Connect with us

Today News

خلیج کا بحران اور پاکستان کے مقدر کا بلند ستارہ

Published

on


ایک جنگ مشرق وسطی میں لڑی جا رہی ہے اور ایک جنگ پاکستان لڑ رہا ہے۔ دونوں جنگوں میں ایک بڑا فرق ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کا مقصد تباہی ہے جب کہ پاکستان کی جنگ امن کے لیے ہے۔ اتنی بڑی جنگ لڑنے کے لیے پاکستان کو توانائی کہاں سے ملی؟ ملین ڈالر سوال یہی ہے۔ شاہ فیصل کی شہادت کے بعد شہزادہ خالد بن عبد العزیز السعود خادم الحرمین الشریفین کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے تو فوراً ہی ان کے شہید پیشرو اور ان کے درمیان موازنہ شروع ہو گیا۔

اس موقع پر کسی دانش مند نے کہا کہ شاہ فیصل جیسی بھاری بھرکم شخصیت کے جانشین کی مشکل دوہری ہے۔ ایک اپنے عہد کے چیلنجوں کا سامنا اور دوسرے اپنے پیش رو سے موازنہ۔ اتفاق سے وزیر اعظم شہباز شریف بھی اسی قسم کی صورت حال سے دوچار رہے ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، وہ اس قسم کے موازنے سے اوپر اٹھ رہے ہیں۔

کسی سیاست داں کی صلاحیت کا اندازہ کئی پیمانوں سے کیا جا سکتا ہے، ان میں ایک اچھی ٹیم بنانا اور اسے ساتھ لے کر چلنا ہے۔ قومی امور اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے ضمن شہباز شریف کا طرز عمل کیا ہے؟ یہ سوال اہم ہے۔ مجھے وزیر اعظم سے کئی ملاقاتوں کا اعزاز حاصل ہے۔ اہم قومی امور میں ان کی گفتگو سننے کے مواقع بھی اکثر ملے ہیں۔

میں پورے اعتماد سے یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ یہ شخص اجتماعیت پر یقین رکھتا ہے، تنہا پرواز اس کے مزاج میں نہیں۔ مئی کی جنگ کے بعد عالمی منظر نامے پر پاکستان کا پروفائل یک دم بلند ہوا تو ایک مجلس میں کچھ لوگوں نے وزیر اعظم کی تعریف کی۔ اس قسم کے مواقع پر جیسا ہوتا ہے، بعض لوگ وزیر اعظم کی نگاہ میں آنے کے لیے زیادہ تعریف کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسی گفتگو سن کر وزیر اعظم نے اپنے مخصوص انداز میں انگشت شہادت لہرائی یعنی اپنی بات میں زور پیدا کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان کی کامیابیوں کا راز ٹیم ورک میں ہے۔ یہ حقیقت کبھی نظر انداز نہ کی جائے۔‘‘

وزیر اعظم کا ٹیم ورک کیا ہے؟ پاکستان کی موجودہ ہیئت حاکمہ پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے تین مراکز ہیں، ایک وہ خود یعنی وہ اور ان کی کابینہ، دوسرے ایوان صدر اور تیسرے راول پنڈی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بعض عوامل ہمارے یہاں ایسے رہے ہیں جن کی وجہ سے راول پنڈی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی سبب سے بعض اوقات راول پنڈی اور اسلام آباد میں اختلاف رائے بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے بہت سے تکلیف دہ مناظر گزشتہ دہائیوں اور خاص طور پر گزشتہ برسوں میں ہم دیکھتے رہے ہیں۔

راول پنڈی اور اسلام آباد کے درمیان اختلاف رائے دیگر وجوہ سے بھی پیدا ہو سکتا ہے جیسے مفادات کا تصادم لیکن اس کی کچھ وجوہات دوسری بھی ہو سکتی ہیں جیسے پیشہ ورانہ انداز فکر کی وجہ سے تجزیے میں اختلاف کا پیدا ہو جانا۔ اس قسم کی صورت حال میں قیادت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اختلاف رائے کے باوجود سب کو ساتھ لے کر چلے۔

شہباز شریف کی قیادت میں حکومت قائم ہوئے دو برس ہوتے ہیں، اس عرصے میں داخلی اور خارجی معاملات میں بہت سے ایسے مراحل پیدا ہوئے جو طاقت کے ان تینوں مراکز کے راستے جدا کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان کو عالمی منظر نامے میں جو توانائی میسر آئی ہے، اس کا راز یہی ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعظم سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر جانتے ہیں لیکن اتنا کافی نہیں۔ ایسی صورت میں دیگر فریقوں کا تعاون اور خوش دلی بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ تاریخ کے اس مشکل عہد میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلح افواج چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں حکومت کے ساتھ ہر قومی معاملے میں خوش دلی سے تعاون کر رہی ہے۔ یہ وطن عزیز کی خوش قسمتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے، اس کا راز بھی یہی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں پاکستان کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تنہائی کا شکار کر دیا گیا تھا لیکن پی ڈی ایم کی حکومت نے ذمے داری سنبھالتے ہی اس مسئلے کو چیلنج کے طور پر قبول کیا اور چند ماہ کے عرصے میں ہی صورت حال بدل گئی۔ اس میں جہاں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی محنت کو دخل تھا، وہیں بلاول بھٹو زرداری نے بھی وزیر خارجہ کی حیثیت سے اپنے حصے کی خدمت انجام دی۔ پاکستان کو ملنے والی اہمیت کی ایک اور وجہ جنوب مشرقی ایشیا کے اندر اور افغانستان کے ساتھ امن کیلیے پاکستان کی سنجیدہ خواہش اور کوششیں ہیں۔

اس کے مقابلے میں بھارت اور اس کی سیاسی اور فوجی قیادت نے روگ یعنی کسی غنڈے کا کردار ادا کیا ہے۔ بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان نے اس کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ اس پر برتری بھی حاصل کی۔ اس موقع پر پاکستان چاہتا تو بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا لیکن اس مرحلے پر دوستوں اور خاص طور پر امریکا نے جنگ بندی کے لیے کہا تو پاکستان نے کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ امن کے لیے مخلص کسی سنجیدہ طاقت کا طرز عمل ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پاکستان کی یہی سنجیدگی ہے جس کی عالمی برادری نے قدر کی اور مشرق وسطی کے خوف ناک تنازعے میں پاکستان پر اعتماد کیا۔ دوسرے خلیج کے بحران میں بھارت کی طرح منافقانہ طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے امن کے لیے سنجیدگی کے ساتھ ان تھک کوشش کی۔یہی اسباب ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی قیادت میں دنیا امن کی تلاش میں نکلی ہے۔

اسلام آباد میں ترکیہ، سعودیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس کی گونج پوری دنیا میں سنی گئی ہے۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ساتھ حادثہ پیش آ جانے کے باوجود کانفرنس کو متاثر نہیں ہونے دیا پھر وہ زخمی حالت میں چین بھی روانہ ہو گئے۔

ایک عالمی بحران میں پاکستانی قیادت کا یہی احساس ذمے داری ہے جسے دنیا دیکھ رہی ہے اور ایران جیسا برادر ملک بھی جو اپنی تاریخ کی غیر معمولی آزمائش سے دوچار ہے۔ایران، امریکا اور سعودی عرب کا اعتماد پاکستان کو حاصل ہے۔ عالمی سیاست کا یہ غیر معمولی واقعہ ہے جو خطے میں امن کی خواہش کو توانا بنا رہا ہے۔ اس سفر میں چین کی شمولیت کے بعد ابھی کچھ اور ملک بھی اس قافلے میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستان کا اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہو سکتا ہے؟ بعض حلقوں نے ان دنوں یہ بے پر کی اڑائی کہ پاکستان کی امن کوششوں سے ایران نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور پاکستان آنے سے انکار کیا ہے، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اس کی دوٹوک تردید کر کے اس پروپیگنڈے کا غبارہ پنکچر کر دیا ہے۔

پاکستان کی کوششیں جاری تھیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریر کردی ۔یہ تقریر سن کر ایک بھولا بسرا شعر یاد آ گیا  ؎

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

خواجہ حیدر علی آتش کو بھی کسی ڈونلڈ ٹرمپ سے واسطہ پڑا ہو گا کہ وہ ایسا شعر کہنے پر مجبور ہوئے۔ اس تقریر سے پہلے لگتا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ یو ٹرن لے چکے اور جنگ کا کانٹ ڈان شروع ہو چکا۔ اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد امریکی صدر کے مزاج میں جیسا ہوتا ہے، Premenstrual Syndrome جیسی کیفیت پیدا ہوئی اور انھوں نے ٹروتھ سوشل پر دھمکی دینی ضروری سمجھی کہ ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے پتھر کے زمانے میں لوٹا دیا جائے گا۔ جنگ مخالف نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو دھمکی لگانی ضروری سمجھی۔

ان بیانات کے بعد ٹرمپ کی تقریر میں نیا کیا تھا؟ کیا یہ کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کا لینا دینا کچھ نہیں، ہاں کسی کو تیل کی ضرورت ہے تو وہ اس راستے کو کھلوا لے یا پھر ہم سے تیل خریدے۔ یہ بات بھی وہ پہلے کہہ چکے تھے۔کیا یہ کہ آئندہ دو تین ہفتوں تک ایران پر تابڑ توڑ حملے کیے جائیں گے۔ یہ دھمکی بھی وہ پہلے دے چکے تھے۔ سوال یہ ہے کہ پھر تقریر کیوں کی؟

اس سوال کا جواب بھی امریکا سے آیا ہے۔ امریکی مذاکرات کاروں نائب صدر جے ڈی وینس، سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور امریکی خصوصی نمائندگان اسٹیو ویٹکوف اور جیراڈ کشنر نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے اور اسے آگاہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا کے چند مطالبات پورے کیے جائیں۔اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد میں چار ملکی وزرائے خارجہ کانفرنس اور پاک چین بیجنگ اعلامیے کے بعد جنگ بندی کے ضمن میں جو پیش رفت ہوئی تھی، وہ جاری ہے لیکن اس طرح جنگ بندی میں امریکا ہزیمت محسوس کرتا ہے لہذا اسے کچھ فیس سیونگ دی جائے تا کہ انوکھے لاڈلے کو کھیلنے کے لیے چاند میسر آ سکے۔

کیا پاکستان اور چین اور پاکستان اور چار ملکی اتحاد اور خود ایران اس کا اہتمام کریں گے؟ ثالث کیا کریں گے؟ یہ اپنی جگہ اہم ہے لیکن ایران کا ایسا کوئی موڈ دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کیوں ایسے دشمن کو کوئی رعایت دے جو خود اپنے ہی جال میں پھنس چکا ہے۔ دشمن داری کا اصول بھی یہی ہے لیکن امن کی خواہش ہو تو کچھ اور بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ کچھ اور کیا ہے؟ آئندہ دو تین ہفتوں میں ہمیں یہی ہوتا ہوا دکھائی دے گا۔ جنگ اب بھی الٹی گنتی گن رہی ہے اور پاکستان نے جو امن مشن شروع کیا تھا، برگ و بار لا رہا ہے۔ان کامیابیوں کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، لنڈا بازار کے قریب پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں رسالہ پولیس نے لنڈا بازار کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے اسلحہ اور دیگر سامان برآمد کر لیا۔ 

تفصیلات کے مطابق رسالہ پولیس نے لنڈا بازار کے عقب میں گوشت مارکیٹ سے مبینہ مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ 

زخمی حالت میں گرفتار ڈاکو کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار ڈاکو کی شناخت 28 سالہ افضال ولد رفیق کے نام سے کی گئی۔

گرفتار ڈاکو کا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جبکہ گرفتار ڈاکو سے ایک پستول بمعہ گولیاں ، موبائل فون ، کیش رقم اور موٹرسائیکل برآمد کی گئی ۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں ڈاکو شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا، تشدد سے لہولہان، ساتھی فرار

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں اوکھائی مارکیٹ کے قریب شہریوں نے ایک مبینہ ڈاکو کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنا دیا جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

پولیس کے مطابق شہریوں نے ملزم کو مار مار کر لہولہان کر دیا جسے بعد ازاں پولیس نے بمشکل ہجوم سے نکال کر اپنی تحویل میں لیا۔

زخمی ملزم کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

پٹرول بم …عوام بے دم!

Published

on


حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قومی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 137روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں پٹرول پر لیوی میں 80 روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی نئی قیمت 378 فی لیٹر مقرر کردی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کمی محض ایک ماہ کے لیے کی گئی ہے۔ ایک ماہ کے بعد عوام کو پٹرول 458 روپے فی لیٹر ہی خریدنا پڑے گا جب کہ ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ملے گا۔

وزیراعظم نے گڈ زٹرانسپورٹرز کے کرایوں میں بھی 65 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت عوام کو کسی قسم کی کوئی سبسڈی دینے سے قاصر ہے لہٰذا ٹارگٹڈ سبسڈی یعنی’’ہدفی مالی اعانت‘‘ کے نام پر کچھ اشک شوئی کرتے ہوئے عوام کو طفل تسلیاں بھی دی گئی ہیں، جیسے موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر پٹرول پر 100روپے لیٹر کی مالی اعانت دی گئی ہے لیکن اس کے حصول کا طریقہ کار اس قدر پیچیدہ رکھا گیا ہے کہ جس کی تکمیل میں ہی ہفتوں گزرجائیں گے۔

چار و ناچار موٹر سائیکل سواروں کو ہر صورت مہنگا پٹرول ہی خریدنا پڑے گا اسی طرح انٹرسٹی بسوں کو بھی فی لیٹر 100روپے کی مالی اعانت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو70ہزار روپے کا مالی تعاون بھی فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے اپنے صوبوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب اور اسلام آباد پبلک ٹرانسپورٹ کو عوام کے لیے فری کردیاگیا، لیکن سوال یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ تو شہروں تک محدود ہے جب کہ پنجاب میں آبادی کا بڑا حصہ گاؤں و دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے جہاں وہ موٹر سائیکلوں اور پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں وہ بیچارے اس سہولت سے کیسے مستفید ہوں گے؟ وزیراعلیٰ سندھ نے 67 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کے مالکان کو ماہانہ 2 ہزار روپے اور چھوٹے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 1500روپے دینے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ عام آدمی کے لیے نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آرہے ہیں، قومی وسائل محدود ہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی نے دنیا کی طاقت اور معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ عام آدمی کس طرح زندگی بسر کررہا ہے۔ ہم عوام کی زندگی کی معمول پر آنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

 اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ امریکا ایران جنگ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوش رہا اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا بھر کی عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی جارہی ہے اور مضبوط معیشتوں کو بھی بڑے جھٹکے لگ رہے ہیں۔ اس کے باوجود دیگر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پاکستان کی طرح ہوش ربا اضافہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی وہاں مہنگائی و گرانی کا طوفان برپا ہوا۔ پڑوسی ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں پٹرولیم مصنوعات قیمتیں آج بھی پاکستان کے مقابلے میں کم سطح پر ہیں۔ مبصرین ماہرین و تجزیہ نگار تیل کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے کو حکومت کی ناقص پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

حکومت پٹرولیم مصنوعات پر مختلف النوع کے ٹیکسوں اورلیوں کی مد میں اربوں روپے منافع وصول کرتی ہے جو عوام کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔ حکومت بڑے دھرلے سے ایک طرف یہ دعویٰ کرتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کریں گے بلکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے ذریعے حکومت یہ بوجھ خود برداشت کرے گی لیکن دوسری جانب معصومانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیتی ہے جس سے نقل و حمل اور پیداواری اخراجات بڑھ جاتے ہیں نتیجتاً اشیائے زندگی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوجاتا ہے اور مہنگائی کا طوفان عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیتا ہے۔

 ادھر حکمرانوں کے اللے تللے اسی طرح سے جاری ہیں۔ کفایت شعاری کے نام نہاد دعوے کیے جارہے ہیں۔ آج بھی وزیراعظم سمیت وزرائے کابینہ کے کانوائے درجنوں گاڑیوں میں گزرتے ہیں جو پیٹرولیم کا غیر ضروری استعمال ہے۔ سرکاری ملازمین کو مفت بجلی، گیس اور پٹرول کی ماہانہ بنیادوں پر فراہمی غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادائیگی حکمرانوں کے عوام پر ظلم و استبداد کی علامت ہے۔ کروڑوں عوام پہلے ہی خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے سے مہنگائی کی طوفانی لہر انھیں مفلسی کی پاتال میں پہنچا دے گی۔ کراچی تا خیبر عوام سراپا احتجاج ہیں اور حالیہ اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آج کی اپوزیشن کی کسی سطح پر کوئی شنوائی نہیں۔ اس کا انجام بھلا کیا رنگ لائے گا؟ حکومت بودے اقدامات اور ناقص فیصلوں سے عوام میں اپنی مقبولیت کھورہی ہے۔ عالمی حالات اپنی جگہ لیکن مشکل حالات میں طبقہ اشرافیہ کو بوجھ برداشت کرنا چاہیے نہ کہ عوام کو جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اب ان پر پٹرول بم گراکر انھیں بے دم کردیاگیا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending