Connect with us

Today News

ہائے !یہ مہنگائی مار دے گی

Published

on


ایک جانب ہرن تھا جس کے لیے زندگی کی بقا کا مسئلہ درپیش تھا۔ دوسری جانب شکاری تھا جس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ اب شکاری کو ظالم لکھنا تو فضول کی سی بات ہوگی۔ بات صاف ہے جس کے ہاتھ میں بندوق ہوتی ہے۔ جس کو سامنے شکار نظر آرہا ہو اور وہ نشانہ لگانے کے لیے بے تاب بھی تو پھر وہ ظالم ہی کہلائے گا۔ چنانچہ کیفیت یہ تھی کہ ہرن جنگل میں نکلا تھا کہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے، یعنی اپنی خوراک کا انتظام کرسکے۔

وہ جنگل میں سرگرمی سے گھوم رہا تھا اور خوراک کی تلاش کررہا تھا۔ ممکن تھا کہ وہ خوراک تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتا کہ ایک شکاری جس کے ہاتھ میں بندوق تھی ،اس شکاری کی نظر اس ہرن پر پڑی جب کہ شکاری بے حد خوش ہوا کہ آج تو شکار بڑی آسانی سے ہاتھ آنے والا ہے، چنانچہ شکاری نے بندوق سیدھی کی اور ہرن کو نشانے پر لے لیا جب کہ ہرن نے بھی دیکھ لیا کہ شکاری اس کا نشانہ لے چکا ہے چنانچہ ہرن نے پوری قوت کے ساتھ بھاگنا شروع کردیا جب کہ شکاری بھی یہ سوچ کر کر ہاتھ آیا شکار چھوڑنا نہیں، اس ہرن کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا۔ بھاگنے میں دونوں اپنی اپنی پوری قوت استعمال کررہے تھے کہ ایک مقام پر جاکر ہرن تھک کے نڈھال ہوکر کھڑا ہوگیا گویا اب اس کے اندر مزید بھاگنے کی قوت جواب دے گئی تھی۔

اس کیفیت میں شکاری بھی اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں آ پہنچا مگر یہ کیا جیسے ہی شکاری نے ہرن کا نشانہ لیا تو بے بس ہرن پکار اٹھا کہ ’’شکاری گولی مت چلانا ورنہ قیامت آجائے گی۔‘‘ شکاری پہلے تو سوچ میں پڑگیا کہ میرے گولی چلانے سے قیامت کا کیا تعلق ؟بالاخر اس شکاری نے گولی چلا دی جو کہ ہرن کی ٹانگ پر جا لگی۔ اس کیفیت میں ہرن زمین پر گرا اور تڑپنے لگا ۔ شکاری نے ہرن سے کہا ’’ دیکھو میں نے گولی چلا دی جو کہ تیری ٹانگ میں جاکر لگ بھی گئی مگر تیرے کہنے کے مطابق قیامت تو نہیں آئی۔‘‘ شکاری کی بات سن کر ہرن درد کی شدت سے کراہتے ہوئے بولا’’ میرے لیے تو قیامت آچکی ،اول تو تم مجھے زندہ چھوڑوگے نہیں، دوئم۔ اگر تم مجھے زندہ چھوڑ بھی دو جو کہ ناممکن سی بات ہے تو اس صورت میں بھی مجھے باقی ساری زندگی ایک ٹانگ کی معذوری کے ساتھ گزارنا ہوگی۔‘‘

تو دوستوں ہمارے حکمران یقین کریں یا نہ کریں، عوام کے لیے قیامت برپا ہوچکی ہے گو کہ عوام کے لیے پہلے ہی سے قیامت صغریٰ برپا ہوچکی تھی مگر اب حکومت وقت نے قیامت کبریٰ برپا کردی ہے۔ عوام کے لیے پہلے ہی مسائل کے سبب جسم و جان کا ناتا برقرار رکھنا ناممکن تھا، اب تو حالات ہی دگرگوں ہوگئے ہیں۔ یہ اسی مسلم لیگ ن کی حکومت ہے جس کے لیڈران کہہ رہے تھے کہ اگر دو روپے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھتی ہے تو قوم کے حقیقی لیڈر و قوم کے ہمدردوں کے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔

ہم اگر کچھ عرض کریں گے تو شکایت ہوگی، بلکہ شکایت نہ ہوگی اور غدار وطن ٹھہرائے جائیں گے، کیونکہ عصر حاضر میں حکمرانوں پر تنقید کرنے کا مطلب لیا جاتا ہے وطن پر تنقید۔ بلاشبہ ہماری سب سے قیمتی متاع حیات بھی ایک بار نہیں، دو بار نہیں ہزار بار قربان ہے حالاں کہ موجودہ وزیراعظم صاحب جب وہ وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے 2018 میں اپنا دس سالہ دور حکومت مکمل کرنے کے بعد انتخابی مہم پر نکلے تو شاعر انقلاب حبیب جالب کی نظم دستور جلسۂ عام میں لوگوں کو سنا رہے تھے۔

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

کیوں ڈراتے ہو زندان کی دیوار سے

ظلم کی بات کو جہل کی رات کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

حبیب جالب صاحب کی یہ نظم ذرا طویل ہے، اسی باعث اس نظم دستور کے چند اشعار پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔گویا موجودہ حکمران اسی دستور سے بغاوت کا اعلان کررہے تھے جس دستور کے تحت وہ حکومت میں آتے رہے اور جس دستور کے تحت وہ آج بھی حکمران ہیں مگر جو طرز حکومت انھوں نے اختیار کیا ہے اس طرز حکمرانی نے قوم کی چیخیں نکال دی ہیں گویا دو چار دس بیس روپے نہیں 137 روپے یکمشت پٹرول پر اور 182 روپے ڈیزل پر بڑھا دیے۔ ایک لمحے کو فقط ایک لمحے کو تو غور کرتے کہ ہزاروں مشکلات کا شکار قوم یہ اس قدر اضافہ کیسے برداشت کرے گی اگرچہ پورے ملک میں بے روزگاری ہے ۔

اب اگر فقط کراچی ہی کی بات کریں تو جو محنت کش کورنگی، شیرشاہ، بلدیہ ٹاؤن یا گڈاپ یا اورنگی ٹاؤن سے صدر یا ملیر یا قائد آباد سے پورٹ قاسم جاتے ہیں وہ محنت کش کم سے کم یک طرفہ کرایہ 150روپے اور دو طرفہ 300 روپے کرایہ ادا کریں گے اور پھر ایک ہزار روپے کماسکیں گے اور جو لوگ روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں ان کا گزارا کیسے ہوگا جب کہ لاہور میں کیفیت یہ ہے کہ وہاں دیہی علاقوں سے لوگ روزانہ محنت کرنے آتے ہیں اور شام کو واپس جاتے ہیں اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان حالات میں جب مہنگائی کا طوفان برپا ہوگا تو وہ کیسے گزارا کریں گے کیوں کہ قیمتیں صرف پٹرول یا ڈیزل کی نہیں بڑھیں بلکہ اب تمام اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھیں گی۔

آٹا، دال، چاول، سبزیاں ، بسوں کے کرائے سمیت تمام چیزوں کے دام بڑھیں گے ۔ دوسری جانب حکومت کے حاشیہ بردار صحافی و میڈیا کے لوگ حکومت کے ان اقدامات کو حالات کا تقاضا وقت کی مجبوری قرار دیں گے اور طرح طرح کی تاویلیں پیش کریں گے، ہم ابھی تک انھی سطور تک رسائی حاصل کرپائے تھے کہ درمیان میں جمعۃ المبارک کی ادائیگی کا وقت آگیا چنانچہ جب نماز جمعہ سے فراغت پائی تو یہ خبر ہماری منتظر تھی کہ ٹرانسپوٹرز نے فوری طور پر بسوںکے کرایوں میں 65 فیصد تک اضافہ کردیا ہے یہ اضافی کرایہ فوری طور پر نافذ العمل بھی کردیاگیا ہے ابھی لاہور سے دیگر شہروں کے لیے اضافی رقم بڑھائی گئی ہے وہ تفصیلات کچھ یوں ہیں۔ لاہور سے اسلام آباد سابقہ کرایہ 3000  روپے ایک ہزار اضافہ کرائے کی یہ رقم ہوگی چار ہزار روپے۔ مری کا کرایہ سابقہ 3500 روپے اب یہ کرایہ ہوگا 4500 روپے کردیاگیا ہے گویا 11سو روپے بڑھادیاگیا۔

لاہور سے کراچی کا کرایہ 8600 سے بڑھا کر 12ہزار روپے کردیاگیا جب کہ دیگر چھوٹے بڑے شہروں کا بسوں کا کرایہ بھی لازمی بڑھے گا جب کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے بلکہ قابل فکر ہے کہ ریلوے کے کرائے بھی لازمی بڑھائے جائیں گے گویا اب جو لوگ ایک برس میں ایک بار کراچی سے خیبرپختون خوا یا پنجاب کے مختلف شہروں میں اپنے پیاروں کے پاس خوشی غمی میں شرکت کرلیتے تھے اب وہ ریلوے کے سفر سے بھی محروم ہوگئے ہیں، یوں بھی گزشتہ چار برسوں میں جس قدر کرائے بڑھائے گئے ہیں وہ اضافی کرائے ہیں لوگوں کے لیے ناقابل برداشت تھے ۔ پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کا ہی ذکر کیا، اگر ذکر کریں اہل پی جی گیس کا تو وہ جان لیں کہ اب وہ لوگ جو ایل پی جی گیس استعمال کرتے ہیں وہ لوگ اب کلہاڑیاں تھام لیں اور جنگلوں کی طرف چلے جائیں اور جلانے کے لیے لکڑیوں کا انتظام کرنے میں کامیاب ہوجائیںکیونکہ موجودہ صورت حال میں آٹا، دال کا حصول ایک ناقابل عمل محسوس ہوتا ہے بہرکیف آنے والے دوچار روز میں تمام صورتحال واضح ہوجائے گی ،اپنی بات کا اختتام صد قابل احترام حبیب جالب کے ان اشعار پر کریں گے کہ

بپا ہے کربلا مہنگائی ہے تخریب کاری ہے

وزارت پھر بھی قائم ہے حکومت پھر بھی جاری ہے

جدھردیکھو ادھر پانی نہ گھر پانی نہ در باقی

یہاں پر ہم رہا کرتے تھے یہ بستی ہماری ہے

حکومت ذات پر جو خرچ کرتی ہے انھیں دے دے

کہ جن کے دن گراں کٹتے ہیں جن پر رات بھاری ہے





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مشرق وسطیٰ بحران،عالمی خطرات کا پیش خیمہ

Published

on


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ منگل کا دن ایران کی تباہی کا دن ہوگا،آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران میں بجلی گھروں، پلوں کو اڑا کر رکھ دیں گے اور ان کے تیل پر قبضہ کرلیں گے، ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا و اسرائیل کو بڑا سرپرائز دیں گے۔ امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ جیتنے کے لیے پیٹ ہیگسیتھ نے حضرت عیسیٰ کے واسطے سے پوپ لیو کو دعا کی درخواست کردی جس پر پوپ لیو نے اس طرح کی دعا سے اظہار لاتعلقی کردیا اور کہا کہ غلبے کے لیے کرسچین مشن کو مسخ کیا جاتا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٰ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں۔ پوپ لیو نے کہا کہ خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں، انھیں بنانے کی ترغیب دی ہے، جب کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کر رہے ہیں۔

 مشرق وسطیٰ اس وقت جس بھاری اور غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ محض ایک روایتی جنگی منظرنامہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی گہرائی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کا عکاس ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشمکش نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بیک وقت کئی براعظموں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

یہ تنازع طاقت، خوف، انا اور بقا کے پیچیدہ امتزاج میں ڈھل چکا ہے۔اس بحران کی سب سے نمایاں جہت وہ لب و لہجہ ہے جو ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ جب طاقتور ممالک کے رہنما تحمل اور تدبر کی جگہ دھمکی اور تیزی کو ترجیح دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات قابو سے نکلنے کے قریب ہیں۔ حالیہ بیانات میں جس انداز سے فوری نتائج کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہر نیا بیان، ہر نئی وارننگ اور ہر نئی ڈیڈ لائن صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، کیونکہ یہ سفارتی راستوں کو محدود کر دیتی ہے اور عسکری تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔

ایران کی جانب سے اختیار کی گئی مزاحمت اس تنازع کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔ یہ صرف دفاعی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس مزاحمت نے نہ صرف جنگ کے دورانیے کو بڑھایا ہے بلکہ اس کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ محض ایک طرفہ کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا تصادم بن چکی ہے جس میں ہر قدم کے جواب میں دوسرا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس عمل نے غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ انجام کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔

 اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہونا چاہیے تھا، مگر جو منظر سامنے آ رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ بڑی طاقتیں محتاط بیانات تک محدود ہیں اور عملی اقدامات سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ خاموشی ایک طرح کی بے بسی یا مصلحت کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی نظام اپنے بنیادی مقصد یعنی امن کے قیام کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ جب عالمی سطح پر کوئی موثر قوت ثالثی کے لیے آگے نہ بڑھے تو تنازع خود بخود شدت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ فریقین کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

معاشی اعتبار سے اس جنگ کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی منڈی میں بے چینی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور تجارتی راستوں پر خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب اس طرح کے اہم راستے خطرے میں پڑ جائیں تو اس کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہر اس صنعت کو متاثر کرتا ہے جو عالمی سپلائی چین کا حصہ ہے۔ نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ، پیداوار میں کمی اور اقتصادی سست روی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

 اس تنازع کا ایک اور حساس پہلو وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ جب جنگ کو نظریاتی یا مذہبی رنگ دیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی زبان نہ صرف جذبات کو بھڑکاتی ہے بلکہ تنازع کو ایک ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مذہبی جذبات کو جنگ کے ساتھ جوڑنے سے حالات مزید بگڑ گئے اور امن کی راہیں مسدود ہو گئیں۔

پسِ پردہ جاری سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ابھی بھی مکمل تباہی سے بچنے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کی بات چیت اور عارضی معاہدوں کی تجاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین مکمل تصادم سے گریز چاہتے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ کوششیں سنجیدہ ہیں یا محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ عارضی جنگ بندی اگرچہ فوری کشیدگی کو کم کر سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، جنوبی ایشیا اور یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی فراہمی میں خلل، تجارتی راستوں کی بندش اور سیکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی کساد بازاری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جو پہلے ہی مختلف بحرانوں سے دوچار دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔

عالمی سیاست کے تناظر میں یہ بحران ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے بین الاقوامی تعلقات میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔دوسری جانب عسکری میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی تک یہ کارروائیاں محدود پیمانے پر ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک بڑے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔اس تمام صورتحال میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جذبات غالب ہوں، فیصلوں میں سنجیدگی اور دوراندیشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی برتری حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ اگر فیصلے صرف طاقت کے اظہار کے لیے کیے جائیں تو وہ نہ صرف موجودہ بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دیتے ہیں جب کہ انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، جو نہ اس کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تنازع خوف، عدم تحفظ اور مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں، ان کے روزگار خطرے میں پڑتے ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ہر جنگ کو ایک انسانی المیے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

اگر موجودہ صورتحال کا بروقت اور موثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ توانائی کا بحران، معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مسئلہ دوسرے کو جنم دیتا ہے۔

اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ دنیا اس موقع پر صحیح فیصلے کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ بحران ایک سبق بن سکتا ہے، جو مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے میں مدد دے گا۔ مگر اگر یہ موقع ضایع ہو گیا تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سنگین ہوں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

بلوچستان میں بھی کفایت شعاری کے پیش نظر مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ

Published

on



کوئٹہ:

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے پیش نظر صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ان کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز رات 11 بجے بند ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس میں انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہر اللہ بادینی نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ملکی مفاد، توانائی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور تاجر برادری کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی ضروریات اور تاجروں کے تحفظات دونوں کو مدنظر رکھا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ کارروائی کے لیے متحرک رہے گی مہر اللہ بادینی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات کی ہے اور تاجروں کے تحفظات حکومت تک پہنچائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام اور تاجروں دونوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کر رہی ہےانہوں نے کرایوں میں اضافے کی شکایات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر قانونی اضافے کی فوری تحقیقات کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی صورت مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گاپیٹرول سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منی پیٹرول پمپس کی نگرانی جاری ہے جبکہ ایران سے آنے والا غیر قانونی پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگا پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہےپریس کانفرنس میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ اور رحیم آغا نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

رحیم کاکڑ نے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے تاجر برادری ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا گیا ہے





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش برآمد

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں نیو کراچی صنعتی ایریا کے علاقے خمیسو گوٹھ میں گھر سے نوجوان لڑکی کی گلے میں پھندا لگی لاش ملی جسے ایدھی کے رضا کاروں عباسی شہید اسپتال پہنچائی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او نیو کراچی صنعتی ایریا رضوان قریشی نے بتایا کہ متوفیہ کی شناخت 22 سالہ مسکان کے نام سے کی گئی۔ 

ابتدائی معلومات کے مطابق متوفیہ کی لاش اس کا بھائی اور والدہ اسپتال لیکر گئے تھے جبکہ پولیس کو اسپتال سے ہی واقعے کی اطلاع ملی تھی۔

تاہم شواہد حاصل کرنے کے لیے متوفیہ کی رہائش گاہ پر کرائم سین یونٹ کو روانہ کیا ہے جبکہ اہلخانہ نے ابتدائی طور پر پولیس کو بیان دیا ہے کہ مسکان نفسیاتی مسائل کا شکار تھی جبکہ واقعہ گلے میں خود کو پھندا لگا کر خودکشی کا بتا رہے۔

جس وقت واقعہ پیش آیا متوفیہ گھر میں اکیلی تھی تاہم پولیس اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کر رہی ہے ۔





Source link

Continue Reading

Trending