Today News
کراچی میں ڈاکو شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا، تشدد سے لہولہان، ساتھی فرار
کراچی:
شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں اوکھائی مارکیٹ کے قریب شہریوں نے ایک مبینہ ڈاکو کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنا دیا جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس کے مطابق شہریوں نے ملزم کو مار مار کر لہولہان کر دیا جسے بعد ازاں پولیس نے بمشکل ہجوم سے نکال کر اپنی تحویل میں لیا۔
زخمی ملزم کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔
Today News
ٹرمپ کی متنازعہ پوسٹ پر امریکی سیاستدان برس پڑے، صدر کو نااہل قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز ایران کے خلاف نازیبا اور دھمکی آمیز بیان نے نہ صرف عالمی سطح پر ہلچل مچا دی بلکہ خود امریکا کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دے دیا ہے جہاں اہم سیاستدانوں نے صدر کے ذہنی توازن پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چک شومر نے ٹرمپ کے بیان کو ایک بے قابو پاگل شخص کی بڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر سوشل میڈیا پر جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اتحادیوں کو دور کر رہے ہیں جو امریکا کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی طرح سینیٹر بیرنی سینڈرز نے ٹرمپ کے بیان کو خطرناک اور ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کانگریس سے فوری مداخلت اور جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ قبل شروع کی گئی جنگ نے پہلے ہی ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور مزید تباہی کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کابینہ میں ہوتے تو آئین کی 25ویں ترمیم پر غور شروع کر دیتے جو صدر کو عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔
ریپبلکن رہنما مرجوری ٹیلر گرین جو کبھی ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں اب کھل کر مخالفت میں آ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں اور ان کی پالیسیاں نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر کے معصوم لوگوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے بغیر جواز جنگ شروع کی اور اب اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز اسی صورت کھولے گا جب جنگی نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا جبکہ ٹرمپ کی دھمکیوں اور غیر مہذب الفاظ کو انہوں نے مایوسی اور غصے کا اظہار قرار دیا۔
Today News
ٹرمپ کی دھمکی، مشرق وسطیٰ میں خطرناک کشیدگی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ 48 گھنٹوں میں معاہدہ نہ ہوا تو اس پر مکمل طور پر جہنم برسا دیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ’’ یاد رکھیں جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن دیے تھے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’وقت نکلتا جا رہا ہے، ان پر جہنم برسانے کے لیے 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔‘‘امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ نے اس بیان پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
محمد البرادعی نے اپنے ردعمل میں خلیجی ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر فعال کردار ادا کریں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، یورپی کونسل، فرانس، چین اور روس فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب ایران نے دوٹوک انداز میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو پورا خطہ ان کے لیے جہنم بن سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی 48 گھنٹوں کی دھمکی نے عالمی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یہ بیان نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ ایک ایسے خطے میں مزید کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے جو پہلے ہی دہائیوں سے عدم استحکام کا شکار ہے۔’’ جہنم برسا دینے‘‘ جیسے الفاظ کسی عام بیان کا حصہ نہیں بلکہ طاقت کے بے دریغ استعمال کی کھلی دھمکی ہیں اور یہی پہلو اس صورتحال کو غیر معمولی حد تک خطرناک بنا دیتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انھوں نے ہمیشہ سخت مؤقف اپنایا ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اور اس کے بعد’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘کی پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سفارت کاری کے مقابلے میں دباؤ اور دھمکی کو زیادہ موثر سمجھتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی واقعی کامیاب ہو سکتی ہے؟ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایران جیسے ملک پر دباؤ ڈالنا آسان نہیں، اور اس کا ردعمل اکثر غیر متوقع اور شدید ہوتا ہے۔
ایران کی جانب سے دیا گیا دوٹوک جواب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی فوجی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو پورا خطہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے دوزخ بن جائے گا۔ یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے، جس کے پیچھے ایران کی عسکری حکمت عملی اور علاقائی اثر و رسوخ کارفرما ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے بلکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے ایک مضبوط نیٹ ورک بھی قائم کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خطہ نہ صرف توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی انتہائی اہم گزرگاہوں کا حامل ہے۔ آبنائے ہرمز اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اگر اس گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی سست روی ایسے نتائج ہیں جو کسی بھی تصادم کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
عالمی برادری کی ذمے داری اس موقع پر مزید بڑھ جاتی ہے۔ سابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے بجا طور پر اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سفارتی کوششیں، مذاکرات اور ثالثی ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ اس کشیدگی کے پیچھے صرف دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ اس میں دیگر علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی شامل ہیں۔ اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کسی سے پوشیدہ نہیں، اسی طرح خلیجی ممالک، جو ایک طرف امریکا کے اتحادی ہیں اور دوسری طرف ایران کے ہمسایہ، ایک مشکل پوزیشن میں ہیں۔
معاشی پہلو بھی اس بحران کا ایک اہم جزو ہے۔ اگر جنگ چھڑتی ہے یا آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی عدم استحکام ایسے مسائل ہیں جو اس بحران کے نتیجے میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ عالمی معیشت، جو پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ایک نئے بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں غلط معلومات اور افواہیں تیزی سے پھیلتی ہیں، جو عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں۔
ذمے دارانہ رپورٹنگ اور درست معلومات کی فراہمی اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ بلاشبہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نے دنیا کی طاقت ور معیشتیں بھی متاثر ہوئی ہیںلیکن ترقی یافتہ ملکوں میں اس حوالے سے بہتر پلاننگ کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ممالک جن کا انحصار خلیج فارس کے تیل پر نہیں ہے وہاں صورت حال خاصی بہتر ہے۔
چین نے خلیجی جنگ سے قبل ہی اپنے ذخائر میں اضافہ کیا اور بہتر پالیسی اختیار کر کے معیشت کو مستحکم رکھا۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک امتحان سے کم نہیں۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، تو دوسری طرف امریکا کے ساتھ بھی اس کے اہم سفارتی اور معاشی روابط ہیں۔ اس لیے پاکستان کو ایک متوازن اور محتاط پالیسی اپنانا ہوگی۔ پاکستان ہمیشہ سے امن اور مذاکرات کا حامی رہا ہے اور اس موقع پر بھی اسے یہی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ثالثی کا کردار ادا کرنا پاکستان کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، جو نہ صرف خطے میں امن کے فروغ میں مددگار ہوگا بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو بھی بہتر بنائے گا۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس صورتحال کو صرف موجودہ تناظر میں نہ دیکھیں بلکہ اس کے طویل المدتی اثرات کا بھی جائزہ لیں۔
اگر یہ کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور معاشی نقصان ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی جنگ کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین ہوش مندی کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
سفارت کاری ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس بحران کا حل پیش کر سکتا ہے۔ مذاکرات، باہمی احترام اور اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے ہی اس تنازع کو حل کیا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے فعال کردار ادا کرے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرے۔ طاقت کے استعمال سے وقتی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غلطی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دنیا ایک اور بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر پہلے ہی بے یقینی اور عدم استحکام پایا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین ذمے داری کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں اور امن کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔اگر ہوش مندی اور دانشمندی سے کام لیا گیا تو اس بحران کو ٹالا جا سکتا ہے، لیکن اگر جذبات اور طاقت کے نشے میں فیصلے کیے گئے تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ یہی وقت ہے کہ دنیا سبق سیکھے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کرے، کیونکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کے بہتر مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔
Today News
ایران جنگ اور ملکی نقصان
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے ایک مہینے میں عرب ملکوں کو 186ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ یہ نقصان ائیر لائن یا رئیل اسٹیٹ کا نہیں ، نہ ہوٹلنگ کا ہے اور نہ سرمایہ کاری کا ہے یہ تمام نقصانات بھی سیکڑوں ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ نقصان عرب ممالک کے توانائی اثاثوں کا ہے ۔ اور انھیں اس نقصان کو پورا کرنے میں دس سال لگ جائیں گے اور ایران کو بھی سنبھالنے میں کافی عرصہ لگے گا۔
اس جنگ کے نتیجے میں عرب ملکوں میں 37لاکھ لوگ بیروزگار ہونے والے ہیں ۔ ذرا سوچیں پاکستان کی افراد ی قوت بھی کئی ملین کی تعداد میں عرب ملکوں میں موجود ہے ۔ ذرا سوچیں اگر ان عرب ملکوں سے لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی واپس آگئے تو ان کا کیا بنے گا۔ ایک طرف بیروزگاری میں اضافہ ہو گا دوسری طرف غربت اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ 40لاکھ لوگ عرب ملکوں کے اس جنگ کے نتیجے میں غریب ہونے والے ہیں۔
جب کہ امریکا اور اسرائیل کا روزانہ جنگی خرچہ پونے چار ارب ڈالر ہے ۔ جنگ کے نقصانات وسیع پیمانے پر ہوئے ہیں، ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جنگ جاری رہنے کی صورت میں ۔ عرب ممالک کی مجموعی پیداوار میں 6فیصد کمی آچکی ہے ۔ 12ملین بیرل تیل روزانہ ضایع ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ بدترین صورت حال ہے ۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایران نے پہلے خطے کی جنگ بنا دیا ، پھر دنیا کی جنگ بنا دیا ۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کے اب ایران اگر ڈٹا رہتا ہے تو آخر کار امریکا میں رجیم چینج ہوگا ۔ امریکا بھر میں 70لاکھ لوگوں کی تعداد نے 3200مقامات پر احتجاج کیا ۔
ایران کے خلاف اس ننگی جارحیت کو 35دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ صاحب کا خطاب جو 20منٹ کا تھا لیکن اس خطاب میں کچھ بھی نہ تھا۔ دنیا کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنے خطاب میں جنگ بندی کا اعلان کردیں گے اس وقت امریکی صدر پر امریکی عوام بھی اعتبار نہیں کرتے ۔ ایران میں امریکا اور اسرائیل نے 12000سے زائد جنگی حملے کیے اس میں 2000سے 5000پاؤنڈ وزنی بم برسائے گئے ۔
اس کے باوجود ایران ڈٹا ہوا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایران کی آزادی ، خود مختاری اور بقاء کی جنگ ہے ۔ ایرانی صدر نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے کہ ہماری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ۔ کیونکہ ہم پر حملے ہو رہے ہیں اس لیے ہم بھی اپنے دفاع میں جوابی حملے کر رہے ہیں ۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایک دن میں اوسطاً 14/15بار جھوٹ بولتے ہیں۔
ایک چشم دید گواہ کے مطابق جب خامنائی شہید ہوئے تو اس نے بتایا کہ صبح کے سوا نو بجے تھے کہ ایک زبردست دھماکہ ہوا یہ اتنا شدید تھا کہ میں سوتے ہوئے اپنے بیڈ سے دو فٹ اوپر اُچھل گیا، گھر لرز رہا تھا سوتے ہوئے اچھلا اور زمین پر بچھے قالین پر گر گیا۔روس نے آیت اﷲ خامنائی کو پیشکش کی کہ وہ اپنی جان کے تحفظ کے لیے روس چلے آئیں لیکن آیت اﷲ خامنائی نے صاف انکار کردیا کہ میں اپنے عوام کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤنگا۔ خامنائی پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے یہی حال امام خمینی کا تھا اور موجودہ مجتبی خامنائی بھی پاکستان کی محبت میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
آیت اﷲ خامنائی جب ایران کے صدر بنے تو وہ پاکستان کے دورے پر آئے جہاں ان کا فقیدالمثال استقبال ہوا شالیمار باغ میں اپنی تقریر میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں محمد علی جناح کا مداح ہوں اور اقبال لاہوری کا مرید ہوں ۔ اور میں لاہور شہر کو اقبال کی وجہ سے جانتا ہوں ۔ آیت اﷲ خامنائی کو اقبال کے 2000اشعار زبانی یاد تھے ۔ وہ علامہ اقبال کو اپنا مرشد کہتے تھے ۔تہران یونیورسٹی کے فردوسی ہال میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر آج اقبال زندہ ہوتے اور آج کے تہران کو دیکھتے تو ایران کو دیکھ کر فخر کرتے کہ یہ میرے خواب کی تعبیر ہے ۔ یہ ملت اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ۔
امام خمینی نے جب سلمان رشدی کے خلاف فتوی دیا تو ایرانی علماء ان کے پاس آئے اور کہا کہ اس فتوی کو واپس لیں ۔ تو انھوں نے سوال کیا کیوں ؟انھوں نے کہا کہ اگر آپ فتوی واپس نہیں لیں گے تو اقوام متحدہ اورامریکا ہمارے خلاف ہو جائیں گے ۔ معاشی پابندیاں لگ جائیں گی اور ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ تو اس موقعہ پر ایرانی علماء سے امام خمینی نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ایران کو بچانے کے لیے ہم نے یہ انقلاب برپا نہیں کیا ہے ۔ ہم نے اسلام کو بچانے کے لیے یہ انقلاب برپا کیا ہے ۔
اس بدبخت نے ہماری سب سے مقدس ترین ہستی کی شان میں گستاخی کی ہے اور یہ کہہ کر انھوں نے اپنا فتوی لینے سے انکار کردیا کہ ایران بچے نہ بچے ، اسلام کو بچنا چاہیے۔ ایرانی فضائیہ کے چیف جنرل حاجی زادہ شہید نے دوسال پہلے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران نے 1996سے انڈر گراؤنڈ میزائل بنانے شروع کردیے تھے ۔ ان کی تعداد 351ہے اور یہ میزائل بنانے کی فیکٹریاں پہاڑوں کے اندر مختلف جگہوں پر ہیں ۔ انھوں نے کہا ہماری تیاریاں مہینوں بلکہ سالوں کی ہیں کیونکہ ہمارے پاس اسلحہ سالوں کے حساب سے موجود ہے ۔2کروڑ بسیج یعنی عوامی ملیشیاء بھی جنگ کے لیے تیار ہے ۔ 10لاکھ ایرانی فوج کے علاوہ۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports1 week ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final