Today News
بزرگ والدین اور ان کے مسائل
اس وقت بھارت میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے این جی اوز اور پرائیوٹ اداروں کے تحت ڈیڑھ ہزار سے زیادہ اولڈ ہوم چل رہے ہیں جہاں اپنے بچوں سے دور 15 سے 20 لاکھ بزرگ افراد رہائش پذیر ہیں جب کہ بھارت میں پہلے ہی مینٹی ننس اینڈ ویلفئیر آف پیرنٹس اینڈ سینئر سیٹیزن ایکٹ 2007 موجود ہے جس کے تحت بچے والدین کی مالی کفالت کے پابند ہیں،بزرگ عدالت سے مدد لے سکتے ہیں۔
اس کے باوجود انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی نے ایک قانون کو منظوری دی ،جس کے تحت ایسے تمام ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہوں سے 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی جو خود اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے۔ تنخواہ سے کاٹی جانے والی رقم والدین کو فراہم کی جائے گی۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد کی تنخواہ کا 15 فیصد یا (زیادہ سے زیادہ) دس ہزار روپے ماہانہ اُن کے والدین کی دیکھ بھال کے لیے اُن کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
اس قانون کا اطلاق سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیوں میں کام کرنے والے ایسے تمام مرد و خواتین پر ہو گا جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ماں، باپ کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔ قانون کے مطابق بچوں کی تنخواہوں کی کاٹی جانے والی رقم والدین کو اپنی دیکھ بھال اور اخراجات پورے کرنے کے لیے ادا کی جائے گی ،نیزاس قانون کے دائرے میں سرکاری اور نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے سبھی ملازمین شامل ہوں گے۔
اس کا اطلاق صرف عام لوگوں پر ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی پر بھی ہو گا۔قانون کے تحت ایسے والدین جنھیں سہارے کی ضرورت ہے اور جن کے بچے اُن کا بڑھاپے میں خیال نہیں رکھ پا رہے ہیں، وہ اپنے علاقے کے کلکٹر آفس میں اپنے بچوں کے خلاف شکایات درج کروا سکتے ہیں۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں مذکورہ بالا قسم کے قوانین موجود ہیں تاہم اس کے باوجودعالمی سطح پر بزرگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کے بجائے اولڈ ہومز میں رہتی ہے۔ چین میں اولڈ ہومز میں رہنے والے بزرگوں کی شرح ایک فیصد کے قریب ہے، جاپان جو دنیا کی سب سے مہذب قوم سمجھی جاتی ہے وہاں چار فیصد کے قریب، برطانیہ میں چار فیصد،یورپ میں چار فیصد سے زائد اور امریکا میں یہ شرح پانچ فیصد کے قریب ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ شرح پانچ فیصد بنتی ہے۔
بچوں کی اپنے بزرگ والدین سے دوری اور بے اعتنائی کے سبب دنیا میں بزرگوں کی تنہائی (Loneliness of elderly) ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن گیاہے اور اسی وجہ سے کچھ ممالک نے اس کے لیے خاص وزارت یا سرکاری عہدہ بھی قائم کیا ہے۔
برطانیہ دنیا کا پہلا ملک جس نے 2018 میں Minister for Lonelinessمقرر کیا اس کے بعد2021 میں جاپان نے بھی یہی عہدہ متعارف کرایا۔ دوسری طرف بزرگوں میں خودکشی کی شرح بھی زیادہ ہے۔عالمی سطح پر خودکشی کی اوسط شرح ایک لاکھ آبادی پر تقریباً نو سے بارہ افراد ہے جب کہ بزرگوں میں یہ شرح بیس سے انیس افراد ہے۔ یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ خودکشی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔
غور کیا جائے تو مغرب یا ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں، اب پاکستان اور بھارت جیسے سب ہی ممالک میں بزرگو ں کے مسائل خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں جو جہاندیدہ افراد کو نظر آرہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ بھارتی ریاست کے وزیر اعلیٰ ریونٹت ریڈی کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف قانون بنانا نہیں ہے بلکہ بوڑھے والدین کے اندر یہ اعتماد بھی پیدا کرنا ہے کہ اُن کے ساتھ بڑھاپے میں ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔کسی بھی ماں باپ کو اُن کی زندگی کے آخری ایام میں بے سہارا اور بے بس نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔
انھوں نے اسمبلی میں یہ بھی کہاکہ ’معمر والدین کا تحفظ اور وقار بحال کیے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے اس سلسلے میں ملک کے معروف صنعت کار اور رمینڈ گروپ کے سابق چیئرمین وجے پت سنگھانیا کا ذکر کیا، جنھوں نے اپنے آخری ایام ایک اولڈ ہوم میں بہت تکلیف میں گزارے۔ اب یہ رجحان بھی نظر آتا ہے کہ والدین خود اپنے بچوں کو کمانے کے لیے اور اچھے مستقبل کے لیے ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں اور خود تنہا یہاں اپنے گھر میں زندگی گزارتے ہیں گو کہ بچے بیرون ملک سے خرچہ تو بھیج دیتے ہیں مگر بڑھاپے میں اور بیماری کی صورتحال میں ان کی دیکھ بھال کے لیے اولاد یہاں موجود نہیں ہوتی صرف ویڈیو کال پر خیر خیریت معلوم کر لی جاتی ہے، یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔بعض گھرانوں میں بچے والدین کو عزت تو دیتے ہیں،خرچہ بھی دیتے ہیں لیکن وقت نہیں دیتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے والدین کا حق ادا کر دیا جب کہ بزرگوں کو پیسوں سے زیادہ بچوں کے وقت کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ان سے بات کرے، تنہائی ان بزرگ والدین کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔
غور کیا جائے تو اس وقت کسی ایسے گھر میں جہاں بزرگ والدین رہتے ہوں، دو بڑے مسائل ہیں، ایک مسئلہ بزرگوں کا ہے کہ ان کے پاس وقت ہی وقت ہے اور وہ کسی کو تلاش کرتے ہیں کہ کوئی بات کرنے والا، گفتگو کرنے والا مل جائے، ان میں جو بزرگ چل پھر سکتے ہیں وہ کسی کلب میں، ہوٹل میں یا چوراہے پر اپنے ہم عمر لوگوں میں بیٹھ کر وقت گزار تے ہیں لیکن جو بزرگ چل پھر نہیں سکتے، صرف گھر پر رہتے ہیں انھیں گھر میں وقت گزارنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ عموماً گھر کا ہر فرد مصروف ہوتا ہے۔
موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ بے پناہ مصروفیت بھی ہے، کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں ہوتا اور اگر کچھ وقت میسر آجائے تو وہ موبائل کی نذر ہو جاتا ہے۔ اب تو گھر آئے مہمان کو بھی وقت دینا مشکل ہوگیا ہے، ایک جگہ بیٹھے لوگ آپس میں بھی بات نہیں کرتے بلکہ موبائل میں لگے رہتے ہیں، سو ایسے میں گھر کے بزرگوں کو کہاں سے وقت دیا جائے؟ یوں ہمارا ہاں بھی تنہائی، ہمارے بزرگوں کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔اسی طرح بہت سے گھروں میں بچے اپنے والدین سے لڑتے ہیںکہ انھوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا، اس ضمن میں بعض اپنے والدین سے ہفتوں اورمہینوں بات نہیں کرتے۔ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین غلط ہیں حالانکہ بات یہ ہے کہ والدین غلط بھی ہوں تو والدین ہوتے ہیں، ان سے ناراضگی کیوں، جب کہ ہمارا دین تو کہتا ہے کہ جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں ’’اف ‘‘ بھی نہ کہو۔ظاہر سی بات ہے جب کسی انسان کو کوئی بات بری لگتی ہے یا غلط لگتی ہے تبھی وہ ’’اف‘‘ کہے گا تو اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ بڑھاپے میں والدین کی غلط بات کو بھی برداشت کرنا چاہیے ، یہی دین اسلام کا ہم سے مطالبہ ہے۔ بہر کیف بزرگوں کے مسائل ہمارے ہاں بھی توجہ چاہتے ہیں۔ آئیے! اس پر توجہ دیں۔
Today News
قلعہ عبداللہ میں آسمانی بجلی گرنے سے باپ بیٹا جاں بحق، ایک شخص زخمی
قلعہ عبداللہ کے دور افتادہ علاقے نورک سلیمان خیل میں آسمانی بجلی گرنے کا دل دہلا دینے والا سانحہ پیش آیا، جس میں ایک باپ اور اس کا بیٹا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک شخص زخمی بھی ہوا۔
تفصیلات کے مطابق عبدالبصیر اور ان کے بیٹے زبیر احمد آسمانی بجلی کی زد میں آگئے اور دونوں شہید ہو گئے۔ جبکہ محمد شفیع کلی منگلزی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ افراد اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔ اچانک تیز آسمانی بجلی گرنے سے تینوں افراد متاثر ہوئے، عبدالبصیر اور زبیر احمد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ محمد شفیع کو شدید چوٹیں آئیں۔
ریسکیو ٹیموں اور مقامی لوگوں نے فوری طور پر لاشیوں اور زخمی کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔ جاں بحق افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کی جائیں گی۔ زخمی کی حالت کوئی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ سانحہ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں جاری طوفانی بارشوں اور موسلا دھار موسم کے باعث پیش آیا ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ سمیت صوبے کے شمالی علاقوں میں آسمانی بجلی کے متعدد واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ نورک سلیمان خیل کا پہاڑی علاقہ موسم کی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔متاثرہ خاندان میں سوگ کی فضا طاری ہے۔
مقامی لوگوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے دور دراز علاقوں میں بجلی گرنے سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہمات کا آغاز کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری امدادی پیکج دیا جائے۔
محکمہ موسمیات نے صوبے کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں اور آسمانی بجلی کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ طوفانی موسم میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
Source link
Today News
مشرق وسطیٰ بحران،عالمی خطرات کا پیش خیمہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ منگل کا دن ایران کی تباہی کا دن ہوگا،آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران میں بجلی گھروں، پلوں کو اڑا کر رکھ دیں گے اور ان کے تیل پر قبضہ کرلیں گے، ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکا و اسرائیل کو بڑا سرپرائز دیں گے۔ امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ جیتنے کے لیے پیٹ ہیگسیتھ نے حضرت عیسیٰ کے واسطے سے پوپ لیو کو دعا کی درخواست کردی جس پر پوپ لیو نے اس طرح کی دعا سے اظہار لاتعلقی کردیا اور کہا کہ غلبے کے لیے کرسچین مشن کو مسخ کیا جاتا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٰ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں۔ پوپ لیو نے کہا کہ خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں، انھیں بنانے کی ترغیب دی ہے، جب کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اس وقت جس بھاری اور غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے، وہ محض ایک روایتی جنگی منظرنامہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی گہرائی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کا عکاس ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشمکش نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات بیک وقت کئی براعظموں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ تنازع طاقت، خوف، انا اور بقا کے پیچیدہ امتزاج میں ڈھل چکا ہے۔اس بحران کی سب سے نمایاں جہت وہ لب و لہجہ ہے جو ٹرمپ کی جانب سے اختیار کیا جا رہا ہے۔ جب طاقتور ممالک کے رہنما تحمل اور تدبر کی جگہ دھمکی اور تیزی کو ترجیح دیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملات قابو سے نکلنے کے قریب ہیں۔ حالیہ بیانات میں جس انداز سے فوری نتائج کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہر نیا بیان، ہر نئی وارننگ اور ہر نئی ڈیڈ لائن صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، کیونکہ یہ سفارتی راستوں کو محدود کر دیتی ہے اور عسکری تصادم کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
ایران کی جانب سے اختیار کی گئی مزاحمت اس تنازع کو ایک نئی جہت دے رہی ہے۔ یہ صرف دفاعی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا پیغام ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے سرنگوں ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس مزاحمت نے نہ صرف جنگ کے دورانیے کو بڑھایا ہے بلکہ اس کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہ محض ایک طرفہ کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا تصادم بن چکی ہے جس میں ہر قدم کے جواب میں دوسرا قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس عمل نے غیر یقینی کو بڑھا دیا ہے اور کسی بھی ممکنہ انجام کو مزید دھندلا کر دیا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہونا چاہیے تھا، مگر جو منظر سامنے آ رہا ہے وہ اس کے برعکس ہے۔ بڑی طاقتیں محتاط بیانات تک محدود ہیں اور عملی اقدامات سے گریزاں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ خاموشی ایک طرح کی بے بسی یا مصلحت کا اظہار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی نظام اپنے بنیادی مقصد یعنی امن کے قیام کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ جب عالمی سطح پر کوئی موثر قوت ثالثی کے لیے آگے نہ بڑھے تو تنازع خود بخود شدت اختیار کر لیتا ہے، کیونکہ فریقین کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
معاشی اعتبار سے اس جنگ کے اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی منڈی میں بے چینی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور تجارتی راستوں پر خطرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع عالمی معیشت کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جب اس طرح کے اہم راستے خطرے میں پڑ جائیں تو اس کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ہر اس صنعت کو متاثر کرتا ہے جو عالمی سپلائی چین کا حصہ ہے۔ نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ، پیداوار میں کمی اور اقتصادی سست روی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
اس تنازع کا ایک اور حساس پہلو وہ بیانیہ ہے جس کے ذریعے اسے پیش کیا جا رہا ہے۔ جب جنگ کو نظریاتی یا مذہبی رنگ دیا جائے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی زبان نہ صرف جذبات کو بھڑکاتی ہے بلکہ تنازع کو ایک ایسے دائرے میں داخل کر دیتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں مذہبی جذبات کو جنگ کے ساتھ جوڑنے سے حالات مزید بگڑ گئے اور امن کی راہیں مسدود ہو گئیں۔
پسِ پردہ جاری سفارتی کوششیں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ ابھی بھی مکمل تباہی سے بچنے کا امکان موجود ہے۔ جنگ بندی کی بات چیت اور عارضی معاہدوں کی تجاویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ فریقین مکمل تصادم سے گریز چاہتے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا یہ کوششیں سنجیدہ ہیں یا محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ۔ عارضی جنگ بندی اگرچہ فوری کشیدگی کو کم کر سکتی ہے، مگر مستقل امن کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جائے جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں، جنوبی ایشیا اور یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی فراہمی میں خلل، تجارتی راستوں کی بندش اور سیکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی کساد بازاری کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جو پہلے ہی مختلف بحرانوں سے دوچار دنیا کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
عالمی سیاست کے تناظر میں یہ بحران ایک بڑے رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر رہے ہیں۔ اس رجحان نے بین الاقوامی تعلقات میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔دوسری جانب عسکری میدان میں ہونے والی پیش رفت، جیسے میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اگرچہ ابھی تک یہ کارروائیاں محدود پیمانے پر ہیں، مگر ان کا تسلسل ایک بڑے تصادم کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔اس تمام صورتحال میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جذبات غالب ہوں، فیصلوں میں سنجیدگی اور دوراندیشی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی برتری حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر اس کے نتائج طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ اگر فیصلے صرف طاقت کے اظہار کے لیے کیے جائیں تو وہ نہ صرف موجودہ بحران کو گہرا کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دیتے ہیں جب کہ انسانی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جنگ کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، جو نہ اس کا حصہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کے فیصلوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تنازع خوف، عدم تحفظ اور مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ان کی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں، ان کے روزگار خطرے میں پڑتے ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ہر جنگ کو ایک انسانی المیے میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اگر موجودہ صورتحال کا بروقت اور موثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ توانائی کا بحران، معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایک مسئلہ دوسرے کو جنم دیتا ہے۔
اس سلسلے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری فوری اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ دنیا اس موقع پر صحیح فیصلے کرنے میں کامیاب ہو گئی تو یہ بحران ایک سبق بن سکتا ہے، جو مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے میں مدد دے گا۔ مگر اگر یہ موقع ضایع ہو گیا تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سنگین ہوں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا دھارا تبدیل ہوسکتا ہے اور یہ فیصلہ آج کے رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے کس سمت لے جاتے ہیں۔
Today News
بلوچستان میں بھی کفایت شعاری کے پیش نظر مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ
کوئٹہ:
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے پیش نظر صوبے بھر میں مارکیٹوں اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے جبکہ شادی ہالز رات 11 بجے بند ہوں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس میں انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مہر اللہ بادینی نے کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ ملکی مفاد، توانائی بچت اور عوامی ریلیف کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کفایت شعاری اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے اور تاجر برادری کو حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے جبکہ شادی ہالز کو رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی ضروریات اور تاجروں کے تحفظات دونوں کو مدنظر رکھا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ حکومت کے فیصلے کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ کارروائی کے لیے متحرک رہے گی مہر اللہ بادینی نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ملاقات کی ہے اور تاجروں کے تحفظات حکومت تک پہنچائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ عوام اور تاجروں دونوں کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے متوازن فیصلے کر رہی ہےانہوں نے کرایوں میں اضافے کی شکایات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں غیر قانونی اضافے کی فوری تحقیقات کی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کسی صورت مافیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گاپیٹرول سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ منی پیٹرول پمپس کی نگرانی جاری ہے جبکہ ایران سے آنے والا غیر قانونی پیٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ مہنگا پیٹرول فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہےپریس کانفرنس میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ اور رحیم آغا نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
رحیم کاکڑ نے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے تاجر برادری ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار ہے اور تاجروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا گیا ہے
-
Sports2 weeks ago
Sinner powers past Michelsen to reach Miami quarter-finals
-
Today News2 weeks ago
ایران کے کلسٹر میزائلوں سے اسرائیل پر تازہ حملے، صہیونی دفاعی نظام ناکام رہا
-
Today News2 weeks ago
یوم پاکستان اور اس کے تقاضے
-
Sports1 week ago
Sabalenka, Sinner keep ‘Sunshine Double’ in sight with Miami Open wins
-
Magazines1 week ago
The secret life of insects in the urban world
-
Sports2 weeks ago
Pakistan’s hockey World Cup qualification is a small step, but there is a long way to go
-
Sports1 week ago
Momin, Phillippe shine as Sultans beat United to take winning start
-
Today News2 weeks ago
ایم کیو ایم کے دو سابق گورنرز