Connect with us

Today News

نیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ؛سندھ اسٹرائیکرز کی7 گولڈ میڈلز کیساتھ پہلی پوزیشن

Published

on



نیشنل باکسنگ چیمپیئن شپ این بی سی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے مقابلوں میں سندھ اسٹرائیکرز کے باکسرز نے 7 گولڈ میڈلز کے ساتھ برتری ثابت کر دی،پنجاب تھنڈرز نے دوسری اور بلوچستان ایگلز نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 

بوائز اینڈ گرلز چیمپیئن شپ میں 21 ویٹ کیٹیگری کے مقابلوں میں  بوائز کے13اور گرلز کے8 ویٹ شامل تھے، اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی میجر جنرل یحییٰ سلیمان گوندل نے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے صدر کرنل (ر)ناصر تنگ اورسیکریٹری جنرل میجر عرفان یونس کے ہمراہ انعامات تقسیم کیے۔

اس موقع پرپاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سینئر نائب صدر اور سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن کے صدر اصغر بلوچ،ٹیکنیکل ڈیلی گیٹ یونس پٹھان،سندھ اولمپک ایسوی ایشن کے سیکریٹری جنرل احمد علی راجپوت، پرویز احمد شیخ،عائشہ ارم،ندیم خان،محمدمصدق اور دیگر بھی موجود تھے۔

جونیئر کلاس میں  سندھ کی عائشہ خان چیمپئن شپ کی بہترین باکسر قرار پائیں۔چیمپیئن شپ میں 10ٹیموں کے210باکسرز شریک تھے۔ سندھ اسٹرایئکرز نے سات گولڈ،ایک سلور اور تین برانز میڈلز جیتے۔پنجاب ٹینڈرزنے 4 گولڈ، 2 سلور اور 5 برانز میڈلزحاصل کرکے دوسری پوزیشن پائی جبکہ بلوچستان ایگلز اور بلوچستان بولز نے تین، تین گولڈ میڈلزکے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

کے پی ٹائیگرز نے دو گولڈ،تین سلور اور ایک برانز،سندھ اسٹالنز نے ایک گولڈ،پانچ سلور اور تین برانز ،پنجاب واریئرز نے ایک گولڈ،دو سلور اور دو برانز،اسلام آباد نے دو سلور اور 6 برانز،کے پی لائنز نے ایک سلور اور تین برانز جبکہ آزاد کشمیر نے ایک برانز میڈل یقینی بنایا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران نے امریکی امن منصوبے پر اپنا جواب پاکستان کو پیش کردیا

Published

on


ایران نے امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے پر اپنا باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر وہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرسکتے۔

ایران نے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی جیسے اقدامات وقتی ہوتے ہیں جس کے دوران فریق خود کو جنگ کے لیے دوبارہ متحرک اور منظم کرلیتا ہے جس سے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران کے جواب میں دس نکات شامل ہیں جن میں خطے میں جاری تمام تنازعات کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ کے لیے باقاعدہ طریقہ کار، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو جیسے مطالبات شامل ہیں۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ ایران صرف اسی صورت کسی معاہدے پر آمادہ ہوگا جب جنگ کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے اور مستقبل میں دوبارہ جنگ کا راستہ مکمل طور پر بند کردیا جائے۔

ایرامی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے اس بات پر بھی چور دیا ہے کہ خطے کے تمام تنازعات کو ایک جامع امن منصوبے کا حصہ بنانا ضروری ہے تاکہ دیرپا استحکام حاصل کیا جا سکے۔

تہران سے رپورٹنگ کرنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک واضح پروٹوکول چاہتا ہے، کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے معاملے میں بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود مضبوط اقدامات کو ترجیح دے گا۔ اسی تناظر میں عارضی جنگ بندی کو غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے اس ردعمل پر باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب سے کچھ دیر بعد پریس کانفرنس کریں گے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ملائیشیا: 7000 سے زائد کمروں والا دنیا کا سب سے بڑا ہوٹل

Published

on



دی فرسٹ ورلڈ ہوٹل اینڈ پلازہ اپنے معیار یا ڈیزائن کے اعتبار سے دنیا کا سب سے متاثر کن ہوٹل تو نہیں لیکن کمروں کی تعداد میں دنیا کو کوئی ہوٹل اس کے مقابلے میں نہیں ہے۔

ملائیشیا کے اس ہوٹل کا جب 2006 میں افتتاح ہوا تو اس کے صرف 6118 کمرے تھے اور دو سال بعد ہی اس ہوٹل کو لاس ویگس کے ’وینیٹین ہوٹل‘ (7128 کمرے) کے ہاتھوں ’دنیا کے سب سے بڑے ہوٹل‘ ٹائٹل گنوانا پڑا تھا۔

تاہم، دوسرے ٹاور کی تعمیر کے بعد 2015 میں اس ہوٹل کے کمروں کی تعداد 7351 ہوگئی اور اس نے اپنا ٹائٹل دوبارہ حاصل کر لیا اور تب سے یہ ریکارڈ اسی ریزورٹ کے پاس ہے۔

ملائیشیا کے دارالحکومت سے 50 کلومیٹر شمال میں پیہنگ خطے میں واقع اس ہوٹل 3164 اسٹینڈرڈ، 2922 لگژری، 649 لگژری ٹرپل، 480 سُپیریئر لگژری اور 136 ورلڈ کلب کمرے موجود ہیں۔



Source link

Continue Reading

Today News

’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘، کیس جیتنے کے بعد علی ظفر کا اظہار خیال

Published

on



پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر نے اپنے طویل قانونی کیس کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے نے ان کے اندر صبر، استقامت اور انصاف کے تصور کو نئے انداز میں تشکیل دیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں علی ظفر نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اُن لوگوں کا شکر گزار ہوں جو آزمائش کے وقت میں میرے اور سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔ جنہوں نے مجھ پر شک کیا، اُن سے کوئی گلہ نہیں، ہم سب سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ دنیا کو فیصلوں سے زیادہ ہمدردی کی ضرورت ہے۔

طویل عدالتی کارروائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران سب سے بڑا سبق انہیں اپنی اندرونی طاقت کا احساس ہوا۔ صبر، اور ایک ایسی طاقت جس کا آپ کو اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک آپ کو اس کی ضرورت نہ پڑے۔ جب ہر طرف سے فیصلے سنائے جا رہے ہوں تو انسان کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ میں نے سیکھا کہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی اور خود کو ثابت قدم رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔

علی ظفر کے مطابق عوامی دباؤ اور تنقید کے باوجود خود کو پُرسکون رکھنا اس آزمائش کا سب سے مشکل پہلو تھا، لیکن یہی خاموش استقامت انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتی رہی۔

انہوں نے کہا، ’’آخرکار یہی استقامت آپ کو سنبھالتی ہے۔‘‘

اپنی موجودہ ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ایک طرح کے سکون کا احساس کر رہے ہیں۔
’’میرے لیے اب یہ سب صرف سکون ہے‘‘۔

تاہم انہوں نے جھوٹے الزامات کے وسیع تر اثرات پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جھوٹا الزام کسی شخص کی ساکھ، تعلقات اور زندگی پر حقیقی اثرات ڈالتا ہے، اور انصاف کے تصور میں اس پہلو کو بھی شامل ہونا چاہیے۔‘‘

علی ظفر نے قانونی عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ ورانہ طور پر انصاف کو ثبوت اور قانون پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ شور شرابے یا دباؤ پر۔ ’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘ یہ صرف قانونی اصول نہیں بلکہ انسانی اصول بھی ہے۔

انہوں نے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ تخلیقی کام کی جانب لوٹنے کے لیے پُرامید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں دوبارہ تخلیق اور اُن لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں جو ان اصولوں پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ سیشن عدالت نے گزشتہ ہفتے گلوکارہ میشا شفیع کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ یہ مقدمہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے کے بعد دائر کیا گیا تھا۔



Source link

Continue Reading

Trending