Today News
کیا چین کامیاب ثالثی کا کردار ادا کرسکے گا؟
پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری محض دو ممالک کے بہتر تعلقات تک محدود کہانی نہیں بلکہ مجموعی طور پر اس میں خطہ کے استحکام کا حل موجود ہے۔اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو جنگی کشیدگی ،ٹکراؤ کا ماحول ہے، اس میں بات چیت کے ماحول کے امکانات بھی محدود نظر آتے ہیں ۔
دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی سطح پر بات چیت کے دروازے بند ہونا حالات کی سنگینی کو نمایاں کرتا ہے اور ایسے میں حالات کی بہتر ی کو ممکن بنانے کے لیے یہ ہی راستہ بچتا ہے کہ دوست ممالک کوئی راستہ نکال کر کشیدگی کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں ۔سعودی عرب ،قطر اور ترکیہ نے جو مذاکرات کا راستہ نکالا تھا لیکن کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوسکا تھا۔اس کی ایک بڑی وجہ افغان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستانی سرزمین پردہشت گردی پر مبنی کارروائیوں پر تحریری ضمانت نہ دینا تھا جس سے مسئلہ کا حل نہیں نکل سکا اور افغان حکومت کسی بھی صورت میں تحریری ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگی کشیدگی کے خاتمہ میں چین کی ثالثی کا کردار کھل کر سامنے آیا ہے۔چین اس علاقائی اور عالمی سطح کی سیاست میں اب ایک بڑا فریق ہے۔
یہ بات پہلے بھی ان ہی صفحات پر لکھی تھی کہ اگر پاکستان اور چین کے درمیان حالات کی بہتری کا کوئی بڑا بریک تھرو ہوگا تو اس میں چین کی ثالثی کا بڑا کردار ہوگا۔کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں چین کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو سہولتیں دے رہی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھا کر بلیک میل کررہی ہے جب کہ افغانستان کی قیادت بھارت کو ساتھ ملا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتی ہے۔ ایسے میں پھر چین ہی کردار ادا کرسکتا ہے جو پاکستان یا علاقائی استحکام کی ضرورت ہے ۔چین کے بارے میں عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار ملک ہے اور اس کی ثالثی کو کوئی ملک آسانی سے نظرانداز نہیںکرسکتا۔چین اس وقت پاکستان اور افغانستان دونوں کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک میں چین کی بڑی سرمایہ کاری سی پیک اور دیگر منصوبوں کی صورت میں موجود ہے ۔اسی طرح اس خطہ میں دہشت گردی کا ہونا یا عدم استحکام کی موجودگی یا سرحدی کشیدگی چین کے مفادات کے برعکس ہے ۔
ایسے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری اور براہ راست بات چیت چین کے سیاسی اور معاشی مفادات کی عکاسی بھی کرتی ہے ۔چین اس وقت شٹل ڈپلومیسی کے تحت اسلام آباد اور کابل میں بات چیت کے لیے موجود ہے جہاں براہ راست بات چیت اور ایک دوسرے کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو بھی ہورہی ہے اور چین کے نمائندے اس میں کافی متحرک اور فعال نظر آتے ہیں ۔یہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ تین فریقی مذاکرات کے مختلف سیشن بھی ہوچکے ہیں جس میں ورکنگ لیول میٹنگز بھی شامل ہیں تاکہ تاکہ سازگار بات چیت کا ماحول پیدا کیا جاسکے ۔
اسی طرح چین کی فعالیت پر مبنی ثالثی اس وقت سامنے آئی جب دونوں ممالک کی جانب سے اوپن وار جیسے الفاظ اور عمل کا آغاز ہوا اور اسی بنیاد پر چین کو ثالثی کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ کشیدگی میں کمی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ چین کا فوری مقصد اعتماد سازی،کشیدگی کم کرنا اور تعاون بڑھانے پر زور دینا ہے کیونکہ چین چاہتا ہے کہ ان مذاکرات کی بنیاد پر سرحدی تنازعات کا پرامن حل،دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون جس میں ٹی ٹی پی جیسے مسائل بھی شامل ہیں،اقتصادی روابط کی بحالی ،تجارت اور سی پیک کی افغانستان تک توسیع،علاقائی سطح کا استحکام اور بی آر آئی منصوبوں کی حفاظت،چین کی طاقت اور حدود جیسے امور شامل ہیں ۔اس لیے بہت سے ماہرین کے بقول دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری میں چین کی ثالثی کافی اہمیت رکھتی ہے اور دونوں ممالک کا اس ثالثی کو نظرانداز کرنا ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔کیونکہ چین میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے حل کو ون ان ون صورتحال میں لاسکتا ہے اور دونوں ممالک کو ان کے معاملات پر راضی کرسکتا ہے ۔
افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے چین کو ضمانت دے سکتا ہے اور ہمیں اس پر اعتماد کرنا ہوگا۔ چین جس وقت ایک بڑے ثالثی کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گا تو یہ کردار یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہوگا اور دہشت گردی کو باقاعدہ بات چیت کا حصہ بنایا جائے گا اور مشترکہ طور پر ایسی حکمت عملی کو عملا اختیار کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے لیے قابل قبول ہوگی ۔ چین کی ثالثی میں جو بھی معاہدہ ہوگا، اس کے تحت چین کو مختلف نوعیت کی ضمانتیں دینی ہوگی ۔اصل میں بنیادی نقطہ دہشت گردی کا ہے اور جب تک دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزم یا فریم ورک نہیں بنیں گے مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ پاکستان جسے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے فوری طور پر دہشت گردی جیسے مسئلہ سے باہر نکلنا ہے تو اس کا علاج بھی افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے ۔خود افغان طالبان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ یک طرفہ طور پر ٹی ٹی پی کی سرپرستی کو جاری رکھتے ہیں اور پاکستان کے تحفظات کو اہمیت نہیں دیں گے تو پھر ان کے لیے بھی مشکلات بڑھیں گی۔
چین کی ڈپلومیسی کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ وہ بہت زیادہ ان معاملات میں میڈیا کی سطح پر گرم جوشی کو نہیں دکھاتا بلکہ اس کی بیشتر ڈپلومیسی خفیہ ڈپلومیسی یا پس پردہ عمل کی بنیاد پر جاری رہتی ہے ۔خود افغان حکومت میں بھی یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ ان کو بھی اب لگتا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان سے مذاکرات اورتعلقات کی بہتری کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے پچھلے کچھ دنوں سے ہمیں افغان حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات کے تناظر میں مثبت بیانات دیکھنے کو مل رہے ہیں جو امید کے پہلو کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے ۔ ایک مسئلہ پاکستان اور افغانستان تعلقات کی بہتری میں یہ بھی ہے اگر چین کی ثالثی کی مدد سے دونوں ممالک کی سطح پر کچھ طے ہوتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوسکے گا۔کیونکہ ماضی میں طالبان حکومت نے پاکستان حکومت سے جو بھی وعدے یا عہد کیے، اس پر شفافیت کے ساتھ عمل درآمد نہیں ہوسکا جس میں بالخصوص ٹی ٹی پی کا معاملہ سرفہرست ہے۔
اس لیے یہ بھی چین کے لیے اہم مسئلہ ہوگا کہ جو کچھ طے ہوتا ہے اس پر عملدرآمد کا میکنزم بھی تیار ہو اور دونوں ممالک اس پر عمل کریں کیونکہ اگر ان پر عملدرآمد نہیں ہونا تو پھر مذاکرات اور مفاہمت کی باتیں بہت پیچھے رہ جائیں گی۔ارومچی میں ہونے والے مذاکرات میں واضح طور پر پاکستان نے افغانستان کے تناظر میں تین مطالبات پیش کردیے ہیں ۔اول کابل باضابطہ طور پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم تسلیم یا اس کو قرار دے،دوئم اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرے ۔سوئم، اس کارروائی کا قابل قبول ثبوت فراہم کرے ۔اس لیے گیند افغان حکومت کی کورٹ میں ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔
Today News
قلعہ عبداللہ میں آسمانی بجلی گرنے سے باپ بیٹا جاں بحق، ایک شخص زخمی
قلعہ عبداللہ کے دور افتادہ علاقے نورک سلیمان خیل میں آسمانی بجلی گرنے کا دل دہلا دینے والا سانحہ پیش آیا، جس میں ایک باپ اور اس کا بیٹا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک شخص زخمی بھی ہوا۔
تفصیلات کے مطابق عبدالبصیر اور ان کے بیٹے زبیر احمد آسمانی بجلی کی زد میں آگئے اور دونوں شہید ہو گئے۔ جبکہ محمد شفیع کلی منگلزی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ افراد اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ اچانک تیز آسمانی بجلی گرنے سے تینوں افراد متاثر ہوئے، عبدالبصیر اور زبیر احمد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ محمد شفیع کو شدید چوٹیں آئیں۔
ریسکیو ٹیموں اور مقامی لوگوں نے فوری طور پر لاشیوں اور زخمی کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ جاں بحق افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کی جائیں گی۔ زخمی کی حالت کوئی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ سانحہ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں جاری طوفانی بارشوں اور موسلا دھار موسم کے باعث پیش آیا ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ سمیت صوبے کے شمالی علاقوں میں آسمانی بجلی کے متعدد واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ نورک سلیمان خیل کا پہاڑی علاقہ موسم کی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔متاثرہ خاندان میں سوگ کی فضا طاری ہے۔
مقامی لوگوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے دور دراز علاقوں میں بجلی گرنے سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہمات کا آغاز کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری امدادی پیکج دیا جائے۔
محکمہ موسمیات نے صوبے کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں اور آسمانی بجلی کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ طوفانی موسم میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
