Connect with us

Today News

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

Published

on


ابھی پنجاب حکومت کے جہاز کی خبر کا معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ یہ خبر آئی کہ سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی کے لیے مہنگی بم پروف گاڑی خرید لی گئی ہے۔ ماشاء اﷲ ! جو حالات چل رہے ہیں، ان میں اگر چئیرمین صاحب کی حفاظت کے لیے بم پروف گاڑی کی ضرورت تھی تو کسی سرمایہ دار کی بلٹ پروف گاڑی کچھ وقت کے لیے  تحفتاً لے کر کام چلایا جاسکتا تھا یا پھر وہ اپنے پاس سے خرید سکتے تھے۔ ایک جانب وزیراعظم کی سادگی کی اپیل اور دوسری طرف اتنی مہنگی گاڑی؟

سوال یہ ہے کہ زبانی کلامی سادگی کی تلقین اور حقیقت میں اقربا پروری، پھر یہ بات لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ کیا بم پروف گاڑی زندگی کی ضمانت ہے ؟ لوگ جب مسند اقتدار پر قابض ہوتے ہیں تو یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو ۔ ایک طرف حکومت سادگی اپنانے پر زور دے رہی ہے دوسری طرف مہنگی گاڑیاں خریدلی گئی ہیں ! غریب قوم اس رویہ پر ماتم ضرور کرے گی۔ پاکستان میں کوئی عام آدمی یعنی متوسط تعلیم یافتہ انسان کبھی حکومت میں نہیں آسکتا ، جاگیردار، وڈیرے ، سرمایہ دار، خان اور سردار ہی حکومت کرسکتے ہیں انھیں اسٹیبلشمنٹ کا سہارا بھی درکار ہوتا ہے جو وہ جھوٹی خوشامد اور منت سماجت سے حاصل کرلیتے ہیں جن پر مقدمے چلے وہ آج حکومت میں ہیں ۔اسی طرح حکمران خاندانوں کے پاس اتنی دولت ضرور ہے کہ وہ باآسانی جہاز خرید سکتے ہیں، لیکن سرکاری خرچ کا اپنا ہی مزہ ہے۔

 ایک طرف وزیراعظم کی یہ اپیل کہ لوگ ایک گھنٹے بجلی استعمال نہ کریں! حیرت ہے کہ لوڈشیڈنگ کے بارے میں شاید انھیں نہیں پتا کہ بجلی آتی کم ہے اور جاتی زیادہ ہے ،مگر بیچارے وزیراعظم بھلا لوڈشیڈنگ کا عذاب کیا جانیں، اسمبلی کے ممبران سمیت تمام وزراء اور حکومتی ارکان لوڈشیڈنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ حکام بالا نے تو اساتذہ کی تنخواہوں اور پنشن میں کٹوتی کا حکم دے دیا تھا بھلا ہو سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کا کہ اس نے اساتذہ کی پینشن اور تنخواہوں سے کٹوتی سے روک دیا ہے وہ جو کہتے ہیں نا کہ

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

اقبال کا ایک اور شعر موجودہ ملکی صورت حال پہ منطبق ہے۔

میراث میں آئی ہے انھیں سند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کا نشیمن

مہنگائی کا جن بے قابو ہوکر بوتل سے نکل پڑا ہے لیکن جن بڑا سمجھ دار ہے کہ امیروں، وزیروں اور سرمایہ داروں کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے اس کا سارا زور عوام پر ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتے ہی ہر چیز کے دام دگنے ہوگئے۔ تاجروں کی چاندی ہوگئی جو چیز لینے جائیں ،دگنی قیمت پہ مل رہی ہے۔ تیل مہنگا کرکے تیل کمپنیوں کو مالا مال کردیاگیا، دواؤں کی ہوش ربا قیمتوں نے طوفان مچادیا ہے۔ ہر قسم کی دوائیں مہنگی ہوگئی ہیں۔ ہر دوا دگنی اور تگنی قیمت پر مل رہی ہے خاص کر دل کے امراض، شوگر اور ڈپریشن کی دواؤں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں۔ پہلے دواؤں کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا تھا اور اب دوبارہ انھیں نوازا جارہا ہے۔ کون سی چیز ہے جو سستی ہو۔ آٹے کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں، لہسن، ادرک، ٹماٹر، آلو، سبزیاں، دالیں، چاول ، گوشت، دودھ، دہی سب کچھ مہنگا ہے، مہنگائی روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے، بسوں، ویگنوں، ٹیکسی، رکشہ سب کے کرائے من پسند طریقے سے بڑھادیے گئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔

مجھے جناب شہباز شریف ذاتی طور پر بہت پسند ہیں انھوں نے اپنے دور وزارت اعلیٰ میں جو کام لاہور میں کیا تھا اس سے امید تھی کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ملک و قوم کے لیے بہت کچھ کریں گے۔ کاش وہ ملک کو بھی ایسے چلاتے جیسے پنجاب کو چلایا تھا مگر لگتا ہے ان کی بھی کوئی مجبوری ہوگی ورنہ شہباز جو سوچ لیں وہ کرتے ضرور ہیں۔

 پاکستان اس وقت متعدد مسائل میں الجھا ہوا ہے، سیاست اور جمہوریت کا فقدان ، آئین اور قانون کی حکمرانی، خراب معیشت ، منہ زور مہنگائی اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی، افغان جنگ میں پاکستان کا وہی کردار تھا جو بیگانی شادی میں عبداﷲ دیوانے کا ہوتا ہے۔ ضیاء الحق نے افغان پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دی جس سے دہشت گردی بڑھ گئی ۔ ملک میں مختلف حصوں میں ہیروئن اور کلاشنکوف نے جگہ بنالی۔ افغان دہشت گرد ہلاک کیے گئے اس وقت پاکستانی فوج کو خراج تحسین پیس کرنا چاہیے جس نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ختم کیا اور افغانی دہشت گردوں کو لگام ڈالی۔ ہمارے کتنے ہی فوجی ان مہمات میں کام آئے۔ سلام ہو ان پر اور خدا ہمیشہ پاک فوج پر سایہ فگن رہے۔ ہم گھروں میں چین سے بیٹھے رہتے ہیں اور ہمارے فوجی ہر محاذ پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑے ہوتے ہیں۔

اس وقت صورت حال یہ ہے سیاست اور طاقت کے کھیل نے خطے کے امن کو تار تار کردیا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، دونوں اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی لچک دکھانے کو آمادہ نہیں، دیکھیے پاکستان جو ثالث کا کردار ادا کررہا ہے، اس کی بات دونوں ملک مانتے ہیں یا نہیں بہرحال ایک بات غلط ہے وہ یہ کہ ایران خلیجی ممالک پر حملے کررہا ہے۔

پچھلے دنوں جو وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا تھا۔ اس میں یہ مطالبہ کیاگیا تھا کہ ایران دوست ممالک پر حملے نہیں کرے گا لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ایران اب بھی خلیجی ممالک پر حملے کررہا ہے اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو بہت برے نتائج برآمد ہوں گے۔ بعض خلیجی ممالک نے ایران کے حملے کے بعد ایرانی سفیروں کو ملک بدر کردیا ہے۔ ایران کو اس مسئلے پر سوچنا چاہیے۔ سیاست اور طاقت کے کھیل نے انسانی زندگی کے تقدس کو بری طرح پامال کیا ہے۔ کہیں شعلے بھڑک رہے ہیں کہیں انسانی جانیں بے معنی تنازعات کی نذر ہورہی ہیں، لوگ روز مر رہے ہیں۔ کتنی ماؤں کی گود اجڑی، کتنی عورتوں کے سہاگ جنگ کی نذر ہورہے ہیں۔ کہیں طاقت ور ملک دنیا میں حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں، کہیں زور آور ملکوں کی پالیسیاں کمزور قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کررہی ہیں۔ امریکا اور اسرائیل پوری دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

اس وقت مسلم ممالک کو متحد ہوجانا چاہیے ان حالات میں عام آدمی خود کو بے بس اور کمزور محسوس کرتا ہے۔ وہ روز سوچتا ہے کہ جنگ شائد کل ختم ہوجائے لیکن ہر صبح مرنے والوں کی خبر دیتی ہے۔ بچے بھی مر رہے ہیں، جوان بھی، بوڑھے بھی اور خواتین بھی۔ غزہ میں جو ہورہا ہے اس پر اقوام متحدہ خاموش ہے۔ ویٹو پاور بھی سپر پاور کے پاس ہے۔ جنگ تباہی لاتی ہے۔ ہزاروں انسان لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔ خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے، اسلحہ کے سوداگروں کی لاٹری نکل آئی ہے۔ وزیراعظم سادگی کا درس دے رہے ہیں لیکن ان غیر ملکی دوروں کا کیا جو وزیر امیر اور صدر محترم کرتے ہیں۔ ایک ایک غیر ملکی دورے پر سات سے آٹھ لاکھ ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں، وی آئی پی کلچر مسلسل فروغ پارہا ہے۔

یہ غیر ملکی دورے معیشت پر ایک بوجھ ہیں لیکن وزیر باتدبیر اور صدر محترم جب دوروں پر جاتے ہیں تو پوری برات لے کر جاتے ہیں۔ وہی بات ہے کہ ’’سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا‘‘ جب تک وی آئی پی کلچر ختم نہیں ہوگا، سادگی کا درس بے کار رہے گا۔ حکومت میں آنے کے بعد عیاشی اور پرتعیش زندگی لازم و ملزوم ہوجاتی ہے۔ خدا ہی رحم کرے ہماری حالت پر۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

Published

on



حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کردیا۔

حکومت نے ایک ہفتے کیلیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے، ڈیزل فی لیٹر 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کرنے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق مٹی کا تیل بھی  34روپے 8 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا ہے۔

اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 467روپے 48 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

دوسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو 3.9 فیصد تک پہنچ گئی

Published

on



اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے جمعرات کو کہا ہے کہ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران معیشت کی شرح نمو 3.9 فیصد رہی، جو تینوں بڑے شعبوں کی کارکردگی کے باعث قومی پیداوار میں معقول اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

تاہم مرکزی بینک نے نیشنل اکائونٹس کمیٹی (این اے سی) کے اجلاس کے دوران فصلوں، خصوصاً گندم کی اصل پیداوار کے اعدادوشمار کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے۔

اسی اجلاس میں ان اعدادوشمار کی منظوری دی گئی۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) میں معیشت کی شرح نمو 3.89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

تاہم پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں زرعی اور صنعتی شعبوں کی شرح نمو میں کمی آئی، جبکہ خدمات کے شعبے میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔زرعی شعبہ 1.8 فیصد کی شرح سے بڑھا، جو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں کم ہے۔

صنعتی شعبے کی شرح نمو 7.4 فیصد رہی، جو گزشتہ سہ ماہی میں 8.9 فیصد تھی۔اس کے برعکس، خدمات کے شعبے نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں بہتر ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ’’بلا روزگار ترقی‘‘ (Jobless Growth) پر تنقید کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ترقی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہی۔

پلاننگ کمیشن کے تازہ ترین ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد ہو گئی ہے، جو گزشتہ 11 برس کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ بے روزگاری 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 21 سال کی بلند ترین سطح ہے۔

پلاننگ کمیشن کے مطابق آمدنی میں عدم مساوات بھی 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔این اے سی نے نوٹ کیا کہ سیلاب کے اثرات کے باعث کپاس کی پیداوار میں کمی آئی، جبکہ اہم فصلوں کی پیداوار دوسری سہ ماہی میں 1.87 فیصد کم ہوئی۔

سبز چارے میں کمی کے باعث دیگر فصلوں کی پیداوار میں 5.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اجلاس کے دوران مرکزی بینک کے نمائندے نے زرعی شعبے کی پیداوار میں اضافے کے دعووں پر وضاحت طلب کی۔

گندم کی پیداوار کے حوالے سے بار بار سوالات اٹھائے گئے، تاہم پی بی ایس نے اس بارے میں کوئی حتمی اعدادوشمار فراہم نہیں کیے۔چیف اسٹیٹسٹیشن نے وضاحت کی کہ ملک کے کئی حصوں میں ابھی فصل کی کٹائی شروع نہیں ہوئی، اس لیے اصل پیداوار کا تعین ممکن نہیں۔

تاہم گندم کی کاشت میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ممکنہ پیداوار میں اضافے کا عندیہ دیتا ہے۔حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی حکام نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کیا ہے کہ شرح نمو 4 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیاد آٹو موبائل، تعمیرات اور گارمنٹس کے شعبوں میں جاری سرگرمیاں ہیں۔

این اے سی کے مطابق مویشیوں کے شعبے میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنگلات اور ماہی گیری کے شعبوں کی شرح نمو بالترتیب 3.8 فیصد اور 0.8 فیصد رہی۔

بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں 5.7 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ آٹو موبائل، ٹرانسپورٹ آلات اور پیٹرولیم مصنوعات کی بہتر کارکردگی ہے۔

بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 15.11 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ سبسڈیز میں اضافہ اور ڈیفلیٹر میں کمی ہے۔ تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو 10.53 فیصد رہی، جس کی وجہ تعمیراتی اشیا کی پیداوار میں اضافہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ، اعلان صوبے کریں گے

Published

on



اسلام آباد:

حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔  

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پیدا ہنگامی حالات میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے کفایت شعاری اقدامات کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا،کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور بازار رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لے کر کیا گیا اور اس کا اعلان بھی صوبے خود کریں گے۔ 

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت خطے کی صورتحال اور پٹرول بحران پر اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا ، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔

اس موقع پر کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات پر بریفنگ دی گئی، اسحاق ڈار نے دورہ چین پر بریفنگ دی اور ایران امریکہ مذاکرات پر ثالثی کوششوں سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں خطے میں جنگ کے باعث معاشی مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور ملکر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے، کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے، زرعی شعبے، پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی مہنگائی سے کم سے کم متاثر ہو، پاکستان جنگ بندی کیلئے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اللہ کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔  

وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے، چند دنوں میں اس پر بھی پیشرفت ہو گی۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں55 روپے کا اضافہ محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلئے بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اسکو برداشت کیا، اجتماعی اور بھرپور کاوشوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے۔ 

صدرآصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے بھی شکرگزار ہیں، وفاقی حکومت نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھایا، پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی اور تمام اخراجات وفاق نے برداشت کئے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر تعاون کریں، کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری، وزراء اعلیٰ اور ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہیں۔
 





Source link

Continue Reading

Trending