Today News
بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی آزمائش
حال ہی میں بنگلہ دیش میں نئے انتخابات کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ملک کا اقتدار سنبھال چکی ہے۔ خالدہ ضیاء اس پارٹی کی ایک مقبول رہنما تھیں، وہ تین مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہ چکی تھیں۔ پچھلے سال 30 دسمبر کو وہ طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔
ان کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا طارق رحمان بنگلہ دیش کے نئے انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کے بعد نیا وزیر اعظم بن چکا ہے۔
جب ان کی والدہ برسراقتدار تھیں وہ حکومتی کاموں میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتے رہتے تھے، وہ حسینہ واجد کے دور میں سیاسی مخالفت کی وجہ سے جیل میں ڈال دیے گئے تھے۔ وہ تقریباً دو سال جیل میں رہے اور جیسے ہی رہائی ملی ملک چھوڑ کر یورپ چلے گئے تھے جہاں انھوں نے 17سال گزارے۔
انھوں نے کئی مرتبہ وطن آنا چاہا مگر ان کی والدہ نے انھیں روک دیا کیونکہ وہ خود حسینہ واجد کے سیاسی انتقام کی وجہ سے طویل جیل کاٹ رہی تھیں، وہ نہیں چاہتی تھیں کہ بیٹا پھر قید ہو جائے۔ حسینہ واجد نے بھارتی ’’را‘‘ کی مدد سے تین بار عام انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں۔
وہ 2001 سے 2025 تک یعنی 24 سال تک بنگلہ دیش کی مطلق العنان حکمراں رہیں، اس سے قبل بھی وہ 1996سے 2001تک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہ چکی تھیں۔ حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمٰن بنگلہ دیش کے بانی کہلاتے ہیں مگر اس میں بھی تنازعہ ہے کیونکہ خالدہ ضیاء کے شوہر ضیاء الرحمن بھی خود کو بنگلہ دیش کا بانی کہتے تھے پھر ان دونوں کے دعوؤں سے ہٹ کر بھارت خود کو بنگلہ دیش کا بانی قرار دیتا ہے۔
حسینہ واجد مجیب الرحمن کی بیٹی ہونے کے ناتے عوامی لیگ میں کافی اثر رکھتی تھیں اور دراصل یہی پارٹی تھی جس نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ حسینہ واجد اپنے والد کے پاکستان کو توڑنے میں اہم کردار کی وجہ سے بنگلہ دیش کو اپنے والد کی میراث خیال کرتی تھیں اور اسی طرح بنگلہ دیش پر حکومت کرنا اپنا حق سمجھتی تھیں۔
ان کے اسی خیال نے انھیں بنگلہ دیش کا ایک جابر اور مغرور حکمراں بنادیا تھا۔ مجیب الرحمٰن نے 1972 سے اگست 1975 تک بنگلہ دیش میں حکومت کی تھی مگر ان کی حکومت بھی بدعنوانی کی وجہ سے بدنام رہی تھی، وہ غریبوں کے لیے کچھ نہیں کرسکے۔
انھوں نے پاکستان کو توڑتے وقت بنگالی مسلمانوں سے جو وعدے کیے تھے،ایک بھی پورا نہیں کیا البتہ بنگلہ دیش کو بھارت کا غلام بنادیا۔ 15اگست 1975 کو بنگلہ دیش کی فوج کے چند جوانوں نے ان کی دھان منڈی میں رہائش گاہ پر حملہ کرکے انھیں ان کے خاندان سمیت قتل کردیا تھا چونکہ ان کی دونوں بیٹیاں حسینہ واجد اور ریحانہ وہاں موجود نہیں تھیں وہ بچ گئی تھیں۔
حسینہ واجد 1991میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم منتخب ہوئیں اور 2009میں بھارت کی حمایت اور ’’را‘‘ کی کوششوں سے وزیر اعظم منتخب ہوگئیں۔ اس کے بعد تین عام انتخابات منعقد ہوئے جن میں وہ فاتح رہیں حالاں کہ ان انتخابات میں حد سے زیادہ بے ضابطگیاں ہوئیں۔
ان انتخابات کے وقت حزب اختلاف کی سب سے بڑی رہنما خالدہ ضیاء کو جیل میں رکھا گیا تھا۔ حسینہ واجد نے مسلسل 24 سال تک حکومت کی۔ ان کی طاقت کا اصل سرچشمہ بھارت تھا۔ حسینہ کی حکومت مکتی باہنی کے دہشت گردوں پر بہت مہربان تھی کیونکہ مکتی بانی کے دہشت گردوں نے بھی بھارتی فوج کے ساتھ مل کر پاکستان کو توڑا تھا اور یوں مجیب الرحمٰن کے خاندان کو اقتدار تک رسائی ملی تھی۔
حسینہ کی حکومت کو حد سے زیادہ بھارت سے لگاؤ اور کھلے عام کرپشن کی وجہ سے عوام میں غیر مقبول بنادیا تھا پھر اس نے عام نوجوانوں کو نوکریاں دینے کے بجائے مکتی باہنی کے دہشتگردوںکی اولادوں کو نوکریاں دینا شروع کی تو نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی اس کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
یہ احتجاج دن بدن بڑھتا ہی گیا اور چنددنوں میں پورے ملک میں پھیل گیا۔ حسینہ نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پولیس اور فوج کو استعمال کیا چنانچہ سیکڑوں نوجوانوں کو شہید کردیاگیا مگر عوامی احتجاج جو انقلاب کی صورت اختیار کرگیا تھا نہ رکا اور بالاخر حسینہ کو ملک چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینا پڑی۔
وہ بھارت کے سوا کسی دوسرے ملک میں پناہ لینا چاہتی تھیں مگر کسی ملک نے اپنے ہاں نہ آنے دیا کیونکہ اس کے ہاتھ اپنے ہی عوام کے خون سے آلودہ تھے۔ بنگلہ دیش میں ایک عبوری حکومت قائم ہوگئی جس کے سربراہ عالمی شہرت یافتہ بینکار اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس مقرر ہوئے ۔ وہ ایک جہاں دیدہ شخص ہیں ان کے دور میں پاکستان سے تعلقات بحال ہوئے جو حسینہ واجد کے دور میں خراب سے خراب تر ہوگئے تھے۔
انھوں نے وعدہ کے مطابق 12فروری 2026 کو عام انتخابات منعقد کرائے جس میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی فاتح رہی جس کے نتیجے میں خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان وزیراعظم بنے۔ حسینہ کے دور میں خالدہ ضیاء کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں اور انھیں اکثر جیل میں رکھاگیا۔
خالدہ ضیاء نے اپنے دور میں پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم رکھے مگر اب ان کے بیٹے طارق رحمان کی پالیسی میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ۔ انھوں نے بھارت سے پھر سے پہلے جیسے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران جنگ کی وجہ سے اس وقت تمام ہی ملک ایندھن کی کمیابی کا شکار ہیں۔ طارق رحمان نے بھارت سرکار سے تیل کی درخواست کی تھی جس پر بھارت نے پانچ ہزار میٹرک ٹن پٹرول بنگلہ دیش کو فراہم کردیا ہے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ بھارت بھی بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات بہتر چاہتا ہے مگر اس نے بنگلہ دیش کے ساتھ جو زیادتیاں کیںان کا کیا ہوگا۔
حسینہ واجد کے حکم پر ہر سال بنگلہ دیش میں 1971 میں مرنیوالے بنگالیوں کی یاد میں سوگ منایا جاتا ہے جو کہ یقیناً بھارت کی فرمائش پر ہی منعقد کیا جاتا ہے تاکہ پاکستان اور اس کی فوج کو بدنام کیا جاسکے۔
بدقسمتی سے یہ دن طارق رحمان کی نئی حکومت میں پورے بنگلہ دیش میں منایاگیا جب کہ حزب اختلاف کی بڑی پارٹی جماعت اسلامی اس کے خلاف تھی کیونکہ یہ دراصل بھارت کو خوش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
طارق رحمان بھول گئے کہ ان کی والدہ کے ساتھ حسینہ واجد نے کیا کیا ظلم کیے تھے ، صرف اس لیے کہ وہ پاکستان سے دوستی کی خواہاں تھیں اور 1971 کی علیحدگی کے وقت تمام قتل و غارت گری کا ذمے دار عوامی لیگ اور اس کے دہشت گردوںکو قرار دیتی ہیں ۔ اس کے دور میں پاکستان سے تجارتی تعلقات بحال ہوچکے تھے، وہ بحیثیت بنگلہ دیشی وزیراعظم پاکستان کا دورہ بھی کرچکی تھیں۔ اب طارق رحمان کی پالیسی میں تبدیلی کے اشارے سامنے آرہے ہیں۔دیکھتے ہیں ، آگے کیا ہوتا ہے۔
Today News
حکومت کہتی ہے عدالتیں مداخلت کرتی ہیں، اب خود قانون سازی جیسے مقدمات لا رہی ہے، آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت نے گلگت بلتستان مجودہ قانون سازی کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت کیوں مانگ رہے ہیں، گلگت بلتستان سے متعلق قانون سازی کے لیے سینیئر سیاستدانوں سے مشاورت کریں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قانون سازی کرنے کی مجاز ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حکومت کو اجازت درکار ہے۔
جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ یہ سیاسی ایشو ہے حکومت خود حل کرے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کی بحث عدالت میں ہو تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا، عدالت کو تمام فریقین کو نوٹسز دینا پڑیں گے۔