Source link
Today News
مشرق وسطیٰ بحران،عالمی خطرات کا پیش خیمہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ منگل کا دن ایران کی تباہی کا دن ہوگا،آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران میں بجلی گھروں، پلوں کو اڑا کر رکھ دیں گے اور ان کے تیل پر قبضہ کرلیں گے، ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا و اسرائیل کو بڑا سرپرائز دیں گے۔ امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ جیتنے کے لیے پیٹ ہیگسیتھ نے حضرت عیسیٰ کے واسطے سے پوپ لیو کو دعا کی درخواست کردی جس پر پوپ لیو نے اس طرح کی دعا سے اظہار لاتعلقی کردیا اور کہا کہ غلبے کے لیے کرسچین مشن کو مسخ کیا جاتا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٰ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں۔ پوپ لیو نے کہا کہ خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں، انھیں بنانے کی ترغیب دی ہے، جب کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اس وقت جس بھاری اور غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ محض ایک روایتی جنگی منظرنامہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی گہرائی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کا عکاس ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشمکش نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بیک وقت کئی براعظموں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ تنازع طاقت، خوف، انا اور بقا کے پیچیدہ امتزاج میں ڈھل چکا ہے۔اس بحران کی سب سے نمایاں جہت وہ لب و لہجہ ہے جو ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ جب طاقتور ممالک کے رہنما تحمل اور تدبر کی جگہ دھمکی اور تیزی کو ترجیح دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات قابو سے نکلنے کے قریب ہیں۔ حالیہ بیانات میں جس انداز سے فوری نتائج کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہر نیا بیان، ہر نئی وارننگ اور ہر نئی ڈیڈ لائن صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، کیونکہ یہ سفارتی راستوں کو محدود کر دیتی ہے اور عسکری تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
ایران کی جانب سے اختیار کی گئی مزاحمت اس تنازع کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔ یہ صرف دفاعی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس مزاحمت نے نہ صرف جنگ کے دورانیے کو بڑھایا ہے بلکہ اس کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ محض ایک طرفہ کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا تصادم بن چکی ہے جس میں ہر قدم کے جواب میں دوسرا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس عمل نے غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ انجام کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہونا چاہیے تھا، مگر جو منظر سامنے آ رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ بڑی طاقتیں محتاط بیانات تک محدود ہیں اور عملی اقدامات سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ خاموشی ایک طرح کی بے بسی یا مصلحت کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی نظام اپنے بنیادی مقصد یعنی امن کے قیام کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ جب عالمی سطح پر کوئی موثر قوت ثالثی کے لیے آگے نہ بڑھے تو تنازع خود بخود شدت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ فریقین کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
معاشی اعتبار سے اس جنگ کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی منڈی میں بے چینی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور تجارتی راستوں پر خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب اس طرح کے اہم راستے خطرے میں پڑ جائیں تو اس کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہر اس صنعت کو متاثر کرتا ہے جو عالمی سپلائی چین کا حصہ ہے۔ نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ، پیداوار میں کمی اور اقتصادی سست روی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس تنازع کا ایک اور حساس پہلو وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ جب جنگ کو نظریاتی یا مذہبی رنگ دیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی زبان نہ صرف جذبات کو بھڑکاتی ہے بلکہ تنازع کو ایک ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مذہبی جذبات کو جنگ کے ساتھ جوڑنے سے حالات مزید بگڑ گئے اور امن کی راہیں مسدود ہو گئیں۔
پسِ پردہ جاری سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ابھی بھی مکمل تباہی سے بچنے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کی بات چیت اور عارضی معاہدوں کی تجاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین مکمل تصادم سے گریز چاہتے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ کوششیں سنجیدہ ہیں یا محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ عارضی جنگ بندی اگرچہ فوری کشیدگی کو کم کر سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، جنوبی ایشیا اور یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی فراہمی میں خلل، تجارتی راستوں کی بندش اور سیکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی کساد بازاری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جو پہلے ہی مختلف بحرانوں سے دوچار دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
عالمی سیاست کے تناظر میں یہ بحران ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے بین الاقوامی تعلقات میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔دوسری جانب عسکری میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی تک یہ کارروائیاں محدود پیمانے پر ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک بڑے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔اس تمام صورتحال میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جذبات غالب ہوں، فیصلوں میں سنجیدگی اور دوراندیشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی برتری حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ اگر فیصلے صرف طاقت کے اظہار کے لیے کیے جائیں تو وہ نہ صرف موجودہ بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دیتے ہیں جب کہ انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، جو نہ اس کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تنازع خوف، عدم تحفظ اور مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں، ان کے روزگار خطرے میں پڑتے ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ہر جنگ کو ایک انسانی المیے میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اگر موجودہ صورتحال کا بروقت اور موثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ توانائی کا بحران، معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مسئلہ دوسرے کو جنم دیتا ہے۔
اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ دنیا اس موقع پر صحیح فیصلے کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ بحران ایک سبق بن سکتا ہے، جو مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے میں مدد دے گا۔ مگر اگر یہ موقع ضایع ہو گیا تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سنگین ہوں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔
Today News
بلوچستان میں بھی کفایت شعاری کے پیش نظر مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ:
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے پیش نظر صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز رات 11 بجے بند ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس میں انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہر اللہ بادینی نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ملکی مفاد، توانائی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور تاجر برادری کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی ضروریات اور تاجروں کے تحفظات دونوں کو مدنظر رکھا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ کارروائی کے لیے متحرک رہے گی مہر اللہ بادینی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات کی ہے اور تاجروں کے تحفظات حکومت تک پہنچائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام اور تاجروں دونوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کر رہی ہےانہوں نے کرایوں میں اضافے کی شکایات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر قانونی اضافے کی فوری تحقیقات کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی صورت مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گاپیٹرول سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منی پیٹرول پمپس کی نگرانی جاری ہے جبکہ ایران سے آنے والا غیر قانونی پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مہنگا پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہےپریس کانفرنس میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ اور رحیم آغا نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
رحیم کاکڑ نے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے تاجر برادری ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا گیا ہے
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز