Today News
علی ظفر میشا شفیع کیس
گلو کار علی ظفر گلوکارہ میشا شفیع سے ہتک عزت کا دعویٰ جیت گئے ہیں۔ لاہور کی ایک عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو پچاس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ علی ظفر پر جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں ۔ یہ مقدمہ2018سے زیر سماعت تھا۔ اس طرح یہ مقدمہ آٹھ سال زیر سماعت رہا۔اس مقدمہ کی 284سماعتیں ہوئیں۔ اور ان آٹھ سالوں کے دوران نو ججز کا تبادلہ بھی ہوا۔ بیس گواہوں نے اس مقدمہ میں دونوں اطراف سے گواہی دی۔ مدعی اور مدعا علیہ نے بھی اپنے اپنے حق میں گواہی دی۔
پاکستان کے قانون کے تحت ہتک عزت کے مقدمات کا فیصلہ نوے دن میں ہونا چاہیے۔ ایسا ہتک عزت کے قانون میں لکھا ہوا ہے۔ لیکن عدالتیں اس کی نہ تو کوئی پرواہ کرتی ہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کی کوئی کوشش ہی کرتی ہیں۔ ویسے تو پاکستان کی عدالتوں میں ہتک عزت کے مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔ لوگ اس سے پہلے ہی تھک جاتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ جب سالہا سال مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوتا تو لوگ تھک ہار جاتے ہیں۔ ملزمان کو بچ جانے کا موقع ملتا ہے اور سچ ڈوب جاتا ہے۔
ہتک عزت کے مقدمات کسی بھی معاشرہ میں سچ کی بالادستی کے لیے بہت اہم ہیں۔ جب کوئی آپ پر جھوٹا الزام لگائے تو آپ کے پاس ہتک عزت کے سوا کوئی اور قانونی راستہ نہیں ہے۔ ہتک عزت کے مقدمات ہی معاشرہ میں سچ کی بالادستی قائم رکھتے ہیں اور جھوٹ کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے کئی ہتک عزت کے معاملات کا لندن میں فیصلہ ہوا۔ برطانیہ کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات کو بہت سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ وہاں ان مقدمات کا بہت جلد فیصلہ ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے بھی ہتک عزت کے مقدمات لندن میں طے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات میں مثالی جرمانے کرتی ہیں۔ یہ جرمانے معاشرے میں جھوٹ کو روکنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ جرمانے مثالی اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ ان جرمانوں کو دیکھ کر ڈر جائیں اور ہتک عزت نہ کریں۔ یہ کسی کی عزت کی قیمت نہیں ہوتے۔ یہ قانون کا خوف قائم کرنے کے لیے ہوتے ہیں‘ جھوٹے کو نشان عبرت بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے دنیا بھر کی عدالتیں ہتک عزت کے مقدمات میں مثالی اور بڑے بڑے جرمانے کرتی ہیں۔ جھوٹے سے کوئی رعائت نہیںکی جاتی۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو پچاس لاکھ جرمانہ بہت کم ہے۔ یہ لوگوں کو ہتک عزت سے ڈرانے کے لیے ناکافی ہے۔ بلکہ اس سے تو یہ سوچ بنے گی کہ کوئی بات نہیں پہلے تو مقدمہ آٹھ دس سال چلے گا، پھر اگر فیصلہ ہوبھی گیا تو کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ پچاس لاکھ جرمانہ ہوگا، وہ دے دیں گے ، کونسی بڑی رقم ہے۔ اس لیے میں اس کو ایک کمزور فیصلے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ میری رائے میں جرمانے کی رقم بہت کم ہے۔ آج کل پچاس لاکھ کی کیا اوقات ہے ایک گاڑی نہیں آتی، دو مرلے کا گھر نہیں آتا پھر جن دو اسٹارز کے درمیان کیس تھا، وہ ایک پرفارمنس کے اس سے زیادہ پیسے لیتے ہیں۔ یہ ان کی ایک دن کی کمائی بھی نہیں۔ مجھے نہیں اندازہ جرمانے کی رقم کا تعین کیسے کیا گیا ہے‘ لیکن بہرحال یہ بہت کم لگتا ہے، یہ رقم ہتک عزت کے قانون کے بنیادی فلسفہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ویسے تو جنسی ہراسگی کے حوالے سے می ٹو کی حامی خواتین کا موقف ہے کہ اس میں عدالت کو ثبوت مانگنے ہی نہیں چاہیے۔ خاتون کا کہہ دینا ہی کافی ہے لیکن قانون اس بات کو نہیں مانتا۔ قانون ثبوت مانگتا ہے۔ یہ منطق انصاف کے کسی بھی اصول سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ محض الزام کو سچ مان لیا جائے اور اس کو ثابت کرنے کا نہ کہا جائے۔ دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ جنسی ہراسگی کی کئی شکلیں ہیں۔ ان کے ثبوت ہونا مشکل ہے۔ کئی بار کوئی گواہ نہیں ہوتا، کئی بار کوئی ثبوت نہیں ہوتا لیکن الزام سچائی پر مبنی ہوتا لیکن کیا کریں قانون پھر بھی ثبوت مانگتا ہے۔
پاکستان کی عدالتوں میں ہتک عزت کے کئی بڑے مقدمات آئے ہیں لیکن ان کے فیصلے نہیں ہو سکے ہیں۔ آج کل وزیر اعظم شہباز شریف اور بانی تحریک انصاف عمران خان کے درمیان بھی ہتک عزت کا ایک مقدمہ چل رہا ہے۔ اس مقدمہ میں بانی تحریک انصاف نے ریکارڈ تاخیری حربے استعمال کیے ہیں۔ چار سال بعد تو انھوں نے جواب جمع کروایا۔ پھر ان تاخیری حربوں کی وجہ سے عدالت نے حق دفاع ختم کیا۔ یہ مقدمہ آج بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہے، دس سال ہوگئے ہیں۔ لیکن فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ یہ حقیقت نظام انصاف کی کوئی اچھی شکل نہیں ہے۔ جب بانی تحریک انصاف نے نجم سیٹھی پر 35پنکچر کا الزام لگایا تو انھوں نے بھی ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ جس کا آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
ہتک عزت کے اکثر مقدمات فیصلے تک نہیں پہنچتے۔ لیکن جو چند مقدمات فیصلے تک پہنچے ہیں، ان میں بھی جرمانے بہت کم ہوئے ہیں۔ آپ کیس اسٹڈی کریں تو ایک کروڑ سے اوپر کوئی جرمانہ نہیں ملے گا۔ لگتا ہے جج صاحب جرمانہ کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے خود اپنی جیب سے دینے ہیں یا سرکاری خزانہ سے جانے ہیں۔ بہر حال اس قدر مشکل عدالتی نظام سے مقدمہ جیتنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ اگر علی ظفر کیس کی مثال سامنے رکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ چلیں کسی ایک مقدمے کا فیصلہ تو ہواہے۔
Today News
پاکستان کی توانائی اصلاحات پر تعاون کی درخواست؛ ورلڈ بینک کا مثبت جواب
اسلام آباد:
پاکستان کی جانب سے توانائی اصلاحات پر تعاون کی درخواست کے جواب میں ورلڈ بینک کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری کی ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر سے اہم ملاقات ہوئی جس میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اویس لغاری نے توانائی اصلاحات کے حوالے سے ورلڈ بینک سے تعاون کی درخواست کی جبکہ ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کے توانائی اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور ترسیل و تقسیم کے نظام میں بہتری کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ملاقات کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کی طلب میں اضافہ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے ۔ حکومت بجلی کے ٹیرف کو مسابقتی بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی شعبے کے لیے رعایتی ٹیرف کا جائزہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ مزید اقدامات بھی جاری ہیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ ٹائم آف یوز ٹیرف متعارف کرانے پر کام جاری ہے ۔ اسی طرح شمسی توانائی کے وسیع استعمال کے لیے بھی حکومتی منصوبہ زیر غور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے مشاورت کی جا رہی ہے جبکہ مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی توانائی پر انحصار کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر پاور ڈویژن کی جانب سے کہا گیا کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
Today News
خیبر پختونخوا میں شدید بارشیں، گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے جاں بحق افراد کی تعداد 25 ہوگئی
خیبر پختون خوا میں ہونے والی بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے اب تک 25 افراد جاں بحق جبکہ 77 افراد زخمی ہوگئے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے 25 مارچ سے اب تک ہونے والی بارشوں کے باعث صوبہ کے مختلف اضلاع میں جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 18 بچے، 2 مرد اور 5 خواتین جبکہ زخمیوں میں 33 مرد، 9 خواتین اور 35 بچے شامل ہیں۔ بارشوں کے باعث اب تک کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 88 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 71 گھروں کو جزوی جبکہ 17 گھر مکمل طور پر منہدم ہوئے۔
یہ حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت ،کرم، ہنھگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر ،باجوڑ، بٹگرام اور شمالی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ڈی ایم اے۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد امدادی سامان فراہم کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بنوں کی انتظامیہ کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو امداد جلد از جلد فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
ہی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ صوبہ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ یہ بارشوں کا نیا سلسلہ یکم اپریل سے 4 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
عوام سےاپیل کی جاتی ہے کے بلا وجہ سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔
Source link
Today News
صحافی مطیع اللہ جان کے کیس میں منشیات فرانزک رپورٹ گم ہونے پر عدالت برہم
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس سے مطیع اللہ جان منشیات فرانزک رپورٹ گم ہونے کے معاملے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کیوں نہیں کی؟
جج طاہر عباس سپرا نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ مطیع اللہ جان کی منشیات فرانزک رپورٹ گم ہوگئی، جس پر عدالت نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے آج عدالت میں رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔
وکیل بیرسٹر احد کھوکھر نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا ہے۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے فرد جرم سے روکا ہے لیکن پولیس کی رپورٹ گم ہونے پر تحقیقات سے تو نہیں روکا، فرانزک رپورٹ گم ہونے پر پولیس نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کیوں نہیں کی۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش نا کی یا خود ایس پی پیش نا ہوئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کروں گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
STREAMING: BUILT FOR ACTION – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Buttler ready to continue England career despite ‘poor’ T20 World Cup – Sport
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Turning grief into purpose – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The woman in the red dress – Newspaper
-
Today News2 weeks ago
رمضان، عید اور پٹرول بم
-
Today News1 week ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Today News1 week ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The cost of peer pressure – Newspaper