Today News
ٹینکر مافیا بے لگام کب تک؟
کراچی میں حادثات روز کا معمول اور روزانہ ہی سات اضلاع پر مشتمل کراچی میں مختلف ٹریفک حادثات کی خبریں میڈیا پر آتی ہیں مگر حادثات کم نہیں ہورہے۔ کراچی میں ٹینکر اور کنٹینرز مافیا بے حد مضبوط اور بااثر ہے، جس پر قابو پانے میں کراچی ٹریفک پولیس ناکام اور مافیاز کے آگے بے بس ہے جس کی ایک بڑی وجہ رشوت کے علاوہ پولیس افسروں کی اپنی گاڑیاں، ٹینکر، ٹرک، کنٹینر اور پبلک ٹرانسپورٹ ہے اور غیر مقامی با اثر ٹرانسپورٹرز بھی ہیں۔
حکومت آئے دن ٹینکر مافیا، واٹر ٹینکروں اور ہیوی گاڑیوں اور کنٹینروں کے لیے شہر میں داخلے کے اوقات مقرر کرتی ہے جو عمل نہیں محض دکھاوے کے لیے ہوتے ہیں جن پر با اثر ان کے مالکان عمل نہیں ہونے دیتے اور ٹریفک پولیس ان پابندیوں پر عمل کرانے کی بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں سال رواں کے تقریباً ڈھائی ماہ میں 151افراد صرف ٹینکروں کی زد میں آکر اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ بعض افراد تو اس بری طرح کچلے جاتے ہیں کہ ان کی شناخت بھی ممکن نہیں ہوتی اور ان کی لاشیں دیکھ کر دل دہل جاتا ہے یہ لاشیں اٹھانے نہیں بلکہ سمیٹیں جانے کے قابل ہوتی ہیں۔
اس سلسلے میں شرمناک بات تو یہ ہے کہ لوگوں کو کچلنے والے ان تیز رفتار ٹینکروں کے ڈرائیور اپنے ٹینکر چھوڑ کر رش میں فرار ہوجاتے ہیں جو بھاگ نہیں پاتے اور عوام کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں تو عوام کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں جنھیں بچانے کے لیے پولیس جلد موقع پر پہنچ جاتی ہے۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد حادثہ کرنے والے ٹینکر کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں جو ٹینکر جلنے سے بچ جاتے ہیں وہ علاقہ پولیس اپنے کنٹرول میں لے لیتی ہے مگر چند گھنٹوں بعد حادثہ کرنے والا ٹینکر سفارش اور رشوت پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور اعتراض کرنے والوں کو کہا جاتا ہے کہ جب ضرورت ہوگی وہ پیش کردیا جائے گا۔
کسی بھی حادثے کی ذمے دار گاڑی کو پولیس اپنی تحویل میں لے کر عدالت میں پیش کرنے کی قانونی طور پر پابند ہے مگر ٹینکر و کنٹینر مافیا اس قدر طاقتور ہے کہ وہ حادثے میں ملوث اپنی کسی گاڑی کو چند گھنٹوں کے لیے بھی پولیس تحویل میں نہیں رہنے دیتی اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے تھانوں سے چھڑا لیتی ہے اور دوسرے ڈرائیور کو یہ گاڑی دے کر اسے شہریوں کو مزید کچلنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے اور اگر مذکورہ ٹینکر کا ڈرائیور پولیس یا عوام نے پکڑا ہو تو اسے ضمانت پر چھڑا لیتی ہے یا بھاگے ہوئے اپنے ڈرائیور کو گرفتاری سے بچانے کے لیے عدالتوں سے ضمانت کرالیتی ہے کیونکہ اس ڈرائیور کا یہ جرم قابل ضمانت شمار ہوتا ہے جو اتفاقی حادثہ کہلاتا ہے اور ڈرائیور پر قتل کی دفعہ 302 نہیں لگتی اور ڈرائیوروں کو عدالتوں سے اتنا بڑا قانونی ریلیف مل جاتا ہے کہ وہ بے گناہوں کی زندگی ختم کرنے کو جرم ہی نہیں سمجھتا اور رہا بھی جلد ہوجاتا ہے۔
شہر کی عام شاہراؤں پر تو مختلف واٹر ٹینکر، بجری، ریت کے ٹرک اور سامان کی ترسیل کرنے والے ٹرالر، کنٹینر اور ہیوی گاڑیاں تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتی ہی ہیں مگر جن شاہراؤں پر تعمیری و ترقیاتی کام ہورہے ہیں ان تنگ شاہراؤں پر بھی ان گاڑیوں کے ڈرائیور احتیاط کرتے ہیں نا مناسب اسپیڈ میں گاڑی چلاتے ہیں اور اسپیڈ کم نہیں رکھتے جس کی مثال سالوں سے زیر تعمیر یونیورسٹی روڈ ہے جہاں تیز چلائے جانے والی گاڑیوں سے دیگر گاڑی والوں کو اور خصوصاً موٹر سائیکل والوں کو خود ہی محفوظ رہنے کے لیے بچنا پڑتا ہے کیونکہ انھیں بچانا بے حس، انسانیت سے عاری اور نشئی ڈرائیور اپنی ذمے داری نہیں سمجھتے۔ اگر ایسے ڈرائیوروں پر اتفاقی حادثے کی بجائے قتل عمد کے مقدمے درج ہوں اور انھیں کڑی سزا کا خوف ہو تو وہ احتیاط پر مجبور ہوں گے وگرنا یہ قتل عام جاری رہے گا۔
کوئی دن بمشکل ہی ایسا گزرتا ہے کہ ان ٹینکروں کی زد میں آنے سے شہری اور راہگیر اور بائیک سوار محفوظ رہے ہوں۔ ٹینکرز کے تیز رفتار ڈرائیوروں کی وجہ سے عام گاڑیوں والوں کے برعکس بائیک سواروں کا جانی نقصان زیادہ ہورہا ہے اور وہ ہی تیز رفتار ٹینکروں کی زد میں آکر کچلے جاتے ہیں اور ان کے تیز رفتار ڈرائیوروں سے بے قابو ہوجانے والے ٹینکرز سے حادثے ہوتے ہیں۔
موٹر سائیکل سوار تو جلد بازی کرتے ہی ہیں مگر تیز رفتار واٹر ٹینکر، آئل ٹینکر، ریتی بجری والے ٹینکرز ڈرائیوروں کو بھی اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے اور وہ رش والی سڑکوں پر بھی احتیاط نہیں برتتے اور ٹینکرز ان سے بے قابو ہوکر لوگوںکو کچل رہے ہیں۔
ٹینکروں کی تیز رفتاری کا یہ حال ہے کہ کنواری کالونی کراچی میں سڑک کنارے کھڑے ٹینکر سے پیچھے سے آنے والا آئل ٹینکر ٹکرا جاتا ہے اور منگھوپیر میں دو افراد تیز رفتار ٹینکر کی زد میں کچلے جاتے ہیں اور حادثے کے بعد دونوں ٹینکرز کے ڈرائیور فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں اور حادثات دیکھنے والے افراد ذمے دار ڈرائیوروں کی بجائے ٹینکرز کی زد میں آنے والوں پر فوری توجہ دے کر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بے حس ڈرائیوروں کو فرار کا موقع مل جاتا ہے۔
حال ہی میں صفورا میں واٹر ٹینکر نے دو بائیک سواروں کو کچلا اور حادثے کے بعد ڈرائیور نے ٹینکر کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کی مگر اس کے تعاقب میں آنے والی پولیس نے ڈرائیور کو پکڑ کر واٹر ٹینکر تحویل میں لے لیا۔ شہر میں ٹینکروں کی زد میں لوگ کچلے جارہے ہیں مگر ان حادثات میں کمی نہیں آرہی اور حکومتی اقدامات کی سرعام خلاف ورزی ہورہی ہے کیونکہ جان بوجھ کر تیز رفتاری کرنے والوں کے سرپرست مضبوط اور بااثر ہیں جن پر مہربان سرکاری حکام بس بیان بازی کرکے ذمے داری پوری کرلیتے ہیں مگر جن کے جانی نقصان ہو رہے ہیں ان کی حکومت اور ذمے داروں کو پرواہ نہیں ہے۔
Today News
صحافی مطیع اللہ جان کے کیس میں منشیات فرانزک رپورٹ گم ہونے پر عدالت برہم
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس سے مطیع اللہ جان منشیات فرانزک رپورٹ گم ہونے کے معاملے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کیوں نہیں کی؟
جج طاہر عباس سپرا نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ مطیع اللہ جان کی منشیات فرانزک رپورٹ گم ہوگئی، جس پر عدالت نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے آج عدالت میں رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔
وکیل بیرسٹر احد کھوکھر نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا ہے۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے فرد جرم سے روکا ہے لیکن پولیس کی رپورٹ گم ہونے پر تحقیقات سے تو نہیں روکا، فرانزک رپورٹ گم ہونے پر پولیس نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کیوں نہیں کی۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش نا کی یا خود ایس پی پیش نا ہوئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کروں گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی۔
Source link
Today News
نیپرا کا سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی پر کروڑوں روپے جرمانہ
نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کارروائی کرتے ہوئے سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
جرمانہ جنوری 2024 میں بھاری فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے عائد کیا گیا۔
نیپرا فیصلے میں کہا گیا کہ جنوری 2024 میں اوسط فیول لاگت 14روپے 60 پیسے فی یونٹ رہی، فیول لاگت کے تخمینے کا ہدف 7 روپے 49 پیسے فی یونٹ مقرر تھا، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت 7 روپے 13 پیسے فی یونٹ اضافہ مانگا گیا تھا۔
جنوری 2024 کے ایف سی اے کے تحت فی یونٹ بجلی 7 روپے 5 پیسے مہنگی کی گئی تھی، نیپرا نے اس بھاری اضافے کی وجوہات پر تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا۔
فیصلے کے مطابق جنوری 2024 میں سستی بجلی کی بجائے فرنس آئل اور ڈیزل پر مہنگی بجلی بنائی گئی جبکہ ایل این جی اور نیوکلئر پاور پلانٹس سے سستی بجلی کم پیدا کی گئی۔ ڈیزل اور فرنس آئل سے 31ارب 23 کروڑ روپے کی بجلی پیدا کی گئی۔
سی پی پی اے نیپرا اتھارٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی لہٰذا سی پی پی اے کو ایک کروڑ روپے جرمانہ اور نیشنل گرڈ کمپنی کو 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔ نیشنل گرڈ کمپنی جنوب سے شمال کی طرف بجلی ترسیلی نظام بروقت بنانے میں ناکام رہی۔ ترسیلی نظام کی عدم دستیابی کے باعث مقامی کوئلے سے سستی بجلی استعمال میں نہ لائی جا سکی۔
سی پی پی اے اور نیشنل گرڈ کمپنی جرمانہ 15 روز میں نامزد بینک میں جمع کرائیں۔
Source link
Today News
امریکا نے وینزویلا کی عبوری صدر پر عائد پابندیاں ختم کردیں
امریکا نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز پر عائد پابندیاں ختم کردی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سابق نائب صدر اور مادورو کی اتحادی اور عبوری صدر ڈیلسی کی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے کیے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی توانائی اور داخلہ سیکریٹریوں کو ممکنہ سرمایہ کاروں کے ساتھ کراکس کے دوروں پر بھیجا جہاں امریکا کے لیے وینزویلا سے تیل فروخت کرنے کا معاہدہ کیا گیا جبکہ تیل اور کان کنی کے شعبوں میں تبدیلیوں پر بات چیت ہوئی جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا۔
واضح رہے کہ مارچ میں امریکا نے ڈیلسی کو وینزویلا کے رہنما کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کیا، جس سے اُن کی حکومت کے لیے امریکا میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور بیرون ملک وینزویلا کی ملکیت والی کمپنیوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنا ممکن ہوا۔
ڈیلسی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور مضبوط کرنے کی سمت میں ایک قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ پیش رفت ہمارے ملک کی جدید طرز پر تعمیر کو قابل بنائے گی اور ہمارے لوگوں کے فائدے کے لیے دوطرفہ تعاون کے موثر ایجنڈے کی ضمانت دے گی۔
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The cost of peer pressure – Newspaper
-
Today News1 week ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Today News1 week ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا