Connect with us

Today News

حکومت کا پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں رعایتی قیمت پر اداروں کو دینے کا فیصلہ

Published

on



وفاقی حکومت نے پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں سرکاری اداروں کو رعایتی قیمت پر دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت وفاقی اداروں کو 15 فیصد اور صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر گاڑیاں ملیں گی۔

وفاقی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں رعایتی قیمت پر سرکاری اداروں کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وفاقی اداروں کو 15 فیصد، صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر گاڑیاں ملیں گی اور 1800 سی سی سے زائد گاڑیاں صرف اینٹی اسمگلنگ یونٹس کے لیے مخصوص ہوں گی تاہم کسی فرد کو ٹیمپرڈ گاڑی فروخت نہیں کی جائے گی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ٹیمپرڈ گاڑیوں کی ادائیگی صرف سرکاری اکاوٴنٹس کے ذریعے ہوگی، 5 سال تک فروخت نہ ہونے والی گاڑیاں تلف کر دی جائیں گی،جس کے لیے تمام گاڑیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروادیا گیا ہے۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آرنے کسٹمز آرڈر نمبر چار جاری کردیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت نے کسٹمز کے زیر تحویل ضبط شدہ ٹیمپرڈ گاڑیوں کے استعمال اور فروخت کے حوالے سے نیا ضابطہ جاری کر دیا ہے اور خلاف ورزی پر گاڑی ضبط اور افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کسٹمز جنرل آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ نئے ضابطے کے تحت 1800 سی سی سے زائد ٹیمپرڈ گاڑیاں صرف اینٹی اسمگلنگ اور انفورسمنٹ یونٹس استعمال کر سکیں گے جبکہ 1800 سی سی تک کی گاڑیاں محدود طور پر گریڈ 19 کے افسران کو دی جا سکیں گی۔

مشکل اور سرحدی علاقوں میں تعینات کسٹمز فارمیشنز کو بھی ضرورت کے تحت بڑی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دی جا سکے گی۔

ایف بی آر کے کسٹمز ونگ کو ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ میں ترجیح حاصل ہوگی اور ہر فارمیشن اپنی ضروریات کے مطابق درخواست دے گی جس کی منظوری ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی دے گی۔

ضبط شدہ گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ، تصاویر، فرانزک رپورٹ اور قانونی حیثیت ایک ڈیجیٹل سسٹم میں محفوظ کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، ایف بی آر کی ضروریات پوری ہونے کے بعد رہ جانے والی گاڑیاں وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کو فروخت کی جا سکیں گی۔

وفاقی اداروں کو یہ گاڑیاں مقررہ قیمت کے 15 فیصد جبکہ صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر فراہم کی جائیں گی تاہم کسی بھی صورت میں یہ گاڑیاں کسی فرد کو ذاتی استعمال کے لیے فروخت نہیں کی جائیں گی، ادائیگی صرف سرکاری اکاوٴنٹس کے ذریعے ہوگی اور گاڑی کی حوالگی رجسٹریشن کے بعد ہی ممکن ہوگی اور خریدار ادارے کو تین ہفتوں کے اندر گاڑی وصولی کی تصدیق بھی دینا ہوگی۔

مزید برآں، ان گاڑیوں کے استعمال، فروخت اور حوالگی کی مکمل تفصیلات باقاعدگی سے رپورٹ کی جائیں گی۔

ضابطے کے مطابق گاڑیوں کی عمر مکمل ہونے پر انہیں ختم (ڈسمینٹل) کیا جائے گا اور5 سال تک فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں کو بھی اسی عمل سے گزارا جائے گا، خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی کی واپسی، الاٹمنٹ کی منسوخی اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔
 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

یہودی ہو تو بری ، فلسطینی ہو تو پھانسی

Published

on


دو ہزار بائیس میں اسرائیلی تاریخ کی سب سے متشدد ، نسل پرست ، توسیع پسند مخلوط حکومت کی تشکیل کی سودے بازی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے یہودی آبادکار اتمار بن گویر کی جماعت جیوش پاور ( اوتزما یہودت ) نے نیتن یاہو کے سامنے جو شرائط رکھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ’’ فلسطینی دھشت گردوں ‘‘ کو سزاِ موت دینے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔

 انیس سو باسٹھ میں نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمین کی پھانسی کے بعد سے اب تک اسرائیل میں کسی کو تختہِ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔آئخمین سے قبل انیس سو اڑتالیس میں ایک اسرائیلی فوجی افسر مائر توبیانسکی کو غداری کے جرم میں فوجی عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی دی گئی۔تاہم بعد از موت مقدمے کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے مائر توبیانسکی کو عدالتی ریکارڈ میں بے گناہ لکھا گیا۔

انیس سو چون میں سپریم کورٹ نے عام قتل کے لیے سزاِ موت کو پینل کوڈ سے خارج کردیا اور صرف غداری اور نازی جنگی مجرموں کے لیے ہی موت کی سزا برقرار رکھی گئی۔انیس سو اٹھاسی میں نازی مجرم جان دیمانک کو سزاِ موت سنائی گئی تاہم انیس سو ترانوے میں سپریم کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔

  سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک نوے فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں بھوک ، ٹارچر یا علاج کی سہولت نہ ملنے کے سبب جاں بحق ہو چکے ہیں۔ فلسطینی بھلے جیل میں ہوں یا جیل سے باہر۔ان کی زندگی ویسے بھی ارزاں ہے۔سزاِ موت کے قانون کے نفاذ سے بس اتنا ہو گا کہ فلسطینی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو ’’ قانونی ‘‘ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

اس قانون کی منظوری سے کئی ماہ پہلے ہی بدنامِ زمانہ اوفر جیل میں پھانسی گھاٹ تعمیر کر دی گئی۔قومی سلامتی کے وزیرِ بن گویر جب بھی اسرائیلی جیلوں کا دورہ کرتے تو اپنے گلے کے گرد دونوں ہاتھوں سے حلقہ بنا کر فلسطینی قیدیوں کو جتاتے کہ تم سب پھانسی کے حقدار ہو۔

اتمار بن گویر کتنا بڑا ذہنی مریض ہے ؟ ایک قصہ سن لیجیے۔ولید دقا فلسطینی ادب کا ایک معتبر نام ہے۔ولید کو ’’ دہشت گردی ‘‘ کے الزامات میں مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک فوجی عدالت نے انیس سو اسی کے عشرے میں اڑتیس برس قید کی سزا سنائی۔دو ہزار تئیس میں ولید نے اپنی سزا مکمل کر لی مگر رہا کرنے کے بجائے دیگر قیدیوں کی اہلِ خانہ سے رابطہ کاری میں ’’ مدد ‘‘ کے جرم میں ولید کی سزا میں مزید دو برس کی توسیع ہو گئی۔اپریل دو ہزار چوبیس میں ولید کا قید خانے میں ہی باسٹھ برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔انھیں کینسر تھا۔

 اتمار بن گویر نے اپنے دکھ کا اظہار کچھ یوں کیا ’’ مجھے ولید کی طبعی موت کا بہت افسوس ہے۔میرا بس چلتا تو اپنے ہاتھ سے پھانسی دیتا ‘‘۔( ولید کی لاش آج تک اسرائیلی سرد خانے میں قید ہے )۔

تیس مارچ کو پارلیمنٹ میں اس قانون کے لیے فائنل ووٹنگ ہوئی۔اجلاس کی خاتون صدر منظوری کا اعلان کرتے ہوئے مارے خوشی کے رو پڑیں۔ نیتن یاہو کے ووٹ سمیت بل کے حق میں باسٹھ اور مخالفت میں سینتالیس ووٹ آئے۔بن گویر نے اسمبلی فلور پر شیمپین کی بوتل کھولتے ہوئے کہا کہ ’’ اب ہم مجرموں کو ایک ایک کر کے گنیں گے اور آگے بھیجیں گے ‘‘ ( یعنی تختہِ دار پر لٹکائیں گے )۔

یہ غالباً دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے جس کے تحت اگر کسی فلسطینی پر کسی یہودی کی جان لینے کا الزام ثابت ہو جائے تو اسے لازماً نوے دن کے اندر پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔فوجی عدالت سادہ اکثریت سے بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ جب کہ کوئی یہودی اگر غیر یہودی ( فلسطینی ) کو قتل کر دے تو اسے زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس قانون کا اطلاق محض اسرائیل کی حدود میں ہی نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پر بھی ہوگا جہاں گذشتہ انسٹھ برس سے مارشل لا نافذ ہے اور آج فلسطینی کسی بھی جرم میں حراست میں لیے جائیں ان میں سے ننانوے اعشاریہ چوہتر فیصد کو کوئی نہ کوئی چھوٹی بڑی سزا سنائی جاتی ہے۔جب کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد یہودیوں کے مقدمات سول عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں اور ان کو ملنے والی عدالتی سزاؤں کا تناسب ( کنوکشن ریٹ ) محض ڈھائی فیصد ہے۔یعنی سو میں سے ستانوے یا اٹھانوے ملزم چھوٹ جاتے ہیں۔

ان بری ہونے والوں میں سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کے دیہاتوں سے چالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو بندوق کی نوک پر بے دخل کرنے ، زمینوں اور باغات پر قبضہ کرنے کے لیے قتل ، ریپ اور اغوا کی ساڑھے سات ہزار وارداتوں میں ملوث وہ سیکڑوں مسلح یہودی آباد کار بھی شامل ہیں جن کے خلاف فردِ جرم عموماً دو پیشیوں کے بعد داخلِ دفتر ہو جاتی ہے۔

اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تین سو ساٹھ بچوں اور تہتر خواتین سمیت ساڑھے نو ہزار سے اوپر فلسطینی قید ہیں۔ان میں سے محض ایک ہزار پر باقاعدہِ فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔باقی قیدیوں کو کئی کئی برس سے انتظامی نظر بندی کے مبہم قانون کے تحت رکھا جا رہا ہے۔ان کی قید میں ہر چھ ماہ بعد توسیع کر دی جاتی ہے۔

عالمی عدالتِ انصاف کی رولنگ اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں مغربی کنارہ ، غزہ اور گولان کا علاقہ غیر قانونی قبضے میں ہے۔بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل ایک قابض ریاست ہے چنانچہ اسرائیلی پارلیمنٹ مقبوضہ علاقے کے لیے قانون سازی کی مجاز نہیں ۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر والکر ترک نے اس قانون کے مقبوضہ علاقے میں نفاذ کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔اسی بنیاد پر اسرائیل کی ایسوسی ایشن آف سول رائٹس  اور پارلیمنٹ کے دو ارکان نے نئے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

 یورپی یونین ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، متعدد عرب اور غیر ممالک نے اس قانون کو بین الاقوامی نظائر کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں اس کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں۔مگر اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح تمام ردِ عمل کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔امریکی کانگریس اور سینیٹ میں تو اس بابت کسی قرار داد ِ مذمت کے منظور ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

فلسطینیوں کو سزاِ موت دینے کا قانون اس فیصلے کے ایک ماہ بعد نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت سدی تمیم کے بدنامِ زمانہ فوجی کیمپ میں فلسطینی قیدیوں کے اجتماعی ریپ کے مجرم تمام فوجیوں کے خلاف حکومت نے فردِ جرم واپس لے لی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading

Today News

مہنگا پٹرول، عوام پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ

Published

on


وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کروائی گئی یقین دہانی پر عملدرآمد کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرول 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خلیج جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ حکومت نے کفایت شعاری، کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی، دیگر اقدامات سمیت ترقیاتی فنڈز کو روکا تاکہ عوام کو ریلیف ملے اور عام آدمی مہنگائی سے بچ سکے، یکم مارچ سے آج تک حکومت 129 ارب روپے عوام پر خرچ کرچکی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271.27 جب کہ ڈیزل 496.97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ایکسپریس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں درآمدی قیمت اس پر عائد ڈیوٹی ٹیکسوں کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کرایوں میں 65 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔لاہور سے کراچی کا کرایہ ایک لاکھ دس ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 80 ہزار روپے ہو گیا، لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 80 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے کردیا گیا۔

 پاکستان کی معیشت ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں حکومتی فیصلوں کی سمت نہ صرف معاشی اشاریوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد کو بھی کمزور کر رہی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ غیر معمولی اضافہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے حکومت نے عالمی حالات، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی اور ناگزیر فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر جب اس کے اندرونی پہلوؤں، حکومتی ترجیحات اور معاشی ڈھانچے کی کمزوریوں کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ اور تشویشناک نظر آتی ہے۔

پاکستان کا توانائی کا ڈھانچہ تاریخی طور پر درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا رہا ہے۔ یہ انحصار محض ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ پالیسی سازی کی ناکامیوں کا نتیجہ بھی ہے۔ ماضی میں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نسبتاً کم تھیں، تب بھی توانائی کے متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔ نہ قابل تجدید توانائی کے منصوبے اس رفتار سے آگے بڑھے جس کی ضرورت تھی، نہ ہی مقامی وسائل جیسے تھر کے کوئلے، ہائیڈرو پاور یا شمسی توانائی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً آج جب عالمی سطح پر بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اور شدید اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ یقیناً ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا اس بحران کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کر دینا ہی واحد راستہ تھا؟ حکومت نے ایک طرف یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جب کہ دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کر دیا گیا۔ یہ تضاد عوامی سطح پر بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔معاشی پالیسیوں کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ بحران کے وقت بوجھ کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے، مگر پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

ٹیکس نظام پہلے ہی محدود دائرے میں کام کر رہا ہے، جہاں چند طبقات مسلسل بوجھ اٹھا رہے ہیں جب کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور استثنیٰ موجود ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی بارہا تنقید کی زد میں رہی ہے، مگر اصلاحات کے دعوے عملی نتائج میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ ایسے میں پٹرولیم لیوی کا سہارا لے کر ریونیو بڑھانا ایک آسان مگر نقصان دہ راستہ ہے، جو معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل ایک چین ری ایکشن کو جنم دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش مہنگی ہوتی ہیں، صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ حالیہ صورتحال میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں 60 سے 65 فیصد تک اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ بوجھ کس تیزی سے عام آدمی تک منتقل ہو رہا ہے۔ ایک مزدور، ایک سرکاری ملازم یا ایک چھوٹا دکاندار اس اضافے کو کس طرح برداشت کرے گا، اس کا کوئی واضح جواب حکومتی پالیسیوں میں نظر نہیں آتا۔

یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں خوراک کی بنیادی ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ہر بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ انتظامی ناکامی، مارکیٹ ریگولیشن کا فقدان اور ذخیرہ اندوزی جیسے عوامل ہیں۔ صوبائی اور ضلعی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مصنوعی مہنگائی پیدا کی جاتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں بدانتظامی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی، لائن لاسز، بجلی چوری اور سرکلر ڈیٹ جیسے مسائل نہ صرف حل طلب ہیں بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان نقصانات کا بوجھ بھی بالآخر صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ان اداروں کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے گئے؟ یا ہر بار آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے؟حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے دعوے بھی حقیقت سے زیادہ قریب نہیں لگتے۔

اگرچہ وزراء کی تنخواہوں میں کمی اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی جیسے اعلانات کیے گئے، مگر مجموعی طور پر سرکاری اخراجات میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بیوروکریسی کے اخراجات، سرکاری مراعات اور غیر ضروری منصوبے بدستور جاری ہیں۔ ایسے میں جب عوام سے قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو یہ یکطرفہ محسوس ہوتا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے بھی اس صورتحال کا ایک اہم پہلو ہیں۔ قرضوں کے حصول کے لیے حکومت کو سخت شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں، جن میں سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکسوں میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط شامل ہوتا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ان شرائط کو قبول کرنے سے پہلے کوئی متبادل حکمت عملی تیار کی گئی؟ کیا معیشت کو خود انحصاری کی طرف لے جانے کے لیے کوئی طویل المدتی منصوبہ موجود ہے؟

پاکستان کی معاشی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بار بار بیرونی قرضوں پر انحصار نے معیشت کو کمزور کیا ہے۔ ہر حکومت قلیل المدتی ریلیف کے لیے طویل المدتی مسائل کو نظرانداز کرتی رہی ہے۔ نتیجتاً آج صورتحال یہ ہے کہ ایک قسط کی ادائیگی کے لیے بھی نئے ذرائع تلاش کرنے پڑتے ہیں اور اس کا آسان ترین ذریعہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنا سمجھا جاتا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ درآمدی قیمت، ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مارجنز کے درمیان فرق عوام کے لیے قابل فہم نہیں ہوتا، جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، اگر حکومت واقعی عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے قیمتوں کے تعین کا مکمل اور شفاف نظام متعارف کروانا ہوگا۔

ٹرانسپورٹ کے شعبے میں حالیہ اضافہ ایک بڑے بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔ جب مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے تو اس کا اثر براہ راست مہنگائی پر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صنعتی پیداوار بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک معاشی بحران سماجی بحران میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر متوسط اور نچلا طبقہ ہوتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی بڑھتی ہے، دوسری جانب آمدن میں اضافہ نہیں ہوتا۔ نتیجتاً قوت خرید کم ہوتی جاتی ہے اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی عدم استحکام کو بھی جنم دیتی ہے۔

حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوری اور طویل المدتی دونوں سطحوں پر اقدامات کرے۔ فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور مستحق طبقے کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ طویل المدتی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔اگر موجودہ پالیسیوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کرے گا اور عوام کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ ریاست کا بنیادی فرض یہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے، نہ کہ ہر بحران کا بوجھ ان پر ڈال دے۔یہ وقت محض بیانات دینے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔

حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشی استحکام کا راستہ عوامی اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے اور یہ اعتماد صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے جب فیصلے شفاف، منصفانہ اور عوام دوست ہوں۔ بصورت دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسا بوجھ بن جائے گا جو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی طیاروں کی تباہی کے بعد اسرائیل کا ایران پر حملے روکنے کا اعلان

Published

on


ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکا کے دو جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جس کی تصدیق بھی ہوگئی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیل نے ایران پر کیے جانے والے اپنے پہلے طے حملوں مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سی این این سے گفتگو میں اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یہ فیصلہ جمعہ کے روز اس وقت کیا گیا جب ایران میں مار گرائے گئے امریکی طیارے کے دو اہلکاروں کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری تھا۔

اسرائیلی عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ قدم اٹھایا تاکہ جاری سرچ اینڈ ریسکیو مشن متاثر نہ ہو اور امریکی فورسز کو اپنے اہلکاروں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی دوران ایک امریکی F-15E لڑاکا طیارہ ایران میں گرایا گیا تھا، جس کے بعد ایک اہلکار کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش تاحال جاری ہے۔

دوسری جانب ایرانی گورنر نے اعلان کیا ہے جس شہری نے امریکی پائلٹ کو پکڑا یا گرفتاری میں مدد دی اُسے 70 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔

 





Source link

Continue Reading

Trending