Connect with us

Today News

جلسے کی اجازت نہ ملی تو جہاں جہاں روکا جائے گا وہیں جلسہ گاہ بنا دیں گے، سہیل آفریدی  

Published

on



وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی  کا کہنا ہے کہ اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو جہاں کارکنوں کو روکا جائے گا وہیں پر احتجاج کیا جائے گا اور ہر مقام کو جلسہ گاہ بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے پاکستان کو 9 اپریل 2022 سے 9 اپریل 2026 تک کے عرصے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ ملک کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9 اپریل 2022 کو ایک جمہوری حکومت کو بیرونی سازش کے تحت بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے ذریعے ہٹایا گیا جس کے بعد ملک مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس عرصے میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد ہو جاتی، زرعی، صنعتی اور برآمدی شعبے دگنی رفتار سے ترقی کرتے، سرمایہ کار، نوجوان اور اوورسیز پاکستانی پہلے سے زیادہ مطمئن ہوتے تو صورتحال قابل قبول ہوتی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ6.1 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 2.7 فیصد تک آ چکی ہے جبکہ ملک کی 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی قوت خرید شدید متاثر ہوئی ہے، پیٹرول کی قیمتیں 150 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 380 اور 458 روپے تک جا پہنچی ہیں جبکہ آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس کے باعث عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی موثر اصلاحاتی ایجنڈا، اور ان کی تمام تر توجہ صرف اقتدار کے تحفظ اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عوام خصوصاً غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور اب یہ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عوام کھل کر موجودہ پالیسیوں کو مسترد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ملک کو کس سمت میں لے جایا جا رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بظاہر 21 ارب ڈالر دکھائے جا رہے ہیں مگر یہ قرض اور عارضی سہارا ہیں، جبکہ تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور برآمدات میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دوست ممالک نے اپنی رقوم کی واپسی کا تقاضا کیا تو زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے بھی نیچے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں پاکستان کا عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے متاثر ہے، شدید اضطراب کا شکار ہے اور ان حالات کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی کا خطرہ ہے جس سے پاکستان کے قرضوں میں بے تحاشا اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی، آزاد عدلیہ، آزاد صحافت اور بنیادی شہری آزادیوں کے لیے پرامن احتجاج ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پرامن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

 9 اپریل 2022 کو جمہوریت پر کاری ضرب لگائی گئی اور اب 9 اپریل کو لیاقت باغ میں ہونے والا احتجاج اسی حقیقت کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج ایک روزہ سرگرمی ہوگی۔ ہم اپنے آئینی و قانونی حق کے تحت پرامن جلسہ کرنا چاہتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو جہاں کارکنوں کو روکا جائے گا وہیں پر احتجاج کیا جائے گا اور ہر مقام کو جلسہ گاہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حالات خراب کیے گئے یا کارکنوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا تو آئندہ کے لائحہ عمل، بشمول لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج، پر غور کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ 9 اپریل کو صبح 11 بجے پشاور سے ان کا قافلہ روانہ ہوگا اور راستے میں آنے والے اضلاع سے قافلے اس میں شامل ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مون سون بارشوں اور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی کنٹنجنسی پلان تیار کر رکھا ہے، جس پر جنوری سے کام جاری ہے، اور تمام متعلقہ محکمے فعال ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے بروقت تیاری کرتے ہوئے تمام اداروں کو متحرک کیا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف جمہوری، آئینی اور پرامن طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام کے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ ایک اور جواب میں انہوں نے کہا کہ آپریشن نہ پہلے کسی مسئلے کا حل تھے اور نہ آج ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف پاکستان تحریک انصاف کا موقف نہیں بلکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے پلیٹ فارم پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں نے متفقہ طور پر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ آپریشنز کے ذریعے پائدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔

 انہوں نے کہا کہ ماضی میں 22 بڑے آپریشنز اور 16 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، مگر اس کے باوجود دہشتگردی ختم نہ ہو سکی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردی کا حل محض طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ جامع سیاسی و سماجی حکمت عملی میں ہے جس میں تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔

 انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں بغیر کسی واضح مقصد اور حکمت عملی کے آپریشن کا اعلان کیا گیا، جس پر میں نے بار بار تحفظات کا اظہار کیا۔ وہاں اس وقت برف باری ہو رہی تھی، میں نے کہا کہ کیا آپ برف باری کے خلاف آپریشن کریں گے۔ لوگوں سے وعدہ کیا گیا کہ انہیں دو مہینوں میں واپس بھیج دیا جائے گا، لیکن میں نے واضح کہا تھا کہ مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ انہیں دو مہینوں میں واپس بھیج سکیں گے اور میں اس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا۔

 انہوں نے کہا کہ قیادت کا تقاضا یہ ہے کہ عوام کے ساتھ سچ بولا جائے، نہ کہ غیر حقیقی توقعات پیدا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سیاسی اور جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنے پر یقین رکھتی ہے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرتی رہے گی۔ ایک اور جواب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بعض عناصر ملک میں انتشار چاہتے ہیں تاکہ جعلی حکومتوں کو برقرار رکھا جا سکے، تاہم پاکستان تحریک انصاف اس سوچ کو مسترد کرتی ہے اور ملک میں استحکام، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام، صحافی، وکلا اور دیگر طبقات جن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کو دنیا کے سامنے لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار سال بعد صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف یا عمران خان کا نظریہ ختم ہو چکا ہے، انہیں کھلا چیلنج ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں آ کر عوامی طاقت کا مقابلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف انہیں جلسے کی اجازت دیں گے بلکہ ان کے لیے اسٹیج اور دیگر سہولیات بھی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس دیگر صوبوں میں ہمارے کارکنوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے، ہراساں کیا جا رہا ہے اور سیاسی سرگرمیوں سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی، لاہور اور کوئٹہ میں بھی ہمیں یکساں اور منصفانہ سیاسی میدان فراہم کیا جائے اور ہمارے کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ اصل عوامی حمایت کھل کر سامنے آ سکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، اور اس وقت ملک کو شدید سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ قبائلی اضلاع کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے وقت مختلف آراء موجود تھیں، تاہم عمران خان کے فیصلے کے نتیجے میں قبائلی عوام میں سے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کو وزیر اعلی بننے کا موقع ملا، جس سے ان علاقوں میں امید کی نئی فضا پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام آج خود کو نظام کا حصہ محسوس کر رہے ہیں اور یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انضمام کے حوالے سے کسی قسم کی غیر ذمہ دارانہ یا مہم جوئی پر مبنی کوشش کی گئی تو اس کے شدید اور منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عوام کے حقوق، جمہوریت اور آئینی بالادستی کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ہائے !یہ مہنگائی مار دے گی

Published

on


ایک جانب ہرن تھا جس کے لیے زندگی کی بقا کا مسئلہ درپیش تھا۔ دوسری جانب شکاری تھا جس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ اب شکاری کو ظالم لکھنا تو فضول کی سی بات ہوگی۔ بات صاف ہے جس کے ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے۔ جس کو سامنے شکار نظر آرہا ہو اور وہ نشانہ لگانے کے لیے بے تاب بھی تو پھر وہ ظالم ہی کہلائے گا۔ چنانچہ کیفیت یہ تھی کہ ہرن جنگل میں نکلا تھا کہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے، یعنی اپنی خوراک کا انتظام کرسکے۔

وہ جنگل میں سرگرمی سے گھوم رہا تھا اور خوراک کی تلاش کررہا تھا۔ ممکن تھا کہ وہ خوراک تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتا کہ ایک شکاری جس کے ہاتھ میں بندوق تھی ،اس شکاری کی نظر اس ہرن پر پڑی جب کہ شکاری بے حد خوش ہوا کہ آج تو شکار بڑی آسانی سے ہاتھ آنے والا ہے، چنانچہ شکاری نے بندوق سیدھی کی اور ہرن کو نشانے پر لے لیا جب کہ ہرن نے بھی دیکھ لیا کہ شکاری اس کا نشانہ لے چکا ہے چنانچہ ہرن نے پوری قوت کے ساتھ بھاگنا شروع کردیا جب کہ شکاری بھی یہ سوچ کر کر ہاتھ آیا شکار چھوڑنا نہیں، اس ہرن کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا۔ بھاگنے میں دونوں اپنی اپنی پوری قوت استعمال کررہے تھے کہ ایک مقام پر جاکر ہرن تھک کے نڈھال ہوکر کھڑا ہوگیا گویا اب اس کے اندر مزید بھاگنے کی قوت جواب دے گئی تھی۔

اس کیفیت میں شکاری بھی اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں آ پہنچا مگر یہ کیا جیسے ہی شکاری نے ہرن کا نشانہ لیا تو بے بس ہرن پکار اٹھا کہ ’’شکاری گولی مت چلانا ورنہ قیامت آجائے گی۔‘‘ شکاری پہلے تو سوچ میں پڑگیا کہ میرے گولی چلانے سے قیامت کا کیا تعلق ؟بالاخر اس شکاری نے گولی چلا دی جو کہ ہرن کی ٹانگ پر جا لگی۔ اس کیفیت میں ہرن زمین پر گرا اور تڑپنے لگا ۔ شکاری نے ہرن سے کہا ’’ دیکھو میں نے گولی چلا دی جو کہ تیری ٹانگ میں جاکر لگ بھی گئی مگر تیرے کہنے کے مطابق قیامت تو نہیں آئی۔‘‘ شکاری کی بات سن کر ہرن درد کی شدت سے کراہتے ہوئے بولا’’ میرے لیے تو قیامت آچکی ،اول تو تم مجھے زندہ چھوڑوگے نہیں، دوئم۔ اگر تم مجھے زندہ چھوڑ بھی دو جو کہ ناممکن سی بات ہے تو اس صورت میں بھی مجھے باقی ساری زندگی ایک ٹانگ کی معذوری کے ساتھ گزارنا ہوگی۔‘‘

تو دوستوں ہمارے حکمران یقین کریں یا نہ کریں، عوام کے لیے قیامت برپا ہوچکی ہے گو کہ عوام کے لیے پہلے ہی سے قیامت صغریٰ برپا ہوچکی تھی مگر اب حکومت وقت نے قیامت کبریٰ برپا کردی ہے۔ عوام کے لیے پہلے ہی مسائل کے سبب جسم و جان کا ناتا برقرار رکھنا ناممکن تھا، اب تو حالات ہی دگرگوں ہوگئے ہیں۔ یہ اسی مسلم لیگ ن کی حکومت ہے جس کے لیڈران کہہ رہے تھے کہ اگر دو روپے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھتی ہے تو قوم کے حقیقی لیڈر و قوم کے ہمدردوں کے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔

ہم اگر کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی، بلکہ شکایت نہ ہوگی اور غدار وطن ٹھہرائے جائیں گے، کیونکہ عصر حاضر میں حکمرانوں پر تنقید کرنے کا مطلب لیا جاتا ہے وطن پر تنقید۔ بلاشبہ ہماری سب سے قیمتی متاع حیات بھی ایک بار نہیں، دو بار نہیں ہزار بار قربان ہے حالاں کہ موجودہ وزیراعظم صاحب جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے 2018 میں اپنا دس سالہ دور حکومت مکمل کرنے کے بعد انتخابی مہم پر نکلے تو شاعر انقلاب حبیب جالب کی نظم دستور جلسۂ عام میں لوگوں کو سنا رہے تھے۔

