Connect with us

Today News

ٹرمپ نے امریکی مشن اپنے پائلٹ کو نکالنے کیلیے نہیں بلکہ یورینیئم چُرانے بھیجا تھا، ایران

Published

on


ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کا لاپتا پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے مشن کا اصل مقصد ہمارے افزودہ یورینیم چرانا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے ایران میں امریکی فوج کے مشن کو ڈھونگ قرار دیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اس نام نہاد مشن کے نام پر امریکی فوجیوں نے جس مقام پر اترنے کی کوشش کی وہاں کسی پائلٹ کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔

انھوں نے مزید کہ امریکی دعوے کے برعکس پائلٹ کی مبینہ موجودگی کا مقام اس مشن کی جگہ سے بہت دور ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ امریکی فوجی ایٹمی مواد تک رسائی چاہتے تھے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی ناکام سازش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ کے ریسکیو مشن کی آڑ میں ٹرمپ انتطامیہ نے عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔

اُنھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی سلامتی اور ایٹمی تنصیبات کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

قبل ازیں امریکی صدر نے ایران میں پھنسے اپنے فوجی اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کیے گئے آپریشن کو تاریخی قرار دیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں نے فوج کو ہر ممکن اقدام کی ہدایت دی تھی تاکہ اپنے اہلکاروں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ اس ریسکیو مشن میں اکیس امریکی فوجی طیارے استعمال کیے گئے جبکہ دوسرے بڑے آپریشن میں ایک سو پچپن طیارے شامل تھے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق دوسرے مشن میں چار بمبار طیارے چونسٹھ لڑاکا طیارے اڑتالیس ایندھن فراہم کرنے والے طیارے اور تیرہ ریسکیو طیارے شریک تھے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

کراچی، خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش برآمد

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں نیو کراچی صنعتی ایریا کے علاقے خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی جسے ایدھی کے رضا کاروں عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او نیو کراچی صنعتی ایریا رضوان قریشی نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 22 سالہ مسکان کے نام سے کی گئی۔ 

ابتدائی معلومات کے مطابق متوفیہ کی لاش اس کا بھائی اور والدہ اسپتال لیکر گئے تھے جبکہ پولیس کو اسپتال سے ہی واقعے کی اطلاع ملی تھی۔

تاہم شواہد حاصل کرنے کے لیے متوفیہ کی رہائش گاہ پر کرائم سین یونٹ کو روانہ کیا ہے جبکہ اہلخانہ نے ابتدائی طور پر پولیس کو بیان دیا ہے کہ مسکان نفسیاتی مسائل کا شکار تھی جبکہ واقعہ گلے میں خود کو پھندا لگا کر خودکشی کا بتا رہے۔

جس وقت واقعہ پیش آیا متوفیہ گھر میں اکیلی تھی تاہم پولیس اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

احسن تقویم ، اسفلہ سافلین

Published

on


یہ جو حضرت انسان ہے جس نے خود کو طرح طرح کے القابات وخطابات سے لادا ہوا ہے ، خودکو حیوان اعلیٰ، حیوان ناطق ،حیوان عاقل اور نہ جانے کیا کیاکہتا رہتا ہے اورطرح طرح کے مناصب ومراتب سے خود کو خود ہی سرفرازکرتا رہتا ہے، انسان ہوں، اشرف المخلوقات ہوں، ما بدولت ہوں لیکن اسے اگر اپنے اعمال کے ترازو میں تولا جائے تو کم بہت کم بہت ہی کم نکلے گا ، پرکاہ کے برابر بھی نہیں ۔ حیوان اعلیٰ تو کیا حیوان ادنیٰ بلکہ حیوان صفر بھی نہیں نکلے گا اوراگر باقی سارے حیوان کو زبان مل جائے اوراسے کسی غیر جانب دار عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے تو عدالت پہلی ہی سنوائی میں سوبار پھانسی، سو بار گولی مارنے، سو بار صلیب کرنے اورسوبار گلوٹین کے نیچے رکھنے کی سزا دے دے گی۔

ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر کوئی مذہب کا راگ الاپے تو وہاں تو پہلے ہی اسے سارے اعزازات و خطابات سے معزول کیا جا چکا ہے وہاں تو صاف صاف فیصلہ دیا جاچکا ہے کہ اسے تو ’’احسن تقویم‘‘ پر بنایا گیا تھا لیکن اس نے خود کو ’’اسفلہ سافلین‘‘ میں گرا دیا، بات ختم۔ وہ اعزاز تو یہ کھو چکا ہے اور ہم اسی انسان کی بات کر رہے ہیں جو ’’احسن تقویم‘‘ میں ہوا کرتا تھا ۔ ہاں تو اگر اسے غیرجانب دار عدالت میں کھڑا کردیاجائے اور  سارے جانوروں کو زبان دے دی جائے، گواہی لی جائے تو وہ اس اشرف المخلوقات کو کیا ثابت کردیں گے، وہ نام آپ خود ہی تجویز کریں کہ خود کوخود ہی مراتب ومناصب پر فائز کرنے کی بری عادت تو آپ کی واحد صفت ہے بلکہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، پیدائشی خاندانی اور جدی پشتی ’’میاں مٹھو‘‘ جو ہے بیچارے جانوروں کو زبان تو نہیں ملنے والی، چلئیے ہم ہی اس کی کچھ مدح سرائی کرتے ہیں ۔

آپ نے کبھی کسی حیوان کو پیٹ بھرنے کے بعد کھاتے ہوئے دیکھا ہے ، آپ نے کسی بھی جانور کو منافقت کرتے دیکھا ، جھوٹ بولنے کی بات تو نہیں کرسکتے کہ وہ بول ہی نہیں سکتے ۔

اب ذرا اس کے کارناموں کا اسکوردیکھتے ہیں،اعدادوشمار کے مطابق ہرسال لگ بھگ ڈھائی ہزار انسان درندوں کاشکار ہوکرمرتے ہیں، تقریباً اتنے بلکہ اس سے بہت کم ، زہریلے جانوروں ، سانپوں وغیرہ کے کاٹے سے مرتے ہیں،ایک ہزار کے قریب ہاتھیوں یا اوربڑے جانوروں کے ہاتھوں مرتے ہیں، اس سلسلے میں سب سے زیادہ اسکورمچھروں کاہے ، شاید انسان کے قرب اورنیک صحبت کی وجہ سے۔ چنانچہ مچھروں کے ہاتھوں تقریباً پندرہ ہزار انسان مرتے ہیں اورخود انسان کے ہاتھوں؟ یہ آٹھ دس منشی یاکمپیوٹر ہی آپ کو بتا سکتا ہے کیوں کہ اس میں براہ راست مارنے کے ساتھ ساتھ وہ تعداد بھی شامل ہے جو اس کے ہاتھوں بالواسطہ یعنی ہر ہر چیز یہاں تک کہ دواؤں میں ملاوٹ کی وجہ سے بیمار ہوکرمرتے ہیں یا مضرصحت چیزوں کی وجہ سے بیمار ہوکر مرتے ہیں۔ یہ تو آپ مانیں گے بلکہ دل وجان سے مان چکے ہیں کہ امریکا ’’مہذب ترین‘‘ انسانوں کا ملک ہے اوریہ بھی سنا ہے کہ وہاں ہم جنس پرست آپس میں قانونی طورپر شادی کرسکتے ہیں ۔

چلئے ہم یہ رونا رورہے تھے کہ انسان اپنی مادہ کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے جب کہ جانور ایسا نہیں کرتا۔ اسی پرامن عمل کی بدولت جانور یہاں مہذب ترین انسان سے آگے نکل گئے ہیں ۔

زندگی کو آگے بڑھانا انسان اور جانور دونوں میں یکساں ہے لیکن آخر انسان اشرف المخلوقات ہے کوئی جانور تو نہیں کہ فطرت کی پابندی کر ے، حیوان اعلیٰ ہے کوئی ادنیٰ سا حیوان نہیں ، حیوان عاقل ہے، کوئی عام حیوان نہیں جو عام حیوانوں کی طرح جبلت یا فطرت کاغلام بنا رہے چنانچہ اس نے وہ وہ ایجادیں کرلیں کہ فاتح عالم بن گیا ۔ یوں کہیے کہ اس نے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو ایک ہنر ایک آرٹ اورایک مثالی کام بنا دیا ہے۔ انسان نے وہ وہ کارنامے سرانجام دیے ہیں کہ کسی اورحیوان کے تصور میں بھی ایسے کارنامے نہیں آئے بلکہ حیوان تو کیا شیطان کے ذہن میں بھی نہیں آئے اوراس کا اعتراف شیطان نے خود کیا ہے کہ میں انسان کا عشر عشیربھی نہیں ۔

جب ایک اشرف المخلوقات سکنہ اسفلہ سافلین نے ایک اونٹنی کے ساتھ زبردست فنی مظاہرہ کرتے ہوئے سیڑھی سے کام لیا بلکہ کھیت میں پڑے ہوئے ’’جوے‘‘ وہ جو ہل چلاتے ہوئے دوبیلوں کی گردنوں میں ڈالنے کے لیے بنا ہوتا ہے اس نے بطورنئی ایجاد کے یہ کام لیا تھا، پھر دیگر جانوروں پر قبضہ کرنے کے بعد وہ خود بھی حیوان بن گیا۔برے کاموں میں وہ شیطان سے آگے نکل گیا۔ اس پر شیطان بھی انسان کے سامنے گویا ہوا۔ حضور جناب عالی آج سے میں آپ کے آگے ’’زانوئے تلمذ‘‘ کرتا ہوں مجھے اپنی شاگردی میں قبول فرما لئیجے ۔ گر قبول افتد زہے غوشرف۔

چنانچہ انسان نے اپنی موجدانہ اور’’اسفلہ سافلینانہ ‘‘صلاحیتوں سے کام لے کر جانوروں پر بھی برتری حاصل کر لی ۔

اپنا ملک چونکہ ہرلحاظ سے مثالی اورہمہ صفت موصوف ہے اس لیے اسے استثنا دے کر پڑوسی ملک کی بات کرتے ہیں کہ وہاں نئی دریافتوں اورایجادات سے کام لے کر ہزاروں ایسے برے کام ہوتے ہیں کہ انسانیت بھی شرما جائے۔عورتوں پر ظلم کیا جاتا ہے، بیٹے کی خواہش میں اندھا ہو کر بیٹی کو دنیا میں آنے سے قبل ہی مار دیا جاتا ہے۔ ۔ آخر میں ایک پشتو ٹپہ سنئے

ستا دہ خائست گلونہ ڈیر دی

جو لئی مے تنگہ، زہ بہ کوم کوم ٹولومہ

 ترجمہ : تمہارے حسن کے پھول بہت ہیں اورمیری جھولی بہت تنگ ہے کس کس پھول کو چنوں گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

آئل انڈسٹری نے حکومت کا گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل مسترد کردیا

Published

on



اسلام آباد:

آئل انڈسٹری نے موجودہ آئل پرائسنگ فارمولے میں مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل اپنانے کی صورت میں حکومت کو سال بھر سبسڈی دینا پڑے گی، جو مالی طور پر ناقابلِ برداشت ہوگا۔

سابق وزراء اور ماہرین کی جانب سے پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر پر جاری بحث نے ایک بار پھر قیمتوں کے نظام کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے، تاہم صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بحث میں ریفائنری معیشت کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

آئل انڈسٹری کے مطابق موجودہ پرائسنگ نظام عالمی معیار کے مطابق ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ سے ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔

اس کے برعکس گارنٹیڈ ریٹرن ماڈل کا مطلب حکومت پر مسلسل سبسڈی کا بوجھ ڈالنا ہوگا، جس سے مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔

انڈسٹری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی لسٹڈ ریفائنریز کو 100 ارب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری پر منافع دیگر صنعتوں کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریفائننگ مارجنز فطری طور پر غیر مستقل ہوتے ہیں اور عموماً جغرافیائی و سیاسی حالات سے متاثر ہوتے ہیں، ایسے مواقع کم ہوتے ہیں جب منافع زیادہ ہو، جبکہ اکثر اوقات ریفائنریز کو دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ریفائنری مصنوعات جیسے فرنس آئل، پٹرول اکثر خام تیل کی قیمت سے کم نرخوں پر فروخت ہوتے ہیں، جس سے مجموعی منافع متاثر ہوتا ہے۔

انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ اگر کم منافع کے دوران مارکیٹ بیسڈ نظام برقرار رکھا جاتا ہے تو وقتی منافع کے دوران حکومتی مداخلت کا مطالبہ پالیسی میں عدم تسلسل پیدا کرے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر کرے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending