت کم ہوئے ہیں۔ آپ کیس اسٹڈی کریں تو ایک کروڑ سے اوپر کوئی جرمانہ نہیں ملے گا۔ لگتا ہے جج صاحب جرمانہ کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے خود اپنی جیب سے دینے ہیں یا سرکاری خزانہ سے جانے ہیں۔ بہر حال اس قدر مشکل عدالتی نظام سے مقدمہ جیتنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اگر علی ظفر کیس کی مثال سامنے رکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ چلیں کسی ایک مقدمے کا فیصلہ تو ہواہے۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The cost of peer pressure – Newspaper
-
Today News1 week ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News1 week ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے