Today News
پٹرول بم …عوام بے دم!
حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں قومی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 137روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں پٹرول پر لیوی میں 80 روپے کمی کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی نئی قیمت 378 فی لیٹر مقرر کردی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کمی محض ایک ماہ کے لیے کی گئی ہے۔ ایک ماہ کے بعد عوام کو پٹرول 458 روپے فی لیٹر ہی خریدنا پڑے گا جب کہ ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ملے گا۔
وزیراعظم نے گڈ زٹرانسپورٹرز کے کرایوں میں بھی 65 فیصد اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت عوام کو کسی قسم کی کوئی سبسڈی دینے سے قاصر ہے لہٰذا ٹارگٹڈ سبسڈی یعنی’’ہدفی مالی اعانت‘‘ کے نام پر کچھ اشک شوئی کرتے ہوئے عوام کو طفل تسلیاں بھی دی گئی ہیں، جیسے موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر پٹرول پر 100روپے لیٹر کی مالی اعانت دی گئی ہے لیکن اس کے حصول کا طریقہ کار اس قدر پیچیدہ رکھا گیا ہے کہ جس کی تکمیل میں ہی ہفتوں گزرجائیں گے۔
چار و ناچار موٹر سائیکل سواروں کو ہر صورت مہنگا پٹرول ہی خریدنا پڑے گا اسی طرح انٹرسٹی بسوں کو بھی فی لیٹر 100روپے کی مالی اعانت اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو70ہزار روپے کا مالی تعاون بھی فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے اپنے صوبوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
پنجاب اور اسلام آباد پبلک ٹرانسپورٹ کو عوام کے لیے فری کردیاگیا، لیکن سوال یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ تو شہروں تک محدود ہے جب کہ پنجاب میں آبادی کا بڑا حصہ گاؤں و دیہاتوں میں رہائش پذیر ہے جہاں وہ موٹر سائیکلوں اور پرائیویٹ گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں وہ بیچارے اس سہولت سے کیسے مستفید ہوں گے؟ وزیراعلیٰ سندھ نے 67 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کے مالکان کو ماہانہ 2 ہزار روپے اور چھوٹے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 1500روپے دینے کا اعلان کیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ عام آدمی کے لیے نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آرہے ہیں، قومی وسائل محدود ہیں۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی نے دنیا کی طاقت اور معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے کہ عام آدمی کس طرح زندگی بسر کررہا ہے۔ ہم عوام کی زندگی کی معمول پر آنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ امریکا ایران جنگ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوش رہا اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا بھر کی عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی جارہی ہے اور مضبوط معیشتوں کو بھی بڑے جھٹکے لگ رہے ہیں۔ اس کے باوجود دیگر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پاکستان کی طرح ہوش ربا اضافہ نہیں کیاگیا اور نہ ہی وہاں مہنگائی و گرانی کا طوفان برپا ہوا۔ پڑوسی ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں پٹرولیم مصنوعات قیمتیں آج بھی پاکستان کے مقابلے میں کم سطح پر ہیں۔ مبصرین ماہرین و تجزیہ نگار تیل کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے کو حکومت کی ناقص پالیسی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
حکومت پٹرولیم مصنوعات پر مختلف النوع کے ٹیکسوں اورلیوں کی مد میں اربوں روپے منافع وصول کرتی ہے جو عوام کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔ حکومت بڑے دھرلے سے ایک طرف یہ دعویٰ کرتی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کریں گے بلکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے ذریعے حکومت یہ بوجھ خود برداشت کرے گی لیکن دوسری جانب معصومانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ہفتے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیتی ہے جس سے نقل و حمل اور پیداواری اخراجات بڑھ جاتے ہیں نتیجتاً اشیائے زندگی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوجاتا ہے اور مہنگائی کا طوفان عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیتا ہے۔
ادھر حکمرانوں کے اللے تللے اسی طرح سے جاری ہیں۔ کفایت شعاری کے نام نہاد دعوے کیے جارہے ہیں۔ آج بھی وزیراعظم سمیت وزرائے کابینہ کے کانوائے درجنوں گاڑیوں میں گزرتے ہیں جو پیٹرولیم کا غیر ضروری استعمال ہے۔ سرکاری ملازمین کو مفت بجلی، گیس اور پٹرول کی ماہانہ بنیادوں پر فراہمی غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادائیگی حکمرانوں کے عوام پر ظلم و استبداد کی علامت ہے۔ کروڑوں عوام پہلے ہی خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے سے مہنگائی کی طوفانی لہر انھیں مفلسی کی پاتال میں پہنچا دے گی۔ کراچی تا خیبر عوام سراپا احتجاج ہیں اور حالیہ اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ آج کی اپوزیشن کی کسی سطح پر کوئی شنوائی نہیں۔ اس کا انجام بھلا کیا رنگ لائے گا؟ حکومت بودے اقدامات اور ناقص فیصلوں سے عوام میں اپنی مقبولیت کھورہی ہے۔ عالمی حالات اپنی جگہ لیکن مشکل حالات میں طبقہ اشرافیہ کو بوجھ برداشت کرنا چاہیے نہ کہ عوام کو جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اب ان پر پٹرول بم گراکر انھیں بے دم کردیاگیا ہے۔
Today News
ٹرمپ کی متنازعہ پوسٹ پر امریکی سیاستدان برس پڑے، صدر کو نااہل قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز ایران کے خلاف نازیبا اور دھمکی آمیز بیان نے نہ صرف عالمی سطح پر ہلچل مچا دی بلکہ خود امریکا کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دے دیا ہے جہاں اہم سیاستدانوں نے صدر کے ذہنی توازن پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چک شومر نے ٹرمپ کے بیان کو ایک بے قابو پاگل شخص کی بڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر سوشل میڈیا پر جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اتحادیوں کو دور کر رہے ہیں جو امریکا کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی طرح سینیٹر بیرنی سینڈرز نے ٹرمپ کے بیان کو خطرناک اور ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کانگریس سے فوری مداخلت اور جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ قبل شروع کی گئی جنگ نے پہلے ہی ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور مزید تباہی کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کابینہ میں ہوتے تو آئین کی 25ویں ترمیم پر غور شروع کر دیتے جو صدر کو عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔
ریپبلکن رہنما مرجوری ٹیلر گرین جو کبھی ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں اب کھل کر مخالفت میں آ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں اور ان کی پالیسیاں نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر کے معصوم لوگوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے بغیر جواز جنگ شروع کی اور اب اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز اسی صورت کھولے گا جب جنگی نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا جبکہ ٹرمپ کی دھمکیوں اور غیر مہذب الفاظ کو انہوں نے مایوسی اور غصے کا اظہار قرار دیا۔
Today News
ٹرمپ کی دھمکی، مشرق وسطیٰ میں خطرناک کشیدگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں میں معاہدہ نہ ہوا تو اس پر مکمل طور پر جہنم برسا دیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ’’ یاد رکھیں جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن دیے تھے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’وقت نکلتا جا رہا ہے، ان پر جہنم برسانے کے لیے 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔‘‘امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ نے اس بیان پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
محمد البرادعی نے اپنے ردعمل میں خلیجی ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر فعال کردار ادا کریں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، یورپی کونسل، فرانس، چین اور روس فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب ایران نے دوٹوک انداز میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو پورا خطہ ان کے لیے جہنم بن سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی دھمکی نے عالمی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یہ بیان نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ ایک ایسے خطے میں مزید کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے جو پہلے ہی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔’’ جہنم برسا دینے‘‘ جیسے الفاظ کسی عام بیان کا حصہ نہیں بلکہ طاقت کے بے دریغ استعمال کی کھلی دھمکی ہیں اور یہی پہلو اس صورتحال کو غیر معمولی حد تک خطرناک بنا دیتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انھوں نے ہمیشہ سخت مؤقف اپنایا ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اور اس کے بعد’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘کی پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سفارت کاری کے مقابلے میں دباؤ اور دھمکی کو زیادہ موثر سمجھتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی واقعی کامیاب ہو سکتی ہے؟ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایران جیسے ملک پر دباؤ ڈالنا آسان نہیں، اور اس کا ردعمل اکثر غیر متوقع اور شدید ہوتا ہے۔
ایران کی جانب سے دیا گیا دوٹوک جواب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی فوجی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو پورا خطہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے دوزخ بن جائے گا۔ یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے، جس کے پیچھے ایران کی عسکری حکمت عملی اور علاقائی اثر و رسوخ کارفرما ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے بلکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے ایک مضبوط نیٹ ورک بھی قائم کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خطہ نہ صرف توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی انتہائی اہم گزرگاہوں کا حامل ہے۔ آبنائے ہرمز اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی سست روی ایسے نتائج ہیں جو کسی بھی تصادم کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
عالمی برادری کی ذمے داری اس موقع پر مزید بڑھ جاتی ہے۔ سابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے بجا طور پر اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سفارتی کوششیں، مذاکرات اور ثالثی ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ اس کشیدگی کے پیچھے صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ اس میں دیگر علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی شامل ہیں۔ اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں، اسی طرح خلیجی ممالک، جو ایک طرف امریکا کے اتحادی ہیں اور دوسری طرف ایران کے ہمسایہ، ایک مشکل پوزیشن میں ہیں۔
معاشی پہلو بھی اس بحران کا ایک اہم جزو ہے۔ اگر جنگ چھڑتی ہے یا آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی عدم استحکام ایسے مسائل ہیں جو اس بحران کے نتیجے میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ عالمی معیشت، جو پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ایک نئے بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں غلط معلومات اور افواہیں تیزی سے پھیلتی ہیں، جو عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں۔
ذمے دارانہ رپورٹنگ اور درست معلومات کی فراہمی اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ بلاشبہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نے دنیا کی طاقت ور معیشتیں بھی متاثر ہوئی ہیںلیکن ترقی یافتہ ملکوں میں اس حوالے سے بہتر پلاننگ کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ممالک جن کا انحصار خلیج فارس کے تیل پر نہیں ہے وہاں صورت حال خاصی بہتر ہے۔
چین نے خلیجی جنگ سے قبل ہی اپنے ذخائر میں اضافہ کیا اور بہتر پالیسی اختیار کر کے معیشت کو مستحکم رکھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک امتحان سے کم نہیں۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف امریکا کے ساتھ بھی اس کے اہم سفارتی اور معاشی روابط ہیں۔ اس لیے پاکستان کو ایک متوازن اور محتاط پالیسی اپنانا ہوگی۔ پاکستان ہمیشہ سے امن اور مذاکرات کا حامی رہا ہے اور اس موقع پر بھی اسے یہی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ثالثی کا کردار ادا کرنا پاکستان کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، جو نہ صرف خطے میں امن کے فروغ میں مددگار ہوگا بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی بہتر بنائے گا۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس صورتحال کو صرف موجودہ تناظر میں نہ دیکھیں بلکہ اس کے طویل المدتی اثرات کا بھی جائزہ لیں۔
اگر یہ کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور معاشی نقصان ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی جنگ کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ہوش مندی کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
سفارت کاری ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس بحران کا حل پیش کر سکتا ہے۔ مذاکرات، باہمی احترام اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے ہی اس تنازع کو حل کیا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے فعال کردار ادا کرے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرے۔ طاقت کے استعمال سے وقتی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غلطی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دنیا ایک اور بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر پہلے ہی بے یقینی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین ذمے داری کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں اور امن کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔اگر ہوش مندی اور دانشمندی سے کام لیا گیا تو اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر جذبات اور طاقت کے نشے میں فیصلے کیے گئے تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ یہی وقت ہے کہ دنیا سبق سیکھے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرے، کیونکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کے بہتر مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔
Today News
ایران جنگ اور ملکی نقصان
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے ایک مہینے میں عرب ملکوں کو 186ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ یہ نقصان ائیر لائن یا رئیل اسٹیٹ کا نہیں ، نہ ہوٹلنگ کا ہے اور نہ سرمایہ کاری کا ہے یہ تمام نقصانات بھی سیکڑوں ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ نقصان عرب ممالک کے توانائی اثاثوں کا ہے ۔ اور انھیں اس نقصان کو پورا کرنے میں دس سال لگ جائیں گے اور ایران کو بھی سنبھالنے میں کافی عرصہ لگے گا۔
اس جنگ کے نتیجے میں عرب ملکوں میں 37لاکھ لوگ بیروزگار ہونے والے ہیں ۔ ذرا سوچیں پاکستان کی افراد ی قوت بھی کئی ملین کی تعداد میں عرب ملکوں میں موجود ہے ۔ ذرا سوچیں اگر ان عرب ملکوں سے لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی واپس آگئے تو ان کا کیا بنے گا۔ ایک طرف بیروزگاری میں اضافہ ہو گا دوسری طرف غربت اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ 40لاکھ لوگ عرب ملکوں کے اس جنگ کے نتیجے میں غریب ہونے والے ہیں۔
جب کہ امریکا اور اسرائیل کا روزانہ جنگی خرچہ پونے چار ارب ڈالر ہے ۔ جنگ کے نقصانات وسیع پیمانے پر ہوئے ہیں، ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جنگ جاری رہنے کی صورت میں ۔ عرب ممالک کی مجموعی پیداوار میں 6فیصد کمی آچکی ہے ۔ 12ملین بیرل تیل روزانہ ضایع ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ بدترین صورت حال ہے ۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایران نے پہلے خطے کی جنگ بنا دیا ، پھر دنیا کی جنگ بنا دیا ۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کے اب ایران اگر ڈٹا رہتا ہے تو آخر کار امریکا میں رجیم چینج ہوگا ۔ امریکا بھر میں 70لاکھ لوگوں کی تعداد نے 3200مقامات پر احتجاج کیا ۔
ایران کے خلاف اس ننگی جارحیت کو 35دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ صاحب کا خطاب جو 20منٹ کا تھا لیکن اس خطاب میں کچھ بھی نہ تھا۔ دنیا کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنے خطاب میں جنگ بندی کا اعلان کردیں گے اس وقت امریکی صدر پر امریکی عوام بھی اعتبار نہیں کرتے ۔ ایران میں امریکا اور اسرائیل نے 12000سے زائد جنگی حملے کیے اس میں 2000سے 5000پاؤنڈ وزنی بم برسائے گئے ۔
اس کے باوجود ایران ڈٹا ہوا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایران کی آزادی ، خود مختاری اور بقاء کی جنگ ہے ۔ ایرانی صدر نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے کہ ہماری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ۔ کیونکہ ہم پر حملے ہو رہے ہیں اس لیے ہم بھی اپنے دفاع میں جوابی حملے کر رہے ہیں ۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایک دن میں اوسطاً 14/15بار جھوٹ بولتے ہیں۔
ایک چشم دید گواہ کے مطابق جب خامنائی شہید ہوئے تو اس نے بتایا کہ صبح کے سوا نو بجے تھے کہ ایک زبردست دھماکہ ہوا یہ اتنا شدید تھا کہ میں سوتے ہوئے اپنے بیڈ سے دو فٹ اوپر اُچھل گیا، گھر لرز رہا تھا سوتے ہوئے اچھلا اور زمین پر بچھے قالین پر گر گیا۔روس نے آیت اﷲ خامنائی کو پیشکش کی کہ وہ اپنی جان کے تحفظ کے لیے روس چلے آئیں لیکن آیت اﷲ خامنائی نے صاف انکار کردیا کہ میں اپنے عوام کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤنگا۔ خامنائی پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے یہی حال امام خمینی کا تھا اور موجودہ مجتبی خامنائی بھی پاکستان کی محبت میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
آیت اﷲ خامنائی جب ایران کے صدر بنے تو وہ پاکستان کے دورے پر آئے جہاں ان کا فقیدالمثال استقبال ہوا شالیمار باغ میں اپنی تقریر میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں محمد علی جناح کا مداح ہوں اور اقبال لاہوری کا مرید ہوں ۔ اور میں لاہور شہر کو اقبال کی وجہ سے جانتا ہوں ۔ آیت اﷲ خامنائی کو اقبال کے 2000اشعار زبانی یاد تھے ۔ وہ علامہ اقبال کو اپنا مرشد کہتے تھے ۔تہران یونیورسٹی کے فردوسی ہال میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر آج اقبال زندہ ہوتے اور آج کے تہران کو دیکھتے تو ایران کو دیکھ کر فخر کرتے کہ یہ میرے خواب کی تعبیر ہے ۔ یہ ملت اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ۔
امام خمینی نے جب سلمان رشدی کے خلاف فتوی دیا تو ایرانی علماء ان کے پاس آئے اور کہا کہ اس فتوی کو واپس لیں ۔ تو انھوں نے سوال کیا کیوں ؟انھوں نے کہا کہ اگر آپ فتوی واپس نہیں لیں گے تو اقوام متحدہ اورامریکا ہمارے خلاف ہو جائیں گے ۔ معاشی پابندیاں لگ جائیں گی اور ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ تو اس موقعہ پر ایرانی علماء سے امام خمینی نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ایران کو بچانے کے لیے ہم نے یہ انقلاب برپا نہیں کیا ہے ۔ ہم نے اسلام کو بچانے کے لیے یہ انقلاب برپا کیا ہے ۔
اس بدبخت نے ہماری سب سے مقدس ترین ہستی کی شان میں گستاخی کی ہے اور یہ کہہ کر انھوں نے اپنا فتوی لینے سے انکار کردیا کہ ایران بچے نہ بچے ، اسلام کو بچنا چاہیے۔ ایرانی فضائیہ کے چیف جنرل حاجی زادہ شہید نے دوسال پہلے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران نے 1996سے انڈر گراؤنڈ میزائل بنانے شروع کردیے تھے ۔ ان کی تعداد 351ہے اور یہ میزائل بنانے کی فیکٹریاں پہاڑوں کے اندر مختلف جگہوں پر ہیں ۔ انھوں نے کہا ہماری تیاریاں مہینوں بلکہ سالوں کی ہیں کیونکہ ہمارے پاس اسلحہ سالوں کے حساب سے موجود ہے ۔2کروڑ بسیج یعنی عوامی ملیشیاء بھی جنگ کے لیے تیار ہے ۔ 10لاکھ ایرانی فوج کے علاوہ۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports1 week ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final