Today News
کراچی میں ہیوی ٹریفک گردی، ٹرک ڈرائیور نے اسکوٹی سوار ماں بیٹے کو کچل دیا
شہر قائد کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں تیز رفتار ٹرک ڈرائیور نے اسکوٹی پر سوار ماں اور بیٹے کو کچل دیا، حادثے میں کمسن بچہ جاں بحق جبکہ خاتون شدید زخمی ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شاہ فیصل کالونی میں الیکٹرک اسکوٹی پرسوار فیملی ٹریفک کو اناج کی بوریوں سے لدے ٹرک نے کچل دیا جس کی زد میں آکر کمسن بچہ جاں بحق اور ماں شدید زخمی ہو گئی۔
حادثے کے بعد موقع پر موجودمشتعل شہریوں نے ٹرک ڈرائیور کو پکڑ کرتشدد کا نشانہ بنا کر پولیس کے حوالے کردیا جبکہ پولیس نے گاڑی کو قبضے میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔
حادثے میں جاں بحق بچے کی شناخت4 سالہ انیس ولد فراز اور زخمی خاتون کی شناخت 30 سالہ زبیب النسا زوجہ فراز کے نام سے کی گئی ہے۔
ایس ایچ او شاہ فیصل کالونی کاشف ربانی کا دعویٰ ہے کہ الیکٹرک اسکوٹی پرسوارفیملی شاہ فیصل کالونی دونمبر چورنگی کے قریب گزری رہی تھی کہ الیکٹرک اسٹوکی توازن بگڑنے کی وجہ سے اسکوٹی پر سوار خاتون اور کمسن بچہ سڑک پر گر گئے اسی دوران عقب سے اناج کی بوریوں سے لدھا ٹرک آ رہا تھا کہ جس کے اگلے ٹائروں کی زد میں آکر کسمن بچہ موقع پر جاں بحق اورخاتون شدید ہو گئی۔
اس کے علاوہ نیو کراچی خمیسو گوٹھ میں تیزرفتار رکشہ کھمبے سے ٹکرانے کے باعث رکشہ ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ جس کی لاش قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کردی گئی۔
متوفی رکشہ ڈرائیور کی شناخت40 سالہ محمد عیدن ولد متن خان کے نام سے کی گئی ، ایس ایچ او رضوان قریشی کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا پولیس حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیھ حاصل کر رہی ہے۔
Source link
Today News
کراچی کے مسائل پر سیاست
میئرکراچی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو کراچی میں جاری میرے کام نظر نہیں آرہے، یہ دونوں جماعتیں کہیں نظر نہیں آتی ہیں ۔ انھیں کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے نہ یہ کام کرتے ہیں ، صرف مجھ پر تنقید کرتے آرہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت بلدیاتی حلقوں کی تشکیل کے وعدے سے انحراف کی مرتکب ہوئی ہے۔ نئی مردم شماری میں 70لاکھ نفوس کا اضافہ ایم کیو ایم کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ پیپلزپارٹی بلدیاتی اداروں کو آئین کے مطابق اختیارات دے رہی ہے اور نہ ہی کراچی کی درست مردم شماری ہونے دیتی ہے تاکہ آبادی کے مطابق کراچی کو فنڈز اور اس کے جائز حقوق نہ مل سکیں۔ سندھ حکومت کو کراچی کے مسائل کی فکر ہے نا حل کرنا چاہتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ بارشوں نے کراچی میں سندھ حکومت اور بلدیہ کراچی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ کمزور کارکردگی کی سزا عوام کو دی جارہی ہے۔ سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ بروقت کچرا نہ اٹھانے اور شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کا ذمے دار ہے جس کی وجہ سے کراچی کے شہری عذاب میں مبتلا ہیں۔
پیپلزپارٹی پہلی بار بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے اپنا میئر منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے جب کہ جماعت اسلامی کے یو سی ناظمین کی تعداد زیادہ ہے، جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی مدد سے اپنا میئر لاسکتی تھی مگر تحریک انصاف کے کئی یوسی چیئرمینز پیپلزپارٹی سے جا ملے اور یوں جماعت اسلامی کا میئر نہیں آسکا حالانکہ جماعت اسلامی سنگل لارجسٹ پارٹی تھی لیکن پی ٹی آئی کے لوگ دوسری طرف چلے گئے اور بلدیہ عظمیٰ پر جیالے میئرکو اکثریت دلا دی تھی جو کام تو کرتے آئے ہیں مگر ان کے سیاسی مخالفین الزام تراشیاں کرتے آ رہے ہیں اور کراچی کے نو ٹاؤنز میں جماعت اسلامی کے چیئرمینوں نے جو کام کیے ہیں، وہ بھی عیاں ہیں اور پیپلزپارٹی کے بلدیاتی ادارے جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کے مقابلے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، یہ جماعت کا موقف ہے۔
کراچی میں ایم کیو ایم کا ایک بھی یوسی چیئرمین نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کراچی میں بااختیار شہری حکومت کے قیام کی حامی ہے اور اسی لیے جدوجہد کررہی اور بااختیار شہری حکومت ہی کراچی کے مسائل حل کراسکتی ہے مگر سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی ایسا نہیں ہونے دے رہی اور نا بلدیاتی اختیارات دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں اور یہ بات درست ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی ہیں اور ایم کیو ایم نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور ماضی میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق سربراہ رہے ہیں اور جنرل پرویز کے با اختیار ضلعی حکومتوں کے نظام میں ایک بار جماعت اسلامی اور بعد میں ایم کیو ایم کے کراچی کے بااختیار سٹی ناظمین رہے جن کے دور میں زبردست تعمیری و ترقیاتی کام ہوئے تھے اور مصطفی کمال نے کراچی کو دنیا کے 13میگا سٹیز میں شامل ہونے کا اعزاز دلایا تھا جب کہ سندھ حکومت کے 18سالوں میں کراچی کچرے کا شہر کہلایا اور پورے شہر میں نکاسی آب سسٹم تباہ اور سڑکیں زیر آب رہنا معمول ہے اور کراچی کے پی پی پی کے میئر عوام کی توقعات پر پورے اتر سکے جب کہ سندھ حکومت کراچی میں فراہمی آب کا مسئلہ حل اور شہری مسائل حل کرانے میں ناکام رہی ہے۔ پی پی کے کراچی کے پہلے میئر جنھیں سندھ حکومت نے منتخب کرایا شہریوں کو بڑی توقعات تھیں مگر کراچی سے تعلق کے باوجود وہ کراچی کے مسائل حل کرانے میں ناکام رہے حالانکہ انھیں کراچی میں کام کرکے اور شہری مسائل حل کرکے دکھانے چاہئیں اور ایسی اچھی کارکردگی دکھانا چاہیے جیسی دو سابق بااختیار سٹی ناظمین نعمت اللہ خان اور سید مصطفیٰ کمال نے اپنے دور میں دکھائی تھی جسے شہریوں نے ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں تسلیم کیاگیا تھا ۔
سندھ حکومت میئر کراچی ہی نہیں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کراچی مسائل پر ایک ہوکر مسائل حل کرانے کی بجائے منفی سیاست کررہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہی میں پورے ہیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کی ذمے داری جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سے زیادہ سندھ حکومت اور میئر کراچی پر عائد ہوتی ہے ۔
Today News
کل نہ تم رہو گے نہ آبنائے ہرمز
اٹھائیس فروری کے دن اچانک دو بڑی وارداتیں ہوئیں۔اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے سپریم لیڈر آئیت اللہ علی خامنہ ای کو بیشتر اہلِ خانہ سمیت تہران میں قتل کر دیا اور تہران سے ساڑھے تیرہ سو کلومیٹر پرے جنوب مغرب میں آبنائے ہرمز کے ساحل سے پچیس کلومیٹر اندر قائم مناب قصبے کے شجرِ طیبہ گرلز پرائمری اسکول کی ایک سو ستر بچیوں کو یکے بعد دیگرے دو امریکی میزائلوں نے ختم کر دیا۔
تب سے اب تک کے پانچ ہفتے میں آبنائے ہرمز کا نام کرہِ ارض کے لگ بھگ ہر انسان کے کانوں تک شائد پہنچ چکا ہو۔خلیجِ فارس کو براستہ خلیجِ اومان بحرِ ہند سے ملانے والی انتالیس کلومیٹر چوڑی آبنائیِ ہرمز کو گذشتہ ڈیڑھ ہزار برس میں کئی لقب ملے۔
مثلاً عربوں نے جب ایران پر قبضہ کیا تو اس آبنائے کو دو نام عطا ہوئے۔باب السلام ( درِ امن ) اور باب الحدید ( درِ آہن )۔خلیج میں داخلے اور واپسی کے اس دروازے کے نزدیک ایرانی ساحل سے آٹھ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تین اہم جزیرے ہیں۔ان میں سب سے بڑا جزیرہ کیشم ہے۔اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہاں کی پتھریلی زمین پر جس قدر رنگ بکھرے ہوئے ہیں کرہِ ارض پر شائد ہی کوئی ایسا ارضیاتی نمونہ ملے۔ایک جزیرے کا نام لرک ہے اور ایک جزیرہ ہرمز ہے ( ویسے تو ابو موسی ، تمبِ اکبر و اصغر اور جزیرہ خرگ بھی ہیں مگر وہ آبنائے ہرمز سے فاصلے پر ہیں )۔
جزیرہ ہرمز ایک ایسی ساحلی سلطنت کا تجارتی مرکز رہا ہے جہاں فارس اور میسوپوٹیمیا سے گذرنے والی مقامی اور یورپی و ایشیائی و افریقی مصنوعات کو گوداموں میں رکھا جاتا تھا ( کھجور ، مصالحے ، قیمتی پتھر ، کپڑا ، خوشبویات ، خوراک ، لکڑی ، موتی وغیرہ )۔
ان مصنوعات کی بولی لگتی تھی اور تجارتی کشتیوں میں یہ سامان تمام معلوم دنیا میں آتا جاتا تھا ( تب تلک معلوم دنیا میں کسی شخص نے امریکا کا نام بھی نہیں سنا تھا )۔
ہرمز جزیرے پر سہولہویں صدی میں ( پندرہ سو پندرہ ) پرتگیزیوں نے قبضہ کر کے یہاں قلعہ تعمیر کیا۔سولہ سو بائیس میں ایرانی صفوی بادشاہت نے جزیرہ واپس لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کو پٹے پر دے دیا۔یہاں سے گذرنے والے مال پر محصولات میں بھی فریقین کے مابین شراکت داری قرار پائی ( آج ایران اور اومان ہرمز پر محصول لگا کر دراصل صدیوں پرانا آمدنی نظام بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں )۔
آبنائے ہرمز کے دوسری جانب صحراِ عرب یا چٹیل علاقہ ہے۔ ان دنوں جہاں کویت ، قطر ، بحرین ، اور امارات قائم ہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی ساحلی بستیاں ہوا کرتی تھیں۔ ماہی گیری اور سمندر سے موتی نکالنے کی صنعت ہی روزگار کا بنیادی وسیلہ تھا۔ پورے خطے میں انیسویں صدی کے وسط کے بعد انگریزی سامراجی اثر و رسوخ کے سبب تیل کی دریافت بھی برٹش پٹرولیم کمپنی نے کی تھی۔( ایران خطے کا پہلا ملک تھا جہاں انیس سو آٹھ میں تیل کی پیداوار شروع ہوئی )۔
دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں سلطنتِ برطانیہ کے زوال کے بعد اس علاقے میں آزادی حاصل کرنے والی قوم پرست حکومتوں نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں تیل کو قومی ملکیت میں لینا شروع کیا۔کوڑیوں کے مول وسائل سمیٹنے والی مغربی و امریکی تیل کمپنیوں نے اپنی اپنی حکومتوں کی حمائیت سے نیشنلائزیشن کے مقامی رجحان کی خاصی مزاحمت کی۔اس کش مکش کے دوران متعدد حکومتوں کے تختے الٹے گئے۔
تاہم اکتوبر انیس سو تہتر کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل نواز مغربی ممالک کو تین ماہ تک تیل کی رسد منقطع ہونے سے جہاں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اب یہاں کی حکومتیں اپنے مفاداتی فیصلے خود کرنے کے قابل ہو گئی ہیں۔وہیں امریکا اور یورپ نے بھی آیندہ ایسے کسی بھی بحران سے بچنے کے لیے اس علاقے میں مغرب نواز حکومتوں کو مستحکم کرنا شروع کیا۔یوں تیل کی آمدنی کو پیٹرو ڈالر اور مغربی معیشت سے جوڑ کے ایک نیا کولونیل مالیاتی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔
اسرائیل کو عسکری اعتبار سے پہلے سے زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی اور عرب ممالک سے تمام تر معاشی فوائد سمیٹنے کے باوجود یہ اہتمام برقرار رکھا گیا کہ مغربی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بھاری ٹھیکے بھی ملتے رہیں مگر کسی علاقائی ملک کو ایسا اسلحہ ، مہارت یا طاقت حاصل نہ ہو سکے جس سے اسرائیل کی عسکری برتری چیلنج ہو جائے۔ایران نے چونکہ انیس سو اناسی کے بعد اس نئی گیم کے قوانین ماننے سے انکار کر دیا لہذا اس کے گرد سرخ حصار کھینچ دیا گیا۔
آبنائے ہرمز کی ایرانی سائیڈ پر کوہ ِزاغروس کی چٹانیں ہیں جب کہ اومان کی سائیڈ پر سمندر میں جو نوک سی نکلی ہوئی ہے اسے جزیرہ نما مسندم کہا جاتا ہے۔
جیالوجی کے علم کے مطابق آبنائے ہرمز کی موجودہ شکل ساڑھے تین کروڑ برس قبل یوریشین اور عربین ارضیاتی پلیٹوں کے تصادم کے نتیجے میں ہونے والی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں تشکیل پائی۔ ایرانی سمت میں کوہِ زاغروس اور اومانی سمت میں کوہِ الہجر وجود میں آیا اور اس اتھل پتھل کے نتیجے میں وجود پذیر نئے ارضیاتی نظام میں جو نشیب پیدا ہوا اسے ہم خلیج کے طور پر جانتے ہیں۔اب سے بیس ہزار برس قبل آخری برفانی دور کے اختتام تک خلیج میں پانی کی مقدار ( برف بتدریج پگھلنے کے سبب ) اتنی اتھلی تھی کہ کئی مقامات پر آرپار چل کے جایا جا سکتا تھا۔
آبنائے ہرمز کی اومانی سائیڈ پر جزیرہ نما مسندم اب بھی حرکت میں ہے یعنی وہ سال بہ سال ایرانی سائیڈ کی جانب کھسک رہا ہے۔ماہرینِ ارضیات کا اندازہ ہے کہ ایک کروڑ برس بعد ہرمز کی اومانی اور ایرانی سائیڈ ملنے سے آبنائے کا وجود ہی ختم ہو جائے گا اور خلیج ایک خالص جھیل کی شکل اختیار کر لے گی۔
اچھی بات یہ ہے کہ انسان یہ نوبت آنے سے لاکھوں برس پہلے ہی معدوم ہو چکا ہو گا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔لہٰذا کرہِ ارض کی ان تمام نعمتوں پر جو تم سے پہلے بھی تھیں اور تمہارے بعد بھی رہیں گی جتنا لڑ سکتے ہو ابھی لڑ لو۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
Today News
بزرگ والدین اور ان کے مسائل
اس وقت بھارت میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے این جی اوز اور پرائیوٹ اداروں کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اولڈ ہوم چل رہے ہیں جہاں اپنے بچوں سے دور 15 سے 20 لاکھ بزرگ افراد رہائش پذیر ہیں جب کہ بھارت میں پہلے ہی مینٹی ننس اینڈ ویلفئیر آف پیرنٹس اینڈ سینئر سیٹیزن ایکٹ 2007 موجود ہے جس کے تحت بچے والدین کی مالی کفالت کے پابند ہیں،بزرگ عدالت سے مدد لے سکتے ہیں۔
اس کے باوجود انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو منظوری دی ،جس کے تحت ایسے تمام ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی جو خود اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم والدین کو فراہم کی جائے گی۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تنخواہ کا 15 فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) دس ہزار روپے ماہانہ اُن کے والدین کی دیکھ بھال کے لیے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
اس قانون کا اطلاق سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے تمام مرد و خواتین پر ہو گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ماں، باپ کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ قانون کے مطابق بچوں کی تنخواہوں کی کاٹی جانے والی رقم والدین کو اپنی دیکھ بھال اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جائے گی ،نیزاس قانون کے دائرے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے سبھی ملازمین شامل ہوں گے۔
اس کا اطلاق صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی پر بھی ہو گا۔قانون کے تحت ایسے والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے اُن کا بڑھاپے میں خیال نہیں رکھ پا رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے کلکٹر آفس میں اپنے بچوں کے خلاف شکایات درج کروا سکتے ہیں۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں مذکورہ بالا قسم کے قوانین موجود ہیں تاہم اس کے باوجودعالمی سطح پر بزرگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کے بجائے اولڈ ہومز میں رہتی ہے۔ چین میں اولڈ ہومز میں رہنے والے بزرگوں کی شرح ایک فیصد کے قریب ہے، جاپان جو دنیا کی سب سے مہذب قوم سمجھی جاتی ہے وہاں چار فیصد کے قریب، برطانیہ میں چار فیصد،یورپ میں چار فیصد سے زائد اور امریکا میں یہ شرح پانچ فیصد کے قریب ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ شرح پانچ فیصد بنتی ہے۔
بچوں کی اپنے بزرگ والدین سے دوری اور بے اعتنائی کے سبب دنیا میں بزرگوں کی تنہائی (Loneliness of elderly) ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن گیاہے اور اسی وجہ سے کچھ ممالک نے اس کے لیے خاص وزارت یا سرکاری عہدہ بھی قائم کیا ہے۔
برطانیہ دنیا کا پہلا ملک جس نے 2018 میں Minister for Lonelinessمقرر کیا اس کے بعد2021 میں جاپان نے بھی یہی عہدہ متعارف کرایا۔ دوسری طرف بزرگوں میں خودکشی کی شرح بھی زیادہ ہے۔عالمی سطح پر خودکشی کی اوسط شرح ایک لاکھ آبادی پر تقریباً نو سے بارہ افراد ہے جب کہ بزرگوں میں یہ شرح بیس سے انیس افراد ہے۔ یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔
غور کیا جائے تو مغرب یا ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں، اب پاکستان اور بھارت جیسے سب ہی ممالک میں بزرگو ں کے مسائل خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں جو جہاندیدہ افراد کو نظر آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بھارتی ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونٹت ریڈی کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف قانون بنانا نہیں ہے بلکہ بوڑھے والدین کے اندر یہ اعتماد بھی پیدا کرنا ہے کہ اُن کے ساتھ بڑھاپے میں ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔کسی بھی ماں باپ کو اُن کی زندگی کے آخری ایام میں بے سہارا اور بے بس نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔
انھوں نے اسمبلی میں یہ بھی کہاکہ ’معمر والدین کا تحفظ اور وقار بحال کیے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے اس سلسلے میں ملک کے معروف صنعت کار اور رمینڈ گروپ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیا کا ذکر کیا، جنھوں نے اپنے آخری ایام ایک اولڈ ہوم میں بہت تکلیف میں گزارے۔ اب یہ رجحان بھی نظر آتا ہے کہ والدین خود اپنے بچوں کو کمانے کے لیے اور اچھے مستقبل کے لیے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں اور خود تنہا یہاں اپنے گھر میں زندگی گزارتے ہیں گو کہ بچے بیرون ملک سے خرچہ تو بھیج دیتے ہیں مگر بڑھاپے میں اور بیماری کی صورتحال میں ان کی دیکھ بھال کے لیے اولاد یہاں موجود نہیں ہوتی صرف ویڈیو کال پر خیر خیریت معلوم کر لی جاتی ہے، یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔بعض گھرانوں میں بچے والدین کو عزت تو دیتے ہیں،خرچہ بھی دیتے ہیں لیکن وقت نہیں دیتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے والدین کا حق ادا کر دیا جب کہ بزرگوں کو پیسوں سے زیادہ بچوں کے وقت کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ان سے بات کرے، تنہائی ان بزرگ والدین کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔
غور کیا جائے تو اس وقت کسی ایسے گھر میں جہاں بزرگ والدین رہتے ہوں، دو بڑے مسائل ہیں، ایک مسئلہ بزرگوں کا ہے کہ ان کے پاس وقت ہی وقت ہے اور وہ کسی کو تلاش کرتے ہیں کہ کوئی بات کرنے والا، گفتگو کرنے والا مل جائے، ان میں جو بزرگ چل پھر سکتے ہیں وہ کسی کلب میں، ہوٹل میں یا چوراہے پر اپنے ہم عمر لوگوں میں بیٹھ کر وقت گزار تے ہیں لیکن جو بزرگ چل پھر نہیں سکتے، صرف گھر پر رہتے ہیں انھیں گھر میں وقت گزارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ عموماً گھر کا ہر فرد مصروف ہوتا ہے۔
موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ بے پناہ مصروفیت بھی ہے، کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں ہوتا اور اگر کچھ وقت میسر آجائے تو وہ موبائل کی نذر ہو جاتا ہے۔ اب تو گھر آئے مہمان کو بھی وقت دینا مشکل ہوگیا ہے، ایک جگہ بیٹھے لوگ آپس میں بھی بات نہیں کرتے بلکہ موبائل میں لگے رہتے ہیں، سو ایسے میں گھر کے بزرگوں کو کہاں سے وقت دیا جائے؟ یوں ہمارا ہاں بھی تنہائی، ہمارے بزرگوں کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔اسی طرح بہت سے گھروں میں بچے اپنے والدین سے لڑتے ہیںکہ انھوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا، اس ضمن میں بعض اپنے والدین سے ہفتوں اورمہینوں بات نہیں کرتے۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین غلط ہیں حالانکہ بات یہ ہے کہ والدین غلط بھی ہوں تو والدین ہوتے ہیں، ان سے ناراضگی کیوں، جب کہ ہمارا دین تو کہتا ہے کہ جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں ’’اف ‘‘ بھی نہ کہو۔ظاہر سی بات ہے جب کسی انسان کو کوئی بات بری لگتی ہے یا غلط لگتی ہے تبھی وہ ’’اف‘‘ کہے گا تو اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ بڑھاپے میں والدین کی غلط بات کو بھی برداشت کرنا چاہیے ، یہی دین اسلام کا ہم سے مطالبہ ہے۔ بہر کیف بزرگوں کے مسائل ہمارے ہاں بھی توجہ چاہتے ہیں۔ آئیے! اس پر توجہ دیں۔
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز