Today News
ایران جنگ اور ملکی نقصان
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے ایک مہینے میں عرب ملکوں کو 186ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔ یہ نقصان ائیر لائن یا رئیل اسٹیٹ کا نہیں ، نہ ہوٹلنگ کا ہے اور نہ سرمایہ کاری کا ہے یہ تمام نقصانات بھی سیکڑوں ارب ڈالر پر پہنچ گئے ہیں ۔ یہ نقصان عرب ممالک کے توانائی اثاثوں کا ہے ۔ اور انھیں اس نقصان کو پورا کرنے میں دس سال لگ جائیں گے اور ایران کو بھی سنبھالنے میں کافی عرصہ لگے گا۔
اس جنگ کے نتیجے میں عرب ملکوں میں 37لاکھ لوگ بیروزگار ہونے والے ہیں ۔ ذرا سوچیں پاکستان کی افراد ی قوت بھی کئی ملین کی تعداد میں عرب ملکوں میں موجود ہے ۔ ذرا سوچیں اگر ان عرب ملکوں سے لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی واپس آگئے تو ان کا کیا بنے گا۔ ایک طرف بیروزگاری میں اضافہ ہو گا دوسری طرف غربت اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ 40لاکھ لوگ عرب ملکوں کے اس جنگ کے نتیجے میں غریب ہونے والے ہیں۔
جب کہ امریکا اور اسرائیل کا روزانہ جنگی خرچہ پونے چار ارب ڈالر ہے ۔ جنگ کے نقصانات وسیع پیمانے پر ہوئے ہیں، ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جنگ جاری رہنے کی صورت میں ۔ عرب ممالک کی مجموعی پیداوار میں 6فیصد کمی آچکی ہے ۔ 12ملین بیرل تیل روزانہ ضایع ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق یہ بدترین صورت حال ہے ۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایران نے پہلے خطے کی جنگ بنا دیا ، پھر دنیا کی جنگ بنا دیا ۔ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کے اب ایران اگر ڈٹا رہتا ہے تو آخر کار امریکا میں رجیم چینج ہوگا ۔ امریکا بھر میں 70لاکھ لوگوں کی تعداد نے 3200مقامات پر احتجاج کیا ۔
ایران کے خلاف اس ننگی جارحیت کو 35دن مکمل ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ صاحب کا خطاب جو 20منٹ کا تھا لیکن اس خطاب میں کچھ بھی نہ تھا۔ دنیا کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ اپنے خطاب میں جنگ بندی کا اعلان کردیں گے اس وقت امریکی صدر پر امریکی عوام بھی اعتبار نہیں کرتے ۔ ایران میں امریکا اور اسرائیل نے 12000سے زائد جنگی حملے کیے اس میں 2000سے 5000پاؤنڈ وزنی بم برسائے گئے ۔
اس کے باوجود ایران ڈٹا ہوا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایران کی آزادی ، خود مختاری اور بقاء کی جنگ ہے ۔ ایرانی صدر نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے کہ ہماری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ۔ کیونکہ ہم پر حملے ہو رہے ہیں اس لیے ہم بھی اپنے دفاع میں جوابی حملے کر رہے ہیں ۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایک دن میں اوسطاً 14/15بار جھوٹ بولتے ہیں۔
ایک چشم دید گواہ کے مطابق جب خامنائی شہید ہوئے تو اس نے بتایا کہ صبح کے سوا نو بجے تھے کہ ایک زبردست دھماکہ ہوا یہ اتنا شدید تھا کہ میں سوتے ہوئے اپنے بیڈ سے دو فٹ اوپر اُچھل گیا، گھر لرز رہا تھا سوتے ہوئے اچھلا اور زمین پر بچھے قالین پر گر گیا۔روس نے آیت اﷲ خامنائی کو پیشکش کی کہ وہ اپنی جان کے تحفظ کے لیے روس چلے آئیں لیکن آیت اﷲ خامنائی نے صاف انکار کردیا کہ میں اپنے عوام کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤنگا۔ خامنائی پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے یہی حال امام خمینی کا تھا اور موجودہ مجتبی خامنائی بھی پاکستان کی محبت میں اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
آیت اﷲ خامنائی جب ایران کے صدر بنے تو وہ پاکستان کے دورے پر آئے جہاں ان کا فقیدالمثال استقبال ہوا شالیمار باغ میں اپنی تقریر میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں محمد علی جناح کا مداح ہوں اور اقبال لاہوری کا مرید ہوں ۔ اور میں لاہور شہر کو اقبال کی وجہ سے جانتا ہوں ۔ آیت اﷲ خامنائی کو اقبال کے 2000اشعار زبانی یاد تھے ۔ وہ علامہ اقبال کو اپنا مرشد کہتے تھے ۔تہران یونیورسٹی کے فردوسی ہال میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر آج اقبال زندہ ہوتے اور آج کے تہران کو دیکھتے تو ایران کو دیکھ کر فخر کرتے کہ یہ میرے خواب کی تعبیر ہے ۔ یہ ملت اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ۔
امام خمینی نے جب سلمان رشدی کے خلاف فتوی دیا تو ایرانی علماء ان کے پاس آئے اور کہا کہ اس فتوی کو واپس لیں ۔ تو انھوں نے سوال کیا کیوں ؟انھوں نے کہا کہ اگر آپ فتوی واپس نہیں لیں گے تو اقوام متحدہ اورامریکا ہمارے خلاف ہو جائیں گے ۔ معاشی پابندیاں لگ جائیں گی اور ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ تو اس موقعہ پر ایرانی علماء سے امام خمینی نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ایران کو بچانے کے لیے ہم نے یہ انقلاب برپا نہیں کیا ہے ۔ ہم نے اسلام کو بچانے کے لیے یہ انقلاب برپا کیا ہے ۔
اس بدبخت نے ہماری سب سے مقدس ترین ہستی کی شان میں گستاخی کی ہے اور یہ کہہ کر انھوں نے اپنا فتوی لینے سے انکار کردیا کہ ایران بچے نہ بچے ، اسلام کو بچنا چاہیے۔ ایرانی فضائیہ کے چیف جنرل حاجی زادہ شہید نے دوسال پہلے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران نے 1996سے انڈر گراؤنڈ میزائل بنانے شروع کردیے تھے ۔ ان کی تعداد 351ہے اور یہ میزائل بنانے کی فیکٹریاں پہاڑوں کے اندر مختلف جگہوں پر ہیں ۔ انھوں نے کہا ہماری تیاریاں مہینوں بلکہ سالوں کی ہیں کیونکہ ہمارے پاس اسلحہ سالوں کے حساب سے موجود ہے ۔2کروڑ بسیج یعنی عوامی ملیشیاء بھی جنگ کے لیے تیار ہے ۔ 10لاکھ ایرانی فوج کے علاوہ۔
Today News
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کا معاہدہ آج ہوگا
اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت متوقع ہے، دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط آج سپریم کورٹ میں ہوں گے۔
تقریب میں ترکیہ کے آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکایا کی قیادت میں ترک وفد شرکت کرے گا، جو 6 سے 9 اپریل تک پاکستان کے دورے پر ہے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، جس میں عدالتی تربیت، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو بہتر بنانے پر زور دیا جائے گا۔
اس موقع پر ضلعی عدلیہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں تعاون کو بھی اہم محور بنایا جائے گا، جبکہ عدالتی اصلاحات کے شعبے میں باہمی اشتراک بڑھانے پر اتفاق متوقع ہے۔
تقریب میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور عدالتی خودمختاری و قانون کی حکمرانی کے فروغ پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
سپریم کورٹ میں ہونے والی اس تقریب کو براہ راست نشر کیا جائے گا، جس میں معزز جج صاحبان اور اعلیٰ حکام شرکت کریں گے، ترک وفد اپنے دورہ پاکستان کے دوران ٹیکسلا اور لاہور کے تاریخی مقامات کا بھی دورہ کرے گا۔
Today News
کیا جنگ رکنے والی ہے؟ امریکا اور ایران کے درمیان 45 روزہ سیز فائر پر بڑی پیشرفت
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق اہم بات چیت جاری ہے، جس کے تحت 45 روزہ سیز فائر پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ جنگ بندی دو مرحلوں پر مشتمل ہوگی، پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران فریقین کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں کے اندر کسی بڑے یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا ایک اہم اور ممکنہ طور پر آخری موقع تصور کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور بڑے پیمانے پر تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
Today News
اے این ایف کا ملک بھر میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈاؤن، 8 ملزمان گرفتار
اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 7 آپریشنز کے دوران 8 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 8 کروڑ 29 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 220.98 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی۔
سی پیک روڈ پنجگور کے قریب ایک گاڑی سے 138 کلوگرام آئس، 29 کلوگرام ہیروئن اور 9 کلوگرام چرس برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
اسلام آباد میں کھنہ پل کے قریب گاڑی سے 8.4 کلوگرام چرس برآمد ہوئی، جہاں ملزم کو موقع پر ہی حراست میں لے لیا گیا۔
لاہور کے بند روڈ پر موٹر سائیکل سوار 2 ملزمان کے قبضے سے 5 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی، جبکہ اشرف شہید پوسٹ کے قریب مزید 2 ملزمان سے 520 گرام ہیروئن برآمد کر کے گرفتار کر لیا گیا۔
پشاور میں یونیورسٹی کے قریب ایک ملزم سے 1 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ راولپنڈی میں ایئرپورٹ روڈ کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزم سے 50 گرام آئس اور 10 گرام کوکین برآمد کی گئی۔ چاغی کے علاقے کلی رسول بخش کے قریب جھاڑیوں سے 30 کلوگرام افیون بھی برآمد کی گئی۔
اے این ایف حکام کے مطابق تمام کارروائیوں کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز
-
Sports1 week ago
Sabalenka and Rybakina to clash again in Miami semi-final