Connect with us

Today News

’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘، کیس جیتنے کے بعد علی ظفر کا اظہار خیال

Published

on



پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر نے اپنے طویل قانونی کیس کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجربے نے ان کے اندر صبر، استقامت اور انصاف کے تصور کو نئے انداز میں تشکیل دیا۔

ایکسپریس ٹریبیون کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں علی ظفر نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اُن لوگوں کا شکر گزار ہوں جو آزمائش کے وقت میں میرے اور سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔ جنہوں نے مجھ پر شک کیا، اُن سے کوئی گلہ نہیں، ہم سب سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ دنیا کو فیصلوں سے زیادہ ہمدردی کی ضرورت ہے۔

طویل عدالتی کارروائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران سب سے بڑا سبق انہیں اپنی اندرونی طاقت کا احساس ہوا۔ صبر، اور ایک ایسی طاقت جس کا آپ کو اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک آپ کو اس کی ضرورت نہ پڑے۔ جب ہر طرف سے فیصلے سنائے جا رہے ہوں تو انسان کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ میں نے سیکھا کہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی اور خود کو ثابت قدم رکھنا سب سے مشکل کام ہے۔

علی ظفر کے مطابق عوامی دباؤ اور تنقید کے باوجود خود کو پُرسکون رکھنا اس آزمائش کا سب سے مشکل پہلو تھا، لیکن یہی خاموش استقامت انہیں آگے بڑھنے میں مدد دیتی رہی۔

انہوں نے کہا، ’’آخرکار یہی استقامت آپ کو سنبھالتی ہے۔‘‘

اپنی موجودہ ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب وہ ایک طرح کے سکون کا احساس کر رہے ہیں۔
’’میرے لیے اب یہ سب صرف سکون ہے‘‘۔

تاہم انہوں نے جھوٹے الزامات کے وسیع تر اثرات پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس کے ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جھوٹا الزام کسی شخص کی ساکھ، تعلقات اور زندگی پر حقیقی اثرات ڈالتا ہے، اور انصاف کے تصور میں اس پہلو کو بھی شامل ہونا چاہیے۔‘‘

علی ظفر نے قانونی عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ ورانہ طور پر انصاف کو ثبوت اور قانون پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ شور شرابے یا دباؤ پر۔ ’جب تک جرم ثابت نہ ہو، انسان بے گناہ ہے‘ یہ صرف قانونی اصول نہیں بلکہ انسانی اصول بھی ہے۔

انہوں نے مستقبل کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ تخلیقی کام کی جانب لوٹنے کے لیے پُرامید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں دوبارہ تخلیق اور اُن لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں جو ان اصولوں پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ سیشن عدالت نے گزشتہ ہفتے گلوکارہ میشا شفیع کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ یہ مقدمہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے کے بعد دائر کیا گیا تھا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

13 عوامی سماعتیں؛ سانحہ گل پلازہ کے کمیشن نے حتمی رپورٹ مرتب کرلی

Published

on



گل پلازہ سانحہ، کتنوں کے لخت جگر لقمہ اجل بن گئے، درجنوں خاندانوں کی خوشیاں راکھ کا ڈھیر ہوگئیں، ان سب کا ذمے دار کون ہے؟ متاثرین کے لیے انصاف کی گھڑی قریب آگئی، وہ فیصلہ کن موڑ جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا، عدالتی کمیشن نے 13 سماعتوں اور کئی محکموں کی باز پرس کے بعد حتمی رپورٹ مرتب کرلی جو آج سیکریٹری قانون کے سپرد کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے مقررہ مدت کے دوران 13 سماعتوں میں ریسکیو اداروں، اراضی کے ریکارڈ اور عمارت بنانے کی اجازت دینے والے سرکاری محکموں، ماہرین اور متاثرین کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد رپورٹ مرتب کرلی ہے۔

کمیشن کی رپورٹ سے گل پلازہ حادثے کی ذمے داری، ریسکیو اداروں سمیت دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی کا تعین کیا جاسکے گا۔ حکومت سندھ کے پاس رپورٹ شائع کرنے یا نہ کرنے کا صوابدیدی اختیار ہے۔ تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے مجموعی طور پر 13 عوامی سماعتوں میں مختلف سرکاری اداروں، ماہرین اور متاثرین کے بیانات ریکارڈ کیے۔

سندھ ہائیکورٹ کے حاضر سروس جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں عدالتی کمیشن کی انکوائری کا باقاعدہ آغاز 10 فروری 2026 گزٹ نوٹیفکیشن کے اجرا سے ہوا۔ 11 فروری کو ابتدائی اجلاس میں سیکریٹری قانون، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ اور کمشنر کراچی نے شرکت کی، 12 فروری کو جاں بحق افراد کے لواحقین کو ملاقات کے لیے جبکہ 13 فروری کو مختلف محکموں کو سماعت کے لیے نوٹس جاری کیے گئے۔

 14 فروری کو کمیشن کے چیئرمین اور اراکین نے گل پلازہ کا دورہ کیا، 16 فروری کو کمیشن نے ڈی سی کمپلیکس میں لواحقین سے ملاقات کی۔ 18 فروری کو پہلی عوامی سماعت میں ڈی جی  ریسکیو 1122، چیف فائر افسر، ایدھی اور چھیپا کے نمائندوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ 19 فروری کو سی ای او کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی، ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، پولیس سرجن اور دیگر اداروں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جبکہ اسی روز مزید سماعت کے لیے نوٹسز جاری ہوئے۔

 21 فروری کو صحافی بابر سلیم اور گل پلازہ سے شہریوں کو ریسکیو کرنے والے شہری دانش کا بیان ریکارڈ ہوا۔ 23 فروری کو ایس ایس پی سٹی، ایس ایس پی ٹریفک، قائم مقام سی ای او کے الیکٹرک، ایس ایس جی سی نمائندے، صدر کے سی سی آئی اور دیگر اداروں کے نمائندگان پیش ہوئے۔

 24 فروری کو صحافی بابر سلیم کے بیان پر جرح کے لیے چیف فائر افسر کو نوٹس جاری کیا گیا۔ 25 فروری کو سانحے میں بچ جانے والے متاثرین کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جبکہ شہری دانش کے بیان پر جرح کے لیے ڈی جی ریسکیو 1122 کو نوٹس جاری کیا گیا۔

 26 فروری کو سول ڈیفنس کے ٹیکنیکل انسٹرکٹر مرزا مرسلین کا بیان ریکارڈ کیا گیا جبکہ 27 فروری کو انکے بیان پر جرح کے لیے چیف فائر افسر اور ڈی جی ریسکیو 1122 کو نوٹس جاری کیے گئے جبکہ اسی روز کمیشن کی جانب سے سوالنامے کے جواب کے لیے یاد دہانی نوٹس جبکہ صحافی بابر اور دانش کو جرح کے لیے پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے گئے، 27 فروری کو ہی الیکٹرک انسپکٹر کو بھی طلبی کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔

 2 مارچ کو ایدھی اور چھیپا کے ڈرائیوروں اور رضاکاروں کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔ 3 مارچ کو صحافی بابر سلیم اور دانش کے بیانات پر جرح کی گئی اور انرجی ڈیپارٹمنٹ کے الیکٹرک انسپکٹر کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ 5 مارچ کو ایدھی اور چھیپا کے ڈرائیورز کے بیانات لیے گئے جبکہ اسی روز سینٹرل فائر اسٹیشن کے اسٹیشن افسر کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا اور سول ڈیفنس نے ٹیکنیکل انسٹرکٹر کو جرح کے لیے پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔

 10 مارچ کو ماہر آرکیٹیکٹ عارف حسن کی بطور ایکسپرٹ رائے سنی گئی جبکہ اسی روز میونسپل کمشنر اور سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ریکارڈ پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا۔ 12 مارچ کو فائر بریگیڈ افسران کے بیانات اور جرح مکمل کی گئی جبکہ 16 مارچ کو مزید بیانات قلمبند کیے گئے اور ڈی جی ایس بی سی اے کو انٹرروگیٹری نوٹسز جاری ہوا۔

 18 مارچ کو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ذاتی سماعت اور ریکارڈ پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا۔ 25 مارچ کو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی ذاتی سماعت کی گئی اور اسی روز انہیں ریکارڈ پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا، 31 مارچ کو ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور میونسپل کمشنر کے ایم سی کو قانونی وضاحت کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے۔

کمیشن نے یکم اپریل 2026 کو سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو مزید وضاحت کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کیا۔



Source link

Continue Reading

Today News

ایران کو صرف ایک رات میں ختم کرسکتے ہیں اور وہ منگل کی رات ہوسکتی ہے؛ ٹرمپ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف انتہائی سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران ختم کرنے کی یہ کارروائی منگل کی رات بھی ہوسکتی ہے۔

امریکی صدر نے ایران میں پھنسے اپنے فوجی اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کیے گئے آپریشن کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے فوج کو ہر ممکن اقدام کی ہدایت دی تھی تاکہ اپنے اہلکاروں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ریسکیو مشن میں اکیس امریکی فوجی طیارے استعمال کیے گئے جبکہ دوسرے بڑے آپریشن میں ایک سو پچپن طیارے شامل تھے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس دوسرے مشن میں چار بمبار طیارے چونسٹھ لڑاکا طیارے اڑتالیس ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور تیرہ ریسکیو طیارے شریک تھے۔

انھوں نے منگل ڈیڈ لائن پر ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے امن معاہدہ نہ کیا یا آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو ایران کے پاور پلانٹس پلوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ ایران پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے جنگ کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

جلسے کی اجازت نہ ملی تو جہاں جہاں روکا جائے گا وہیں جلسہ گاہ بنا دیں گے، سہیل آفریدی  

Published

on



وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی  کا کہنا ہے کہ اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو جہاں کارکنوں کو روکا جائے گا وہیں پر احتجاج کیا جائے گا اور ہر مقام کو جلسہ گاہ بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے پاکستان کو 9 اپریل 2022 سے 9 اپریل 2026 تک کے عرصے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ ملک کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9 اپریل 2022 کو ایک جمہوری حکومت کو بیرونی سازش کے تحت بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے ذریعے ہٹایا گیا جس کے بعد ملک مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس عرصے میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد ہو جاتی، زرعی، صنعتی اور برآمدی شعبے دگنی رفتار سے ترقی کرتے، سرمایہ کار، نوجوان اور اوورسیز پاکستانی پہلے سے زیادہ مطمئن ہوتے تو صورتحال قابل قبول ہوتی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ6.1 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 2.7 فیصد تک آ چکی ہے جبکہ ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی قوت خرید شدید متاثر ہوئی ہے، پیٹرول کی قیمتیں 150 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 380 اور 458 روپے تک جا پہنچی ہیں جبکہ آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس کے باعث عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی موثر اصلاحاتی ایجنڈا، اور ان کی تمام تر توجہ صرف اقتدار کے تحفظ اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عوام خصوصاً غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور اب یہ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عوام کھل کر موجودہ پالیسیوں کو مسترد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ملک کو کس سمت میں لے جایا جا رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بظاہر 21 ارب ڈالر دکھائے جا رہے ہیں مگر یہ قرض اور عارضی سہارا ہیں، جبکہ تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور برآمدات میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دوست ممالک نے اپنی رقوم کی واپسی کا تقاضا کیا تو زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں پاکستان کا عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے متاثر ہے، شدید اضطراب کا شکار ہے اور ان حالات کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی کا خطرہ ہے جس سے پاکستان کے قرضوں میں بے تحاشا اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی، آزاد عدلیہ، آزاد صحافت اور بنیادی شہری آزادیوں کے لیے پرامن احتجاج ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پرامن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

 9 اپریل 2022 کو جمہوریت پر کاری ضرب لگائی گئی اور اب 9 اپریل کو لیاقت باغ میں ہونے والا احتجاج اسی حقیقت کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج ایک روزہ سرگرمی ہوگی۔ ہم اپنے آئینی و قانونی حق کے تحت پرامن جلسہ کرنا چاہتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو جہاں کارکنوں کو روکا جائے گا وہیں پر احتجاج کیا جائے گا اور ہر مقام کو جلسہ گاہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حالات خراب کیے گئے یا کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل، بشمول لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج، پر غور کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ 9 اپریل کو صبح 11 بجے پشاور سے ان کا قافلہ روانہ ہوگا اور راستے میں آنے والے اضلاع سے قافلے اس میں شامل ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مون سون بارشوں اور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی کنٹنجنسی پلان تیار کر رکھا ہے، جس پر جنوری سے کام جاری ہے، اور تمام متعلقہ محکمے فعال ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے بروقت تیاری کرتے ہوئے تمام اداروں کو متحرک کیا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف جمہوری، آئینی اور پرامن طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ ایک اور جواب میں انہوں نے کہا کہ آپریشن نہ پہلے کسی مسئلے کا حل تھے اور نہ آج ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف پاکستان تحریک انصاف کا موقف نہیں بلکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے پلیٹ فارم پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں نے متفقہ طور پر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ آپریشنز کے ذریعے پائدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔

 انہوں نے کہا کہ ماضی میں 22 بڑے آپریشنز اور 16 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، مگر اس کے باوجود دہشتگردی ختم نہ ہو سکی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردی کا حل محض طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ جامع سیاسی و سماجی حکمت عملی میں ہے جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔

 انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں بغیر کسی واضح مقصد اور حکمت عملی کے آپریشن کا اعلان کیا گیا، جس پر میں نے بار بار تحفظات کا اظہار کیا۔ وہاں اس وقت برف باری ہو رہی تھی، میں نے کہا کہ کیا آپ برف باری کے خلاف آپریشن کریں گے۔ لوگوں سے وعدہ کیا گیا کہ انہیں دو مہینوں میں واپس بھیج دیا جائے گا، لیکن میں نے واضح کہا تھا کہ مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ انہیں دو مہینوں میں واپس بھیج سکیں گے اور میں اس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔

 انہوں نے کہا کہ قیادت کا تقاضا یہ ہے کہ عوام کے ساتھ سچ بولا جائے، نہ کہ غیر حقیقی توقعات پیدا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سیاسی اور جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنے پر یقین رکھتی ہے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرتی رہے گی۔ ایک اور جواب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بعض عناصر ملک میں انتشار چاہتے ہیں تاکہ جعلی حکومتوں کو برقرار رکھا جا سکے، تاہم پاکستان تحریک انصاف اس سوچ کو مسترد کرتی ہے اور ملک میں استحکام، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام، صحافی، وکلا اور دیگر طبقات جن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کو دنیا کے سامنے لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار سال بعد صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف یا عمران خان کا نظریہ ختم ہو چکا ہے، انہیں کھلا چیلنج ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں آ کر عوامی طاقت کا مقابلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف انہیں جلسے کی اجازت دیں گے بلکہ ان کے لیے اسٹیج اور دیگر سہولیات بھی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس دیگر صوبوں میں ہمارے کارکنوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے، ہراساں کیا جا رہا ہے اور سیاسی سرگرمیوں سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی، لاہور اور کوئٹہ میں بھی ہمیں یکساں اور منصفانہ سیاسی میدان فراہم کیا جائے اور ہمارے کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ اصل عوامی حمایت کھل کر سامنے آ سکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، اور اس وقت ملک کو شدید سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ قبائلی اضلاع کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے وقت مختلف آراء موجود تھیں، تاہم عمران خان کے فیصلے کے نتیجے میں قبائلی عوام میں سے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو وزیر اعلی بننے کا موقع ملا، جس سے ان علاقوں میں امید کی نئی فضا پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام آج خود کو نظام کا حصہ محسوس کر رہے ہیں اور یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انضمام کے حوالے سے کسی قسم کی غیر ذمہ دارانہ یا مہم جوئی پر مبنی کوشش کی گئی تو اس کے شدید اور منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عوام کے حقوق، جمہوریت اور آئینی بالادستی کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔



Source link

Continue Reading

Trending