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

کیوں ڈراتے ہو زندان کی دیوار سے

ظلم کی بات کو جہل کی رات کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

حبیب جالب صاحب کی یہ نظم ذرا طویل ہے، اسی باعث اس نظم دستور کے چند اشعار پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔گویا موجودہ حکمران اسی دستور سے بغاوت کا اعلان کررہے تھے جس دستور کے تحت وہ حکومت میں آتے رہے اور جس دستور کے تحت وہ آج بھی حکمران ہیں مگر جو طرز حکومت انھوں نے اختیار کیا ہے اس طرز حکمرانی نے قوم کی چیخیں نکال دی ہیں گویا دو چار دس بیس روپے نہیں 137 روپے یکمشت پٹرول پر اور 182 روپے ڈیزل پر بڑھا دیے۔ ایک لمحے کو فقط ایک لمحے کو تو غور کرتے کہ ہزاروں مشکلات کا شکار قوم یہ اس قدر اضافہ کیسے برداشت کرے گی اگرچہ پورے ملک میں بے روزگاری ہے ۔

اب اگر فقط کراچی ہی کی بات کریں تو جو محنت کش کورنگی، شیرشاہ، بلدیہ ٹاؤن یا گڈاپ یا اورنگی ٹاؤن سے صدر یا ملیر یا قائد آباد سے پورٹ قاسم جاتے ہیں وہ محنت کش کم سے کم یک طرفہ کرایہ 150روپے اور دو طرفہ 300 روپے کرایہ ادا کریں گے اور پھر ایک ہزار روپے کماسکیں گے اور جو لوگ روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں ان کا گزارا کیسے ہوگا جب کہ لاہور میں کیفیت یہ ہے کہ وہاں دیہی علاقوں سے لوگ روزانہ محنت کرنے آتے ہیں اور شام کو واپس جاتے ہیں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان حالات میں جب مہنگائی کا طوفان برپا ہوگا تو وہ کیسے گزارا کریں گے کیوں کہ قیمتیں صرف پٹرول یا ڈیزل کی نہیں بڑھیں بلکہ اب تمام اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی۔

آٹا، دال، چاول، سبزیاں ، بسوں کے کرائے سمیت تمام چیزوں کے دام بڑھیں گے ۔ دوسری جانب حکومت کے حاشیہ بردار صحافی و میڈیا کے لوگ حکومت کے ان اقدامات کو حالات کا تقاضا وقت کی مجبوری قرار دیں گے اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کریں گے، ہم ابھی تک انھی سطور تک رسائی حاصل کرپائے تھے کہ درمیان میں جمعۃ المبارک کی ادائیگی کا وقت آگیا چنانچہ جب نماز جمعہ سے فراغت پائی تو یہ خبر ہماری منتظر تھی کہ ٹرانسپوٹرز نے فوری طور پر بسوںکے کرایوں میں 65 فیصد تک اضافہ کردیا ہے یہ اضافی کرایہ فوری طور پر نافذ العمل بھی کردیاگیا ہے ابھی لاہور سے دیگر شہروں کے لیے اضافی رقم بڑھائی گئی ہے وہ تفصیلات کچھ یوں ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد سابقہ کرایہ 3000  روپے ایک ہزار اضافہ کرائے کی یہ رقم ہوگی چار ہزار روپے۔ مری کا کرایہ سابقہ 3500 روپے اب یہ کرایہ ہوگا 4500 روپے کردیاگیا ہے گویا 11سو روپے بڑھادیاگیا۔

لاہور سے کراچی کا کرایہ 8600 سے بڑھا کر 12ہزار روپے کردیاگیا جب کہ دیگر چھوٹے بڑے شہروں کا بسوں کا کرایہ بھی لازمی بڑھے گا جب کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے بلکہ قابل فکر ہے کہ ریلوے کے کرائے بھی لازمی بڑھائے جائیں گے گویا اب جو لوگ ایک برس میں ایک بار کراچی سے خیبرپختون خوا یا پنجاب کے مختلف شہروں میں اپنے پیاروں کے پاس خوشی غمی میں شرکت کرلیتے تھے اب وہ ریلوے کے سفر سے بھی محروم ہوگئے ہیں، یوں بھی گزشتہ چار برسوں میں جس قدر کرائے بڑھائے گئے ہیں وہ اضافی کرائے ہیں لوگوں کے لیے ناقابل برداشت تھے ۔ پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کا ہی ذکر کیا، اگر ذکر کریں اہل پی جی گیس کا تو وہ جان لیں کہ اب وہ لوگ جو ایل پی جی گیس استعمال کرتے ہیں وہ لوگ اب کلہاڑیاں تھام لیں اور جنگلوں کی طرف چلے جائیں اور جلانے کے لیے لکڑیوں کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوجائیںکیونکہ موجودہ صورت حال میں آٹا، دال کا حصول ایک ناقابل عمل محسوس ہوتا ہے بہرکیف آنے والے دوچار روز میں تمام صورتحال واضح ہوجائے گی ،اپنی بات کا اختتام صد قابل احترام حبیب جالب کے ان اشعار پر کریں گے کہ

بپا ہے کربلا مہنگائی ہے تخریب کاری ہے

وزارت پھر بھی قائم ہے حکومت پھر بھی جاری ہے

جدھردیکھو ادھر پانی نہ گھر پانی نہ در باقی

یہاں پر ہم رہا کرتے تھے یہ بستی ہماری ہے

حکومت ذات پر جو خرچ کرتی ہے انھیں دے دے

کہ جن کے دن گراں کٹتے ہیں جن پر رات بھاری ہے





Source link

Continue Reading

Today News

ٹرمپ نے امریکی مشن اپنے پائلٹ کو نکالنے کیلیے نہیں بلکہ یورینیئم چُرانے بھیجا تھا، ایران

Published

on


ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کا لاپتا پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے مشن کا اصل مقصد ہمارے افزودہ یورینیم چرانا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے ایران میں امریکی فوج کے مشن کو ڈھونگ قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس نام نہاد مشن کے نام پر امریکی فوجیوں نے جس مقام پر اترنے کی کوشش کی وہاں کسی پائلٹ کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔

انھوں نے مزید کہ امریکی دعوے کے برعکس پائلٹ کی مبینہ موجودگی کا مقام اس مشن کی جگہ سے بہت دور ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ امریکی فوجی ایٹمی مواد تک رسائی چاہتے تھے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی ناکام سازش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ کے ریسکیو مشن کی آڑ میں ٹرمپ انتطامیہ نے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔

اُنھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی سلامتی اور ایٹمی تنصیبات کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

قبل ازیں امریکی صدر نے ایران میں پھنسے اپنے فوجی اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کیے گئے آپریشن کو تاریخی قرار دیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں نے فوج کو ہر ممکن اقدام کی ہدایت دی تھی تاکہ اپنے اہلکاروں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس ریسکیو مشن میں اکیس امریکی فوجی طیارے استعمال کیے گئے جبکہ دوسرے بڑے آپریشن میں ایک سو پچپن طیارے شامل تھے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق دوسرے مشن میں چار بمبار طیارے چونسٹھ لڑاکا طیارے اڑتالیس ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور تیرہ ریسکیو طیارے شریک تھے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

سفارتی سرگرمیاں مزید تیز، اسحاق ڈار کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے

Published

on



 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں مشرق وسطیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی سے گفتگو میں خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے امن و استحکام کے لیے کردار کو اجاگر کیا۔

جاپانی وزیر خارجہ نے خطے میں مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ اسی سلسلے میں پرتگال کے وزیر مملکت برائے خارجہ پاؤلو رینجل سے گفتگو کے دوران بھی خطے کی بدلتی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطح کے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ پرتگال نے پاکستان کے سفارتی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔

برطانیہ کے وزیر مملکت حمیش فالکنر سے گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال زیر بحث آئی برطانوی حکام نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

دریں اثناء کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ گفتگو میں بھی کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک نے پاکستان-کینیڈا تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ان تمام رابطوں میں پاکستان نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔



Source link

Continue Reading

Trending