Connect with us

Today News

وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 80 روپے کمی کا اعلان

Published

on



وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 80 روپے لیوی کی مد میں کمی کا اعلان کر دیا اور پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 378 روپے مقرر کردی جس کا اطلاق آج سے ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ خلیج میں جنگ کے باعث پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور یہ ایسی تلخ حقیقت ہے کہ غریب کا چولھا مدھم ہو رہا ہے، کسان کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا ہوچکی ہیں اور عام آدمی کے لیے نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے فضل و کرم اور آپ کے دعاؤں سے حتی المقدور کوشش کی کہ عوامی بہبود اور عوام کے مشکلات کم کرنے کے لیے محدو قومی وسائل آپ کے مشکلات کم کرنے کے صرف کیا جائے اور ایک ایک پیسے کے بچت سے آپ کو اس مہنگائی کے طوفان سے بچایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی جس نے دنیا کی طاقت ور معیشتوں کی بھی کمر توڑ دی ہے یقیناً پاکستان بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے، اسی لیےپچھلے تین ہفتوں میں عوام پر ہر روز تیل کی قیمتوں میں اضافےکا بوجھ ڈالنا قطعاً مناسب نہ سمجھا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں ایک عام آدمی کس طرح زندگی بسر کرتا ہے، فجر کی نماز ادا کرکے آپ رزق حلال کی تلاش میں نکلتے ہیں اور سارا دن جاڑے اور دھوپ میں محنت کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ کے بے پناہ مسائل ہیں اس لیے ان تین ہفتوں میں قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کرکے آپ تک اس قیامت خیز طوفان کو پہنچنے نہ دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب اللہ سے دست بدعا ہیں کہ جنگ جلد سے جلد بند اور امن قائم ہوجائے، اس کے لیے پاکستان کی حکومت نے، میں نے، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے انتہائی خلوص نیت کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے دن رات کاوشیں کر رہے ہیں اور اس وقت تک اپنا یہ فرض نبھاتے رہیں گے جب تک آگ کے شعلے بجھ نہیں جاتے۔

انہوں نے کہا کہ کل قومی مشاورت کے حوالے سے وزیرخزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے آئندہ کے لیے اعلانات کیے، اس کے پیچھے بھرپور مشاورت ہوئی، صدر پاکستان کا مشکور ہوں جنہوں نے پوری قومی قیادت کو ایوان صدر میں دعوت دی جہاں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم، گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور دیگر زعما موجود تھے اور اس کے اگلے دن وزیراعظم ہاؤس میں بھرپور مشاورت ہوئی اور کل بھی بھرپور اجتماع میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ تشریف فرما تھے، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی وزرا سب موجود تھے، لہٰذا بڑی عرق ریزی کے بعد جامع پروگرام کا اعلان کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں بعض ممالک میں میلوں لمبی قطاریں لگیں اور لوگوں کو بےپناہ تکلیف ہوئی لیکن پاکستان میں ہم نے ان تمام معاملات کو دور رکھا اجتماعی کاوشوں اور بروقت فیصلوں کے ذریعے، اب کل کے اعلانات کے مطابق موٹر بائیکل کو ایک لیٹر کے اوپر 100 روپے کی سبسڈی دی جائے گی، ہم نے فیصلہ کیا کہ جو گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مال بردار گاڑیوں کو سپورٹ دینے کے لیے ایک ماہ تک 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی، چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے، پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور کرایوں کا بوجھ آپ پر نہ پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے چھوٹے کسانوں کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ امداد مہیا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، اسی طرح پاکستان ریلوے کے حوالے سے فیصلہ کیا کہ اکانومی کلاس کے ڈبوں میں مسافروں کے لیے کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا، اس حوالے سے وزارت ریلوے کو واضح ہدایات جاری کردی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کل کیے گئے تمام اعلانات تمام قومی جذبات سے بھرے اقدامات کے لیے صوبائی وزرائے اعلیٰ مریم نواز، مراد علی شاہ، سہیل آفریدی، میرسرفراز بگٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس قومی مقصد کے لیے اپنے وسائل مہیا کرنے کے لیے بلاتاخیر وعدے کیے اور یہی وقت کی آواز ہے اور یہ وہ موقع ہے جس وقت اس تاریخ کے بہت بڑے چیلنج کا مقابلہ صرف اور صرف قومی یک جہتی اتفاق اور اتحاد کے ساتھ کیا جاسکتاہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام اعلانات کا اطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے بھی ہوگا اور وسائل وفاقی حکومت بخوشی مہیا کرے گی۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے پوری طرح احساس ہے کہ ان اقدامات کے باوجود آپ کی مشکلات میں کمی ضرور آئے گی روزمرہ کی اشیائے ضروریہ اس سے کہیں زیادہ وسائل مہیا کیے جائیں تو زیادہ نہیں ہوں گے لیکن بڑی درد مندی سے کہنا چاہتا ہوں اور وعدہ ہے جب تک آپ امن اور چین سے دوبارہ اپنی زندگی کے معمولات پر واپس نہیں آتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، ہم تمام توانائیاں اور وسائل آپ کے قدموں میں نچھاور کریں گے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پیٹرول کی مد میں جو کل اعلان کیا گیا کہ 458 روپے تک بڑھ گئی، اس قیمت کم کرنے کے لیے پیڑول کی لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کرتا ہوں، اس طرح آج رات 12 بجے پیٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 378 روپے مہیا ہوگا اور یہ کمی کم از کم اگلے ایک ماہ کے لیے اوراطلاق پورے ملک پر ہوگا، میری اور تمام صوبائی حکومتیں مل کر آپ کی مشکلات میں کمی لانے کے لیے دیوانہ وار کام کرتے رہیں گے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہم ان شااللہ سب مل کر آپ کی مشکلات میں کمی لانے کے لیے ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو اس نازک وقت میں وقت کی پکار ہے اور آپ کا تقاضا ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جنگی طیارے کی تباہی سے ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے، ٹرمپ

Published

on



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایف 16 طیارے کی تباہی کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال جنگی نوعیت کی ہے اور ایسے حالات میں اس طرح کے واقعات غیر معمولی نہیں ہوتے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ ہے اور ہم حالتِ جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ لاپتا عملے کے رکن کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے امریکا کے تین جدید ترین لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان طیاروں کے عملے کو ریسکیو کرنے کے لیے آنے والے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں عملہ زخمی ہوا۔

پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے مطابق امریکا کے جدید ایف 35 طیارے کو وسطی ایران میں نشانہ بنایا گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک اے 10 طیارہ بھی تباہ کیا گیا، قیشم جزیرہ کے قریب ایرانی بحریہ نے ایک امریکی جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر ایجنسی کو امریکی لڑاکا طیارے گرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

غیر سرکاری تنظیموں پر پابندیاں

Published

on


برطانیہ اور یورپ میں صنعتی انقلاب کے ساتھ معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں ہونی شروع ہوگئیں۔ پہلی دفعہ متوسط اور مزدور طبقہ وجود میں آیا۔ کسانوں نے اپنے آبائی پیشہ ، چھوڑ کر شہروں کا رخ کیا۔ نئے شہر آباد ہوئے اور شہروں کی آبادی بڑھنے لگی۔ سیاسی جماعتیں قائم ہوئیں۔ مزدور اور کسان تنظیمیں وجود میں آئیں۔ دانشوروں کے ایسے گروہ معاشرے میں نظر آنے لگے جو فرد کی آزادی اور ریاست کی تنظیم نو کے بارے میں نئے خیالات پیش کرتے تھے۔ اخبارات نے عام آدمی کے مسائل کو اہمیت دینی شروع کی۔

اس صورتحال کے منطقی نتیجے میں برطانیہ میں بادشاہ اور چرچ کا کردار زیرِ بحث آنے لگا۔ برطانیہ میں پارلیمنٹ، بادشاہ اور چرچ کے درمیان تصادم ہوا۔ متوسط اور مزدور طبقہ کی سیاسی جماعتوں اور آزادی کا پرچار کرنے والے دانشوروں نے اس لڑائی میں پارلیمنٹ کی حمایت کی۔ اس لڑائی کے نتیجے میں بادشاہ کے اختیارات میگنا کارٹا معاہدے کے ذریعے محدود ہوئے۔ چرچ کی ریاست کے امور میں مداخلت ختم ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ نے Bill of Right کی منظوری دی۔ اسی طرح ریاست کی تنظیم نو کا آغاز ہوا۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں عوام کی ریاست پر بالادستی قائم ہونا شروع ہوئی۔ خواتین کی انجمنوں نے ووٹ دینے کے حق کے لیے ایک تاریخی جدوجہد کی۔ مزدور تنظیمیں کارل مارکس کے سوشل ازم کے نظریے کی علم بردار بن گئیں۔ اسی دوران سول سوسائٹی مستحکم ہونا شروع ہوئی۔ سول سوسائٹی کی تعریف یوں کی گئی :

“Civil society is like the backbone of a democracy, yaar! It’s the glue that holds the system together, making sure the government stays accountable to the people.In Pakistan, civil society plays a crucial role in:- Promoting transparency and accountability- Advocating for human rights and social justice- Providing a platform for marginalized voices- Encouraging civic engagement and participation.”

برطانیہ اور یورپی ممالک میں سول سوسائٹی جمہوری نظام کے استحکام میں بنیادی ستون بن کر سامنے آئی۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں نے انسانی حقوق کے تحفظ، آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے لیے ماحول کو سازگار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سول سوسائٹی کی کوششوں سے غلامی کا ادارہ ختم ہوا۔ معاشرے کے پسماندہ طبقات، مزدوروں، کسانوں اور خواتین کے مردوں کے برابر حقوق کے لیے سول سوسائٹی نے رائے عامہ ہموار کی۔ ریاست کے نظام کو شفاف انداز میں چلانے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام کے جاننے کے حق (Right to know) کو تسلیم کرنے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بنیادی کردار ادا کیا۔

سیاسی جماعتوں کی قیادت نے سول سوسائٹی کے ایجنڈا کو اپنایا، یوں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے پسماندہ طبقات کی بہبود اور بنیادی شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی۔ بھارت میں سیکولر جمہوریت کے استحکام، مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا ۔یہی وجہ تھی کہ بھارت کی تاریخ کے اہم موضوع پر سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان اپنے قیام کے فوری بعد امریکا کا اتحادی بن گیا۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی برطرفی کے بعد اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہونا شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں سیاسی کلچر کمزور ہوا اور سیاسی جماعتیں عوام سے دور ہونے لگیں۔ اگرچہ وکلاء ،صحافیوں، دانشوروں اور ادیبوں کی تنظیموں نے سیاسی عمل کے خاتمے پر ایک احتجاج شروع کیا مگر فوری طور پر اس احتجاج کے اثرات سامنے نہیں آئے، البتہ جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے سیاسی عمل کو پیچھے دھکیل دیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ سول سوسائٹی کا ادارہ جو پہلے ہی کمزور تھا مزید کمزور ہوگیا۔ وکلاء کی تنظیموں نے اپنی کمزور پوزیشن کے باوجود بنیادی شہری حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ صحافیوں کی نمایندہ تنظیم پی ایف یو جے نے آزادئ صحافت کو درپیش مسائل کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پسماندہ طبقات کی آوازوں کو شدید جھٹکا لگا۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کمزور ہونے کے ساتھ مزدور تحریک مشکلات کا شکار ہوگئی۔ فری مارکیٹ کے نظریے کے تحت استحصال کے نئے طریقے راج ہوگئے۔ مذہبی انتہاپسندی کے طوفان نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کردی۔ اس دوران پاکستان میں سول سوسائٹی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے طاقتور آواز بن کر سامنے آئی۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دوراب پٹیل ، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کو سپریم کورٹ میں غیر قانونی قرار دینے کے لیے متحرک وکیل عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں انسانی حقوق کمیشن HRCP قائم کیا۔ پاکستان، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک میں سول سوسائٹی میں نیا کردار ابھر کر سامنے آیا۔

انسانی حقوق کمیشن نے مزدوروں کے حقوق ، بائنڈڈ لیبر کے خاتمے اور پسند کی شادی جیسے اہم مسائل پر مختلف نوعیت کی تحقیق کی اور ان مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے عدالتوں میں لڑائیاں لڑیں۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی ریاست کے تمام ستونوں پر بالادستی، آئین میں کی گئی غیر جمہوری ترامیم کے خاتمہ ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور شہریوں کے جاننے کے حق کے تحفظ کے لیے ایچ آر سی پی نے تاریخی مہمیں چلائیں۔ اسی طرح خواتین، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈرز کے حقوق اور ان طبقات کے حقوق کے لیے قانون سازی کے لیے ایچ آر سی پی اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے انتہائی بنیادی کردار ادا کیا۔

انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر اور آئی اے رحمن وغیرہ کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور ان رہنماؤں کو عالمی اعزازات دیے گئے ۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور میں جب چوہدری نثار وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ہوئے تو ان کے دور میں غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف ایک نہ نظر آنے والا آپریشن شروع ہوا۔ ان کے دور میں اقوام متحدہ کی دہشت گردی میں سرمایہ کاری کی روک تھام کی ٹاسک فورس (Financial Action Task Force – FATF) نے انتہاپسند مذہبی تنظیموں پر جو پابندیاں عائد کیں، ان پابندیوں کا اطلاق انسانی حقوق اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں پر بھی کیا گیا، یوں یہ ڈیولپمنٹ سیکٹر سکڑنے لگا۔ جب بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر تنقید ہوئی تو حالات کچھ بہتر ہوئے۔

گزشتہ حکومت کے دور اقتدار میں حالات مسلسل خراب ہوتے چلے گئے۔ ایچ آر سی پی نے گزشتہ دنوں Regulation or Restriction کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ این جی اوز (N.G.Os) کو ہر صورت حکومت پاکستان کے Economic Affairs Division سے ایم او یو (مفاہمی یادداشت) پر دستخط کرنا ہونگے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع کی سطح پر نئی این جی او کے رجسٹریشن کے لیے این او سی کا حصول لازمی کردیا گیا۔ اس طرح Provincial Charities Commission سے رجسٹریشن کو لازمی کردیا گیا۔

اب کسی این جی او کے بینک اکاؤنٹ سیل کرنے سے لے کر اس کے دفتر کو سیل کرنے کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہوگئے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں ہونے والے ایک سیمینار میں شرکاء نے متفقہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا کہ یہ پابندیاں مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرداں تنظیموں پر حملہ کے مترادف ہیں۔ اس سیمینار میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن ذیشان نے کہا کہ این جی او پر اس طرح کی پابندیوں سے صرف مظلوم طبقات ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ جمہوری نظام بھی متاثر ہوگا۔ ایک اور دانشور نسیم انتھونی کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں سے معاشرے کی دانش وارانہ روایت کمزور ہوجائے گی۔

ایک وکیل ثاقب جیلانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پالیسی کو جو انسانی حقوق کے چارٹر کے خلاف ہے عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک رہنما نیلم حسن کا یہ موقف تھا کہ ہر صورت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک اور سماجی کارکن بشرہ خالق نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ اس کے طریقہ کار سے جنوبی پنجاب میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز  براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کی اقلیتوں کے لیے جدوجہد کو اقوام متحدہ نے بھی سراہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی موقع ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں نئی حکمت عملی پر غور کریں۔ ایچ آر سی پی پنجاب کے وائس چیئرمین راجہ اشرف نے اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بنیادی حقوق کو ایک منصوبے کے تحت واپس لیا جارہا ہے۔ اس سیمینار کے شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے سویلین اسپیس کم کررہی ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے سرگرداں این جی اوز کو جمہوریت کا ستون کہا جاتا ہے۔ ان تنظیموں نے انسانی حقوق کی پاسداری کرکے ایک طرف عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کیا ہے تو دوسری طرف پوری دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ ابھر کر سامنے آیا۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کا جمہوری تشخص متاثر ہوگا ۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسلام آباد میں ایران-امریکا ‘بریک تھرو’ مذاکرات ہوتے ہوتے رہ گئے

Published

on



پاکستان نے خلیجی جنگ روکنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بھرپور خاموش سفارتی کوشش کی اور دو مرتبہ یہ مذاکرات میں بریک تھرو ہوتے ہوتے رہ گیا۔

حکومت کے پس منظر میں ہونے والی سفارت کاری سے واقف ایک سینئر عہدیدار کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکا کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد حال ہی میں دو مختلف اوقات میں ایرانی عہدیداروں سے براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد کے دورے کے لیے تیار ہوئے تھے۔

جے ڈی وینس کی دونوں دفعہ اسلام آباد کے دورے کی کوششیں عین وقت پر تہران کی جانب سے اندرونی مشاورت اور بالآخر شرکت کے خلاف فیصلے کے بعد ناکام ہوئیں۔

حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی وفد اپنے نائب صدر کی سربراہی میں گزشتہ چند روز میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے کو تیار تھا، ہم بہت قریب تھے، گزشتہ 10 روز کے دوران دو مرتبہ ہم انتہائی اہم اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار تھے بدقسمتی سے دونوں مواقع پر ایران نے نظرثانی کی اور اپنی ٹیم نہیں بھیجی۔

پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے غیرجانب دار کردار کی پوزیشن سرگرم انداز میں برقرار رکھی ہے اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک مقام کے طور پر پیش کش بھی کیا ہے۔

یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد کی علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کی وسیع تر کوششیں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملوں کے بعد پیدا ہونے والی بدترین صورت حال کے پیش نظر کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

وفاقی حکومت کے عہدیدار نے نشان دہی کی کہ امریکا نے مذاکرات میں شرکت کی حامی بھری تھی جبکہ ایران موجودہ حالات کے تحت مذاکرات میں شمولیت کے خطرات کا زیادہ محتاظ انداز میں جائزہ لے رہا تھا، ‘مجھے کہنے دیجیے ہم ایرانی جواب سے کسی حد تک مایوس بھی ہوئے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘امریکا کے حوالے سے ان کے تحفظات حالیہ سفارتی پیش رفت کے تحت قابل فہم ہیں لیکن سفارت کاری کو ہمیشہ موقع دینا چاہیے، خاص طور پر ایک ایسے نازک موقع پر’۔

حکومتی عہدیدار نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ کشیدگی سے قبل پاکستان نے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے کی کوشش کی تھی، وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ تہران میں اس وقت کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ مذاکرات کے لیے دورے کی تیاری کرلی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ طے شدہ دورہ سیکیورتی خدشات کے باعث نہیں ہوسکا اور ایرانی حکام کی جانب سے آگاہ کردیا گیا کہ موجودہ حالت کے پیش نظر سپریم لیڈر کے ساتھ ملاقات ممکن نہیں ہوگی جس کے باعث پاکستان کو اپنا دورہ مؤخر کرنا پڑا۔

حکومتی عہدیدار کے بیانات خطے میں جاری پس پردہ ہونے والی فعال سفارتی سرگرمیوں کی ایک بڑی جھلک کا عکاس ہیں، یہ ایسی کوششیں ہیں، جو عام طور پر زیادہ تر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں لیکن علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

پاکستان کا کردار یہاں ثالثی تک محدود نہیں رہا، اس کا سفارتی عمل اور خاص طور پر اسرائیل پر تنقید کو خلیج کے مخصوص ممالک میں مثبت انداز میں نہیں دیکھا گیا جس کا عکس 19 مارچ کو ریاض میں منعقدہ 12 مسلم ممالک کے اجلاس میں دیکھا گیا جہاں یہ ممالک خطے کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے۔

عہدیدار کے مطابق اجلاس سے چند لمحے قبل ترک اور پاکستانی وزرائے خارجہ کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی اور ہاکان فیدان نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا بعد میں اسحاق ڈار بھی اس فون کال میں شامل ہوئے، اس دوران عباس عراقچی نے دونوں ممالک سے درخواست کی کہ اجلاس کا مشترکہ بیان یک طرفہ یا ایران پر غیرمتناسب تنقید کے ساتھ نہیں ہو۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس انتہائی کشیدہ صورت حال میں ہوا تھا جب پورے ریاض میں ایران کی جانب سے جوابی حملوں کے خطرات کے باعث سائرن بج رہے تھے۔

پاکستانی عہدیدار کے مطابق اجلاس کے دوران بیان کا ایک ڈرافٹ دیا گیا، جس میں بڑے پیمانے پر ایران کو کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، پاکستان نے ڈرافٹ کی زبان پر سخت اعتراض کیا اور مؤف دیا کہ اس میں بحران کی بنیادی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے حملوں کا ذکر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے زور دیا کہ اعلامیہ متوازن ہونا چاہیے اور بنیادی مسائل نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں’ اور کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد پاکستان کو ڈارفٹ میں اہم ترامیم، غیرجانب داری یقینی بنانے اور الزامات میں کمی لانے میں کامیابی ملی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا یہ سخت مؤقف تمام شریک کاروں کو اچھا نہیں لگا، چند ممالک اسلام آباد کی پوزیشن پر ناخوش نظر آئے اور اس کو ایران کے ساتھ حد سے زیادہ ہمدردانہ طور پر دیکھا گیا۔

عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان سفارتی کوششوں کے علاوہ کسی ایسے فوجی یا سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے محتاط بھی رہا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، عہدیدار نے اشارہ دیا کہ اسلام آباد نے آبنائے ہرمز میں کثیرالملکی ٹاسک فورس کی ممکنہ تشکیل کی تجویز کی مخالفت کی ہے، ٹاسک فورس کے حوالے سے اقدام کو بعض لوگ ممکنہ طور پر اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں۔

یہ محتاط حکمت عملی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی، جس کا مقصد اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو معمول پر لانے کے اقدامات پر غور کرنا تھا، اسلام آباد نے دعوت مسترد کر دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ اقدام پاکستان کے کشیدگی کم کرنے اور غیر جانب داری کی وسیع تر پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا۔



Source link

Continue Reading

Trending