Connect with us

Today News

جنگ کے منفی اثرات – ایکسپریس اردو

Published

on


خطے کے کچھ ممالک نے امریکا سے مل کر آبنائے ہرمز بطور طاقت کھلوانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اسرائیلی وزیراعظم نے بھی ایران کے خلاف خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مل کر نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کسی بھی مسلم ملک کا ہمدرد نہیں بلکہ وہ اپنی چال بازیوں سے مسلمان ممالک کو آپس میں لڑانے کا خواہشمند ہے ، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ مقصد ہے جس کے حصول کے لیے دونوں نے مل کر ایران پر حملے کیے اور ایران کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ امریکا، ایران سے بہت دور جب کہ اسرائیل ایران کے قریب ہے جو ایران کی رینج میں ہے۔

 اس لیے ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے کیے اور اسرائیل کو زبردست مالی نقصان پہنچایا اور امریکا کو بھی جواب دیا اور خطے میں واقع امریکی اڈوں اور ممکنہ اہداف پر حملے کیے اور وہاں بھی زبردست نقصان پہنچایا جس میں کچھ جانی نقصان بھی ہوا مگر یہ جانی نقصان مقامی عرب باشندوں کا کم اور وہاں موجود ایشیائی باشندوں کا زیادہ ہوا جو وہاں حصول روزگار کے لیے رہ رہے تھے، جن میں کچھ پاکستانی بھی شامل تھے ۔

ایک عشرے قبل راقم کو دبئی میں ملازمت کرنے والے ایک بھارتی ہندو نے بتایا تھا کہ یو اے ای میں عربوں سے زیادہ بڑی تعداد بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے عوام کی ہے مگریو اے ای میں غیر ممالک سے آنے والے غیر مسلم ٹیکنالوجی میں زیادہ ماہر اور زیادہ دولت مند ہوتے ہیں اس لیے ان کو وہاں عزت بھی زیادہ دی جاتی ہے۔ کیوں کہ وہ باہر سے ڈالر اور دیگر یورپین کرنسی لے کر آتے ہیں جو وہ وہاں سیر وتفریح پر خرچ کرتے ہیں اور واپسی میں شاپنگ بھی کرتے ہیں جس سے وہاں کاروبار کو فروغ ملتا ہے ،دبئی نے غیر ملکیوں کی سہولیات کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں اور تفریح کے متعدد خوبصورت مقامات بنا رکھے ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ دبئی آتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم دبئی کی بہت بڑی آمدنی کا ذریعہ ہے ۔

دبئی سیاحوں کے لیے انھیں ہر ممکن سہولیات فراہم کرتا ہے اور دبئی کو سیاحت کا اہم مرکز بنا چکا ہے۔راقم کو متعدد بار دبئی جانے کا موقع ملا اور یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ بھارت و بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستانی مہارت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے ہیں ۔ دبئی ایئرپورٹ پر امیگریشن کے دوران بنگلہ دیش سے آنے والوں کو پاکستانیوں کے مقابلے میں جلد فارغ کیا گیا ۔ پاکستانیوں کی یو اے ای میں اہمیت کم ہونے کے ذمے دار پاکستان کے حکمران رہے ہیں جن کی امارات میں ذاتی جائیدادیں اور کاروبار ہیں اور حکومت سے فارغ ہونے کے بعد پاکستانی سیاست دان دبئی میں رہتے آئے ہیں اور یہ ہی اقتدار میں رہ کر یو ترقی یافتہ ملکوں سے امداد و قرضے مانگ مانگ کر پاکستان کی بے عزتی کے ذمے دار ہیں کیونکہ بھکاریوں اور مقروضوں کی کہیں عزت نہیں ہوتی بلکہ ان کی توہین کی جاتی ہے۔

پاکستان امیر عرب ملکوں کا مقروض ہے جب کہ یو اے ای کی بھارت سے قربت بڑھ رہی ہے۔ یو اے ای نے بھارت سے دفاعی معاہدے بھی کیے۔کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کئی ملکوں کو پاکستان کی نئی بندرگاہ گوادر پر بھی تحفظات ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ گوادر کی ترقی سے ان کا کاروبار متاثر ہوگا اور دنیا کو تجارت کے لیے نئی بندرگاہ میسر آجائے گی۔ بعض ملکوں کو یہ بھی خطرہ ہے کہ گوادر ان کی بندرگاہوں کی جگہ نہ لے لے، مگر حقیقت یہ ہے کہ گوادرکبھی دنیا میں کسی کی جگہ اس لیے نہیں لے سکتا کہ پاکستان کا مقصد گوادر بندرگاہ کی ترقی ہے مگر گوادر میں دیگر ملکوں جیسی سہولیات ،امن اور روزگار کا تصور بھی ممکن نہیں ۔یو اے ای بھارت کو ترجیح اور اہمیت دیتا ہے کیونکہ بھارت یو اے ای کا محتاج ہے۔

یو اے ای کے حکمران اپنی چھٹیاں گزارنے اور موسمی شکار کے لیے پاکستان ضلع رحیم یارخان کے علاقے میں نجی طور پر آتے ہیں، یہ ان کا نجی دورہ ہوتا ہے سرکاری نہیں ۔ یو اے ای کے حکمران پاکستان کے سرکاری دورے بھی کم کرتے ہیں جب کہ پاکستانی حکمران آئے دن یو اے ای جاتے رہتے ہیں۔حالیہ ایران جنگ سے دبئی بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور جو لوگ دبئی جانے کو اعزاز سمجھتے تھے‘ وہ بھی اس وقت پریشان ہیں۔ یواے ای کی کوشش ہے کہ ہرمز بندرگاہ کھول دی جائے کیونکہ اس سے اس کی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ یو اے ای ایران جیسی دفاعی صلاحیت کا ملک نہیں وہ کاروباری اور سیر و تفریح کا ملک ہے ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ٹرمپ کی ایران کو ڈیڈ لائن، عالمی تیل مارکیٹ میں بھونچال آ گیا، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 48 گھنٹے کی دی گئی سخت ڈیڈ لائن کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اُچھال دیکھنے میں آیا ہے، جس نے توانائی کے عالمی بحران کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت 2.35 فیصد اضافے کے ساتھ 114.16 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ 1.72 فیصد بڑھ کر 110.91 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں ایران کو خبردار کیا کہ اگر منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو اسے جہنم کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کے باعث اس اہم سمندری گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

یہ راستہ خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔

ماہرین کے مطابق اس بندش نے تاریخ کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران پیدا کر دیا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل، جیٹ فیول، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی صدر پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ یہ جنگ مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے جبکہ مالیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ ماہ کے اختتام تک تقریباً ایک ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس میں کروڈ آئل اور ریفائنڈ مصنوعات دونوں شامل ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹرمپ آج فوجی قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کریں گے، اہم اعلان متوقع

Published

on



واشنگٹن:

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اہم پریس کانفرنس کریں گے جس میں ایران سے جاری کشیدگی کے معاملے پر اہم گفتگو ہو گی۔

ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے میڈیا سے خطاب کریں گے۔

پریس کانفرنس وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ہوگی اور اس میں اعلیٰ فوجی قیادت بھی صدر کے ہمراہ موجود ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پریس کانفرنس امریکی میڈیا کے مسلسل اصرار پر منعقد کی جا رہی ہے جس میں صدر ٹرمپ ایران سے متعلق جاری صورتحال اور ممکنہ اقدامات پر سوالات کے جوابات دیں گے۔

سیاسی و سفارتی حلقوں میں اس پریس کانفرنس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جہاں خطے کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں بڑے اعلانات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹرمپ کی نئی دھمکی، ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنے کی وارننگ دے دی

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ نئی دھمکیوں کے بعد ایران کی جانب سے نہایت سخت اور جارحانہ ردعمل سامنے آیا ہے جس میں عالمی توانائی اور تجارت کے نظام کو مفلوج کرنے کی کھلی وارننگ دی گئی ہے۔

ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے سینئر رہنما علی اکبر ولایتی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کوئی نئی غلطی کی تو مزاحمتی اتحاد باب المندب کو بھی آبنائے ہرمز جیسی اسٹریٹجک حیثیت دے کر عالمی تجارتی راستوں کو ایک ہی جھٹکے میں بند کر سکتا ہے۔

ادھر ایران کی عدلیہ نے ٹرمپ کے بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مزاحمت نے امریکی صدر کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے جس کے باعث وہ غیر مہذب زبان استعمال کر رہے ہیں۔

ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپنی عوامی فلاح کو نظرانداز کر کے دنیا کو دھمکانے والی قیادت دراصل ماضی میں پھنسی ہوئی ہے۔

جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں ٹرمپ کو متنبہ کیا کہ جنگی جرائم کے ذریعے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی اور ان کی پالیسیاں پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہی ہیں۔

پاکستان میں ایرانی سفارت خانے نے بھی امریکی صدر کے رویے کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے ان کے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے عالمی ادارے کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دنیا نے فوری قدم نہ اٹھایا تو سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ تمام ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ایرانی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس پر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending