Connect with us

Today News

سربیا میں روسی گیس پائپ لائن کے پاس دھماکہ خیز مواد برآمد

Published

on


سربیا کے صدر الیگزینڈر ووسک نے کہا کہ فوج اور پولیس کو ہنگری جانے والی روسی گیس پائپ لائن کے قریب دھماکا خیز مواد سے بھرے دو بیگ ملے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی اطلاع ملتے ہی ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

ہنگری کے اپوزیشن لیڈر پیٹر میگیار نے تجویز پیش کی کہ یہ واقعہ ان کے ملک میں اگلے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں خلل ڈالنے کے لیے “فالس فلیگ” آپریشن ہو سکتا ہے۔

صدر الیگزینڈر نے کہا کہ بیک جس میں ڈیٹونیٹرز کے ساتھ دھماکہ خیز مواد کے دو بڑے پیکج تھے، شمالی سربیا کے کنجیزا میں گیس پائپ لائن سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ملے۔

پائپ لائن جسے بلقان اسٹریم کہا جاتا ہے، ترک اسٹریم پائپ لائن کی توسیع ہے جو روسی گیس سربیا اور ہنگری تک لے جاتی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پنجاب میں اشیائے ضروریہ پر عوامی ریلیف کا منصوبہ تیار

Published

on



پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ضروری اشیاء پر عوامی ریلیف کا پلان تیار کر لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے لیے مختلف سبسڈی ماڈلز تیار کیے گئے، حکومت کے سامنے تین بڑے آپشنز پیش کر دیے گئے۔

سہولت بازاروں میں ضروری اشیاء پر 10 سے 20 فیصد سبسڈی کی تجویز زیر غور ہے جبکہ منڈیوں میں بیوپاریوں کے لیے سبسڈی کی تجویز ہے جبکہ منڈیوں کے رجسٹرڈ کاروباری افراد کو سبسڈی دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

گڈر ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی دینے کی تجویز کا ماڈل بھی پیش کیا گیا۔ تینوں ماڈلز پر شفافیت اور مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

ذرائع کے مطابق دیگر صوبوں سے آنے والی اجناس کے باعث ماڈل کی افادیت محدود ہونے کا خدشہ ہے، منڈیوں میں شفافیت اور مصنوعی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ موجود ہے۔ غلط رپورٹنگ اور کوالٹی کے مسائل بھی ممکنہ چیلنجز قرار دیے گئے۔

سہولت بازاروں کے ذریعے سبسڈی دینے کا ماڈل زیادہ مؤثر ہوگا، سہولت بازاروں میں براہِ راست صارفین کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ جاری ہے، حتمی منظوری وزیر اعلیٰ کی منظوری کے بعد دی جائے گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

سندھ ہائیکورٹ نے زیر التواء قتل مقدمات 3 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا

Published

on


سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں قتل کے مقدمات کے بڑھتے ہوئے التوا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 2023 تک درج تمام زیر التواء مقدمات 3 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبے میں قتل کے مقدمات کے بڑھتے ہوئے التوا سے متعلق ممبر انسپکشن ٹیم نے سیشن ججز کو خط لکھ دیا۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ کیس مینجمنٹ سسٹم کے مطابق مختلف اضلاع میں قتل کے پرانے مقدمات کی بڑی تعداد زیر التواء ہے۔ سال 2023 تک مجموعی طور پر 1761 قتل کے مقدمات ابھی تک نمٹائے نہیں جاسکے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کا حکم دیا ہے۔ ہر ہفتے کیسز کی سماعت مقرر کریں اور تین ماہ کے اندر اندر تمام زیر التواء مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

سیشن ججز کیسز نمٹانے کے حوالے سے ماہانہ کارکردگی رپورٹس بھی جمع کرائیں۔ ضلع خیرپور میں 242 مقدمات زیر التواء ہیں۔ کراچی میں مجموعی طور پر 632 قتل کے مقدمات زیر التوا ہیں۔

ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو 2023 تک درج تمام زیر التواء مقدمات 3 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مقدمات کی روزانہ نگرانی اور ہفتہ وار بنیاد پر سماعت یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔





Source link

Continue Reading

Today News

’مسلمانوں کو اترپردیش سے نکال دیں گے‘، یوپی وزیراعلیٰ کے متنازع بیان نے آگ بھڑکا دی

Published

on


بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے ایک خطاب کے دوران مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات دے دیے جس کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست آسام میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی آسام کو مبینہ طور پر ’مسلم دراندازوں‘ سے پاک کر سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر مسلمان کی نشاندہی کرکے اسے ریاست سے نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتر پردیش میں اب کسی کو سڑکوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ عبادت گاہوں سے بلند آواز میں عبادات یا اعلانات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے ان بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں اور معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مباحث پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending