Connect with us

Today News

میچ کے دوران مداحوں کی افراتفری، پولیس میدان میں اتر گئی

Published

on



جرمنی کے شہر ڈریسڈن کی پولیس نے سیکنڈ ٹیئر فٹبال لیگ میں ڈائنامو ڈریسڈین اور ہرتھا برلن کے درمیان میچ کے دوران مداحوں کے پچ پر داخل ہو جانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہنگامہ آرائی ہفتے کے روز کھیلے گئے میچ کے ابتدائی لمحات میں پیش آئی۔

مداح میدان میں داخل ہوئے جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنی پڑی، گروپس کو علیحدہ کیا اور میدان کو محفوظ کیا۔ افراتفری کے بعد میچ کو 20 منٹ بعد دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے حصے کے طور پر پولیس نے امن و امان میں خرابی، خطرناک جسمانی نقصان، پراپرٹی کو نقصان پہنچانے، تذلیل اور ٹکٹ فراڈ کے معاملات دیکھنے کے لیے درجن سے زائد تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

ڈائنامو ڈریسڈں نے اسٹیڈیم میں پیش آنے والے واقعے پر ندامت کا اظہار کیا اور فنانس ڈائریکٹر اسٹیفن زمرمن نے اسٹیڈیم میں موجود وہ تماشائی جو اس واقعے کا حصہ نہیں تھے سے معذرت کی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ملکی دولت چند ہاتھوں تک محدود، معاشی نظام کی تشکیل نو ناگزیر

Published

on



اسلام آباد:

پاکستان میں جاری معاشی بحث عموماً شرح سود، مالی خسارے، ٹیکس نظام اور قرضوں کے گرد گھومتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور ساختی نوعیت کا ہے۔

ایک ایسی معیشت جو بنیادی طور پر قرض اور یقینی منافع پر قائم ہو، نہ صرف دولت کو چند ہاتھوں تک محدود کر دیتی ہے اور طویل مدتی ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ متبادل فریم ورک موجود ہے جو اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے اور جس میں استحصالی قرضوں کی حوصلہ شکنی، رسک شیئرنگ کی حوصلہ افزائی، مشکلات کا شکار قرض داروں کیلیے نرمی اور مالی معاملات میں شفافیت پر زور دیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق دولت میں اضافہ صرف پیداواری سرگرمیوں کے ذریعے ممکن ہے۔رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی نظام میں زیادہ تر بوجھ قرض لینے والوں پر ہوتا ہے جبکہ قرض دینے والے محفوظ رہتے ہیں، معاشی سست روی کی صورت میں کاروبار متاثر ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کو حقیقی پیداواری سرگرمیوں سے جوڑنا ضروری ہے، جب سرمایہ بغیر کسی عملی شراکت کے منافع پیدا کرتا ہے تو معیشت میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، اس کے برعکس، شراکت داری پر مبنی سرمایہ کاری کاروبار کو فروغ دیتی اور معیشت کو مستحکم بناتی ہے، سخت قرض کی شرائط اکثر دیوالیہ پن اور بے روزگاری کا باعث بنتی ہیں، جبکہ ری اسٹرکچرنگ اور مہلت دینے جیسے اقدامات معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شفافیت، دستاویزی معیشت اور مضبوط قانونی نظام سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان کو درپیش چیلنجز میں بلند عوامی قرضہ، کم سرمایہ کاری، کمزور صنعتی ترقی اور دولت کا ارتکاز شامل ہیں، پاکستان کو قرض پر مبنی نظام سے نکل کر ایک شفاف، منصفانہ اور شراکت داری پر مبنی معاشی ڈھانچے کی طرف بڑھنا ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Today News

پی ٹی آئی کی 9 اپریل جلسے کیلیے پاور شو کی تیاری، ہر رکن کو 500 کارکن لانے کا ٹاسک

Published

on



پشاور:

پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی صدارت میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں 9 اپریل کو ہونے والے جلسے کے حوالے سے جامع حکمت عملی تیار کرلی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 اپریل کو وزیراعلیٰ کی قیادت میں پشاور سے ایک بڑا قافلہ راولپنڈی کے لیے روانہ ہوگا جو جی ٹی روڈ کے ذریعے پنڈی پہنچے گا۔

حکمت عملی کے تحت اگر قافلے کو کسی مقام پر روکا گیا تو وہیں جلسہ کیا جائے گا، تاہم پارٹی نے تصادم سے گریز کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں پارٹی کے ہر ایم این اے اور ایم پی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کم از کم 500 کارکنوں کو جلسے میں شرکت کے لیے لائیں تاکہ بھرپور پاور شو کیا جا سکے۔





Source link

Continue Reading

Today News

فی من روئی 20 ہزار روپے کے ساتھ بلند سطح پر پہنچ گئی، قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

Published

on



کراچی:

بارشوں کے تازہ ترین لہر، پہلے سے کاشت شدہ کپاس کی فصل متاثر ہونے، خلیج جنگ کے باعث بیرون ملک سے روئی کی درآمدی سرگرمیوں کی معطلی کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹس میں گزشتہ ہفتے فی من روئی 20ہزار روپے کے ساتھ کاٹن ایئر 2025-26 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

رواں ہفتے روئی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں ،تاہم چین میں جاری پاک افغان مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں افغانستان سے روئی کی درآمد بحال ہونے سے قیمتوں میں کمی بھی متوقع ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس سے قبل فروری کے وسط میں درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے سندھ کے ساحلی علاقوں میں کپاس کی بوائی کا بڑی تیزی سے آغاز ہوتے ہی تصور کیا جارہا تھا کہ رواں سال پاکستان میں کپاس کی بوائی پچھلے سال کی نسبت زیادہ ہوگی، ساتھ ہی امریکا اور برازیل سے روئی کی بڑھتی ہوئی درآمدی سرگرمیوں سے مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت گھٹ کر 16ہزار 500روپے کی سطح پر آگئی تھیں۔

بعدازاں بیشتر کاٹن زونز میں بارشوں کے باعث کپاس کی بوائی  اور خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمد معطل ہونے سے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کا رحجان سامنے آیا، جس سے فی من روئی کی قیمت دو سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی جس میں مزید تیزی کے امکانات بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چین میں جاری پاک افغان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات ہیں جس سے پاک افغان بارڈر کھلنے سے افغانستان سے روئی کی درآمدات بحال ہوسکتی ہے اور اسکے نتیجے میں روئی کی قیمت میں کمی بھی ممکن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے روئی کی ڈھائی سے تین لاکھ گانٹھوں تک پاکستان آسکتی ہیں جس سے کاٹن مارکیٹ میں نئے رحجانات بھی سامنے آنے کے خدشات ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending