Today News
ایران سے اپنے پائلٹس واپس لانے میں خدا ہماری رہنمائی کر رہا تھا؛ ٹرمپ
امریکی صدر اور وزیر دفاع نے ایران میں پھنسے اپنے دونوں پائلٹس کی بحفاظت واپسی کے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات پریس کانفرنس میں بتائیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران سے امریکی پائلٹوں کی ریسکیو آپریش کے ذریعے بحفاظت واپسی کو خدا کی رہنمائی قرار دیا۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ایران میں پھنسے ہمارے پائلٹس کی بحفاظت واپسی حیران کن واپسی کے لیے کی گئی ریسکیو کارروائی غیر معمولی نوعیت کی تھی جس میں خدا ہمارے ساتھ تھا۔
امریکی وزیر دفاع نے بتایا کہ ایک پائلٹ نے شدید خطرے میں چھپے رہنے کے دوران پہلا پیغام “خدا مہربان ہے” بھیجا تھا۔
اسی پریس کانفرنس میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ لاپتا پائلٹ کو تلاش کرنا صحرا میں ریت کے ایک ذرے کو ڈھونڈنے کے مترادف تھا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ایجنسی نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے پائلٹ کی موجودگی کی تصدیق کی اور ایک خفیہ حکمت عملی کے ذریعے ایران کو غافل رکھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بہادر افسر تقریباً 48 گھنٹے تک ایران میں زمین پر گرفتاری سے بچتا رہا۔ پائلٹ ایک پہاڑی دراڑ میں چھپا رہا۔ یہاں تک کہ ریسکیو ٹیم اس تک پہنچ گئی۔
امریکی صدر نے ایران میں پھنسے اپنے فوجی اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کیے گئے آپریشن کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے فوج کو ہر ممکن اقدام کی ہدایت دی تھی تاکہ اپنے اہلکاروں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔
انھوں نے بتایا کہ اس ریسکیو مشن میں اکیس امریکی فوجی طیارے استعمال کیے گئے جبکہ دوسرے بڑے آپریشن میں ایک سو پچپن طیارے شامل تھے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس دوسرے مشن میں چار بمبار طیارے چونسٹھ لڑاکا طیارے اڑتالیس ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور تیرہ ریسکیو طیارے شریک تھے۔
صدر نے ریسکیو مشن کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے امریکی مسلح افواج کو یہ حکم دیا تھا کہ پھنسے ہوئے فضائیہ کے اہلکار کو واپس لانے کے لیے جو بھی ضروری ہو، کیا جائے۔
انھوں نے فخر سے کہا کہ اس مشن میں غیر معمولی خطرات مول لیے لیکن کسی بھی ریسکیو اہلکار کو چوٹ نہیں آئی۔
Today News
کل نہ تم رہو گے نہ آبنائے ہرمز
اٹھائیس فروری کے دن اچانک دو بڑی وارداتیں ہوئیں۔اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے سپریم لیڈر آئیت اللہ علی خامنہ ای کو بیشتر اہلِ خانہ سمیت تہران میں قتل کر دیا اور تہران سے ساڑھے تیرہ سو کلومیٹر پرے جنوب مغرب میں آبنائے ہرمز کے ساحل سے پچیس کلومیٹر اندر قائم مناب قصبے کے شجرِ طیبہ گرلز پرائمری اسکول کی ایک سو ستر بچیوں کو یکے بعد دیگرے دو امریکی میزائلوں نے ختم کر دیا۔
تب سے اب تک کے پانچ ہفتے میں آبنائے ہرمز کا نام کرہِ ارض کے لگ بھگ ہر انسان کے کانوں تک شائد پہنچ چکا ہو۔خلیجِ فارس کو براستہ خلیجِ اومان بحرِ ہند سے ملانے والی انتالیس کلومیٹر چوڑی آبنائیِ ہرمز کو گذشتہ ڈیڑھ ہزار برس میں کئی لقب ملے۔
مثلاً عربوں نے جب ایران پر قبضہ کیا تو اس آبنائے کو دو نام عطا ہوئے۔باب السلام ( درِ امن ) اور باب الحدید ( درِ آہن )۔خلیج میں داخلے اور واپسی کے اس دروازے کے نزدیک ایرانی ساحل سے آٹھ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تین اہم جزیرے ہیں۔ان میں سب سے بڑا جزیرہ کیشم ہے۔اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہاں کی پتھریلی زمین پر جس قدر رنگ بکھرے ہوئے ہیں کرہِ ارض پر شائد ہی کوئی ایسا ارضیاتی نمونہ ملے۔ایک جزیرے کا نام لرک ہے اور ایک جزیرہ ہرمز ہے ( ویسے تو ابو موسی ، تمبِ اکبر و اصغر اور جزیرہ خرگ بھی ہیں مگر وہ آبنائے ہرمز سے فاصلے پر ہیں )۔
جزیرہ ہرمز ایک ایسی ساحلی سلطنت کا تجارتی مرکز رہا ہے جہاں فارس اور میسوپوٹیمیا سے گذرنے والی مقامی اور یورپی و ایشیائی و افریقی مصنوعات کو گوداموں میں رکھا جاتا تھا ( کھجور ، مصالحے ، قیمتی پتھر ، کپڑا ، خوشبویات ، خوراک ، لکڑی ، موتی وغیرہ )۔
ان مصنوعات کی بولی لگتی تھی اور تجارتی کشتیوں میں یہ سامان تمام معلوم دنیا میں آتا جاتا تھا ( تب تلک معلوم دنیا میں کسی شخص نے امریکا کا نام بھی نہیں سنا تھا )۔
ہرمز جزیرے پر سہولہویں صدی میں ( پندرہ سو پندرہ ) پرتگیزیوں نے قبضہ کر کے یہاں قلعہ تعمیر کیا۔سولہ سو بائیس میں ایرانی صفوی بادشاہت نے جزیرہ واپس لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کو پٹے پر دے دیا۔یہاں سے گذرنے والے مال پر محصولات میں بھی فریقین کے مابین شراکت داری قرار پائی ( آج ایران اور اومان ہرمز پر محصول لگا کر دراصل صدیوں پرانا آمدنی نظام بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں )۔
آبنائے ہرمز کے دوسری جانب صحراِ عرب یا چٹیل علاقہ ہے۔ ان دنوں جہاں کویت ، قطر ، بحرین ، اور امارات قائم ہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی ساحلی بستیاں ہوا کرتی تھیں۔ ماہی گیری اور سمندر سے موتی نکالنے کی صنعت ہی روزگار کا بنیادی وسیلہ تھا۔ پورے خطے میں انیسویں صدی کے وسط کے بعد انگریزی سامراجی اثر و رسوخ کے سبب تیل کی دریافت بھی برٹش پٹرولیم کمپنی نے کی تھی۔( ایران خطے کا پہلا ملک تھا جہاں انیس سو آٹھ میں تیل کی پیداوار شروع ہوئی )۔
دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں سلطنتِ برطانیہ کے زوال کے بعد اس علاقے میں آزادی حاصل کرنے والی قوم پرست حکومتوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں تیل کو قومی ملکیت میں لینا شروع کیا۔کوڑیوں کے مول وسائل سمیٹنے والی مغربی و امریکی تیل کمپنیوں نے اپنی اپنی حکومتوں کی حمائیت سے نیشنلائزیشن کے مقامی رجحان کی خاصی مزاحمت کی۔اس کش مکش کے دوران متعدد حکومتوں کے تختے الٹے گئے۔
تاہم اکتوبر انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل نواز مغربی ممالک کو تین ماہ تک تیل کی رسد منقطع ہونے سے جہاں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اب یہاں کی حکومتیں اپنے مفاداتی فیصلے خود کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔وہیں امریکا اور یورپ نے بھی آیندہ ایسے کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے اس علاقے میں مغرب نواز حکومتوں کو مستحکم کرنا شروع کیا۔یوں تیل کی آمدنی کو پیٹرو ڈالر اور مغربی معیشت سے جوڑ کے ایک نیا کولونیل مالیاتی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔
اسرائیل کو عسکری اعتبار سے پہلے سے زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی اور عرب ممالک سے تمام تر معاشی فوائد سمیٹنے کے باوجود یہ اہتمام برقرار رکھا گیا کہ مغربی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بھاری ٹھیکے بھی ملتے رہیں مگر کسی علاقائی ملک کو ایسا اسلحہ ، مہارت یا طاقت حاصل نہ ہو سکے جس سے اسرائیل کی عسکری برتری چیلنج ہو جائے۔ایران نے چونکہ انیس سو اناسی کے بعد اس نئی گیم کے قوانین ماننے سے انکار کر دیا لہذا اس کے گرد سرخ حصار کھینچ دیا گیا۔
آبنائے ہرمز کی ایرانی سائیڈ پر کوہ ِزاغروس کی چٹانیں ہیں جب کہ اومان کی سائیڈ پر سمندر میں جو نوک سی نکلی ہوئی ہے اسے جزیرہ نما مسندم کہا جاتا ہے۔
جیالوجی کے علم کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ شکل ساڑھے تین کروڑ برس قبل یوریشین اور عربین ارضیاتی پلیٹوں کے تصادم کے نتیجے میں ہونے والی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں تشکیل پائی۔ ایرانی سمت میں کوہِ زاغروس اور اومانی سمت میں کوہِ الہجر وجود میں آیا اور اس اتھل پتھل کے نتیجے میں وجود پذیر نئے ارضیاتی نظام میں جو نشیب پیدا ہوا اسے ہم خلیج کے طور پر جانتے ہیں۔اب سے بیس ہزار برس قبل آخری برفانی دور کے اختتام تک خلیج میں پانی کی مقدار ( برف بتدریج پگھلنے کے سبب ) اتنی اتھلی تھی کہ کئی مقامات پر آرپار چل کے جایا جا سکتا تھا۔
آبنائے ہرمز کی اومانی سائیڈ پر جزیرہ نما مسندم اب بھی حرکت میں ہے یعنی وہ سال بہ سال ایرانی سائیڈ کی جانب کھسک رہا ہے۔ماہرینِ ارضیات کا اندازہ ہے کہ ایک کروڑ برس بعد ہرمز کی اومانی اور ایرانی سائیڈ ملنے سے آبنائے کا وجود ہی ختم ہو جائے گا اور خلیج ایک خالص جھیل کی شکل اختیار کر لے گی۔
اچھی بات یہ ہے کہ انسان یہ نوبت آنے سے لاکھوں برس پہلے ہی معدوم ہو چکا ہو گا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔لہٰذا کرہِ ارض کی ان تمام نعمتوں پر جو تم سے پہلے بھی تھیں اور تمہارے بعد بھی رہیں گی جتنا لڑ سکتے ہو ابھی لڑ لو۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
بزرگ والدین اور ان کے مسائل
اس وقت بھارت میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے این جی اوز اور پرائیوٹ اداروں کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اولڈ ہوم چل رہے ہیں جہاں اپنے بچوں سے دور 15 سے 20 لاکھ بزرگ افراد رہائش پذیر ہیں جب کہ بھارت میں پہلے ہی مینٹی ننس اینڈ ویلفئیر آف پیرنٹس اینڈ سینئر سیٹیزن ایکٹ 2007 موجود ہے جس کے تحت بچے والدین کی مالی کفالت کے پابند ہیں،بزرگ عدالت سے مدد لے سکتے ہیں۔
اس کے باوجود انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو منظوری دی ،جس کے تحت ایسے تمام ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی جو خود اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم والدین کو فراہم کی جائے گی۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تنخواہ کا 15 فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) دس ہزار روپے ماہانہ اُن کے والدین کی دیکھ بھال کے لیے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
اس قانون کا اطلاق سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے تمام مرد و خواتین پر ہو گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ماں، باپ کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ قانون کے مطابق بچوں کی تنخواہوں کی کاٹی جانے والی رقم والدین کو اپنی دیکھ بھال اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جائے گی ،نیزاس قانون کے دائرے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے سبھی ملازمین شامل ہوں گے۔
اس کا اطلاق صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی پر بھی ہو گا۔قانون کے تحت ایسے والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے اُن کا بڑھاپے میں خیال نہیں رکھ پا رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے کلکٹر آفس میں اپنے بچوں کے خلاف شکایات درج کروا سکتے ہیں۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں مذکورہ بالا قسم کے قوانین موجود ہیں تاہم اس کے باوجودعالمی سطح پر بزرگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کے بجائے اولڈ ہومز میں رہتی ہے۔ چین میں اولڈ ہومز میں رہنے والے بزرگوں کی شرح ایک فیصد کے قریب ہے، جاپان جو دنیا کی سب سے مہذب قوم سمجھی جاتی ہے وہاں چار فیصد کے قریب، برطانیہ میں چار فیصد،یورپ میں چار فیصد سے زائد اور امریکا میں یہ شرح پانچ فیصد کے قریب ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ شرح پانچ فیصد بنتی ہے۔
بچوں کی اپنے بزرگ والدین سے دوری اور بے اعتنائی کے سبب دنیا میں بزرگوں کی تنہائی (Loneliness of elderly) ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن گیاہے اور اسی وجہ سے کچھ ممالک نے اس کے لیے خاص وزارت یا سرکاری عہدہ بھی قائم کیا ہے۔
برطانیہ دنیا کا پہلا ملک جس نے 2018 میں Minister for Lonelinessمقرر کیا اس کے بعد2021 میں جاپان نے بھی یہی عہدہ متعارف کرایا۔ دوسری طرف بزرگوں میں خودکشی کی شرح بھی زیادہ ہے۔عالمی سطح پر خودکشی کی اوسط شرح ایک لاکھ آبادی پر تقریباً نو سے بارہ افراد ہے جب کہ بزرگوں میں یہ شرح بیس سے انیس افراد ہے۔ یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔
غور کیا جائے تو مغرب یا ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں، اب پاکستان اور بھارت جیسے سب ہی ممالک میں بزرگو ں کے مسائل خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں جو جہاندیدہ افراد کو نظر آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بھارتی ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونٹت ریڈی کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف قانون بنانا نہیں ہے بلکہ بوڑھے والدین کے اندر یہ اعتماد بھی پیدا کرنا ہے کہ اُن کے ساتھ بڑھاپے میں ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔کسی بھی ماں باپ کو اُن کی زندگی کے آخری ایام میں بے سہارا اور بے بس نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔
انھوں نے اسمبلی میں یہ بھی کہاکہ ’معمر والدین کا تحفظ اور وقار بحال کیے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے اس سلسلے میں ملک کے معروف صنعت کار اور رمینڈ گروپ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیا کا ذکر کیا، جنھوں نے اپنے آخری ایام ایک اولڈ ہوم میں بہت تکلیف میں گزارے۔ اب یہ رجحان بھی نظر آتا ہے کہ والدین خود اپنے بچوں کو کمانے کے لیے اور اچھے مستقبل کے لیے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں اور خود تنہا یہاں اپنے گھر میں زندگی گزارتے ہیں گو کہ بچے بیرون ملک سے خرچہ تو بھیج دیتے ہیں مگر بڑھاپے میں اور بیماری کی صورتحال میں ان کی دیکھ بھال کے لیے اولاد یہاں موجود نہیں ہوتی صرف ویڈیو کال پر خیر خیریت معلوم کر لی جاتی ہے، یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔بعض گھرانوں میں بچے والدین کو عزت تو دیتے ہیں،خرچہ بھی دیتے ہیں لیکن وقت نہیں دیتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے والدین کا حق ادا کر دیا جب کہ بزرگوں کو پیسوں سے زیادہ بچوں کے وقت کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ان سے بات کرے، تنہائی ان بزرگ والدین کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔
غور کیا جائے تو اس وقت کسی ایسے گھر میں جہاں بزرگ والدین رہتے ہوں، دو بڑے مسائل ہیں، ایک مسئلہ بزرگوں کا ہے کہ ان کے پاس وقت ہی وقت ہے اور وہ کسی کو تلاش کرتے ہیں کہ کوئی بات کرنے والا، گفتگو کرنے والا مل جائے، ان میں جو بزرگ چل پھر سکتے ہیں وہ کسی کلب میں، ہوٹل میں یا چوراہے پر اپنے ہم عمر لوگوں میں بیٹھ کر وقت گزار تے ہیں لیکن جو بزرگ چل پھر نہیں سکتے، صرف گھر پر رہتے ہیں انھیں گھر میں وقت گزارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ عموماً گھر کا ہر فرد مصروف ہوتا ہے۔
موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ بے پناہ مصروفیت بھی ہے، کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں ہوتا اور اگر کچھ وقت میسر آجائے تو وہ موبائل کی نذر ہو جاتا ہے۔ اب تو گھر آئے مہمان کو بھی وقت دینا مشکل ہوگیا ہے، ایک جگہ بیٹھے لوگ آپس میں بھی بات نہیں کرتے بلکہ موبائل میں لگے رہتے ہیں، سو ایسے میں گھر کے بزرگوں کو کہاں سے وقت دیا جائے؟ یوں ہمارا ہاں بھی تنہائی، ہمارے بزرگوں کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔اسی طرح بہت سے گھروں میں بچے اپنے والدین سے لڑتے ہیںکہ انھوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا، اس ضمن میں بعض اپنے والدین سے ہفتوں اورمہینوں بات نہیں کرتے۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین غلط ہیں حالانکہ بات یہ ہے کہ والدین غلط بھی ہوں تو والدین ہوتے ہیں، ان سے ناراضگی کیوں، جب کہ ہمارا دین تو کہتا ہے کہ جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں ’’اف ‘‘ بھی نہ کہو۔ظاہر سی بات ہے جب کسی انسان کو کوئی بات بری لگتی ہے یا غلط لگتی ہے تبھی وہ ’’اف‘‘ کہے گا تو اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ بڑھاپے میں والدین کی غلط بات کو بھی برداشت کرنا چاہیے ، یہی دین اسلام کا ہم سے مطالبہ ہے۔ بہر کیف بزرگوں کے مسائل ہمارے ہاں بھی توجہ چاہتے ہیں۔ آئیے! اس پر توجہ دیں۔
Today News
کیا چین کامیاب ثالثی کا کردار ادا کرسکے گا؟
پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری محض دو ممالک کے بہتر تعلقات تک محدود کہانی نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس میں خطہ کے استحکام کا حل موجود ہے۔اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو جنگی کشیدگی ،ٹکراؤ کا ماحول ہے، اس میں بات چیت کے ماحول کے امکانات بھی محدود نظر آتے ہیں ۔
دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی سطح پر بات چیت کے دروازے بند ہونا حالات کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے اور ایسے میں حالات کی بہتر ی کو ممکن بنانے کے لیے یہ ہی راستہ بچتا ہے کہ دوست ممالک کوئی راستہ نکال کر کشیدگی کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں ۔سعودی عرب ،قطر اور ترکیہ نے جو مذاکرات کا راستہ نکالا تھا لیکن کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوسکا تھا۔اس کی ایک بڑی وجہ افغان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستانی سرزمین پردہشت گردی پر مبنی کارروائیوں پر تحریری ضمانت نہ دینا تھا جس سے مسئلہ کا حل نہیں نکل سکا اور افغان حکومت کسی بھی صورت میں تحریری ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگی کشیدگی کے خاتمہ میں چین کی ثالثی کا کردار کھل کر سامنے آیا ہے۔چین اس علاقائی اور عالمی سطح کی سیاست میں اب ایک بڑا فریق ہے۔
یہ بات پہلے بھی ان ہی صفحات پر لکھی تھی کہ اگر پاکستان اور چین کے درمیان حالات کی بہتری کا کوئی بڑا بریک تھرو ہوگا تو اس میں چین کی ثالثی کا بڑا کردار ہوگا۔کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں چین کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو سہولتیں دے رہی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھا کر بلیک میل کررہی ہے جب کہ افغانستان کی قیادت بھارت کو ساتھ ملا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتی ہے۔ ایسے میں پھر چین ہی کردار ادا کرسکتا ہے جو پاکستان یا علاقائی استحکام کی ضرورت ہے ۔چین کے بارے میں عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار ملک ہے اور اس کی ثالثی کو کوئی ملک آسانی سے نظرانداز نہیںکرسکتا۔چین اس وقت پاکستان اور افغانستان دونوں کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک میں چین کی بڑی سرمایہ کاری سی پیک اور دیگر منصوبوں کی صورت میں موجود ہے ۔اسی طرح اس خطہ میں دہشت گردی کا ہونا یا عدم استحکام کی موجودگی یا سرحدی کشیدگی چین کے مفادات کے برعکس ہے ۔
ایسے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری اور براہ راست بات چیت چین کے سیاسی اور معاشی مفادات کی عکاسی بھی کرتی ہے ۔چین اس وقت شٹل ڈپلومیسی کے تحت اسلام آباد اور کابل میں بات چیت کے لیے موجود ہے جہاں براہ راست بات چیت اور ایک دوسرے کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو بھی ہورہی ہے اور چین کے نمائندے اس میں کافی متحرک اور فعال نظر آتے ہیں ۔یہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ تین فریقی مذاکرات کے مختلف سیشن بھی ہوچکے ہیں جس میں ورکنگ لیول میٹنگز بھی شامل ہیں تاکہ تاکہ سازگار بات چیت کا ماحول پیدا کیا جاسکے ۔
اسی طرح چین کی فعالیت پر مبنی ثالثی اس وقت سامنے آئی جب دونوں ممالک کی جانب سے اوپن وار جیسے الفاظ اور عمل کا آغاز ہوا اور اسی بنیاد پر چین کو ثالثی کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی میں کمی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ چین کا فوری مقصد اعتماد سازی،کشیدگی کم کرنا اور تعاون بڑھانے پر زور دینا ہے کیونکہ چین چاہتا ہے کہ ان مذاکرات کی بنیاد پر سرحدی تنازعات کا پرامن حل،دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون جس میں ٹی ٹی پی جیسے مسائل بھی شامل ہیں،اقتصادی روابط کی بحالی ،تجارت اور سی پیک کی افغانستان تک توسیع،علاقائی سطح کا استحکام اور بی آر آئی منصوبوں کی حفاظت،چین کی طاقت اور حدود جیسے امور شامل ہیں ۔اس لیے بہت سے ماہرین کے بقول دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری میں چین کی ثالثی کافی اہمیت رکھتی ہے اور دونوں ممالک کا اس ثالثی کو نظرانداز کرنا ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔کیونکہ چین میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے حل کو ون ان ون صورتحال میں لاسکتا ہے اور دونوں ممالک کو ان کے معاملات پر راضی کرسکتا ہے ۔
افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے چین کو ضمانت دے سکتا ہے اور ہمیں اس پر اعتماد کرنا ہوگا۔ چین جس وقت ایک بڑے ثالثی کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گا تو یہ کردار یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہوگا اور دہشت گردی کو باقاعدہ بات چیت کا حصہ بنایا جائے گا اور مشترکہ طور پر ایسی حکمت عملی کو عملا اختیار کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے لیے قابل قبول ہوگی ۔ چین کی ثالثی میں جو بھی معاہدہ ہوگا، اس کے تحت چین کو مختلف نوعیت کی ضمانتیں دینی ہوگی ۔اصل میں بنیادی نقطہ دہشت گردی کا ہے اور جب تک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزم یا فریم ورک نہیں بنیں گے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ پاکستان جسے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے فوری طور پر دہشت گردی جیسے مسئلہ سے باہر نکلنا ہے تو اس کا علاج بھی افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے ۔خود افغان طالبان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ یک طرفہ طور پر ٹی ٹی پی کی سرپرستی کو جاری رکھتے ہیں اور پاکستان کے تحفظات کو اہمیت نہیں دیں گے تو پھر ان کے لیے بھی مشکلات بڑھیں گی۔
چین کی ڈپلومیسی کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ وہ بہت زیادہ ان معاملات میں میڈیا کی سطح پر گرم جوشی کو نہیں دکھاتا بلکہ اس کی بیشتر ڈپلومیسی خفیہ ڈپلومیسی یا پس پردہ عمل کی بنیاد پر جاری رہتی ہے ۔خود افغان حکومت میں بھی یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ ان کو بھی اب لگتا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان سے مذاکرات اورتعلقات کی بہتری کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے پچھلے کچھ دنوں سے ہمیں افغان حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کے تناظر میں مثبت بیانات دیکھنے کو مل رہے ہیں جو امید کے پہلو کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے ۔ ایک مسئلہ پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری میں یہ بھی ہے اگر چین کی ثالثی کی مدد سے دونوں ممالک کی سطح پر کچھ طے ہوتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوسکے گا۔کیونکہ ماضی میں طالبان حکومت نے پاکستان حکومت سے جو بھی وعدے یا عہد کیے، اس پر شفافیت کے ساتھ عمل درآمد نہیں ہوسکا جس میں بالخصوص ٹی ٹی پی کا معاملہ سرفہرست ہے۔
اس لیے یہ بھی چین کے لیے اہم مسئلہ ہوگا کہ جو کچھ طے ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کا میکنزم بھی تیار ہو اور دونوں ممالک اس پر عمل کریں کیونکہ اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہونا تو پھر مذاکرات اور مفاہمت کی باتیں بہت پیچھے رہ جائیں گی۔ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں واضح طور پر پاکستان نے افغانستان کے تناظر میں تین مطالبات پیش کردیے ہیں ۔اول کابل باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم تسلیم یا اس کو قرار دے،دوئم اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرے ۔سوئم، اس کارروائی کا قابل قبول ثبوت فراہم کرے ۔اس لیے گیند افغان حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز