Connect with us

Today News

کراچی؛ میٹرک کے سالانہ امتحانات ملتوی کردیےگئے

Published

on



کراچی میٹرک بورڈ نے سالانہ امتحانات 3 روز کے لیے ملتوی کردیے اور اب نظرثانی شدہ شیڈول کے تحت 10 اپریل کو میٹرک کے سالانہ امتحانات شروع ہوں گے۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے نامکمل اور ناقص انتظامات کے سبب میٹرک کے امتحانات بروقت شروع نہیں ہوسکیں گے، پورٹل کی عدم فعالیت اور ایڈمٹ کارڈز جاری نہ ہونے کے سبب یہ امتحانات 3 روز کے لیے ملتوی کیے گئے ہیں۔

ترجمان میٹرک بورڈ کراچی کے مطابق میٹرک کے امتحانات اب نظر ثانی شدہ شیڈول کے تحت 10 اپریل سے لیے جائیں گے، اس سے قبل یہ امتحانات منگل 7 اپریل کو شروع ہونے تھے تاہم بورڈ کے مطابق طلبہ کے وسیع تر مفاد میں یہ اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پورے سندھ کی طرح کراچی میں بھی دسویں جماعت کے امتحانات منگل 7 اپریل اور نویں کے بدھ 8 اپریل سے ہونے تھے لیکن امتحانات سے محض ایک روز قبل بھی ہزاروں طلبہ اپنے ایڈمٹ کارڈ سے محروم رہے، ان امتحانات میں ساڑھے 3 لاکھ سے زائد طلبہ کو شریک ہونا ہے، ایڈمٹ کارڈ کے عدم اجرا کے سبب طلبہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کا امتحانی مرکز کہاں ہے۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کی جانب سے ایڈمٹ کارڈ ہفتے کی شام پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم جب نجی و سرکاری اسکول کی انتظامیہ نے پورٹل کے ذریعے ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوشش کی تو بڑی تعداد میں اسکولوں کی جانب سے بورڈ کے پورٹل سے غلطی کا میسج آنے کی شکایات موصول ہوئیں۔

مزید بتایا گیا جن اسکولوں کو ایڈمٹ کارڈ ملے ہیں وہ بھی تعداد کے حساب سے نامکمل ہیں اور امتحانات کی ملتوی شدہ تاریخ 7 اپریل سے ایک روز پہلے بھی کراچی کے طلبہ پرچوں کی تیاری کے بجائے اپنے ایڈمٹ کارڈ اور سینٹر سے لاعلم تھے۔

قبل ازیں ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے اتوار کی رات کو ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق بورڈ سے الحاق شدہ وہ اسکول جو ابھی تک آن لائن ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ نہیں کر پا رہے ہیں وہ اسکول سربراہان یا ان کے نمائندے اپنے اتھارٹی لیٹر کے ساتھ بورڈ آفس کے کانفرنس ہال پہلی ادھر اس صورت حال پر گرینڈ الائنس آف پرائویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز نے وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے امتحانات ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ چیئرمین بورڈ سے اختلاف کے سبب سبکدوش ضیاالحق  16 مارچ سے غیر فعال اور امتحانی امور ٹھپ تھے اور امتحانات سے 4 روز پہلے لاڑکانہ بورڈ کے انسپیکٹر انسٹی ٹیوشنز کو کراچی بورڈ کا ناظم امتحانات مقرر کیا گیا۔

میٹرک کے امتحانات مؤخر کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایسوسی ایشن کے رہنما حیدرعلی کا کہنا تھا  کہ کثیر تعداد میں اسکولوں کے ایڈمٹ کارڈز پورٹل پر اپ لوڈ نہیں ہو سکے ہیں افرا تفری میں اور اندھا دھند بنائے جانے والے امتحانی مراکز پر امتحانی عمل تعلیم کے ساتھ ایک مذاق ہے، ساڑھے 3 لاکھ بچوں کا مستقبل کسی ایک شخص کی جھوٹی عزت اور ذاتی انا کے لیے خراب نہیں کیا جانا چاہیے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی میں ڈاکو شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا، تشدد سے لہولہان، ساتھی فرار

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں اوکھائی مارکیٹ کے قریب شہریوں نے ایک مبینہ ڈاکو کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنا دیا جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

پولیس کے مطابق شہریوں نے ملزم کو مار مار کر لہولہان کر دیا جسے بعد ازاں پولیس نے بمشکل ہجوم سے نکال کر اپنی تحویل میں لیا۔

زخمی ملزم کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پٹرول بم …عوام بے دم!

Published

on


حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قومی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 137روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں پٹرول پر لیوی میں 80 روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی نئی قیمت 378 فی لیٹر مقرر کردی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کمی محض ایک ماہ کے لیے کی گئی ہے۔ ایک ماہ کے بعد عوام کو پٹرول 458 روپے فی لیٹر ہی خریدنا پڑے گا جب کہ ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ملے گا۔

وزیراعظم نے گڈ زٹرانسپورٹرز کے کرایوں میں بھی 65 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت عوام کو کسی قسم کی کوئی سبسڈی دینے سے قاصر ہے لہٰذا ٹارگٹڈ سبسڈی یعنی’’ہدفی مالی اعانت‘‘ کے نام پر کچھ اشک شوئی کرتے ہوئے عوام کو طفل تسلیاں بھی دی گئی ہیں، جیسے موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر پٹرول پر 100روپے لیٹر کی مالی اعانت دی گئی ہے لیکن اس کے حصول کا طریقہ کار اس قدر پیچیدہ رکھا گیا ہے کہ جس کی تکمیل میں ہی ہفتوں گزرجائیں گے۔

چار و ناچار موٹر سائیکل سواروں کو ہر صورت مہنگا پٹرول ہی خریدنا پڑے گا اسی طرح انٹرسٹی بسوں کو بھی فی لیٹر 100روپے کی مالی اعانت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو70ہزار روپے کا مالی تعاون بھی فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے اپنے صوبوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب اور اسلام آباد پبلک ٹرانسپورٹ کو عوام کے لیے فری کردیاگیا، لیکن سوال یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ تو شہروں تک محدود ہے جب کہ پنجاب میں آبادی کا بڑا حصہ گاؤں و دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے جہاں وہ موٹر سائیکلوں اور پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں وہ بیچارے اس سہولت سے کیسے مستفید ہوں گے؟ وزیراعلیٰ سندھ نے 67 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کے مالکان کو ماہانہ 2 ہزار روپے اور چھوٹے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 1500روپے دینے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ عام آدمی کے لیے نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آرہے ہیں، قومی وسائل محدود ہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی نے دنیا کی طاقت اور معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ عام آدمی کس طرح زندگی بسر کررہا ہے۔ ہم عوام کی زندگی کی معمول پر آنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

 اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ امریکا ایران جنگ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوش رہا اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا بھر کی عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی جارہی ہے اور مضبوط معیشتوں کو بھی بڑے جھٹکے لگ رہے ہیں۔ اس کے باوجود دیگر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پاکستان کی طرح ہوش ربا اضافہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی وہاں مہنگائی و گرانی کا طوفان برپا ہوا۔ پڑوسی ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں پٹرولیم مصنوعات قیمتیں آج بھی پاکستان کے مقابلے میں کم سطح پر ہیں۔ مبصرین ماہرین و تجزیہ نگار تیل کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے کو حکومت کی ناقص پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

حکومت پٹرولیم مصنوعات پر مختلف النوع کے ٹیکسوں اورلیوں کی مد میں اربوں روپے منافع وصول کرتی ہے جو عوام کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔ حکومت بڑے دھرلے سے ایک طرف یہ دعویٰ کرتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کریں گے بلکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے ذریعے حکومت یہ بوجھ خود برداشت کرے گی لیکن دوسری جانب معصومانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیتی ہے جس سے نقل و حمل اور پیداواری اخراجات بڑھ جاتے ہیں نتیجتاً اشیائے زندگی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوجاتا ہے اور مہنگائی کا طوفان عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیتا ہے۔

 ادھر حکمرانوں کے اللے تللے اسی طرح سے جاری ہیں۔ کفایت شعاری کے نام نہاد دعوے کیے جارہے ہیں۔ آج بھی وزیراعظم سمیت وزرائے کابینہ کے کانوائے درجنوں گاڑیوں میں گزرتے ہیں جو پیٹرولیم کا غیر ضروری استعمال ہے۔ سرکاری ملازمین کو مفت بجلی، گیس اور پٹرول کی ماہانہ بنیادوں پر فراہمی غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادائیگی حکمرانوں کے عوام پر ظلم و استبداد کی علامت ہے۔ کروڑوں عوام پہلے ہی خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے سے مہنگائی کی طوفانی لہر انھیں مفلسی کی پاتال میں پہنچا دے گی۔ کراچی تا خیبر عوام سراپا احتجاج ہیں اور حالیہ اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آج کی اپوزیشن کی کسی سطح پر کوئی شنوائی نہیں۔ اس کا انجام بھلا کیا رنگ لائے گا؟ حکومت بودے اقدامات اور ناقص فیصلوں سے عوام میں اپنی مقبولیت کھورہی ہے۔ عالمی حالات اپنی جگہ لیکن مشکل حالات میں طبقہ اشرافیہ کو بوجھ برداشت کرنا چاہیے نہ کہ عوام کو جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اب ان پر پٹرول بم گراکر انھیں بے دم کردیاگیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

جنگ کا ایندھن! – ایکسپریس اردو

Published

on


نیویارک پوسٹ نے، اٹھارہ مارچ 2026ء، کو ایک حیرت انگیز تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ انٹرنیٹ پر موجود ہے، کوئی بھی اسے پڑھ سکتا ہے۔ یہ تجزیہ ہر فہمیدہ انسان کو غور وفکر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی جنگ، خانہ جنگی یا بدحالی کا شکار، حقیقت میں کون لوگ ہوتے ہیں۔ حکمران طبقات اور ان کی اولادیں، ہر ملک میں محفوظ بلکہ خوش وخرم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی دور ابتلا آ جائے، تو اپنے پیاروں کو فوراً شورش زدہ علاقے سے نکال کر امریکا، آسٹریلیا، یوکے اور دیگر مغربی پرسکون ممالک میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس طبقے کو اشرافیہ کہنا، تو اس لفظ کی توہین معلوم پڑتی ہے۔

یہ قومی وسائل، عہدے، رعب ودبدبہ اور مال و دولت پر جائز اور ناجائز طریقے سے قابض ہونے والا ٹولا ہوتا ہے جو اپنے اپنے ملک کے حساب سے اپنا حلیہ اور بیانیہ ترتیب دینے میں ماہر ہوتا ہے۔ بلکہ ان کی مہارت پر ہر ایک کو آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں بھی یہی معاملہ ہے۔ طاقت کے محور پر قابض طبقے کی اولادیں مغربی ممالک میں پرسکون زندگی گزارتی نظر آتی ہیں۔ مرتا ہمیشہ غریب اور متوسط درجہ کا انسان ہی ہے۔ کبھی حب الوطنی کے نام پر، اور کبھی عقیدے کی سربلندی کے لیے۔ اس نکتہ پر میں بعد میں، گزارشات پیش کرتا ہوں۔ فی الحال نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کی طرف لوٹتا ہوں۔

ہاں، یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایرانی حکومت نے بھی اس رپورٹ کی نفی نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی رجیم سے متعلق چار ہزار سے پانچ ہزار افراد امریکا سمیت مغربی ممالک میںقیام پذیر ہیں۔ یہ لوگ مغرب میں آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے اپنے ملک میں اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی خبر، اداریہ یا کالم نہیں دیکھا۔ یہاں تو ایرانی رجیم کی ’’امریکا دشمن پالیسی‘‘ کی دھوم ہے۔ ہم اس قدر جذباتی لوگ ہیں کہ اپنا اپنا سچ گھڑ لیتے ہیں اور اپنی رائے بدلنے پر رضامند نہیں ہوتے۔

چلیے، اب نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتا ہوں۔ علی لاریجانی شہید ہوچکے ہیں، وہ ایرانی رجیم کے اہم ترین رکن تھے ۔ انھوں نے اپنے ملک کے لبرل طبقہ کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالی تھی۔ لیکن المیہ دیکھیں کہ ان کی صاحب زادی فاطمہ آردیشر لاریجانی، ڈاکٹر ہیں اور Emory University، جو Atlanta میں واقع ہے، وہاں پریکٹس کرتی رہی ہیں۔بلا آخر انھیں کچھ عرصے قبل اس عہدے سے ہٹا دیا گیا کیونکہ امریکا میں اس پر احتجاج ہوا کہ ایسی رجیم جو امریکا کی مخالف ہے، اس رجیم کے اعلیٰ عہدیدار کی صاحبزادی امریکا میں کیسے مقیم ہے۔ ابھی حال ہی میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور نواسی کی امریکا میںرہنے کی خبر آئی ہے کہ انھیں امریکا بدر کردیا جائے گا۔

سوال یہ بھی ہے اگر امریکا واقعی ’’شیطانِ بزرگ‘‘ ہے تو تعلیم اور اچھے مستقبل کے لیے، اولاد کا امریکا جانا، کیا غیرمناسب نہیں ہے؟ آج ایران میں عام ایرانی کس حال میں ہے؟اب آگے کیا لکھوں۔ لوگ ناراض نہ ہو جائیں۔ ذرا آگے چلیے۔ سابقہ ایرانی صدر، محمد خاتمی کی صاحبزادی بھی امریکا میں ہیں، خاتمی، 1997ء سے لے کر 2005ء تک ایران کے صدر رہے۔ صدر بننے سے پہلے، پورے دس برس، حکومتی وزیر رہے۔ آج بیاسی برس کے ہیں اور تہران میں موجود ہیں۔ ان کی صاحبزادی نیویارک کے ایک یونین کالج میں ریاضی کی پروفیسر ہیں۔ ایک محترم اور ایران کے بہت قد آور عالم ہیں، ان کی بیٹی University of Illinois میں پروفیسر ہیں۔ ان کے شعبہ کا نام Department of Nuclear, Plasma and Radiological Engineering۔

 میرا ایک سوال ہے۔ اگر آپ کو اپنے نظریات پر اعتماد ہے اور آپ امریکا کو دنیا میںظالم اور شیطان گردانتے ہیں تو اولادوں اور رشتہ داروں کے لیے امریکا ہی کیوں! کیا کسی بھی پسماندہ یا ترقی پذیر ملک کا عام باشندہ اپنی اولاد کو دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں جائز طریقے سے منتقل کر سکتا ہے۔ نہیں صاحب! عام شہریوں کو ترقی یافتہ ملکوں میں جانے کے لیے ماں کا زیور فروخت کرنا پڑتا ہے یا زندگی ہتھیلی پر رکھ کر سمندر کی لہروں پر سوار ہونا پڑتا ہے۔ مگر جب حکمرانوں کی اپنی آل اولاد کے مستقبل کی بات آتی ہے تو پھر امریکا اور یورپ سے بہتر کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ اب اس ذہنی اور فکری رویے کو کیا نام دیا جائے؟ یہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔

اس پر میں مزید کیا عرض کروں؟ عرض کرنے کا مقصد بہت سادہ ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک ملک کا نہیں ہے ، مسلمان ممالک کے تمام حکمران طبقے، اپنی اولاد اور دولت کو امریکا اور مغربی یورپ میں ایک بہتر طرز زندگی کے لیے منتقل کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کا بھی یہی حال ہے۔ کسی ایک بڑے یا چھوٹے سیاست دان یا سرکاری اہلکار کا نام فرما دیجیے جنھیں موقع ملا اور انھوں نے اپنی اولاد کو مغربی ممالک میں نہ بھجوا دیا ہو۔ کم ازکم مجھے تو اردگرد کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ مگر ہمارے ملک میں ایک ذہنی دیانت داری ضرور موجود ہے۔ یہاں کوئی چھپاتا نہیں ہے کہ اس کے اہل وعیال امریکا یا لندن میں ہیں۔ ہاں، ریٹائرمنٹ تک یہ سچ ضرور راز میں رکھا جاتا ہے کہ ان کے پاس، سرکاری ملازمت کے دورانیہ میں، کسی بھی مغربی ملک کی شہریت ہے۔ دراصل ایک حددرجہ کڑوا سچ یہ ہے کہ تنازعات، جنگوں، خانہ جنگیوں اور خونی جھگڑوں میں مرنے کے لیے عام آدمی کی اولاد کو بطور چارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی شہادت پر رسمی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ مگر ذرا تحقیق فرما لیجیے، ان میں کوئی بھی کسی حکمران یا طاقت ور انسان کا بچہ نہیں ہوتا۔ ان کے گھر سے کبھی جنازے نہیں اٹھتے۔ بیروزگاری اتنی کڑی ہے کہ غریب انسان کے بچوں کے لیے رزق خاک ہونا عام سی بات ہے۔

کسی بھی ادارے میں معمولی نوکری سے خیر سہولتیں ضرور حاصل ہو جاتی ہیں مگر موت کی روزانہ دستک، سنائی ضرور دیتی ہے۔ اور معاشی مجبوری کی بدولت، اس خون ریز نظام سے نکلا بھی نہیں جاتا۔ اور پھر اچانک کوئی انجان بم، دھماکہ یا گولی، زندگی کی ڈور توڑ دیتی ہے۔ پر، حضور! مارا صرف غریب یا متوسط طبقے کا فرد ہی جاتا ہے۔ یہ انھی کا مقدر ہے۔ دولت مند یا اقتدار سے چمٹے ہوئے لوگ تو اپنی اولادوں کو مغربی ممالک میں منتقل کر چکے ہوتے ہیں۔ ہاں ہر سانحہ پر آب دیدہ ہو کر بیان بازی کا شعبدہ ضرور دکھاتے ہیں۔

تقریباً ہر مسلم ملک کی اشرافیہ اپنے اہل خانہ کو امریکا اور مغربی یورپ میں رکھتی ہو، تو ہمیں اپنے حکمرانوں سے گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں! مرنے کے لیے تو مسکین عوام حاضر ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending