Connect with us

Today News

ایران کے بغداد، اردن میں امریکی بیسز پر حملے، لاجسٹک سینٹر اور جنگی طیارہ نشانہ بنانے کا دعویٰ

Published

on



ایران نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی لاجسٹک سینٹر اور اردن میں قائم بیس میں جنگی طیارے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ بغداد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر امریکی سفارتی اور لاجسٹک سینٹر پر ڈرون حملہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاجسٹک سینٹر پر دو ڈرون گرے، جس کے نتیجے میں آگ لگی لیکن کسی کے زخمی ہونے کی رپورٹ نہیں ہے جبکہ ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک اور ڈرون کو مار گرایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپلیکس میں عراقی فوجی بیس کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کی تنصیابات بھی قائم ہیں۔

ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا کہ اردن میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں امریکی بیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں جنگی طیارہ نشانہ بنا۔

ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مشرقی اردن میں واقع الازرق ایئر بیس میں ایک امریکی فوجی اڈے پر امریکی لڑاکا طیاروں پر ڈرون حملہ کیا گیا، جو امریکہ کا ایک اہم فوجی مرکز ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس فوجی گیس میں جدید تنصیبات اور بڑی تعداد میں عملہ موجود ہوتا ہے، جس کے باعث یہ مغربی ایشیا میں امریکے کے سب سے اہم اسٹریٹیجک فوجی مقامات میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

ایرانی فوج نے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے بہادر سپاہیوں نے اردن کے الازرق بیس پر تعینات امریکا کی دہشت گرد فوج کے جدید لڑاکا طیاروں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔

مزید بتایا گیا کہ الازرق بیس خطے میں امریکا کی فضائی قوت کو مربوط کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، جس میں جدید جنگی طیاروں اور ڈرون مشنز کا استعمال شامل ہے جو ایران اور اس کے اتحادی مزاحمتی گروپس کو نشانہ بناتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ دشمن کی فضائی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایرانی فوج نے گزشتہ ہفتے بھی الازرق ایئر بیس پر ڈرون حملہ کیا تھا، جس میں لاجسٹک گوداموں، اسلحے کے ذخیرے کا مراکز اور امریکی فوجیوں کے زیر استعمال رہائشی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب نے بحرین میں ایمیزون کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز پر حملہ کیا گیا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ایران معاہدہ کرے اس سے قبل کہ تاخیر ہوجائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو معاہدہ کرنے کا وقت آگیا ہے اس سے پہلے کہ زیادہ دیر ہوجائے اور اب اس میں کچھ باقی نہیں رہا جو کبھی ایک عظیم ملک بن سکتا تھا۔

امریکی صدر نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں ایران کے دو شہر تہران اور کاراج کو ملانے والے پل کو تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے اور لکھا کہ مزید تباہی آنے والی ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دوسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو 3.9 فیصد تک پہنچ گئی

Published

on



اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.9 فیصد رہی، جو تینوں بڑے شعبوں کی کارکردگی کے باعث قومی پیداوار میں معقول اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

تاہم مرکزی بینک نے نیشنل اکائونٹس کمیٹی (این اے سی) کے اجلاس کے دوران فصلوں، خصوصاً گندم کی اصل پیداوار کے اعدادوشمار کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے۔

اسی اجلاس میں ان اعدادوشمار کی منظوری دی گئی۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں معیشت کی شرح نمو 3.89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

تاہم پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی شرح نمو میں کمی آئی، جبکہ خدمات کے شعبے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔زرعی شعبہ 1.8 فیصد کی شرح سے بڑھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہے۔

صنعتی شعبے کی شرح نمو 7.4 فیصد رہی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8.9 فیصد تھی۔اس کے برعکس، خدمات کے شعبے نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں بہتر ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ’’بلا روزگار ترقی‘‘ (Jobless Growth) پر تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ترقی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔

پلاننگ کمیشن کے تازہ ترین ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی ہے، جو گزشتہ 11 برس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ بے روزگاری 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 21 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

پلاننگ کمیشن کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات بھی 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔این اے سی نے نوٹ کیا کہ سیلاب کے اثرات کے باعث کپاس کی پیداوار میں کمی آئی، جبکہ اہم فصلوں کی پیداوار دوسری سہ ماہی میں 1.87 فیصد کم ہوئی۔

سبز چارے میں کمی کے باعث دیگر فصلوں کی پیداوار میں 5.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اجلاس کے دوران مرکزی بینک کے نمائندے نے زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کے دعووں پر وضاحت طلب کی۔

گندم کی پیداوار کے حوالے سے بار بار سوالات اٹھائے گئے، تاہم پی بی ایس نے اس بارے میں کوئی حتمی اعدادوشمار فراہم نہیں کیے۔چیف اسٹیٹسٹیشن نے وضاحت کی کہ ملک کے کئی حصوں میں ابھی فصل کی کٹائی شروع نہیں ہوئی، اس لیے اصل پیداوار کا تعین ممکن نہیں۔

تاہم گندم کی کاشت میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ممکنہ پیداوار میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے۔حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی حکام نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کیا ہے کہ شرح نمو 4 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیاد آٹو موبائل، تعمیرات اور گارمنٹس کے شعبوں میں جاری سرگرمیاں ہیں۔

این اے سی کے مطابق مویشیوں کے شعبے میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 3.8 فیصد اور 0.8 فیصد رہی۔

بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں 5.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ آٹو موبائل، ٹرانسپورٹ آلات اور پیٹرولیم مصنوعات کی بہتر کارکردگی ہے۔

بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 15.11 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سبسڈیز میں اضافہ اور ڈیفلیٹر میں کمی ہے۔ تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو 10.53 فیصد رہی، جس کی وجہ تعمیراتی اشیا کی پیداوار میں اضافہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ، اعلان صوبے کریں گے

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔  

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پیدا ہنگامی حالات میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے کفایت شعاری اقدامات کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا،کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور بازار رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لے کر کیا گیا اور اس کا اعلان بھی صوبے خود کریں گے۔ 

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت خطے کی صورتحال اور پٹرول بحران پر اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا ، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔

اس موقع پر کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات پر بریفنگ دی گئی، اسحاق ڈار نے دورہ چین پر بریفنگ دی اور ایران امریکہ مذاکرات پر ثالثی کوششوں سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں خطے میں جنگ کے باعث معاشی مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور ملکر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے، کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے، زرعی شعبے، پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی مہنگائی سے کم سے کم متاثر ہو، پاکستان جنگ بندی کیلئے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اللہ کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔  

وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے، چند دنوں میں اس پر بھی پیشرفت ہو گی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں55 روپے کا اضافہ محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلئے بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اسکو برداشت کیا، اجتماعی اور بھرپور کاوشوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے۔ 

صدرآصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے بھی شکرگزار ہیں، وفاقی حکومت نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھایا، پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی اور تمام اخراجات وفاق نے برداشت کئے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر تعاون کریں، کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری، وزراء اعلیٰ اور ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہیں۔
 





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی افواج میں ہلچل مچ گئی، آرمی چیف آف اسٹاف جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

Published

on



واشنگٹن:

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو عہدہ چھوڑنے اور فوری ریٹائرمنٹ لینے کی ہدایت کی ہے جس سے امریکی فوجی قیادت میں ہلچل مچ گئی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پیٹ ہیگسیٹھ ایسے شخص کو اس اہم عہدے پر لانا چاہتے ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی دفاعی پالیسی کے وژن کو مکمل طور پر نافذ کر سکے۔

ایک سینئر دفاعی عہدیدار نے بتایا کہ جنرل جارج کی خدمات قابلِ قدر ہیں، تاہم اب فوج میں قیادت کی تبدیلی کا وقت آ چکا تھا۔

جنرل رینڈی جارج ایک تجربہ کار انفنٹری افسر رہے ہیں اور یو ایس ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں۔

انہوں نے پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں خدمات انجام دیں، جبکہ انہیں 2023 میں سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور ان کی مدت 2027 تک متوقع تھی۔

رپورٹ کے مطابق آرمی کے موجودہ وائس چیف آف اسٹاف جنرل کرسٹوفر لانیو کو عبوری طور پر نیا چیف مقرر کیا جا رہا ہے۔

ترجمان پینٹاگون سین پارنیل نے انہیں ایک تجربہ کار اور قابلِ اعتماد رہنما قرار دیا ہے جو موجودہ انتظامیہ کے وژن کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیٹ ہیگسیٹھ پہلے ہی درجنوں سینئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جن میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین سی کیو براؤن، نیول آپریشنز کی سربراہ لزا فرانچیٹی اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق جنرل جارج کو ہٹانے کا فیصلہ حالیہ ہیلی کاپٹر واقعے سے متعلق نہیں بلکہ وسیع تر قیادت کی تبدیلی کی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکی فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending