Today News
یہودی ہو تو بری ، فلسطینی ہو تو پھانسی
دو ہزار بائیس میں اسرائیلی تاریخ کی سب سے متشدد ، نسل پرست ، توسیع پسند مخلوط حکومت کی تشکیل کی سودے بازی میں مقبوضہ مغربی کنارے کے یہودی آبادکار اتمار بن گویر کی جماعت جیوش پاور ( اوتزما یہودت ) نے نیتن یاہو کے سامنے جو شرائط رکھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ’’ فلسطینی دھشت گردوں ‘‘ کو سزاِ موت دینے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
انیس سو باسٹھ میں نازی جنگی مجرم ایڈولف آئخمین کی پھانسی کے بعد سے اب تک اسرائیل میں کسی کو تختہِ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔آئخمین سے قبل انیس سو اڑتالیس میں ایک اسرائیلی فوجی افسر مائر توبیانسکی کو غداری کے جرم میں فوجی عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی دی گئی۔تاہم بعد از موت مقدمے کا ازسرِ نو جائزہ لیتے ہوئے مائر توبیانسکی کو عدالتی ریکارڈ میں بے گناہ لکھا گیا۔
انیس سو چون میں سپریم کورٹ نے عام قتل کے لیے سزاِ موت کو پینل کوڈ سے خارج کردیا اور صرف غداری اور نازی جنگی مجرموں کے لیے ہی موت کی سزا برقرار رکھی گئی۔انیس سو اٹھاسی میں نازی مجرم جان دیمانک کو سزاِ موت سنائی گئی تاہم انیس سو ترانوے میں سپریم کورٹ نے اس سزا کو عمر قید میں بدل دیا۔
سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک نوے فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں بھوک ، ٹارچر یا علاج کی سہولت نہ ملنے کے سبب جاں بحق ہو چکے ہیں۔ فلسطینی بھلے جیل میں ہوں یا جیل سے باہر۔ان کی زندگی ویسے بھی ارزاں ہے۔سزاِ موت کے قانون کے نفاذ سے بس اتنا ہو گا کہ فلسطینی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو ’’ قانونی ‘‘ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
اس قانون کی منظوری سے کئی ماہ پہلے ہی بدنامِ زمانہ اوفر جیل میں پھانسی گھاٹ تعمیر کر دی گئی۔قومی سلامتی کے وزیرِ بن گویر جب بھی اسرائیلی جیلوں کا دورہ کرتے تو اپنے گلے کے گرد دونوں ہاتھوں سے حلقہ بنا کر فلسطینی قیدیوں کو جتاتے کہ تم سب پھانسی کے حقدار ہو۔
اتمار بن گویر کتنا بڑا ذہنی مریض ہے ؟ ایک قصہ سن لیجیے۔ولید دقا فلسطینی ادب کا ایک معتبر نام ہے۔ولید کو ’’ دہشت گردی ‘‘ کے الزامات میں مقبوضہ مغربی کنارے کی ایک فوجی عدالت نے انیس سو اسی کے عشرے میں اڑتیس برس قید کی سزا سنائی۔دو ہزار تئیس میں ولید نے اپنی سزا مکمل کر لی مگر رہا کرنے کے بجائے دیگر قیدیوں کی اہلِ خانہ سے رابطہ کاری میں ’’ مدد ‘‘ کے جرم میں ولید کی سزا میں مزید دو برس کی توسیع ہو گئی۔اپریل دو ہزار چوبیس میں ولید کا قید خانے میں ہی باسٹھ برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔انھیں کینسر تھا۔
اتمار بن گویر نے اپنے دکھ کا اظہار کچھ یوں کیا ’’ مجھے ولید کی طبعی موت کا بہت افسوس ہے۔میرا بس چلتا تو اپنے ہاتھ سے پھانسی دیتا ‘‘۔( ولید کی لاش آج تک اسرائیلی سرد خانے میں قید ہے )۔
تیس مارچ کو پارلیمنٹ میں اس قانون کے لیے فائنل ووٹنگ ہوئی۔اجلاس کی خاتون صدر منظوری کا اعلان کرتے ہوئے مارے خوشی کے رو پڑیں۔ نیتن یاہو کے ووٹ سمیت بل کے حق میں باسٹھ اور مخالفت میں سینتالیس ووٹ آئے۔بن گویر نے اسمبلی فلور پر شیمپین کی بوتل کھولتے ہوئے کہا کہ ’’ اب ہم مجرموں کو ایک ایک کر کے گنیں گے اور آگے بھیجیں گے ‘‘ ( یعنی تختہِ دار پر لٹکائیں گے )۔
یہ غالباً دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے جس کے تحت اگر کسی فلسطینی پر کسی یہودی کی جان لینے کا الزام ثابت ہو جائے تو اسے لازماً نوے دن کے اندر پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔فوجی عدالت سادہ اکثریت سے بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ جب کہ کوئی یہودی اگر غیر یہودی ( فلسطینی ) کو قتل کر دے تو اسے زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
اس قانون کا اطلاق محض اسرائیل کی حدود میں ہی نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پر بھی ہوگا جہاں گذشتہ انسٹھ برس سے مارشل لا نافذ ہے اور آج فلسطینی کسی بھی جرم میں حراست میں لیے جائیں ان میں سے ننانوے اعشاریہ چوہتر فیصد کو کوئی نہ کوئی چھوٹی بڑی سزا سنائی جاتی ہے۔جب کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد یہودیوں کے مقدمات سول عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں اور ان کو ملنے والی عدالتی سزاؤں کا تناسب ( کنوکشن ریٹ ) محض ڈھائی فیصد ہے۔یعنی سو میں سے ستانوے یا اٹھانوے ملزم چھوٹ جاتے ہیں۔
ان بری ہونے والوں میں سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کے دیہاتوں سے چالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو بندوق کی نوک پر بے دخل کرنے ، زمینوں اور باغات پر قبضہ کرنے کے لیے قتل ، ریپ اور اغوا کی ساڑھے سات ہزار وارداتوں میں ملوث وہ سیکڑوں مسلح یہودی آباد کار بھی شامل ہیں جن کے خلاف فردِ جرم عموماً دو پیشیوں کے بعد داخلِ دفتر ہو جاتی ہے۔
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں تین سو ساٹھ بچوں اور تہتر خواتین سمیت ساڑھے نو ہزار سے اوپر فلسطینی قید ہیں۔ان میں سے محض ایک ہزار پر باقاعدہِ فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔باقی قیدیوں کو کئی کئی برس سے انتظامی نظر بندی کے مبہم قانون کے تحت رکھا جا رہا ہے۔ان کی قید میں ہر چھ ماہ بعد توسیع کر دی جاتی ہے۔
عالمی عدالتِ انصاف کی رولنگ اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں مغربی کنارہ ، غزہ اور گولان کا علاقہ غیر قانونی قبضے میں ہے۔بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل ایک قابض ریاست ہے چنانچہ اسرائیلی پارلیمنٹ مقبوضہ علاقے کے لیے قانون سازی کی مجاز نہیں ۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر والکر ترک نے اس قانون کے مقبوضہ علاقے میں نفاذ کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔اسی بنیاد پر اسرائیل کی ایسوسی ایشن آف سول رائٹس اور پارلیمنٹ کے دو ارکان نے نئے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
یورپی یونین ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، متعدد عرب اور غیر ممالک نے اس قانون کو بین الاقوامی نظائر کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں اس کے خلاف مظاہرے بھی جاری ہیں۔مگر اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح تمام ردِ عمل کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔امریکی کانگریس اور سینیٹ میں تو اس بابت کسی قرار داد ِ مذمت کے منظور ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فلسطینیوں کو سزاِ موت دینے کا قانون اس فیصلے کے ایک ماہ بعد نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت سدی تمیم کے بدنامِ زمانہ فوجی کیمپ میں فلسطینی قیدیوں کے اجتماعی ریپ کے مجرم تمام فوجیوں کے خلاف حکومت نے فردِ جرم واپس لے لی۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کیلیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بجلی کے شعبے کے لیے 830 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دیدی ہے، تاہم اس کے ساتھ جنوری 2027 میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی نئی شرط بھی عائد کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سبسڈی میں سے تقریباً 300 ارب روپے بجلی چوری اور بلوں کی کم وصولی کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آئندہ سال جنوری میں سالانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس میں عالمی توانائی مارکیٹ خصوصاً مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات شامل ہوں گے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی کو یقینی بنایا جائیگا، جبکہ مختلف صارفین پر اس کا بوجھ متوازن انداز میں تقسیم کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے 830 ارب کی سبسڈی کی منظوری تو دی ہے، تاہم یہ حکومت کی طلب سے 16 فیصد کم ہے، اس رقم میں ٹیرف ڈیفرنس، سابق فاٹا کے واجبات، زرعی ٹیوب ویلز، اور سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی شامل ہے۔
حکومت نے ایک بار پھر یقین دلایا ہے کہ بجلی کے شعبے کی مالی بہتری کیلئے اصلاحات جاری رکھی جائیں گی، مگر ماضی کی طرح قیمتوں میں اضافے کے باوجود سرکلر ڈیٹ میں کمی نہ آنا پروگرام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے ماہرین ایک تضاد قرار دے رہے ہیں۔
حکومت نے آزاد بجلی پیدا کرنیوالے اداروں کے ساتھ واجبات کے معاملات جون 2026 تک حل کرنے اور کے الیکٹرک کے ساتھ تنازع دسمبر 2026 تک نمٹانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
Source link
Today News
امریکی دفاعی بجٹ1.5 ٹریلین ڈالرز تک بڑھانے کی تجویز، سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان
امریکا کا دفاعی بجٹ 1.5 کھرب ڈالرز تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیوں کا امکان ہے، دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری کے لیے کانگریس سے درخواست کر دی ہے، جو جدید تاریخ میں فوجی اخراجات کی بلند ترین سطح ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیش کیے گئے اس نئے بجٹ منصوبے میں دفاعی اخراجات میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 73 ارب ڈالر کی کٹوتیاں مختلف داخلی حکومتی پروگرامز میں کرنے کی سفارش بھی شامل ہے، ان کٹوتیوں کا ہدف صحت، تعلیم، رہائش اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے امدادی منصوبے ہیں۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اضافہ عالمی سطح پر جاری تنازعات، خصوصاً ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پیش نظر ضروری ہے۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، چاہے اس کے لیے فلاحی پروگرامز میں کمی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ تاہم اس مجوزہ بجٹ پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں جماعتوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سطح پر دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ صرف وفاقی قرضے میں مزید اضافہ کرے گا بلکہ عوامی فلاح کے اہم شعبے بھی متاثر ہوں گے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے داخلی اخراجات میں تقریباً 10 فیصد کمی کی تجویز دی ہے، جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے، اساتذہ کی تربیت، طبی تحقیق، صاف توانائی اور ٹیکس فراڈ کے خاتمے جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔ بعض پروگرامز، جو اقلیتی برادریوں اور کمزور طبقات کی مدد کرتے ہیں، مکمل طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں۔
بجٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ بھی شامل ہے، جس کے تحت محکمہ انصاف کے لیے 40 ارب ڈالر سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ بجٹ بغیر بڑی تبدیلیوں کے منظور ہو جاتا ہے تو آئندہ دہائی میں امریکی قرضے میں کھربوں ڈالر کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تقریباً 39 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی آئین کے تحت بجٹ کی حتمی منظوری کا اختیار کانگریس کے پاس ہے اور صدر کی تجویز کو قانون بنانے کے لیے قانون سازوں کی منظوری درکار ہوگی۔
Source link
Today News
چلتی مسافر کوچ میں لوٹ مار، تین مسافر زخمی، ملزمان نقدی اور موبائل فونز لے کر فرار
اسلام کوٹ سے حیدرآباد آنے والی ایک مسافر کوچ میں مسلح افراد نے دورانِ سفر لوٹ مار کی، جس کے دوران تین مسافر زخمی بھی ہو گئے۔ واردات کا واقعہ حیدرآباد-میرپورخاص روڈ پر پیش آیا۔
پولیس کے مطابق سات ملزمان میرپورخاص سے مسافروں کے بھیس میں کوچ میں سوار ہوئے اور جیسے ہی کوچ ٹنڈوالہیار کے علاقے کیہری شاخ کے قریب پہنچی تو انہوں نے اسلحہ نکال کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے کوچ میں موجود مسافروں سے کئی لاکھ روپے نقدی اور مختلف اقسام کے موبائل فون لوٹ لیے۔
پولیس کے مطابق لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے مسافروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں ملزمان ٹنڈوجام کے قریب باغ بی بی فاطمہ کے مقام پر کوچ رکوا کر فرار ہو گئے۔
واقعے کے بعد متاثرہ مسافر جب تھانہ راہوکی کی حدود میں پہنچے تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ ایس ایچ او تھانہ راہوکی سب انسپیکٹر نورشہباز رند کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد سے ابتدائی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔
آئی جی سندھ نے ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے، پٹرولنگ اور سرچ آپریشن تیز کرنے کے ساتھ ساتھ داخلی و خارجی راستوں پر پولیس پکٹنگ اور چیکنگ مزید مؤثر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports7 days ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines7 days ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
وزیراعظم کا ملائیشین ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، عید کی مبارکباد، ملکر کام جاری رکھنے پر اتفاق
-
Today News2 weeks ago
امریکی غرور اور طاقت کی علامت ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
-
Today News2 weeks ago
رمضان کے بعد ضبطِ نفس کا امتحان