Today News
بارود سے بڑھتا کاربن اور موسمیاتی بحران
دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلی انسانی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے اور ماہرین اسے ’’چھٹی معدومیت‘‘ Sixth Extinction سے تعبیر کر رہے ہیں، تو دوسری طرف جنگوں اور عسکری تنازعات کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ دونوں بحران الگ الگ نظر آتے ہیں، مگر جدید سائنسی تحقیق نے یہ حقیقت ثابت کر دی ہے کہ جنگ اور موسمیاتی تبدیلی دراصل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’ماحول جنگ کا خاموش شکار ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘‘ ان کا یہ بیان آج کی عالمی صورتحال کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔
یہ ایک افسوس نا ک حقیقت ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر کاربن اخراج کی بات ہو تو عسکری سرگرمیاں اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ برطانیہ کی لنکاسٹر یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات پروفیسر سٹیورٹ پارکنسن کا کہنا ہے کے ’’دنیا کی افواج اجتماعی طور پر ایک بڑے ملک کے برابر کاربن خارج کرتی ہیں، مگر ان کے اخراج کو مکمل شفافیت کے ساتھ رپورٹ نہیں کیا جاتا۔‘‘
اسی طرح Conflict & Environment Observatoryکے ماہر ڈگ ویئر کا کہنا ہے کہ’’ جنگی اخراج ایک Hidden Carbon Cost ہے، جسے موسمیاتی پالیسی سازی میں شامل ہی نہیں کیا جاتا۔‘‘
جنگی تباہی کا سب سے بڑا ماحولیاتی اثر انفراسٹرکچر کی تباہی ہے۔یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ ماہر ڈاکٹر مارک سٹیفنز کے مطابق ’’جب شہر تباہ ہوتے ہیں تو اصل کاربن اخراج جنگ کے بعد شروع ہوتا ہے،کیونکہ تعمیر نو کے لیے سیمنٹ اور اسٹیل کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرین ’’Reconstrution Carbon Spike ‘‘کو جنگ کے سب سے خطرناک ماحولیاتی اثرات میں شمار کرتے ہیں۔
ناروے انٹرنیشنل افیئرز انسٹی ٹیوٹ کے محقق ڈاکٹر بینجمن نیومن کے مطابق ’’ایک لڑاکا طیارہ چند گھنٹوں میں اتنا ایندھن جلا دیتا ہے جتنا ایک عام شہری کئی مہینوں میں استعمال کرتا ہے۔‘‘یہ اعداد و شمار اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ جنگی مشینری کس قدر بڑے پیمانے پر کاربن اخراج کا باعث بنتی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن خبردارکرتی ہے کہ جنگی علاقوں میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر جویتا گپتا کا کہنا ہے کہ ’’جنگی دھواں اور زہریلی گیسیں نہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ بارش کے نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔‘‘
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق جنگوں کے دوران توانائی کے نظام میں خلل پیدا ہونے سے ممالک دوبارہ فوسل فیول کی طرف لوٹ آتے ہیں، جس سے عالمی اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔توانائی کے ماہر ڈاکٹر فاتح بیرول کے مطابق ’’جیوپولیٹیکل تنازعات توانائی کی منتقلی (Energy Transition) کے عمل کو سست کر دیتے ہیں، جو موسمیاتی اہداف کے لیے نقصان دہ ہے۔‘‘یاد رہے کہ حالیہ جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران کے حواے سے جاپان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ وہ ’’توانائی بحران اے نمٹنے کے لیے کوئلے کا استمال شروع کرے گا۔‘‘
بین ا الاحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی(IPCC )بارہا خبردار کر چکا ہے کہ اگر عالمی اخراج میں فوری کمی نہ کی گئی تو 1.5°C کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔IPCCسے وابستہ سائنسدان ڈاکٹر ہانس اوٹو پورٹنر کے مطابق ہم پہلے ہی موسمیاتی تباہی کے دہانے پر ہیں،اور جنگی اخراج اس خطرے کو مزید بڑھا رہے ہیں۔‘‘ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنگی اخراج کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا غیر شفاف ہونا ہے۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ’’فوجی اخراجات اور ان سے جڑے ماحولیاتی اثرات کا مکمل ڈیٹا دستیاب ہی نہیں ہے، جس سے عالمی پالیسی سازی متاثر ہوتی ہے۔‘‘
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP)کے مطابق جنگیں زمین، پانی اور حیاتیاتی تنوع کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن کہتی ہیں کہ جنگ کے ماحولیاتی اثرات اکثر دہائیوں تک برقرار رہتے ہیں، اور ان کی بحالی ایک طویل اور مہنگا عمل ہوتاہے۔‘‘پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہیں، ان عالمی جنگی اخراجات کا بوجھ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سیلاب،خشک سالی، فضائی آلودگی اور دیگر کئی ماحولیاتی اور موسمیاتی مسائل میں ہونے والے اضافے کی صورت میں اٹھاتے ہیں ۔
جنگیں اب صرف زمینی یا سیاسی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ اب یہ ایک ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کرہ ارض کو موسمیا تی تباہی سے محفوظ رکھنا ہے تو فوجی اخراج کو موسمیاتی معاہدوں میں شامل کرنا ہو گا اور اس حوالے سے شفاف رپورٹنگ کو بھی یقینی بنانا ہو گا،جنگ سے تباہ حال علاقوں میں ماحول دوست تعمیرات کرنا ہوں گی اور سب سے بڑھ کر تنازعات کاپر امن نکالنا ہو گا ۔
عالمی پالیسی سازوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ ہر دھماکہ، ہر جلتی ہوئی عمارت، اور ہر جنگی مشین فضا میں ایک ایسا زخم چھوڑ رہی ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کو متاثر کرے گا۔جیسا کہ بان کی مون نے کہا تھا کہ
’’ امن نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ زمین کے لیے بھی ضروری ہے۔‘‘
Today News
میچ کے دوران مداحوں کی افراتفری، پولیس میدان میں اتر گئی
جرمنی کے شہر ڈریسڈن کی پولیس نے سیکنڈ ٹیئر فٹبال لیگ میں ڈائنامو ڈریسڈین اور ہرتھا برلن کے درمیان میچ کے دوران مداحوں کے پچ پر داخل ہو جانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہنگامہ آرائی ہفتے کے روز کھیلے گئے میچ کے ابتدائی لمحات میں پیش آئی۔
مداح میدان میں داخل ہوئے جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنی پڑی، گروپس کو علیحدہ کیا اور میدان کو محفوظ کیا۔ افراتفری کے بعد میچ کو 20 منٹ بعد دوبارہ شروع کر دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے حصے کے طور پر پولیس نے امن و امان میں خرابی، خطرناک جسمانی نقصان، پراپرٹی کو نقصان پہنچانے، تذلیل اور ٹکٹ فراڈ کے معاملات دیکھنے کے لیے درجن سے زائد تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔
ڈائنامو ڈریسڈں نے اسٹیڈیم میں پیش آنے والے واقعے پر ندامت کا اظہار کیا اور فنانس ڈائریکٹر اسٹیفن زمرمن نے اسٹیڈیم میں موجود وہ تماشائی جو اس واقعے کا حصہ نہیں تھے سے معذرت کی۔
Source link
Today News
ڈپٹی میئر کراچی نے ناردرن بائی پاس پر مویشی منڈی کا افتتاح کر دیا
ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے ناردرن بائی پاس پر قربانی کے جانوروں کے لیے قائم کی گئی مویشی منڈی کا افتتاح کردیا۔
اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر مویشی منڈی طارق تنولی نے ان کا استقبال کیا ، ترجمان مویشی منڈی کے مطابق ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا میں انتظامیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ پچھلے سال کی طرح رواں سال بھی بھرپور تعاون کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے لوگ عید الاضحیٰ کی خریداری کے لیے ہمیشہ ناردرن بائی پاس عوام دوست مویشی منڈی کا رخ کرتے ہیں یہاں کے سیکیورٹی اقدامات ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں عید الاضحیٰ ہمیں اخوت و بھائی چارگی اور ایک دوسرے کی خدمت کرنے کا درس دیتا ہے۔
ایڈمنسٹریٹر طارق تنولی نے کہا پچھلے کی نسبت رواں سال عوام دوست منڈی کے لیے بہتر اقدامات کیے گئے ہیں، بیوپاریوں اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ، گزشتہ چار روز میں برہمن ، چولستانی، ساہیوال، سلاگر اور ابلک نسل کے اعلی نسل کے خوبصورت اور صحت مند مویشی منڈی لائے جاچکے ہیں، اس سال بیوپاریوں کو جانوروں کے ساتھ چارہ لانے کی بھی سہولت اور انٹری گیٹ پر جانوروں کا میڈیکل چیک اپ بھی کیا جارہا ہے۔
افتتاح کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے ایڈمنسٹریشن بلاک میں قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا جس کے بعد ملکی سلامتی کے لیے دعائیں بھی مانگی گئیں ، ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد کی آمد کے موقع پر ایڈمنسٹریٹریشن بلاک کے پنڈال کو خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔
اس موقع پر سنڈے کو انجوائے کرنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد فیملیز کے ہمراہ عوام دوست منڈی میں موجود تھی ، تقریب کے آخر میں آتشبازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔
Source link
Today News
ایران میں منگل کو پاور پلانٹ اور پل سب کچھ لپیٹ دیا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ معاہدے کا اچھا موقع قرار دیا جبکہ دھمکی بھی دی ہے کہ منگل کو ایران میں پاور پلانٹ اور پل کا دن ہوگا اور سب کچھ لپیٹ دیا جائے گا اور تیل پر قبضہ کرلوں گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ‘ایران میں منگل پاور پلانٹ اور پل کا دن ہوگا، سب کچھ لپیٹ دیا جائے گا’۔
امریکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ پیر کو ایران کے ساتھ معاہدے کا ایک اچھا موقع ہے جبکہ وہ پہلے آبنائے ہرمز کھولنے یا پھر بدترین بم باری کا سامنا کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں کل ایک اچھا موقع ہے، اب وہ مذاکرات کر رہے ہیں، اگر وہ جلد معاہدہ نہیں کرتے ہیں تو میں سب کچھ اڑانے اور تیل پر قبضہ کرنے پر غور کر رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو پھر آپ ان کے ملک بھر میں پلوں اور پاور پلانٹس کو گرتے ہوئے دیکھیں گے۔
قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بتایا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کی مہلت دی تھی اور اب وقت نکلتا جا رہا ہے اور 48 گھنٹے بعد قیامت ڈھا دی جائے گی۔
امریکی صدر اس سے قبل بھی ایران کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں تاہم ثالثی کے لیے ہونے والی کوششوں کے پیش نظر وہ ان میں توسیع کا اعلان کرتے رہے ہیں۔
Source link
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final