جسٹس حسن نے ریمارکس دیے حکومت پہلے کہتی کہ عدالتیں مداخلت کرتی ہیں اور اب حکومت خود ایسے مقدمات لیکر آ رہی ہے، قانون سازی کا مجوزہ پروپوزل کیا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گلگت بلتستان چیف جج اور ججز کی پنشن قانون میں نہیں ہے، چیف جج اور دیگر ججز کی پنشن کو قانون میں شامل کرنا ہے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان کی پانچ سال کی مدت کا تعین کرنے کی تجویز ہے۔
جسٹس کے کے آغا خان نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے حکومت کو بہت جلدی ہے، عام طور پر حکومت اتنا جلدی نہیں کرتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت ملتوی کر دی۔
Source link
Today News
بنگلادیش کرکٹ کا بحران شدت اختیار کرگیا
بنگلادیش کرکٹ میں جاری بحران شدت اختیار کرگیا، مزید 3 ڈائریکٹرز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق شانیان تنیم، فیض الرحمان اور محراب عالم چوہدری نے ہفتے کے روز طویل بورڈ اجلاس کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا، جس کے بعد 6 ماہ سے بھی کم عرصے میں مستعفی ہونے والے ڈائریکٹرز کی تعداد 6 ہوگئی۔
قبل ازیں یاسر محمد فیصل، اشتیاق صدیق اور امجد حسین نے بھی مختلف وجوہات کے سبب بطور ڈائریکٹر استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم تازہ استعفوں کی وجوہات باضابطہ طور پر واضح نہیں کی گئیں اور انہیں ذاتی فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امین الاسلام کی سربراہی میں بورڈ شدید دباؤ کا شکار ہے جبکہ گزشتہ سال اکتوبر کے انتخابات کی تحقیقات، حکومتی مداخلت کے الزامات اور انتظامی امور پر تنقید نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔
دوسری جانب بی سی بی کے صدر امین الاسلام بلبل نے بورڈ میں جاری بحران کے باوجود اپنے عہدے پر قائم رہنے کا اعلان کردیا۔
انہوں نے کہا کہ میں کرسی چھوڑنے والا آخری شخص ہوں گا۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2025 کے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات مکمل ہوکر حکومت کو رپورٹ پیش کی جاچکی ہے۔
وزارتِ کھیل نے بھی انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔
امین الاسلام کا کہنا ہے کہ میرا کردار صرف اضلاع سے کونسلرز کے نام طلب کرنے تک محدود تھا اور میں نے تحقیقاتی کمیٹی کو تحریری جواب جمع کرادیا ہے۔
یاد رہے کہ سابق کپتان تمیم اقبال نے بھی انتخابی عمل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے صدارتی دوڑ سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔
Today News
سفری سہولیات مفت ہونے سے راولپنڈی اسلام آباد کی میٹرو بسز شدید رش
حکومت پنجاب کی جانب سے مفت سفری سروس فراہم کرنے کے باعث راولپنڈی اسلام آباد کے مابین چلنے والی ریڈ میڑو اور گرین الیکڑک بسوں میں روزانہ سفر کرنے والوں کا شدید رش لگ گیا۔
دونوں سروسز میں روزانہ کی رائیڈر شپ ایک لاکھ ستر ہزار سے تجاوز کرگئی، راولپنڈی کی ریڈ میڑو بس سروس میں رائیڈر شپ روزانہ 1 لاکھ 29 ہزار سے اور مختلف فیڈرز روٹس پر چلنے والی گرین الیکڑک بسز میں رائیڈر شپ روزانہ 40 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
دونوں سروسز پر شہریوں کو شناختی کارڈ اور طالب علموں کو اسٹودنٹ کارڈ دیکھ کر سفری سہولیات فری فراہم کی جارہی ہیں، ہفتہ اور اتوار تعطیلات ہونے کے باوجود جڑواں شہروں کے مابین روزانہ ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب مسافروں نے سفر کیا۔
گرین الیکڑک فیڈر بسز پر بھی کھڑکی توڑ رش رہا اور ایک دن میں چالیس ہزار سے زائد مسافروں نے سفر کیا، حکام کے مطابق دونوں سروسز ریڈ میڑو اور گرین الیکڑک بسوں پر مجموعی طور پر ایک دن میں 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد شہریوں نے سفری سہولیات سے فائدہ اٹھایا۔
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Today News2 weeks ago
کراچی ایئرپورٹ پر نجی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، 160 مسافر محفوظ