Connect with us

Today News

سفارتی سرگرمیاں مزید تیز، اسحاق ڈار کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے

Published

on



 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں مشرق وسطیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی سے گفتگو میں خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے امن و استحکام کے لیے کردار کو اجاگر کیا۔

جاپانی وزیر خارجہ نے خطے میں مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ اسی سلسلے میں پرتگال کے وزیر مملکت برائے خارجہ پاؤلو رینجل سے گفتگو کے دوران بھی خطے کی بدلتی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطح کے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا جبکہ پرتگال نے پاکستان کے سفارتی کردار کی حمایت کا اعادہ کیا۔

برطانیہ کے وزیر مملکت حمیش فالکنر سے گفتگو میں بھی علاقائی صورتحال زیر بحث آئی برطانوی حکام نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

دریں اثناء کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے ساتھ گفتگو میں بھی کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ پر اتفاق کیا گیا، دونوں ممالک نے پاکستان-کینیڈا تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ان تمام رابطوں میں پاکستان نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

احسن تقویم ، اسفلہ سافلین

Published

on


یہ جو حضرت انسان ہے جس نے خود کو طرح طرح کے القابات وخطابات سے لادا ہوا ہے ، خودکو حیوان اعلیٰ، حیوان ناطق ،حیوان عاقل اور نہ جانے کیا کیاکہتا رہتا ہے اورطرح طرح کے مناصب ومراتب سے خود کو خود ہی سرفرازکرتا رہتا ہے، انسان ہوں، اشرف المخلوقات ہوں، ما بدولت ہوں لیکن اسے اگر اپنے اعمال کے ترازو میں تولا جائے تو کم بہت کم بہت ہی کم نکلے گا ، پرکاہ کے برابر بھی نہیں ۔ حیوان اعلیٰ تو کیا حیوان ادنیٰ بلکہ حیوان صفر بھی نہیں نکلے گا اوراگر باقی سارے حیوان کو زبان مل جائے اوراسے کسی غیر جانب دار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے تو عدالت پہلی ہی سنوائی میں سوبار پھانسی، سو بار گولی مارنے، سو بار صلیب کرنے اورسوبار گلوٹین کے نیچے رکھنے کی سزا دے دے گی۔

ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر کوئی مذہب کا راگ الاپے تو وہاں تو پہلے ہی اسے سارے اعزازات و خطابات سے معزول کیا جا چکا ہے وہاں تو صاف صاف فیصلہ دیا جاچکا ہے کہ اسے تو ’’احسن تقویم‘‘ پر بنایا گیا تھا لیکن اس نے خود کو ’’اسفلہ سافلین‘‘ میں گرا دیا، بات ختم۔ وہ اعزاز تو یہ کھو چکا ہے اور ہم اسی انسان کی بات کر رہے ہیں جو ’’احسن تقویم‘‘ میں ہوا کرتا تھا ۔ ہاں تو اگر اسے غیرجانب دار عدالت میں کھڑا کردیاجائے اور  سارے جانوروں کو زبان دے دی جائے، گواہی لی جائے تو وہ اس اشرف المخلوقات کو کیا ثابت کردیں گے، وہ نام آپ خود ہی تجویز کریں کہ خود کوخود ہی مراتب ومناصب پر فائز کرنے کی بری عادت تو آپ کی واحد صفت ہے بلکہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، پیدائشی خاندانی اور جدی پشتی ’’میاں مٹھو‘‘ جو ہے بیچارے جانوروں کو زبان تو نہیں ملنے والی، چلئیے ہم ہی اس کی کچھ مدح سرائی کرتے ہیں ۔

آپ نے کبھی کسی حیوان کو پیٹ بھرنے کے بعد کھاتے ہوئے دیکھا ہے ، آپ نے کسی بھی جانور کو منافقت کرتے دیکھا ، جھوٹ بولنے کی بات تو نہیں کرسکتے کہ وہ بول ہی نہیں سکتے ۔

اب ذرا اس کے کارناموں کا اسکوردیکھتے ہیں،اعدادوشمار کے مطابق ہرسال لگ بھگ ڈھائی ہزار انسان درندوں کاشکار ہوکرمرتے ہیں، تقریباً اتنے بلکہ اس سے بہت کم ، زہریلے جانوروں ، سانپوں وغیرہ کے کاٹے سے مرتے ہیں،ایک ہزار کے قریب ہاتھیوں یا اوربڑے جانوروں کے ہاتھوں مرتے ہیں، اس سلسلے میں سب سے زیادہ اسکورمچھروں کاہے ، شاید انسان کے قرب اورنیک صحبت کی وجہ سے۔ چنانچہ مچھروں کے ہاتھوں تقریباً پندرہ ہزار انسان مرتے ہیں اورخود انسان کے ہاتھوں؟ یہ آٹھ دس منشی یاکمپیوٹر ہی آپ کو بتا سکتا ہے کیوں کہ اس میں براہ راست مارنے کے ساتھ ساتھ وہ تعداد بھی شامل ہے جو اس کے ہاتھوں بالواسطہ یعنی ہر ہر چیز یہاں تک کہ دواؤں میں ملاوٹ کی وجہ سے بیمار ہوکرمرتے ہیں یا مضرصحت چیزوں کی وجہ سے بیمار ہوکر مرتے ہیں۔ یہ تو آپ مانیں گے بلکہ دل وجان سے مان چکے ہیں کہ امریکا ’’مہذب ترین‘‘ انسانوں کا ملک ہے اوریہ بھی سنا ہے کہ وہاں ہم جنس پرست آپس میں قانونی طورپر شادی کرسکتے ہیں ۔

چلئے ہم یہ رونا رورہے تھے کہ انسان اپنی مادہ کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے جب کہ جانور ایسا نہیں کرتا۔ اسی پرامن عمل کی بدولت جانور یہاں مہذب ترین انسان سے آگے نکل گئے ہیں ۔

زندگی کو آگے بڑھانا انسان اور جانور دونوں میں یکساں ہے لیکن آخر انسان اشرف المخلوقات ہے کوئی جانور تو نہیں کہ فطرت کی پابندی کر ے، حیوان اعلیٰ ہے کوئی ادنیٰ سا حیوان نہیں ، حیوان عاقل ہے، کوئی عام حیوان نہیں جو عام حیوانوں کی طرح جبلت یا فطرت کاغلام بنا رہے چنانچہ اس نے وہ وہ ایجادیں کرلیں کہ فاتح عالم بن گیا ۔ یوں کہیے کہ اس نے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو ایک ہنر ایک آرٹ اورایک مثالی کام بنا دیا ہے۔ انسان نے وہ وہ کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ کسی اورحیوان کے تصور میں بھی ایسے کارنامے نہیں آئے بلکہ حیوان تو کیا شیطان کے ذہن میں بھی نہیں آئے اوراس کا اعتراف شیطان نے خود کیا ہے کہ میں انسان کا عشر عشیربھی نہیں ۔

جب ایک اشرف المخلوقات سکنہ اسفلہ سافلین نے ایک اونٹنی کے ساتھ زبردست فنی مظاہرہ کرتے ہوئے سیڑھی سے کام لیا بلکہ کھیت میں پڑے ہوئے ’’جوے‘‘ وہ جو ہل چلاتے ہوئے دوبیلوں کی گردنوں میں ڈالنے کے لیے بنا ہوتا ہے اس نے بطورنئی ایجاد کے یہ کام لیا تھا، پھر دیگر جانوروں پر قبضہ کرنے کے بعد وہ خود بھی حیوان بن گیا۔برے کاموں میں وہ شیطان سے آگے نکل گیا۔ اس پر شیطان بھی انسان کے سامنے گویا ہوا۔ حضور جناب عالی آج سے میں آپ کے آگے ’’زانوئے تلمذ‘‘ کرتا ہوں مجھے اپنی شاگردی میں قبول فرما لئیجے ۔ گر قبول افتد زہے غوشرف۔

چنانچہ انسان نے اپنی موجدانہ اور’’اسفلہ سافلینانہ ‘‘صلاحیتوں سے کام لے کر جانوروں پر بھی برتری حاصل کر لی ۔

اپنا ملک چونکہ ہرلحاظ سے مثالی اورہمہ صفت موصوف ہے اس لیے اسے استثنا دے کر پڑوسی ملک کی بات کرتے ہیں کہ وہاں نئی دریافتوں اورایجادات سے کام لے کر ہزاروں ایسے برے کام ہوتے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے۔عورتوں پر ظلم کیا جاتا ہے، بیٹے کی خواہش میں اندھا ہو کر بیٹی کو دنیا میں آنے سے قبل ہی مار دیا جاتا ہے۔ ۔ آخر میں ایک پشتو ٹپہ سنئے

ستا دہ خائست گلونہ ڈیر دی

جو لئی مے تنگہ، زہ بہ کوم کوم ٹولومہ

 ترجمہ : تمہارے حسن کے پھول بہت ہیں اورمیری جھولی بہت تنگ ہے کس کس پھول کو چنوں گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

آئل انڈسٹری نے حکومت کا گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل مسترد کردیا

Published

on



اسلام آباد:

آئل انڈسٹری نے موجودہ آئل پرائسنگ فارمولے میں مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل اپنانے کی صورت میں حکومت کو سال بھر سبسڈی دینا پڑے گی، جو مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہوگا۔

سابق وزراء اور ماہرین کی جانب سے پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر پر جاری بحث نے ایک بار پھر قیمتوں کے نظام کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے، تاہم صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بحث میں ریفائنری معیشت کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

آئل انڈسٹری کے مطابق موجودہ پرائسنگ نظام عالمی معیار کے مطابق ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ سے ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔

اس کے برعکس گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل کا مطلب حکومت پر مسلسل سبسڈی کا بوجھ ڈالنا ہوگا، جس سے مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔

انڈسٹری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی لسٹڈ ریفائنریز کو 100 ارب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری پر منافع دیگر صنعتوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریفائننگ مارجنز فطری طور پر غیر مستقل ہوتے ہیں اور عموماً جغرافیائی و سیاسی حالات سے متاثر ہوتے ہیں، ایسے مواقع کم ہوتے ہیں جب منافع زیادہ ہو، جبکہ اکثر اوقات ریفائنریز کو دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ریفائنری مصنوعات جیسے فرنس آئل، پٹرول اکثر خام تیل کی قیمت سے کم نرخوں پر فروخت ہوتے ہیں، جس سے مجموعی منافع متاثر ہوتا ہے۔

انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اگر کم منافع کے دوران مارکیٹ بیسڈ نظام برقرار رکھا جاتا ہے تو وقتی منافع کے دوران حکومتی مداخلت کا مطالبہ پالیسی میں عدم تسلسل پیدا کرے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی کے مسائل پر سیاست

Published

on


میئرکراچی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کو کراچی میں جاری میرے کام نظر نہیں آرہے، یہ دونوں جماعتیں کہیں نظر نہیں آتی ہیں ۔ انھیں کراچی کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہے نہ یہ کام کرتے ہیں ، صرف مجھ پر تنقید کرتے آرہے ہیں۔

 ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت بلدیاتی حلقوں کی تشکیل کے وعدے سے انحراف کی مرتکب ہوئی ہے۔ نئی مردم شماری میں 70لاکھ نفوس کا اضافہ ایم کیو ایم کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ پیپلزپارٹی بلدیاتی اداروں کو آئین کے مطابق اختیارات دے رہی ہے اور نہ ہی کراچی کی درست مردم شماری ہونے دیتی ہے تاکہ آبادی کے مطابق کراچی کو فنڈز اور اس کے جائز حقوق نہ مل سکیں۔ سندھ حکومت کو کراچی کے مسائل کی فکر ہے نا حل کرنا چاہتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ بارشوں نے کراچی میں سندھ حکومت اور بلدیہ کراچی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ کمزور کارکردگی کی سزا عوام کو دی جارہی ہے۔ سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ بروقت کچرا نہ اٹھانے اور شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کا ذمے دار ہے جس کی وجہ سے کراچی کے شہری عذاب میں مبتلا ہیں۔

 پیپلزپارٹی پہلی بار بلدیہ عظمیٰ کراچی کے لیے اپنا میئر منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی ہے جب کہ جماعت اسلامی کے یو سی ناظمین کی تعداد زیادہ ہے، جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی مدد سے اپنا میئر لاسکتی تھی مگر تحریک انصاف کے کئی یوسی چیئرمینز پیپلزپارٹی سے جا ملے اور یوں جماعت اسلامی کا میئر نہیں آسکا حالانکہ جماعت اسلامی سنگل لارجسٹ پارٹی تھی لیکن پی ٹی آئی کے لوگ دوسری طرف چلے گئے اور بلدیہ عظمیٰ پر جیالے میئرکو اکثریت دلا دی تھی جو کام تو کرتے آئے ہیں مگر ان کے سیاسی مخالفین الزام تراشیاں کرتے آ رہے ہیں اور کراچی کے نو ٹاؤنز میں جماعت اسلامی کے چیئرمینوں نے جو کام کیے ہیں، وہ بھی عیاں ہیں اور پیپلزپارٹی کے بلدیاتی ادارے جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں ترقیاتی کاموں کے مقابلے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، یہ جماعت کا موقف ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کا ایک بھی یوسی چیئرمین نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم کراچی میں بااختیار شہری حکومت کے قیام کی حامی ہے اور اسی لیے جدوجہد کررہی اور بااختیار شہری حکومت ہی کراچی کے مسائل حل کراسکتی ہے مگر سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی ایسا نہیں ہونے دے رہی اور نا بلدیاتی اختیارات دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر اور سابق سٹی ناظم کراچی مصطفیٰ کمال اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں اور یہ بات درست ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی ہیں اور ایم کیو ایم نے گزشتہ بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور ماضی میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق سربراہ رہے ہیں اور جنرل پرویز کے با اختیار ضلعی حکومتوں کے نظام میں ایک بار جماعت اسلامی اور بعد میں ایم کیو ایم کے کراچی کے بااختیار سٹی ناظمین رہے جن کے دور میں زبردست تعمیری و ترقیاتی کام ہوئے تھے اور مصطفی کمال نے کراچی کو دنیا کے 13میگا سٹیز میں شامل ہونے کا اعزاز دلایا تھا جب کہ سندھ حکومت کے 18سالوں میں کراچی کچرے کا شہر کہلایا اور پورے شہر میں نکاسی آب سسٹم تباہ اور سڑکیں زیر آب رہنا معمول ہے اور کراچی کے پی پی پی کے میئر عوام کی توقعات پر پورے اتر سکے جب کہ سندھ حکومت کراچی میں فراہمی آب کا مسئلہ حل اور شہری مسائل حل کرانے میں ناکام رہی ہے۔ پی پی کے کراچی کے پہلے میئر جنھیں سندھ حکومت نے منتخب کرایا شہریوں کو بڑی توقعات تھیں مگر کراچی سے تعلق کے باوجود وہ کراچی کے مسائل حل کرانے میں ناکام رہے حالانکہ انھیں کراچی میں کام کرکے اور شہری مسائل حل کرکے دکھانے چاہئیں اور ایسی اچھی کارکردگی دکھانا چاہیے جیسی دو سابق بااختیار سٹی ناظمین نعمت اللہ خان اور سید مصطفیٰ کمال نے اپنے دور میں دکھائی تھی جسے شہریوں نے ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں تسلیم کیاگیا تھا ۔

سندھ حکومت میئر کراچی ہی نہیں جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کراچی مسائل پر ایک ہوکر مسائل حل کرانے کی بجائے منفی سیاست کررہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی ہی میں پورے ہیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کی ذمے داری جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سے زیادہ سندھ حکومت اور میئر کراچی پر عائد ہوتی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Trending