Connect with us

Today News

متشدد افغان طالبان سے پاکستان کی کیسے نبھے؟

Published

on


’’افغانستان بطورِ ہمسایہ ملک چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جائے۔ کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے ۔اِس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں ۔‘‘یہ الفاظ افغان طالبان رجیم کے عبوری وزیر خارجہ،مولوی امیر خان متقی، کے ہیں ۔ اگلے روز یہ الفاظ موصوف نے اُس وقت کہے جب وہ قطری وزیر خارجہ (عبداللہ بن زاید النہیان) سے فون پر بات چیت کررہے تھے ۔

امیر خان متقی کے مذکورہ بیان کے دو روز بعد ( یکم اپریل2026 کو)خبر آئی ہے کہ چین کے شمال مغرب میں واقع (اور پاکستان سے متصل) چین کے مشہور صوبے( سنکیانگ) کے مشہور شہر ’’ارومچی‘‘ میں ، چین کی ثالثی میں، پاک افغان مذاکرات ہُوئے ہیں ۔ اگرچہ یہ مذاکرات ابھی جونیئر لیول کے ہیںکہ پاکستان کی جانب سے وزارتِ خارجہ کے ایک ایڈیشنل سیکریٹری نے اِس میں شرکت کی ہے۔اِن مذاکرات کو خوش آئند کہا جا سکتا ہے ، مگر یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان نے افغان دہشت گردوں کے خلاف جس ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کو جاری کر رکھا ہے ، اس میں کمی نہیں آئے گی تاآنکہ اپنے متعینہ مقاصد و اہداف حاصل نہ کر لیے جائیں ۔

افغانستان پر مسلّط طالبان رجیم اور اس کے مولوی متقی خان ایسے کئی وزیر پچھلے پانچ برسوں کے دوران ایسے کئی وعدے کئی بار کر چکے ہیں ، مگر ہر بار وعدہ کرکے توڑ دیتے ہیں ۔ یوں پاکستان اور پاکستانی عوام اُن کے کسی وعدے اور عہد پر اب یقین نہیں کرتے ۔پاکستان افغان طالبان رجیم اور اس کے جملہ کارندوں پر اندھا اعتماد و اعتبار کرکے کئی بار ڈسا جا چکا ہے ۔

افغان طالبان اسقدر بد عہد واقع ہُوئے ہیں کہ دوست اسلامی ممالک ( سعودی عرب ، قطر ، ترکیہ) سے پاکستان میں دہشت گردیاں نہ کرنے بارے کیے گئے وعدوں سے بھی مکر گئے ۔ تنگ آکر پاکستان نے اُن افغان دہشت گردوں کے خلاف (افغانستان میں گھس کر) ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کا آغازکیا ہے جنہیں کابل و قندھار کی افغان طالبان قیادت کی جانب سے ہر قسم کی اشیرواد بھی حاصل تھی ۔

افغان دہشت گرد طالبان اور طالبان کارندوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں میں اب تک 600 سے زائد افغان دہشت گرد جہنم واصل ہو چکے ہیں ۔ پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بسنے والے دہشت گرد افغان طالبان اَب ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے خوف سے تتر بتر ہوکر اور پاکستانی سرحد کے نزدیکی علاقوں سے فرار ہو کر افغانستان کے دُور دراز علاقوں میں جا بسے ہیں ۔ اُن کی چیخیں تا آسمان سنائی دے رہی ہیں۔پاکستان نے عید الفطر سے قبل چار پانچ روز کے لیے افغان دہشت گردوں کے خلاف حملوں میں وقفہ بھی کیا تھا۔ مگر اب یہ وقفہ ختم ہو کر ایک بار پھر بحال ہو چکا ہے ۔طالبان اب صلح کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں اور توبہ تائب بھی ہو رہے ہیں ، مگر اُن پر پاکستانی اتھارٹیز یقین کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں ۔

افغان طالبان کی کہہ مکرنیاں ، بے وفائیاں اور عہد شکنیاں اس قدر زیادہ ہو چکی ہیں کہ آج دُنیا بھر میں کوئی ان پر اعتماد اور اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ بھارت کی انگلیوں پر ناچنے والے مقتدر طالبان کی خونی دہشت گردیوں کی لپیٹ میں عام افغان شہری بھی آ چکے ہیں۔ جفا جُو اور دغا باز افغان طالبان نے پچھلے پانچ برسوں کے دوران کسی سے نبھا نہیں کیا ہے ۔یوں لگتا ہے کہ مدتوں قبل خواجہ میر درد نے یہ شعر طالبان ہی کے لیے کہا تھا: نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز/ گلا تب ہو اگر تُو نے کسی سے بھی نبھائی ہو۔

ارُومچی میں تازہ مذاکرات سے قبل خبر آئی تھی کہ ایک جوائنٹ پاک ، افغان امن جرگہ 31مارچ  2026 کو پشاور میں منعقد ہوگا تاکہ دونوں ممالک میں مکالمے ، امن اور استحکام کی فضا ہموار کی جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکریٹری ( ارباب شہزاد خان) اور ’’قومی اصلاحی تحریک‘‘ کے سربراہ (حاجی سہراب علی خان) اِس جرگے میں مرکزی کردار ادا کرتے نظر آ رہے تھے ۔ مگر یہ جرگہ بھی بے ثمر ہی ثابت ہُوا ۔اِس کی ناکامی میں بھی افغان دہشت گرد طالبان کی دغا بازیوں کا ہاتھ تھا ۔

جس تاریخ کو اِس جرگے نے بیٹھنا تھا، اُسی کے آس پاس مقتدر افغان طالبان نے معروف افغان صوبے ’’خوست‘‘ کے کئی شہروں میں پاکستان کے خلاف مسلح ریلیاں نکالیں۔ اِن ریلیوں میں پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے ۔ افغان طالبان نے زبردستی اپنے میڈیا پر اِن ریلیوں کی ویڈیوز بھی چلائیں تاکہ پاکستان کے خلاف افغان ذہن مسموم کیے جا سکیں۔ ریلیوں میں یہ بھی نعرے لگوائے گئے : ’’ہم پاکستان کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہیں۔‘‘ افغان میڈیا نے مگر اِن ریلیوں کی حقیقت کا یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ ’’افغان طالبان حکومت نے زبردستی اور جبر یہ طور پر افغان نوجوانوں کو پاکستان مخالف اِن ریلیوں میں شریک کیا تھا۔‘‘

دہشت گرد افغان طالبان بارے، حالیہ ایام میں،افغانستان کے لیے متعین رُوسی ایلچی ( ضمیر کابولوف)نے ایک عجب اقرارو اعتراف کیا ہے۔ 28مارچ 2026ء کو ضمیر کابولوف نے رُوسی خبر رساں ادارے (RIA Novosti)سے بات چیت کرتے ہُوئے کہا: ’’ پاک افغان تعلقات اِس لیے بھی درست نہج پر نہیں آ رہے کیونکہ طالبان کے افغانستان میں کئی دہشتگرد اور شدت پسند گروہ اکٹھے ہو چکے ہیں ۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔‘‘مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ افغان سر زمین پر بروئے کار متنوع دہشت گرد گروہوں کو افغان طالبان کی سرپرستی اور اعانت بھی حاصل ہے ۔

یہ سرپرستی ہی درحقیقت افغانستان سے پاکستان پر آئے روز حملوں کا سبب بنا کرتی تھی ۔ پاکستان نے مگر جب سے افغان دہشت گردوں کے خلاف’’آپریشن غضب للحق‘‘ کی شکل میں سخت ائر اسٹرائیکس کا آغاز کیا ہے ، افغان دہشت گردوں کی خونی کارروائیوں میں بڑی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے ۔ یوں ثابت ہُوا کہ لاتوں کے بھوت لاتوں ہی سے مانتے ہیں ۔

یکم اپریل 2026کو افغانستان کے لیے رُوسی صدر کے خصوصی ایلچی ، ضمیر کابولوف، نے افغانستان کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر بھی دی ہے ۔ موصوف نے کہا تھا: ’’رُوس کو چونکہ آجکل زراعت ، کنسٹرکشن ، ٹرانسپورٹ اورسروسز کے شعبوں میں مزدوروں کی سخت ضرورت ہے ، اس لیے رُوس سوچ رہا ہے کہ اِس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے افغان مزدُوروں کو رُوس لایا جائے۔ یوں افغان طالبان کے عوام کی کچھ مدد بھی ہو جائے گی۔‘‘ مگر اِس اعلان یا تجویز کی رُوسی حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے سخت مخالفت کی ہے۔ مثال کے طور پر رُوس کی قومی اسمبلی (State Duma)کی کمیٹی برائے ریجنل پالیسی کے معروف رکن Mikhail  Matveyevنے کہا :’’ افغان لیبرکو رُوس میں لانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔ افغانیوں کو بطورِ مزدُور رُوس درآمد کیا گیا تو یہ رُوسی سوسائٹی کے لیے سیکیورٹی رسک بن جائیں گے ۔‘‘

مذکورہ بالا الفاظ ہی بتا رہے ہیں کہ مقتدر افغان طالبان کے اقدامات اور حرکتوں نے اپنے عوام کو بھی دُنیا میں بے اعتبار بنا دیا ہے ۔ اگرچہ حالیہ کئی مثالیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں کہ رُوس اور افغانستان میں تعلقات بڑھ رہے ہیں ( مثلاً رُوس میں افغان سفیر، مولوی گل حسن، کی تعیناتی)، مگر ساتھ ہی افغان طالبان نے پاکستان میں جس طرح دہشت گردی کی وارداتوں کو فروغ دیا ہے ، اِس نے اِنہیں بے حد بدنام بھی کررکھا ہے ۔

پاکستان کے لاتعداد احسانات کو فراموش کرنا اور بھارت سے پینگیں بڑھانا بھی افغان طالبان کی بے قدری اور بے اعتباری میں اضافے کا سبب بنا ہے ۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران افغان طالبان نے افغان بچیوں پر جس طرح تعلیم کے دروازے مقفّل کررکھے ہیں اور افغان خواتین کے لیے ہر قسم کی ملازمتیں بھی ممنوع قرار دے ڈالی ہیں ، یہ متشددانہ فیصلے بھی عالمی سطح پر افغان طالبان کے استرداد کا موجب بن رہے ہیں ۔

پچھلے ماہ کے دوران افغانستان کی سپریم کورٹ کے حکم سے کابل ، فاریاب، بلخ، ننگرہار اور ہرات کے صوبوں میں 46افراد کو کھلے عام38/38کوڑے مارے گئے۔ کوڑے کھانے والوں میں دس ، دس سال کے کمسن لڑکے بھی شامل تھے ۔ افغان طالبان نے خود تسلیم کیا ہے کہ 2025 میں افغانستان میں 6افراد کو سرِ عام پھانسیاں دی گئیں اور ملک بھر میں 1118 افراد کو کوڑے مارے گئے ۔ یوں تشدد پسند مقتدر افغان طالبان کی دُنیا سے نبھے تو کیسے نبھے؟؟





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹرمپ نے امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کو برطرف کردیا

Published

on


امریکی صدر ٹرمپ نے اہم حکومتی عہدوں پر بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے پام بونڈی کی جگہ نائب اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچے کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو امریکی انتظامیہ میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اہم عسکری عہدے پر تبدیلی کرتے ہوئے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع ایسے آرمی چیف آف اسٹاف کی تقرری چاہتے ہیں جو فوجی معاملات میں صدر ٹرمپ اور ان کے وژن کے مطابق کام کر سکے۔

جنرل رینڈی جارج اس سے قبل للوئیڈ آسٹن کے دور میں سینئر ملٹری اسسٹنٹ رہ چکے ہیں۔ وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور ایک تجربہ کار فوجی افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اپنی پالیسیوں اور عسکری حکمت عملی کو نئے انداز میں ترتیب دے رہی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے سندھ کے ماہی گیروں کی زندگی شدید متاثر

Published

on



کراچی:

حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سندھ کے ماہی گیروں کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

کوسٹل میڈیا سینٹر ابراہیم حیدری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق  پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ماہی گیروں کے روزگار کو شدید بحران میں ڈال دیا ۔

سمندر میں شکار کے لیے جانے والی کشتیوں کا زیادہ تر انحصار ڈیزل پر ہوتا ہے، جس کی قیمت بڑھنے سے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ۔ پہلے ہی مہنگائی، سمندری آلودگی اور کم ہوتی مچھلی کے باعث ان کی آمدن محدود ہو چکی تھی۔

بیان کے مطابق  ایندھن مہنگا ہونے سے شکار پر جانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی چھوٹے ماہی گیر اپنی کشتیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،جس سے ان کے گھروں کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔

ترجمان نے بیان میں کہا کہ ساحلی پٹی کے مختلف علاقوں میں اس صورتحال کے باعث نہ صرف ماہی گیروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے بلکہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے مقامی ماہی گیری معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔

ماہی گیروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل پر سبسڈی دی جائے یا انہیں خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنا روزگار جاری رکھ سکیں، تاہم  اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سندھ کے ساحلی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے،جس کے سماجی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بھارت میں ایل پی جی کے سنگین  بحران نے  توانائی پالیسیاں بے نقاب کردیں

Published

on


بھارت میں ایل پی جی سلنڈر کی شدید قلت نے ممبئی سے راجستھان تک بڑے حصے کو مفلوج کر دیا ہے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق ممبئی میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت سےکاروبار ٹھپ ، مزدوروں  نے آبائی گاؤں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔

سنگین ایل پی جی بحران کے باعث سڑک پر گاڑیوں کی لمبی  قطاریں معاشی سرگرمیوں میں بدترین کمی کی واضح علامت ہے، ممبئی میں ایندھن کے بحران کی وجہ سے خوراک اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو  شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بھارت میں ایک ہزار روپے سے کم پر دستیاب ایل پی جی سلنڈر کی بلیک مارکیٹ میں قیمت 3 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ مودی حکومت کی بدترین پالیسیوں سے توانائی بحران نے بھارتی ریاست راجستھان کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق بھارتی عوام بی جے پی سرکار کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے  کی مؤثر حکمت عملی نہ ہونے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ 

خلیجی جنگ کے شدید اثرات کے باعث توانائی بحران نے مودی کے خودانحصاری کے کھوکھلے دعوؤں اور بدانتظامی کا پول کھول دیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending