Today News
جام سے پینا رسم پرانی ہوگئی
کمال کمال اور پھر کمال ہے یہ ہماری مملکت خداداد پاکستان بھی۔وہ کونسا رنگ ہے جو اس میں نہیں ہے دانائی دانشوری کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ یونان قدیم ہے۔دینداری پرہیزگاری اور صادق و امینوں کے لحاظ سے یہ ’’ریاست مدینہ‘‘ ہے ، اُن تمام ناموں سمیت جو مقدس ہیں اور آج کل تو یہ قدیم روم کے مماثل بھی ہوگیا ہے۔جہاں نیرو بانسری بجایا کرتا تھا۔اور قدم قدم پر’’ایربناؤں‘‘ میں طرح طرح کے کھیل کھیلے جاتے تھے جب لوگ بھوک ننگ سے پریشان ہوتے تھے تو ان کی بھوک کو بہلانے کے طرح طرح کے کھیل تماشے دکھانے کے زبردست پروگرام ہوا کرتے تھے۔ اور یہاں بھی وہی انتظام ہے، وہی عالم ہے، وہی نسخہ ہے اور یہ اندازہ ہم نے اس کرکٹ نام کے کھیل اور اس کی دھوم سے لگایا ہے جس میں نکمے نکھٹوؤں اور تاجروں، دکانداروں اور ساہوکاروں کے لیے بھی بے پناہ مواقع ہیں اور وہ بھی نہایت سنہرے اور آسان۔اس کا اندازہ اس لیے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے صرف ایک کرکٹ ہوا کرتی تھی جب کہ آج ہر ہر قسم کے رنگ اور نام کی کرکٹ ٹیمیں برساتی کمبھیوں کی طرح اُگ رہی اور پھوٹ رہی ہیں۔
وومن ٹیم تو خیر لازم تھی کہ عورت کو یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ کماتی ہے، مرد سے کم نہیں بلکہ زیادہ قابل ہے ۔پھر بلائنڈ کو بھی یہی ثابت کرنا تھا اور ہے اور جب بلائنڈز نے اپنے کمالات دکھائے تو ان کے باقی ہم نشینوں، ہم سفروں اور ہم نفسوں نے کیا گناہ کیا ہے جو پیچھے رہتے۔ہمیں یقین ہے آیندہ دوچار سال میںگونگوں،لنگڑے لولوں اور پولیو زدہ برادریوں کی ٹیمیں بھی سامنے آجائیں گی یا شاید بن بھی چکی ہوں گی اور’’ایج‘‘کی بنیاد پر تو انڈر تھرٹی سے انڈر تھری تک کی ٹیمیں موجود ہیں جو آیندہ کچھ عرصے میں چائیلڈ اور انفینٹ یعنی شیرخواروں تک دراز ہوسکتی ہیں۔اور اس میں کچھ مشکل بھی نہیں۔شیرخواروں کی مائیں اور آیائیں ان کو بچہ گاڑیوں میں تو ویسے بھی گراؤنڈ وغیرہ میں پھرایا کرتی ہیں تو کرکٹ بھی کھلوا سکتی ہیں۔ صوبوں، ضلعوں،تحصیلوں اور یونین کونسلوں کی ٹیمیں تو شروع ہوچکی ہیں۔
آگے شاید برادریوں،پیشوں اور روزگاروں کی بنیاد پر ٹیمیں بننا شروع ہوجائیں۔جیسے لوہارائرن۔ترکان ووڈن،سنارگولڈن،مستری الیون، معمارشاہین،مزدور ہتھوڑا،کسان درانتی،ڈرائیور اسپیڈ، گداگر فائٹر،ڈاکٹرز لیوپرڈ، دکاندار ٹائیگر،زمین دارٹریکٹر،حلوائی سلور،قصائی کلہاڑا وغیرہ۔ہمارے خیال میں سب سے پاپولر،ہارٹ فیورٹ اور بیسٹ سیلر ٹیم تیسری جنس کی ہوسکتی ہے کہ وہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ کچھ اور فنون کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں یا کرسکتی ہیں، تھرڈ ایمپائر تو پہلے سے موجود ہیں۔تو تھرڈ جینڈر ٹیم میں کیا حرج ہے۔
مطلب چونکہ کمائی اور شائقین کا انٹرٹینمنٹ ہے مثلاً اگر بالنگ میں ناچ کا رنگ بھی شامل ہوجائے، فیلڈنگ میں چٹک مٹک کا بھی مظاہرہ ہو۔بیٹنگ میں دوچار اسٹیپ ڈانس کے لیے جا سکتے ہیں اور وکٹ کیپر کو تو زیادہ کارکردگی دکھانے کا موقع حاصل ہوتا ہے، مطلب یہ کہ لہک لہک،چھنک چھنک اور ٹھمک ٹھمک کو کرکٹ کا حصہ بنایا جاسکتا اور اس ٹیم کے میچ کے ٹکٹ پکوڑوں کی طرح بکیں گے۔کچھ عرصہ پہلے ایک شہر میں ٹیموں کی نیلامی بلکہ صحیح معنوں میں عوام کی خرید فروخت ہورہی تھی کہ یہی اس ملک کی سب سے بڑی تجارت ہے کہیں پر کچھ بھی ہو۔سیاسی، تجارتی، مذہبی، سماجی خرید وفروخت کا مین بلکہ واحد آئٹم کالانعام ہی ہوتے ہیں لیکن نام الگ ہوتے ہیں۔مثلاً سیاسی پارٹیاں اسے ٹکٹ کا نام دیتی ہیں، میڈیا اسے اشتہارات وغیرہ کے نام دیتا ہے۔مذہبی لوگ اسے ثواب کا نام دیے ہوئے ہیں لیکن فروختگی خریدگی کالانعاموں ہی کی ہوتی ہے۔خیر تو اس نیلامی یا فروختگی میں ایک بزرگ مہر یا بقراط نے فرمایا۔کرکٹ ہمارے خون میں دوڑتی ہے یا دوڑ رہی ہے۔
بخدا یہ سُن کر ہم تو سن ہوکر رہ گئے۔ ہمیں پتہ بھی نہیں اور ہمارے خون میں کرکٹ دوڑ رہی ہے بلکہ دوڑنا بھی اتنا حیران کن نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ یہ ہمارے خون میں پہنچی کیسے۔وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ میں حیران ہوں کہ چوزہ انڈے سے نکلتا کیسے ہے۔ دوسرے نے کہا، تم نکلنے کا کہہ رہے ہو اور میں حیران ہوں کہ چوزہ انڈے میں گھستا کیسے ہے۔اب تک تو ہم نے یہ سنا تھا کہ خون میں سرُخ اور سفید ذرات دوڑتے ہیں۔بلکہ ایک دانا دانشور نے یہ کہا ہے کہ انگریز جاتے ہوئے اپنی آنکھوں کا رنگ ہمارے لیڈروں کے’’قدموں‘‘ میں انجیکٹ کرگئے ہیں اور اپنی جلد کا سفید رنگ ہمارے خون میں ڈال چکے ہیں اس لیے ان کے قدم سبز اور خون سفید ہوگیا ہے۔لیکن ہم لیڈروں کی بات نہیں کرکٹ والوں کی کررہے ہیں۔ارے ہاں یہ تو ہم بھول گئے کہ اب تو ہماری سیاست اور کرکٹ ایک ہوچکی ہے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہا ہے، مفادات واردات،بیانات، تحفظات سب کچھ میں۔ سیاست بھی تو کھیل لڑکوں کا ہوا ،دیدۂ بیان نہ ہوا
ترے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
بندہ وصاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
بہرحال یہ خون میں کرکٹ دوڑنے کا معاملہ کچھ تشویش ناک سا ہے کیونکہ خون کو تو کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں، خون کا کینسر ہوسکتا اور شاید ہوچکا ہے، خون سفید ہوسکتا ہے وہ بھی شاید ہوچکا ہے اور بہنا بہایا بھی جاسکتا ہے اور وہ تو شاید نہیں یقیناً ایک عرصے سے ہورہا ہے
رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
ایک شخص نے ہمیں ایک شخص کے بارے میں بتایا کہ شکر ہے اپنے باپ پر نہیں گیا ہے اس کا باپ تو منشیات فروش تھا لوگوں کو نقصان پہنچاتا تھا۔معاشرے کو نقصان پہنچاتا تھا بچوں کو نشے کی لت لگاکر تباہ کرتا تھا۔لیکن اس کا یہ بیٹا دیکھو۔بچوں کو کرکٹ سکھاتا ہے۔ ٹیمیں بناتا ہے اور ٹورنامنٹ منعقد کرتا ہے صحت مندانہ کاروبار کرتا ہے۔ہم نے کہا جناب آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے کفن چور کا بیٹا چور ہی نکلتا ہے بلکہ باپ کو بخشواتا ہے۔یہ آپ جس نیک آدمی کی تعریف کررہے ہیں یہ بھی ’’منشیات فروش‘‘ ہی ہے۔لیکن منشیات الگ الگ ہیں، باپ جو منشیات فروخت کرتا تھا وہ’’مُنہ‘‘ سے استعمال کیے جاتے تھے اور بیٹا جو منشیات فروخت کررہا ہے وہ بھی استعمال ہوتے ہیں ورنہ جاکر کسی کو ٹی وی پر میچ دیکھتے ہوئے دیکھیے نشی نظر آجائیں گے
آنکھوں سے پی رُت مستانی ہوگئی
جام سے پینا رسم پُرانی ہوگئی
Today News
ٹرمپ نے امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کو برطرف کردیا
امریکی صدر ٹرمپ نے اہم حکومتی عہدوں پر بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے پام بونڈی کی جگہ نائب اٹارنی جنرل ٹاڈ بلانچے کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو امریکی انتظامیہ میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اہم عسکری عہدے پر تبدیلی کرتے ہوئے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع ایسے آرمی چیف آف اسٹاف کی تقرری چاہتے ہیں جو فوجی معاملات میں صدر ٹرمپ اور ان کے وژن کے مطابق کام کر سکے۔
جنرل رینڈی جارج اس سے قبل للوئیڈ آسٹن کے دور میں سینئر ملٹری اسسٹنٹ رہ چکے ہیں۔ وہ پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور ایک تجربہ کار فوجی افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت اپنی پالیسیوں اور عسکری حکمت عملی کو نئے انداز میں ترتیب دے رہی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔
Today News
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے سندھ کے ماہی گیروں کی زندگی شدید متاثر
کراچی:
حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سندھ کے ماہی گیروں کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
کوسٹل میڈیا سینٹر ابراہیم حیدری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ماہی گیروں کے روزگار کو شدید بحران میں ڈال دیا ۔
سمندر میں شکار کے لیے جانے والی کشتیوں کا زیادہ تر انحصار ڈیزل پر ہوتا ہے، جس کی قیمت بڑھنے سے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ۔ پہلے ہی مہنگائی، سمندری آلودگی اور کم ہوتی مچھلی کے باعث ان کی آمدن محدود ہو چکی تھی۔
بیان کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے شکار پر جانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی چھوٹے ماہی گیر اپنی کشتیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں،جس سے ان کے گھروں کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
ترجمان نے بیان میں کہا کہ ساحلی پٹی کے مختلف علاقوں میں اس صورتحال کے باعث نہ صرف ماہی گیروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے بلکہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے مقامی ماہی گیری معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔
ماہی گیروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیزل پر سبسڈی دی جائے یا انہیں خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنا روزگار جاری رکھ سکیں، تاہم اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سندھ کے ساحلی علاقوں میں غربت اور بے روزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے،جس کے سماجی اثرات بھی سامنے آئیں گے۔
Today News
بھارت میں ایل پی جی کے سنگین بحران نے توانائی پالیسیاں بے نقاب کردیں
بھارت میں ایل پی جی سلنڈر کی شدید قلت نے ممبئی سے راجستھان تک بڑے حصے کو مفلوج کر دیا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق ممبئی میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت سےکاروبار ٹھپ ، مزدوروں نے آبائی گاؤں کی جانب واپسی شروع کر دی ہے۔
سنگین ایل پی جی بحران کے باعث سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں معاشی سرگرمیوں میں بدترین کمی کی واضح علامت ہے، ممبئی میں ایندھن کے بحران کی وجہ سے خوراک اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
بھارت میں ایک ہزار روپے سے کم پر دستیاب ایل پی جی سلنڈر کی بلیک مارکیٹ میں قیمت 3 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ مودی حکومت کی بدترین پالیسیوں سے توانائی بحران نے بھارتی ریاست راجستھان کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق بھارتی عوام بی جے پی سرکار کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مؤثر حکمت عملی نہ ہونے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
خلیجی جنگ کے شدید اثرات کے باعث توانائی بحران نے مودی کے خودانحصاری کے کھوکھلے دعوؤں اور بدانتظامی کا پول کھول دیا ہے۔
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Magazines6 days ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق
-
Today News2 weeks ago
امریکی غرور اور طاقت کی علامت ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports6 days ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins